Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں 2025 میں سیر و تفریح کے لیے گلگت بلتستان سمیت دنیا کے...

2025 میں سیر و تفریح کے لیے گلگت بلتستان سمیت دنیا کے 25 بہترین مقامات

3
0

SOURCE :- BBC NEWS

2025 میں سیر و تفریح کے لیے 25 بہترین مقامات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

5 گھنٹے قبل

سیاحت میں ہمیں اجنبیوں کے قریب لانے، حیرت میں مبتلا کرنے اور یہاں تک کہ ہمیں بدلنے کی بھی طاقت ہوتی ہے۔

آپ نیو فاؤنڈ لینڈ میں گرتی ہوئی آبشار کے کنارے پر کھڑے ہوں یا اطالوی ڈولومائٹس کی نوکیلی چوٹیوں پر نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ دنیا کتنی حیرت انگیز ہوسکتی ہے۔

اگرچہ سیاحت ایک اچھی چیز ہے لیکن گذشتہ برسوں نے ہمیں یہ بارور کروایا ہے کہ اس سے ان مقامات کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔ اب کئی ممالک اپنے سیاحتی مقامات پرنئی پابندیاں عائد کر رہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حد سے زیادہ سیاحت کے سبب انھیں نقصان پہنچ رہا ہے۔

اس سال سفر کرنے کے لیے بہترین مقامات کے بارے میں بنائی گئی بی بی سی کی گائیڈ میں ہم ان مقامات کا ذکر کرنا چاہتے تھے جہاں صورتحال اس سے مختلف ہے۔

آسٹریلیا کی رنگ برنگی جھیلوں سے لے کر بوٹسوانہ میں سولر سے چلنے والے سفاری کیمپ تک، آئیے دیکھتے ہیں کہ بی بی سی کے صحافیوں نے رواں برس سیر و سیاحت کے لیے کن مقامات کو منتخب کیا ہے۔

ان مقامات پر نہ صرف آنے والوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے بلکہ وہاں ناقابل یقین سفری تجربات کے مواقع بھی موجود ہیں۔ یہاں سیاحت کے ذریعے مقامی برادریوں کی مدد کی جاتی ہے، ماحول کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں اور منفرد ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہم نے یہ فہرست بی بی سی ٹریول جرنلسٹس اور دنیا کی چند اہم ٹریول اتھارٹیز جیسے کہ اقوام متحدہ کی ورلڈ ٹریول آرگنائزیشن، سسٹین ایبل ٹریول انٹرنیشنل، بلیک ٹریول الائنس اور ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کی مدد سے مرتب کی ہے۔

بولیویا میں چاند کے نظارے سے لے کر دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ میں آرکٹک کلیمپنگ تک، آپ کا اگلا سفر بس آپ کے سامنے ہی ہے۔

لیکن ٹھہریے کہیں اور جانے سے پہلے سفر کا آغاز اپنے ہی ملک پاکستان سے کرتے ہیں کیونکہ گلگت بلتستان بھی اپنی منفرد دلکشی کی وجہ سے بی بی سی کی جانب سے تیار کی جانے والی سنہ 2025 کے سیاحتی مقامات کی فہرست میں شامل ہے۔

دنیا کی سب سے اونچی چوٹیوں میں سے پانچ پاکستان میں موجود ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گلگت بلتستان

پاکستان کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ سیاحوں کے لیے ایک حیران کن مقام ہے۔

پاکستان میں حکومت ذمہ دارانہ سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے تاکہ ماحول کے بارے میں شعور رکھنے والے سیاحوں کو ملک کے حیرت انگیز شمالی علاقوں کی جانب راغب کیا جا سکے۔

دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے پانچ پاکستان میں ہیں جن کی اونچائی 8,000 میٹر سے زیادہ ہے۔ ان میں دنیا کی دوسری سب سے اونچی چوٹی کے ٹو بھی شامل ہے۔

پاکستان کا پہلا قومی سیاحتی برانڈ سلام پاکستان سنہ 2023 میں لانچ کیا گیا تھا۔

گلگت سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وادی ہنزہ ایسی پُرکشش وادی ہے جس کا حسن یہاں آنے والے سیاحوں کو مبہوت کر کے رکھ دیتا ہے۔ خزاں کے موسم میں تو اس حُسن کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کی مدد سے سیاح باآسانی ای ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کوہ پیمائی اور ٹریکنگ ویزا بھی حاص کر سکتے ہیں ہے۔

لیکن پاکستان محض بلند وبالا پہاڑوں کے لیے مشہور نہیں۔

گلگت بلتستان کا خوبصورت علاقہ، جسے ’جنت کا دروازہ‘ کہا جاتا ہے، سرسبز وادیوں، قدیم جھیلوں اور آبشاروں سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں وادی ہنزہ خوشبودار چیری کے پھولوں اور خوبانی کے باغات سے گھری ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ یہں یونیسکو کی فہرست میں شامل ’دیوسائی‘ کے میدانی علاقے اور شنگریلا کی عکاسی کرنے والی جھیلیں بھی موجود ہیں۔

 اب امریکہ سے ڈومنیکا کے لیے براہ راست فلائیٹ اور وہاں ہوٹل سروس کا آعاز رواں برس سیاحوں کے لیے ایک آسان سہولت فراہم کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈومینیکا

کیا آپ سپرم وہیل کے ساتھ تیرنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو ڈومینیکا آپ کے لیے چھٹیاں گزارنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔

یہاں آپ سمندری حیات کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچائے بغیر سپرم وہیلز کے ساتھ تیر سکتے ہیں۔

