SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
ایک عورت چھت پر کھڑی نیچے سے آنے والی آوازیں سن رہی ہے۔ آج رات صرف ٹریفک کی مدھم بھنبھناہٹ ہی سنائی دے رہی ہے۔ لیکن وہ جانتی ہیں کہ یہ منظر کتنی آسانی سے بدل سکتا ہے۔ عموماً کتّے ہی سب سے پہلے طیاروں کی آواز کو محسوس کرتے ہیں اور زور زور سے بھونکنا شروع کر دیتے ہیں۔
پھر دھماکوں کی خوفناک گونج سنائی دیتی ہے اور فضائی حملے کے بعد نارنجی رنگ کی آگ کی گیند نظر آتی ہے۔
بی بی سی نے تہران سے ایسی فوٹیج اور انٹرویوز حاصل کیے ہیں جو ایک ایسے شہر کا منظر پیش کرتے ہیں جہاں لوگوں کے اعصاب تناؤ کا شکار ہیں، لوگ ہر وقت اگلے دھماکے کے انتظار میں بے چین رہتے ہیں اور ریاستی سکیورٹی اداروں کے مسلسل خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔
باران (فرضی نام) ایک کاروباری خاتون ہیں اور ان کی عمر 30 کے پیٹے میں ہے۔ اب وہ دفتر جانے سے بھی ڈرنے لگی ہیں۔
’ڈرون حملوں کی ابتدا کے بعد کسی کی باہر جانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ اگر میں دروازہ کھول کر باہر نکلتی ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اپنی زندگی داؤ پر لگا رہی ہوں۔‘
وہ تنہا رہتی ہیں لیکن اپنے دوستوں کے ساتھ ان کا مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ ’میں اور میرے دوست مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور پوچھتے رہتے ہیں کہ سب کہاں ہیں۔ جب دھماکے کی آواز نہیں آتی تب خاموشی بھی خوفناک لگتی ہے۔‘
باران کا کہنا ہے کہ ’میں زندہ رہنے کی پوری کوشش کر رہی ہوں تاکہ دیکھ سکوں کہ آگے کیا ہوگا۔‘
بہت سے دیگر نوجوان ایرانی شہریوں کی طرح باران نے بھی گذشتہ چند ماہ میں تبدیلی کی اپنی امیدوں کو بکھرتے ہوئے دیکھا ہے۔ رواں برس جنوری میں تبدیلی کے مطالبے پر ہونے والے وسیع مظاہروں کے بعد حکومت کی فورسز کی کارروائی میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے تو یہ بھی یاد نہیں کہ میں ماضی میں کیسے جیتی تھی، بغیر اپنے ان پیاروں کو یاد کیے جنھیں میں نے احتجاجی مظاہروں کے دوران کھو دیا۔‘
’مجھے آنے والے کل سے ڈر لگتا ہے۔ مجھے اُس شخص سے ڈر لگتا ہے جو میں آنے والے کل میں بنوں گی۔ آج تو میں کسی طرح سے زندہ ہوں، لیکن میں آنے والے کل سے کیسے گزروں گی؟ یہی اصل سوال ہے۔ کیا میں کل تک زندہ بھی رہ سکوں گی؟‘
اب یہاں مکمل جبر کا ماحول ہے۔ کھل کر اختلافِ رائے کا اظہار کرنا ناممکن ہے کیونکہ ریاست کے محافظ ہر جگہ موجود ہیں۔ جو فوٹیج ہمیں ملی ہے وہ دکھاتی ہے کہ رات کے وقت حکومت کے حامی شہر میں گاڑیاں دوڑائے پھرتے ہیں، اُن کی گاڑیوں پر جھنڈے لہرا رہے ہیں، یہ اُن سب کے لیے ایک پیغام ہے جو حکومت مخالف احتجاج کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔
صرف سرکاری بیانیے کے پرچار کی ہی اجازت ہے۔ سرکاری ٹیلی وژن احتجاجی مظاہروں اور جنازوں کی فوٹیج نشر کرتا ہے۔ حکومت کے حامی عہدیداران اور مظاہرین کے انٹرویوز میں بار بار امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کی جاتی ہے۔ سرکاری پروپیگنڈے میں ایرانی عوام کو ایسے افراد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو شہادت کے لیے تیار ہیں۔
