Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں 114 رفال طیاروں سمیت ہتھیاروں کے لیے 40 ارب ڈالرز کی منظوری:...

114 رفال طیاروں سمیت ہتھیاروں کے لیے 40 ارب ڈالرز کی منظوری: کیا یہ ڈیل واقعی انڈیا کے لیے ’گیم چینجر‘ ہوگی

13
0

SOURCE :- BBC NEWS

رفال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

6 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انڈیا نے جمعرات کے روز 40 ارب ڈالر (36 کھرب انڈین روپے) مالیت کے دفاعی سازوسامان کی خریداری کی ابتدائی منظوری دے دی ہے جس میں انڈین فضائیہ کے لیے مزید فرانسیسی رفال طیارے بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کے مطابق انڈین وزارت دفاع نے کہا کہ ’ڈیفینس اکیوزیشن کونسل نے فضائیہ کے لیے مزید رفال لڑاکا طیارے اور میزائل، فوج کے لیے اینٹی ٹینک میزائل اور بحریہ کے لیے P-8I جاسوس طیاروں کے لیے ابتدائی منظوری دے دی ہے۔‘

’روئٹرز‘ کے مطابق جمعرات کے روز انڈیا کے مقامی میڈیا نے یہ رپورٹ کیا تھا کہ ’ڈیفینس اکیوزیشن کونسل نے ڈیسو ایوی ایشن سے 114 رفال طیاروں کی خریداری کے لیے 32 کھرب 50 ارب انڈین روپے کی منظوری دے دی۔‘

جمعرات کو دہلی میں ہونے والے اجلاس میں اس بجٹ کی منظوری دی گئی جس کے تحت مزید رفال لڑاکا طیارے انڈین فضائیہ میں شامل کیے جائیں گے۔

انڈین وزارت دفاع نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ اس کا مقصد فضائی قوت میں اضافہ اور نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنانا ہے۔

اس بجٹ کی منظوری فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں کے دورہ انڈیا سے چند روز قبل کی گئی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ فرانسیسی صدر کے دورے کے دوران اس حوالے سے معاہدہ طے پا جائے گا۔

واضح رہے کہ انڈیا نے گذشتہ برس اپریل میں بھی فرانس کے ساتھ 26 رفال فائٹر جیٹ خریدنے کا ایک معاہدہ کیا تھا۔ ان جنگی جہازوں کی مجموعی قیمت تقریباً 63 ہزار کروڑ روپے یا تقریبآ آٹھ ارب ڈالر بنتی ہے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہ@SpokespersonMoD

انھوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی مقابلے میں فرانسیسی دفاعی صنعت کی برتری کا ایک اور ثبوت ہے۔ ’جغرافیائی سیاسی سطح پر یہ فیصلہ انڈیا اور فرانس کے درمیان سٹریٹجک دوطرفہ شراکت داری کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’خودمختاری اور باہمی مفادات کے احترام پر مبنی یہ باہمی اعتماد کے رشتے عالمی استحکام کے لیے مضبوط بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں اور آئندہ برسوں میں انھیں مزید مستحکم بنانے کے لیے کام کیا جائے گا۔‘

انڈیا کے لیے ’گیم چینجر‘

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

رفال طیاروں کے حوالے سے نئے معاہدے کا معاملہ سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے مابین ہونے والی لڑائی کے دوران بھی رفال طیاروں کا تذکرہ ہوتا رہا ہے۔

پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس لڑائی کے دوران انڈیا کے رفال طیاروں سمیت اس کے چھ لڑاکا طیارے مار گرائے گئے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ 40 سے 50 فیصد طیارے انڈیا میں تیار کیے جائیں۔ یہ ’میک ان انڈیا‘ کا تسلسل ہو گا۔

راجیش کمار کا کہنا تھا کہ ان طیاروں کی انڈیا میں تیاری سے انھیں جلد انڈین فضائی بیڑے میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔

دفاعی ماہر اشونی سیواچ کہتے ہیں کہ ’اس رقم کی منظوری انڈیا کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گی۔ انڈیا 114 رفال طیارے حاصل کرے گا، جس سے چھ سے سات سکواڈرن بنیں گے۔‘