اس جزیرے نے حال ہی میں دنیا کا پہلا سپرم وہیل ریزرو قائم کیا ہے۔ یہ ایک محفوظ سمندری علاقہ ہے جو اس کے مکینوں کی حفاظت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہاں وہیل کے ساتھ تیرنے کے محدود اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں جس سے لوگ ممالیہ کے ساتھ پانی میں رہنے کا ایک ناقابل فراموش تجربہ حاصل کر سکتے ہیں۔

اس سے نہ صرف وہیلوں کے متعلق تحقیق میں سہولت ملتی ہے بلکہ مقامی افرد کے لیے پائیدار سیاحت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

ڈومینیکا میں توسیع شدہ بنیادی ڈھانچہ اور نظام سیاحوں کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہے۔

ڈیجیٹل امیگریشن فارم اور کیبل کار سسٹم کی سہولت سے مسافروں کو روزاؤ وادی سے گرم جھیل تک لے جایا جاتا ہے جو دنیا کے سب سے بڑے تھرمل چشموں میں سے ایک ہے۔

Dominica recently established the world's first sperm whale reserve (Credit: Alamy)

،تصویر کا ذریعہAlamy

ڈومینیکا پروجیکٹ سی ای ٹی آئی کا بھی گھر ہے جو نیشنل جیوگرافک ایکسپلورر ڈیوڈ گروبر کی سربراہی میں وہیل زبان، کلک اور کوڈا کو ڈی کوڈ کرنے کی ایک اہم بین الاقوامی کوشش ہے۔

دوسری جگہوں پر سیاح چھپی ہوئی گھاٹیوں، بلند آبشاروں کو تلاش کرسکتے ہیں اور فارم ٹو ٹیبل لاکو جیسے منفرد پکوان کی صورت میں موجود مقامی کھانوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔

Naoshima and other nearby islands have become major contemporary art destinations (Credit: Alamy)

،تصویر کا ذریعہAlamy

ناؤشیما، جاپان

ییوئی کوساما کے پیلے رنگ کے پولکا کے نشان والے مشہور کدو کا مجسمہ بھی جاپانی جزیرے نوشیما پر ہی نصب ہے جو کہ جدید آرٹ اور فن تعمیر کے شوقین افراد کی خصوصی دلچسپی کا مرکز بن گیا ہے۔

کبھی یہ جزیرہ تانبے کو پگھلانے کی صنعت کی وجہ سے آلودگی کے سبب مشہورتھا لیکن پھر بینیس آرٹ سائٹ نوشیما کی بدولت اس کی شہرت کی وجہ بدل گئی۔

سنہ 2025 کے موسمِ بہار میں یہاں نوشیما نیو میوزیم آف آرٹ کا افتتاح ہو رہا ہے، جسے ایوارڈ یافتہ ڈیزائنر تاڈاؤ انڈو نے ڈیزائن کیا ہے۔

ایشیائی فنکاروں کے فن پاروں کی یہ نئی نمائش اس سال کے سیتوچی ٹرائینلے پروگرام کی ایک اہم خصوصیت ہوگی، جس کے تحت سیتو ان لینڈ سی کے 17 جزیروں اور ساحلی علاقوں میں بڑی تقریبات ہوں گی۔

100 دنوں پر محیط اور موسم بہار، موسم گرما اور خزاں کے درمیان تقسیم اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد سیاحوں کو مختلف رنگوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع دینا ہے۔

The stunning sawtooth cliffs of the Dolomites are one of Italy's most dramatic landscapes

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈولومائٹس، اٹلی

سیاحوں کے پسندیدہ ملک اٹلی کو شاید ہی اپنی تشہیر کے لیے پریس کی ضرورت ہو۔ وہ بھی خاص طور پر ایک ایسے سال میں جب یہاں سیاحتی مرکز روم 2025 جوبلی کی وجہ سے اور بھی زیادہ سیاحوں سے بھرا ہوا ہو گا۔

لیکن اگر اٹلی 2025 میں آپ کی سیاحت کی فہرست میں شامل ہے تو پھر شمال میں واقع ڈولومائٹ پہاڑوں کا چکر لگانےکا بھی ضرور سوچیے۔

انتہائی خوبصورت ڈولومائٹس تفریح اور پرتعیش چھٹیاں گزارنے کے لیے ایک زبردست مقام ہے۔

Cortina d'Ampezzo is co-hosting the 2026 Winter Olympics and is a renowned skiing destination

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈولومائٹس کی ملکہ کورٹینا ڈی امپیزو ونٹر اولمپکس 2026 کی مشترکہ میزبانی کرنے والی ہیں۔ اس سلسلے میں یہاں بہت زیادہ تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ علاقے کے انفراسٹرکچر کو بہتر کیا جا سکے۔

سکئنگ کے مقام تک پہنچنے کے لیے سکئی لفٹ متوقع طور پر سیاحوں کو فراہم کی جائے گی اور اس کے علاوہ کیبل کار اور سفر کی دیگر سہولیات میسر ہوں گی۔

لیکن ڈولومائٹس ہر موسم میں سیاحوں کے لیے ایک حیران کُن منزل ہے۔ موسم بہار، موسم گرما اور خزاں میں بہترین راستوں کو انجوائے کرنے کے لیے یہاں جائیے۔

The Ilulissat Icefjord and other Arctic attractions will be easier to explore with the opening of Nuuk's new airport

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گرین لینڈ

گرین لینڈ جیسی جگہ زمین پر اور کہیں نہیں ہے۔ 20 لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلے دنیا کے سب سے بڑے جزیرے کی آبادی 57 ہزار سے بھی کم ہے۔

یہ برف سے ڈھکے وسیع اور شاندار پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔

موسم گرما میں حیرت انگیز ہائکنگ اور سپیلنگ وہیل دیکھنے اور یہاں موجود کتوں کے ساتھ سلیڈنگ کی سہولیات گرین لینڈ کو کو سیاحت کے لیے ایک بہترین منزل بناتے ہیں۔ تاہم اب تک وہاں پہنچنا بہت مہنگا اور وقت طلب کام رہا ہے۔

دارالحکومت نوک میں ایک نئے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے افتتاح اور 2026 میں مزید دو ہوائی اڈوں کی تعمیر کے ساتھ اب وہاں رسائی آسان ہو سکے گی جو پہلے کبھی نہیں تھی۔

یہ ملک سیاحوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ گرین لینڈ نے ’بہتر سیاحت ‘ کا عہد کیا ہے اور ایک نیا قانون بھی بنایا ہے جس کا مقصد سیاحت سے مقامی برادریوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے فنڈز کو بڑھانا ہے۔

نوک تاریخی واٹر فرنٹ، معلوماتی عجائب گھروں اور متاثر کن آرٹ گیلریوں کے ساتھ ایک جدید شہر ہے جو پیدل سفر، ماہی گیری اور کیمپنگ کے سفر کے لے ایک لانچ پیڈ کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔

Wales is launching a year-long campaign showcasing Welsh culture and language to visitors

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ویلز

ویلز کا رقبہ انگلینڈ کے مقابلہ میں ایک چوتھائی سے بھی کم ہے اور یہاں نسبتاً بہت کم سیاح آتے ہیں۔

یہاں مسحور کر دینے والے پارکس اور قرون وسطی کے قلعے دکھائی دیں گے اور یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کو لوگوں کا رش بھی دکھائی نہیں دے گا۔

سیاحت نے ویلش زبان کی بحالی میں کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے اور یہاں ایک پانچ بلین پاؤنڈ کا پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے جس کے تحت مختلف مقامات کو ماحولیاتی طور پر پائیدار بنانے کے لیے سیاحت کے فنڈز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

ویلز نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے موٹر سائیکلوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ سیاحت کے شوقین زیادہ سے زیادہ افراد کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

The Wales Coast Path rings the nation

،تصویر کا ذریعہCredit: Alamy

The Trans-Labrador Highway connects travellers to Labrador's windswept coastal villages

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ویسٹرن نیو فاونڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور

لیبراڈور کا علاقہ مشرقی کینیڈا میں نیو فاؤنڈ لینڈ اور لیبراڈور کا مرکزی حصہ ہے۔ یہ ایک وسیع اور دشوار گزار علاقہ ہے جو ساحلی دیہاتوں، بلند و بالا برفانی تودوں، زیر آب جنگلات اور بڑے آبشاروں کے سبب مشہور ہے۔

یہاں آپ نو ہزار سال سے بھی زیادہ کی انسانی تاریخ کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

2025 میں 1200 کلومیٹر طویل ٹرانس لیبراڈور ہائی وے کے آخری مرحلے کی تکمیل کے بعد 294,330 مربع کلومیٹر کے اس دور افتادہ علاقے کو زیادہ قابل رسائی منزل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

نیا سرکلر روٹ لیبراڈور کو کینیڈا کے پانچ صوبوں سے جوڑتا ہے، جبکہ امریکہ اور یہاں تک کہ فرانس میں کے گرد چکر لگانے کے لیے بھی یہی راستہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کینیڈا کی حکومت نے مغربی نیو فاؤنڈ لینڈ اور لیبراڈور میں پارکس کینیڈا کے مقامات میں 180 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

The area around Tucson is the oldest continuously cultivated soil in the US

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ٹکسن، ایریزونا، امریکہ

ٹکسن شہر کے پاس 2025 میں جشن منانے کے لیے بہت کچھ ہے۔ یہ امریکہ کا وہ پہلا شہر بن گیا ہے جسے یونیسکو سٹی آف گیسٹرونومی کا اعزاز حاصل ہوا ہے اور ساتھ ہی اس برس شہر کے قیام کی 250 ویں سالگرہ بھی ہے۔

تاریخی طور پر یہ میکسیکو کا حصہ تھا جسے اب ٹکسن کہا جاتا ہے۔ یہاں 23 اگست کو پریسیڈیو سان آگسٹن ڈیل ٹکسن میں روایتی میکسیکن موسیقی اور رقص پر مشتمل ایک مفت تقریب منعقد ہوگی۔

سیاح سال بھر ٹکسن کے میلوں، طویل صحرائی پیدل چلنے کے راستوں اور تاریخی عمارتوں کو دیکھ سکتے ہیں۔

Western Australia encompasses 12,500km of pristine coastline and several bubblegum-pink lakes

،تصویر کا ذریعہGetty Images

8- مغربی آسٹریلیا

پرتھ دنیا کے سب سے الگ تھلگ شہر کے طور پر جانا جاتا ہے اور مغربی آسٹریلیا کی ریاست میں واقع ہے۔

یورپ کے لیے آسٹریلیا سے واحد براہ راست پروازوں کے ساتھ پرتھ آسٹریلیا کے مغربی گیٹ وے اور عالمی ہوا بازی کے مرکز کے طوربھی جانا جاتا ہے۔

یہاں سفر کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے پانچ بلین ڈالر کی لاگت سے پرتھ ہوائی اڈے کی تعمیر نو کی جائے گی۔

لیکن صرف یہاں پہچنے کی بات نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہاں کیا ہے جو آپ کا منتظر ہے۔

نئے اور خوبصورت پرتھ اور اس کے سوان ویلی وائن ریجن کے باہر مغربی آسٹریلیا کا 25 لاکھ مربع کلومیٹر کا وسیع علاقہ ہے جہاں ساڑھے 12 ہزار کلومیٹر کی ساحلی پٹی، گلابی جھیلیں، آبشار، جنگلات، جنگلی پھول، جنگلی حیات اور وہیل شارکس بھی موجود ہیں۔