تاہم آزاد صحافی اب بھی ایسی گواہیاں جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ایک قابلِ اعتماد متبادل نقطۂ نظر پیش کر سکیں، لیکن وہ گرفتاری، تشدد اور شاید اس سے بھی بدتر انجام کے خطرے سے دوچار ہیں۔ جیسا کہ ان میں سے ایک نے مجھے بتایا: ’جنگی حالات میں آپ واقعی یہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
تہران کے شہری صرف اپنے گھروں کے اندر ہی اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ علی بھی ان میں سے ایک ہیں، جن کی عمر 40 کے پیٹے میں ہے۔ انھوں نے سوچا تھا جنگ کی ابتدا میں ہی آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت سے ملک میں تبدیلی جنم لے گی۔
تاہم اب انھیں سڑکوں پر ہر طرف سکیورٹی فورسز نظر آتی ہیں۔ مسلح افراد نے شہر میں مزید چیک پوسٹ قائم کر لیے ہیں۔
علی کہتے ہیں کہ: ’ان سڑکوں کو دیکھ کر بہت تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ یہ شہر مردہ افراد کی بستی لگتا ہے۔‘
وہ اب تناؤ سے نجات کی ادویات بھی لے رہے ہیں۔
’سڑکوں پر وہ گروہ نظر آتے ہیں، جن کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ حکومت کے حامی افراد ہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہم سے ہماری سڑکیں بھی چھین لیں۔‘
بی بی سی سے بات کرنے والے کئی ایرانی شہریوں نے متضاد جذبات کا اظہار کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ختم ہو، لیکن ساتھ ہی انہیں یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود اور ان کا ملک حملے کی زد میں ہیں۔
علی کہتے ہیں کہ ’صورتحال خوفناک ہے۔ ہمارے آسمان دشمنوں کے قبضے میں ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دلوں میں اب بھی امید زندہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم امریکہ یا اسرائیل کے حامی ہیں۔ ہمیں بس امید ہے کہ کسی لمحے میں شاید کچھ ہو جائے اور یہ حکومت گِر جائے۔ پھر شاید لوگ ملک میں تبدیلی لا سکیں۔‘
دوسری طرف باران اپنے اپارٹمنٹ میں بیٹھی دھماکوں کی آوازیں سنتی ہیں اور اپنے دوستوں کو پیغام بھیجتی رہتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے اور دنیا کے دوسرے لوگوں کے آسمان میں کیا فرق ہے؟ وہ رات میں ستاروں کے نیچے سوتے ہیں اور راکٹوں کے نیچے۔ دونوں سے ہی روشنی ہوتی ہے لیکن ان کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔‘
باران کہتی ہیں کہ یہ جنگ شاید برسوں تک چلے مگر اس کے نفسیاتی اثرات مزید لمبے عرصے تک نظر آئیں گے۔
’یہ جنگ جلدی نہیں ختم ہوگی کیونکہ یہ جنگ اب ہمارے گھروں اور خاندانوں میں شامل ہو چکی ہے۔ یہ جنگ اب ہمارے خون میں ہے اور زندگیوں میں رچ بس گئی ہے۔‘
اس چھ ہزار سال پرانے شہر کے باشندے ایک طرف تو امریکی اور اسرائیلی بمباری کے خوف میں جی رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف حکومت اور اس کے جلادوں کا ڈر ہے۔
اس خبر کے لیے اضافی رپورٹنگ ایلیس ڈویرڈ نے کی ہے۔
SOURCE : BBC