اُن کے بقول ’یہ طیارے اگلے سات سے آٹھ سال میں آنے کی توقع ہے اور ان میں سے زیادہ تر انڈیا میں ہی تیار کیے جائیں گے۔‘

اُن کے بقول میک ان انڈیا کے تناظر میں اگر فرانس مکمل آزادی اور بھرپور تعاون کرتا ہے تو پھر ہی اس سودے کو بہتر سمجھا جائے گا۔

رفال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیا انڈیا کو اس لڑاکا طیارے سے پاکستان پر برتری حاصل ہو گی؟

یہ جہاز تمام جنگی ساز وسامان، ہتھیاروں، سیمولیٹر، سپیئر پارٹس وغیرہ سے مزین ہوں گے۔ اس معاہدے میں پائلٹس کی ٹریننگ اور سازو وسامان کی فراہمی کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

رفال جنگی طیارہ جوہری بم لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ جہاز 70 کلومیٹر دوری تک وار کرنے والے ایگزوسٹ اے ایم 39 بحری جہاز شکن مزائلوں کے علاوہ 300 کلو میٹر رینج والے فضا سے زمین پر وار کرنے والے ’سکلپ‘ اور 120 سے 150 کلومیٹر کی رینج والے فضا سے فضا میں وار کرنے والے میٹیور میزائلوں سے لیس ہو گا۔

دفاعی ماہر سنجیو سریواستو نے بی بی سی کے چندن کمار ججواڑے سے بات کرتے ہوئے کہا ’آج کے دور میں دنیا کے کئی ممالک ڈرون کی مدد سے بھی حملے کر رہے ہیں لیکن لڑاکا طیارے اپنی درستگی کے ساتھ حملہ کرنے اور طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت کے لحاظ سے اہم ہیں۔‘

تجزیہ کار راہل بیدی نے بتایا کہ ’ان جہازوں کی خریداری ضروری ہو گئی تھی کیونکہ انڈین بحریہ کے پاس اس وقت روسی ساخت کے جومگ 29 ساخت کے طیارے ہیں جو آئندہ برسوں میں ناقابلِ استعمال ہوں گے۔‘

اس دفاعی بجٹ کی منظوری ایسے وقت پر ہوئی ہے جب پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔

تو کیا انڈیا کو اس لڑاکا طیارے سے پاکستان پر برتری حاصل ہو گی؟ پاکستان کے ساتھ موجودہ کشیدہ صورتحال میں انڈیا کے لیے رفال معاہدہ کتنا اہم ہے؟

اس سوال پر راہل بیدی کا کہنا ہے کہ ’ایشیا کے اس خطے میں چین اور تھائی لینڈ کے علاوہ کسی بھی ملک کے پاس طیارہ بردار بحری جہاز نہیں۔‘

یعنی اس معاملے میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی صورتحال میں انڈیا کو رفال ایم ڈیل سے فائدہ تو ہو گا لیکن سب سے اہم چیز اس کی فراہمی ہے جس میں کئی مہینے لگیں گے۔

اس سوال کے جواب میں دفاعی ماہر سنجیو سریواستو کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کے پاس اس وقت دو طیارہ بردار بحری جہاز ہیں، آئی این ایس وکرانت اور آئی این ایس وکرمادتیہ جبکہ پاکستان کے پاس ایک بھی طیارہ بردار بحری جہاز نہیں۔ انڈیا کے ذہن میں چین ہے۔ فضائیہ نے اس سے پہلے چین کو ذہن میں رکھتے ہوئے رفال طیارے تعینات کیے۔‘

انڈیا کو اپنی سکیورٹی کے لیے کتنے لڑاکا طیاروں کی ضرورت ہے؟ اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ آپ کے پاس جتنے زیادہ طیارے ہوں گے وہ اتنی ہی زیادہ جگہوں پر لڑ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس معاملے میں نمبر اہم ہیں۔

SOURCE : BBC