یہاں دنیا کا سب سے طویل الیکٹرک وہیکل چارجنگ نیٹ ورک بھی ہے۔

Vineyards dot WA’s Swan Valley Wine Region

،تصویر کا ذریعہAlamy

سری لنکا

سری لنکا ایک ایسا ملک ہے جہاں پہاڑوں کی چوٹی پر چائے کے باغات اور جنگلی ہاتھیوں سے لے کر قدیم مندروں اور رولنگ سرف تک بہت کچھ دیکھنے کو ہے۔

اپریل 2022 میں سابق وزیر اعظم نے سری لنکا کے دیوالیہ ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن نئے صدر کا مقصد وبائی امراض اور خانہ جنگی سے متاثر ملک کی قسمت کو دوبارہ لکھنا ہے۔

یہ جزیرہ نما ملک سیاحت کے ذریعے اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا ہونے کے لیے پرامید ہے۔

کینڈی شہر میں پہلا سیون سٹار ہوٹل ایویانا پرائیوٹ چیلیٹس کھولا جائے گا جبکہ آرونیا نیچر ریزورٹ میں ایک نیا فیملی ولا کھولا گیا ہے جس میں سٹارگیزنگ کے لیے دور بین بھی لگائی گئی ہے۔

کولمبو میں ایک ارب ڈالر کی لاگت سے نئی پروازیں شروع کی جائیں گی اور سری لنکا کی نئی ایئر لائن ایئر سیلو کا آغاز کیا جائے گا جو یورپ اور آسٹریلیا تک پروازیں چلائے گی۔

The Aarunya Nature Resort is a prime stargazing destination (Credit: Courtesy of Aarunya Nature Resort)

،تصویر کا ذریعہCourtesy of Aarunya Nature Resort

ٹھنڈک کی تلاش میں آنے والے سیاح اس کے پہاڑی کے اندرونی حصے میں ٹرین کی مشہور سواری کر سکتے ہیں یا کولمبو اور گال کا سفر کر سکتے ہیں۔

سری لنکا نے 300 کلومیٹر طویل پیکو ٹریل بھی کھول دی ہے جو پیدل سفر کرنے والوں کو چائے کے باغات دکھاتا ہے اور وسطی پہاڑی علاقوں کے دیہاتوں سے گزرتا ہے۔

Panama City is Central America’s most vibrant capital city and a short drive from the Panama Canal

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پانامہ

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

امریکہ نے سنہ 1999 میں ایک معاہدے کے بعد کئی دہائیوں کے بعد پانامہ کینال کا کنٹرول پانامہ کے حوالے کیا تھا۔ رواں برس اس معاہدے کو 25 برس گزر گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے فوجی قوت کے استعمال سے اس کا کنٹرول دوبارہ سنبھالنے کا اشارہ دیا ہے۔

کینال سے باہر وسیع و عریض جنگلات، دلکش جزیروں اور پہاڑی جنگلات کے اس ملک میں دیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔

سنہ 2024 میں پانامہ کا ٹریول میپ غیر منافع بخش ٹورازم ادارے کیئرس کے ساتھ شراکت داری میں لانچ کیا گیا تھا تاکہ سیاحوں کے لیے ملک بھر میں مقامی گائیڈز کے ساتھ سفر کرنا آسان بنایا جا سکے۔

پانامہ شہر کے کیسکو اینٹیگو اور ایل کوریلو کے مضافات میں سیاح چہدل قدمی کے بعد جنوب مغرب میں لا پنٹاڈا ضلع کا رخ کرتے ہیں جہاں فنکار ہاتھ سے روایتی پانامہ ٹوپیاں بناتے ہیں۔

2024 میں اقوام متحدہ نے ایل ویلے ڈی اینٹن کو بہترین سیاحتی گاؤں میں سے ایک قرار دیا تھا۔

سیاح سیرو گیٹل میں بادلوں سے ڈھکے جنگل میں سفر کریں جہاں بحر الکاہل اور بحیرہ کیریبین دونوں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ نیا راستہ پانامہ کے 1000 کلومیٹر طویل ٹریلز کے منصوبے کا حصہ ہے۔

The city of Chefchaouen is known as the “Blue Pearl” (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

رِف ماؤنٹین، مراکش

برف سے ڈھکے پہاڑوں، وسیع ریگستانوں، قدیم شہروں اور ثقافتی ورثے نے مراکش کو طویل عرصے سے شمالی افریقہ کے مقبول ترین مقامات میں سے ایک بنا رکھا ہے۔

لیکن ستمبر 2023 کے زلزلے نے نہ صرف مراکش اور اطلس پہاڑوں کے کچھ حصوں کو تباہ کر دیا بلکہ اس نے ملکی سیاحت کو بھی بری طرح متاثر کیا۔

مراکش 2030 فیفا ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کی تیاری کے لیے اپنے سیاحتی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور تعمیر نو) جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اس لیے یہ ملک اگلے پانچ سالوں میں یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد کو دوگنا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مراکش کے کم آبادی والے شمالی علاقے میں ریف پہاڑوں کے ذریعے سڑک کا سفر کیجیے۔

مراکش کے ہائی سپیڈ ریل (ایچ ایس آر) نیٹ ورک کا منصوبہ نئی ٹرین لائنوں کے روٹس میں اضافہ کرے گا۔

ان روٹس میں رباط سے قدیم 1300 سال پرانی دیواروں والے ریف ماؤنٹین شہر فاس جانے کا راستہ بھی شامل ہے۔

یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے اور افریقہ کپ آف نیشنز 2025 میں متعدد کھیلوں کی میزبانی کرے گا۔

فاس سے 65 کلومیٹر شمال میں مولای ادریس واقع ہے جو ایک قدیم پہاڑی گاؤں ہے اور کبھی یہ غیر مسلموں کے لیے بند تھا۔ زیتون اور بادام کے باغات اور پہاڑ میں موجود دیہی علاقوں سے گزرتے ہوئے آپ اوزان میں ٹھہریں جو صوفی ازم کا مرکز ہے۔

آپ شمال کی طرف تلاسمین نیشنل پارک کی طرف بڑھیں تاکہ دیودار کے جنگلات میں سے گزریں، سرخ چوٹیوں پر چڑھیں اور قدرتی سوئمنگ پولز میں غوطہ لگائیں۔

مزید شمال میں شیفاؤن کا قصبہ ہے، جسے نیلے رنگ کی عمارتوں اور سڑکوں کی وجہ سے ’بلیو پرل‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور پھر مراکش کے شمالی ساحل کے ساتھ سفر کرتے ہوئے بحیرہ روم کے ماہی گیری کے دیہی علاقے سے گزریں۔

Bradford has been named the 2025 UK City of Culture (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بریڈفورڈ، انگلینڈ

شمالی انگلینڈ کے شہر بریڈ فوڈ کو 2025 میں برطانیہ کا ثقافتی شہر قرار دیا گیا ہے۔

یہاں سال بھر جاری رہنے والے پروگرام میں نیشنل سائنس اینڈ میڈیا میوزیم کا دوبارہ افتتاح کیا جائے گا، مقامی شخصیات کی جانب سے ثقافتی تقریبات منعقد کی جائیں گی اور بریڈفورڈ میں پیدا ہونے والے آرٹسٹ ڈیوڈ ہاکنی کے 400 سے زائد فن پارے نمائش کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

صرف یہی نہیں بلکہ یہاں ایک میوزیکل پروگرام بھی منعقد کیا جائے گا جس میں الیکٹرانک بیس لائن سمفونی، اولڈ فیکٹری فوک میوزک اور جنوبی ایشیائی موسیقی بھی سنائی جائے گی۔

یہاں آپ کو کلاسیکل عصری میوزک بھی سننے کو ملے گا۔ اس شہر کے مقامی رہائشی متنوع پس منظر کی نمائندگی کرتے ہیں۔

Jordan is quietly emerging as the Middle East’s go-to adventure destination (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اردن

اردن دنیا کے خوبصورت صحرا اورقدیم تاریخی تہذیب کا سب سے عجیب و غریب مرکز ہے۔ سنہ 2023 میں یہاں وادی رم ٹرئیل کو کھولا گیا تھا جو کہ 120 کلومیٹر طویل ہے۔

اردن کے وادی مجیب بائیواسفیئر ریزرو (سطح سمندر سے 410 میٹر نیچے دنیا کا سب سے نچلا نیچر ریزرو) میں سیاح صحرا میں رہنے والے نوبیان آئی بیکس کو تلاش کر سکتے ہیں جب وہ ریتیلے پتھروں کی کھائی سے پھسل کر گرتے ہوئے آبشار کی تہہ تک پہنچ رہے ہوتے ہیں۔

یہاں واقوع دانا بائیواسفیئر ریزرو180 پرندوں کی اقسام اور خطرے سے دوچار ممالیہ جانوروں کی 25 اقسام کا گھر ہے۔

یہاں آنکھوں ٹھنڈک پہنچانے کے لیے عقبہ میرین ریزرو میں مرجان کی چٹانیں، 500 سے زیادہ مچھلیوں کی اقسام اوردیکھنے کو دیگر خوبصورت مقامات بھی موجود ہیں۔

Bhutan's mesmerising Haa Valley has become a global leader in sustainable travel (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہا وادی، بھوٹان

بھوٹان ایک ایسا ملک جو بیرونی دنیا سے کئی صدیوں تک کٹا رہا ہے اور پھر اس نے سنہ 1974 میں ہمالیہ میں غیر ملکیوں کا خیر مقدم کرنا شروع کیا۔

تب سے یہ ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر غیرملکیوں کو سیاحت کے بہترین مواقع فراہم کر رہا ہے۔ کاربن کنٹرول کرنے والے ممالک کی فہرست میں بھوٹان کا پہلا نمبر ہے۔

ہا وادی بھوٹان کے مغرب میں تبت کی سرحد کے قریب جنگلات پر مشتمل ایک طویل علاقہ ہے۔ ثقافتی طور پر منفرد خطہ ہونے کے باوجود بھی یہاں ابھی تک سیاحوں کی بڑی تعداد موجود نہیں ہے۔

اس علاقے کو سنہ 2002 میں سیاحوں کے لیے کھولا گیا تھا لیکن یہاں دو فیصد سے بھی کم سیاح آتے ہیں۔

یہاں ٹرانس بھوٹان ٹریل ہے جو کہ 400 کلومیٹر طویل ہے۔ اس طویل شاہراہ میں 1 کلومیٹر کی پینوراما ٹریل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

Sustainable locally run homestays in the Haa Valley allow a window into its unique culture (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہا وادی میں سیاحت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو مقامی جگہوں پر رہائش اختیار کرنے کا موقع ملے گا جو صدیوں پرانی دیہی زندگی کی جھلکیاں پیش کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ یہاں کمیونٹی کے ذریعے چلایا جانے والا کاتھو ایکو کیمپ بھی موجود ہے جسے کورونا وائرس کے دوران ملازمتوں سے فارغ ہونے والے گائیڈز اور باورچیوں کی جانب سے پینوراما ٹریل پر قائم کیا گیا ہے۔

ہا وادی میں سانگوا کیمپ بھی واقع ہے جہاں سیاح مقامی کلچر یعنی آتش پرستی کی رسومات اور منفرد ناشتے سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہاں ایک نیچر ریزرو بھی موجود ہے جہاں سُرخ پانڈا اور برفانی تیندوے بھی رہتے ہیں۔

کبھی ویران رہنے والی یہ جنت اب زیادہ قابل رسائی ہے۔

As Hawaii rebuilds after a series of devastating wildfires, thoughtful, responsible visitors are welcome back with open arms (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہوائی، امریکہ

تقریباً ایک برس قبل ماوئی میں آگ لگنے کے متعدد واقعات رونما ہوئے تھے جس کے بعد امریکی ریاست ہوائی میں سیاحوں کی تعداد میں ڈرامائی کمی دیکھی گئی ہے۔

یہاں کے رہائشی اور مقامی تاجر علاقے کی تعمیر میں مصروف ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہوائی میں جلد از جلد سیاحوں کی بڑی تعداد کی واپسی ہو۔

سیاح یہاں پر ‘ملاما پروگرام’ میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ ملاما ہوائی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ‘حفاظت کرنا’ ہے۔ اس پروگرام کا مقصد قدرتی ماحول کو محفوظ بناتے ہوئے سیاحت کو فروغ دینا ہے۔

اس پروگرام کے تحت سیاحوں کو رضاکارانہ سرگرمیوں کے 350 سے زیادہ مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف یہاں جنگلات کی بحال میں حصہ لے سکتے ہیں بلکہ ماوئی کے مستقل باشندوں کے ساتھ مل کر کھانا پکا سکتے ہیں اور سلائی سیکھ سکتے ہیں۔

اس پروگرام کے تحت وہ پودوں اور جانوروں کی آماجگاہوں کی بحالی میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں کے بدلے میں انھیں امریکی ریاست میں قائم ہوٹلوں اور ریزورٹس میں رہائش کے دوران ڈسکاونٹ دیا جاتا ہے۔

ان ہوٹلوں میں فور سیزنز ریزورٹ ماوئی بھی شامل ہے جہاں دا وائٹ لوٹس کا پہلا سیزن فلمایا گیا تھا۔

Uzbekistan’s new generation is infusing the nation with modern art and culture, while working to retain its ancient customs (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ازبکستان

ازبکستان کی آبادی کا 60 فیصد حصہ جوانوں پر مشتمل ہے۔ یعنی اس ملک کے باشندوں کی اکثریت کی عمریں 30 برس سے کم ہیں۔

تاشقند کے میٹرو سٹیشنز پرنوجوانوں کا سمندر دکھائی دیتا ہے۔ یہاں آپ ایک نئی نسل کو اپنے ملک کی قسمت خود سنبھالتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔

یہ ملک اپنی منفرد روایات اور ثقافتوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، اپنی معیشت کو ترقی دے رہا ہے، نوجوانوں کو آگےبڑھنے کے موقع دے رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے نئے ہوٹلوں، ٹرین روٹس، پروازوں اور ثقافتی طور پر پرکشش مقامات میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

وسطی ایشیا کے اس ملک میں شاہراہ ریشم پر آباد سمرقند اور بخارا جیسے شہروں میں بڑی بڑی مساجد اور مقبرے ہیں جو انتہائی اچھے حال میں ہیں۔

ازبکستان کی ٹورازم کمیٹی کے نائب سربراہ عبدالعزیز عقولوف کہتے ہیں کہ گذشتہ سال تقریبا نوے لاکھ ازبک باشندوں نے مساجد اور مقبروں کی زیارت کی ہے۔

یہاں آنے والے بیرونی زائرین کی تعداد ابھی کم ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک سال میں یہاں تقریبا 20 لاکھ زائرین آتے ہیں۔

لیکن اب ازبکستان نے پڑوسی ممالک کے ساتھ اپنی سرحدیں کھول دی ہیں اور دوسرے ممالک کے لیے ویزے کے قانون میں نرمی لائی گئی ہے۔

مئی 2024 سے 90 سے زیادہ ممالک (بشمول برطانیہ ، کینیڈا اور آسٹریلیا) کے شہری بغیر ویزے کے ازبکستان کا سفر کرسکتے ہیں۔

ملک کے صدر نے کہا ہے کہ وہ یہاں گلوبل گرین ٹورازم اسٹارٹ اپ لیب بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ سیاحت کے ساتھ ماحول دوست معیشت کے لیے ملک کو مضبوط کیا جا سکے۔

اب وہاں ہمسایہ ممالک کی سرحد پار کرنا بھی آسان ہو گیا ہے۔ یہاں گذشتہ برس اس خطے کا پہلا بین الاقوامی ریلوے روٹ ‘سلک روڈ ریلوے ٹور’ شروع ہوا تھا اور اب یہ ازبکستان کو قازقستان سے جوڑتا ہے۔

New legislation aims to revitalise Indigenous Haida culture (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ہیڈا گوائی، کینیڈا

برٹش کولمبیا کے ساحل پر 150 سے زائد جزائر پر مشتمل خطہ ہیڈا گوائی دلفریب مناظر پیش کرتا ہے۔

یہاں آپ کو فطرت، ثقافت اور تاریخ کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ ان جزائر میں مقامی پرندوں، جانوروں اور پودوں کی 6 ہزار 800 سے زیادہ اقسام موجود ہیں جنھوں نے گذشتہ 15 ہزار برسوں میں ہیڈا گوائی کے مکینوں کی زندگیوں کو رواں دواں رکھا ہے۔

2025 میں جو چیز ہیڈا گوائی کو سیاحت کی ایک نمایاں منزل بناتی ہے وہ ہیڈا ٹائٹل لینڈز ایگریمنٹ ہے۔

اس قانون سازی کے ذریعے ہیڈا کے مقامی افراد کے حقوق کو محفوظ بنایا گیا ہے اور وفاقی قانون کے تحت قدیم ہیڈا قوم کی گورننگ باڈی کو یہاں کے انتظامی امور سونپ دیے گئے ہیں۔

اس قانون سازی کے ذریعے ہیڈا کے کلچر کو بحال کرنے اور قدرتی ماحول کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

یہاں سیاح قدیم مردہ خانے کے کھمبوں اور لانگ ہاؤس کی باقیات کے ساتھ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ایس گانگ گوائے جیسے طویل عرصے سے خالی ہیڈا گاؤں کا دورہ کر سکتے ہیں۔ یہاں سیاحوں کو سیاہ ریچھ اور سمندری پرندوں کو دیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

یہاں آنے والے افراد کو ہیڑا قوانین سے بھی متعارف کروایا جاتا ہے، جن میں زمین کا خیال رکھنے کے لیے مشترکہ کوشش کرنے کی تعلیم بھی شامل ہیں۔

The Carretera Costanera highway will make it easier to reach Nicaragua’s surf hubs like San Juan del Sur (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایمرلڈ کوسٹ، نکارا گوا

دھند سے ڈھکے برساتی جنگلات، زمرد کی جھیلیں، بلند و بالا آتش فشاں پہاڑ اور وسطی امریکہ کے قدیم ترین اور پرکشش ملکوں میں سے ایک بڑا ملک نکارگوا بھی ہے جہاں اب بھی سیاحوں کی آمد کم ہی ہوتی ہے۔

اس ملک میں صورتحال ہے جلد ہی تبدیل ہو سکتی ہے جس کا سبب کیریٹیرا کوسٹانیرا کا افتتاح ہوگا۔ یہ 400 ملین ڈالر کی لاگت سے بننے والی ایک شاہراہ ہے جو کہ نہ صرف بحر الکاہل کو نکاراگوا کے 53 ساحلوں سے جوڑتی ہے بلکہ شمال میں خلیج فونسیکا سے جڑتی ہے اور جنوب میں پلایا ایل نارانجو کے فیروزی پانیوں سے۔

Nicaragua’s Unesco-listed city of Granada celebrated its 500th anniversary in December 2024 (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

2025 میں مکمل ہونے والے اس نئے منصوبے کے سبب نکاراگوا کے وسیع و عریض دارالحکومت مانگوا سے جنوب میں ملک کے 50 کلومیٹر طویل ایمرالڈ کوسٹ کے ساتھ واقع سان جوآن ڈیل سور اور پوپویو کے عالمی معیار کے سرفنگ مراکز تک جانا بہت آسان ہو جائے گا۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ کوسٹانیرا شاہراہ کو ملک کی معاشی زندگی کو ترقی دینے کے مقصد سے بنایا گیا ہے، یہاں کی آبادی غریب ہے لیکن نکاراگوا نئے منصوبے کے تحت سیاحتی شعبے کو مضبوط کر کے لوگوں کی معاشی حالت سدھارنا چاہتا ہے۔

One of the best ways to get to the heart of this cliff-fringed island is to explore it on foot (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آئل آف مین

مغرب میں شمالی آئرلینڈ، شمال میں سکاٹ لینڈ، مشرق میں انگلینڈ اور جنوب میں ویلز یعنی چاروں طرف سے گھرے جانے کے باوجود بھی یہ جزیرہ دراصل دولت مشترکہ کا حصہ نہیں ہے۔

یہ خود مختار جزیرہ اپنے منفرد کردار کو برقرار رکھنے اور ایک پائیدار سیاحتی ماڈل تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

85 ہزار افراد کی آبادی پر مشتمل آئل آف مین میں متعدد تاریخی مقامات واقع ہیں جس میں کیسل آف ہائٹ اور کیسل روشن بھی شامل ہیں۔

سنہ 2016 میں اسے ماحولیاتی تحفظ اور ثقافتی ورثے سے وابستگی کی وجہ سے یونیسکو بائیواسفیئر (دنیا کا واحد خود مختار علاقہ جس کے پورے زمینی اور سمندری علاقے کو ایک ہی درجہ گیا ہے) کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔

اس سال آپ وہاں آئر نیشنل ریزرو میں مقامی پرندوں کی متعدد اقسام کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس ریزرو کو جولائی 2024 میں عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا۔

بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ یہاں پیدل سفر کریں۔ یہاں آپ کو میدان، دھند میں لپٹی پہاڑیاں اور خستہ حال ویلش ساحل ملیں گے۔

The Azores boast some of the continent's most dramatic black-sand beaches and best whale-watching opportunities (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آزورس

لزبن کے مغرب میں تقریبا 1500 کلومیٹر کے فاصلے پر بحر اوقیانوس کے وسط میں واقع نو جزیروں پر مشتمل پرتگالی جزیرہ نما یورپ کے سب سے الگ تھلگ مقامات میں سے ایک ہے۔

یہ علاقہ اپنے بھاپ دار قدرتی گرم چشموں، قیمتی پتھروں سے رنگی جھیلوں اور چمکتے ہوئے لاوا ٹیوبز کے لیے مشہور ہے۔ اسے یورپ کی سب سے بڑی محفوظ سمندری پناہ گاہ قرار دیا جاتا ہے۔

اکتوبر 2024 میں منظور کیے گئے قانونکے ایک اہم حصے کے تحت آزورس کا نیا میرین پروٹیکٹڈ ایریا 2 لاکھ 87 ہزار مربع کلومیٹر پر محیط ہوگا اور گہرے سمندر میں مرجان، شارک اور یہاں پائی جانے والی وہیل اور ڈولفن کی 28 اقسام کی حفاظت کرے گا۔

The Azores have made protecting their coral reefs a top priority (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

In 2025, Kansas City is rebranding itself as one of the country’s top cultural destinations (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کنساس سٹی، مسوری، امریکہ

کنساس سٹی کو ’میدانوں کا پیرس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

شمالی امریکہ میں موجود یہ شہر تخلیقی فنون کو فروغ دے رہا ہے، جبکہ یہاں شہری بحالی کے نئے منصوبے کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے جس کے تحت نئے عجائب گھر، تفریحی مقامات اور ہوٹل بنائے جائیں گے۔

کنساس سٹی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سنہ 2023 میں اہم تزئین و آرائش مکمل کی گئی تھی۔ یہاں ڈیڑھ ارب ڈالر کی لاگت سے نئے ٹرمینلز بھی بنائے گئے ہیں۔

توقع ہے کہ اس موسم گرما میں یہاں ساڑھے تین میل طویل مین سٹریٹ ایکسٹینشن بھی کھل جائے گی جس سے شہر کے کچھ اہم مقامات تک پہنچنا اور بھی آسان ہوجائے گا۔ ان مقامات میں یونین ہل شاپنگ ڈسٹرکٹ اور نیشنل ڈبلیو ڈبلیو آئی میوزیم اور میموریل بھی شامل ہیں جہاں پہلی عالمی جنگ کے دور کی اشیا اور دستاویزات موجود ہیں۔

کنساس سٹی میں رواں برس کے موسمِ بہار میں راک آئی لینڈ برج بھی دوبارہ کھولا جائے گا جو کہ ایک دریا کے اوپر 40 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

Bolivia is hosting a full year of parties to celebrate its bicentennial in 2025 (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بولیویا

رواں برس بولیویا اپنی 200 ویں سالگرہ منا رہا ہے اور اس وجہ سے پورے سال یہاں تقریبات اور چشن جاری رہے گا۔

بولیوا جنوبی امریکہ کے قدیم باشندوں کی سرزمین ہے۔ یہاں ایمازون کا مدیدی نیشنل پارک ہے۔ یہاں آپ کو کاپی براز، تیندوے اور مکاؤ کے گھر دیکھنے کو ملیں گے۔

بوٹسوانہ

بوسٹوانہ افریقی ممالک میں گرین سفاری ٹورازم کا لیڈر مانا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہاں کی قیمتی وائلڈ لائف ریزوز کے علاوہ حکومتی پالیسی بھی ہے۔ اس پالیسی کے تحت زیاد توجہ کمائی پر تو ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہاں اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ قدرتی ماحول پر منفی اثرات نہ پڑیں۔

اس پالیسی کی بدولت یہاں سیاحوں کو آنے کی اجازت کم ہی ملتی ہے۔

لیکن کورونا وائرس کی وبا کے اختتام کے بعد حالیہ عرصے میں بوسٹوانہ نے 104 ممالک کے شہریوں کو فری ویزا انٹری دی ہے جن میں امریکہ، جرمنی، برطانیہ اور کینیڈا شامل ہیں۔

اب اس کے بعد یہ ممکن ہو گیا ہے کہ سیاح اس ملک کی قدرتی خوبصورتی سے لُطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

بوٹسوانہ کو ہاتھیوں کا درالحکومت بھی کہا جاتا ہے، یہاں نیشنل چوب پارک اور یونیسکو کی فہرست میں شامل اوکوانگو ڈیلٹا بھی شامل ہے۔

Botswana’s Okavango Delta is one of Africa’s premier luxury safari destinations (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

The Norwegian capital is famous for its modern architecture and dedication to sustainability (Credit: Getty Images)

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اوسلو، ناروے

ناروے کے شہر اوسلو میں حال ہی میں وائرل ہونے والے ایک اشتہار میں پوچھا گیا تھا کہ ’کیا یہ ایک شہر بھی ہے؟‘

اس ویڈیو میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ یورپ کے دیگر دارالحکومتوں میں سیاحت نے کس طرح تباہی مچائی ہے جبکہ ناروے میں عالمی معیار کا کھانا اور آس پاس کے پہاڑوں، جزیروں اور پرسکون مناظر تک آسان رسائی ممکن ہے۔

یہاں آنے والوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ گائیڈ لائنز اور گرین اوسلو گائیڈ پر توجہ دیں گے۔ اس کے مطابق یہاں سیاحت میں چار چیزوں کو مد نظر رکھا گیا ہے: زمین، لوگ، خوشحالی اور شراکت داری۔

یہاں ہوٹلوں کی چھتوں کو خوراک اگانے کے لیے استعمال کرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ یہاں لوگوں کو تلقین کی جاتی ہے کہ وہ توانائی کا استعمال کم کریں، پانی کا ضیاع نہ کریں بلکہ اسے دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں اور شہری حیاتیاتی تنوع کو فروغ دیں۔

یہ یورپ کے سب سے زیادہ جنگلات والے شہروں میں سے ایک ہے۔ اوسلو اس قسم کےسیاحوں کو راغب کر رہا ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے کہ یہ دنیا کے سب سے پائیدار شہروں میں سے ایک رہے۔

نادرن لائٹس ہوں یا شمالی یورپ کی دیہی زندگی کو دیکھنے کی جستجو، یہ سفر کے لیے ایک بہترین جگہ ہے جہاں آپ کو مقامی طور پر موجود دیسی غذا مل سکتی ہے۔

SOURCE : BBC