SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ثاقب ججہ کا تعلق بھی اسی گاؤں سے ہے جس کے کئی پاکستانی نوجوان تارکین وطن کی اُس کشتی پر سوار تھے جو یونان میں حادثے کا شکار ہوئی تھی۔
لیکن اب پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا کہنا ہے کہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے مطلوب ثاقب ججہ کو غیر قانونی طریقے سے نوجوانوں کو بیرون ملک بھیجنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ وہ گاؤں میں ایجنٹوں کے اس گروہ کے سرغنہ تھے جس نے یورپ جانے کے خواب دکھا کر کئی نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلا۔
دسمبر 2024 کے دوران تارکین وطن کی ایک کشتی لیبیا سے یونان جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوئی تھی جس پر پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد سوار تھی۔
اس واقعے کے بعد 18 دسمبر کو پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کشتی پر سوار کم از کم پانچ پاکستانی شہری ڈوب کر ہلاک ہوئے تھے جبکہ 47 پاکستانیوں کو ریسکیو کر لیا گیا تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق ثاقب ججہ کے خلاف متاثرین کی جانب سے 14 مقدمات درج کرائے گئے تھے لیکن ملزم کی وکلا ٹیم میں شامل وحید ناصر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد وہ متعلقہ عدالت میں ضمانت کی اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ثاقب ججہ کون ہیں اور وہ ایف آئی اے کو کیوں مطلوب تھے؟
ایف آئی اے حکام کا دعویٰ ہے کہ ثاقب ججہ دسمبر 2024 کے کشتی حادثے میں ملوث تھے۔ مگر تفتیشی ٹیم کے مطابق وہ حادثے کے بعد بیرون ملک فرار ہو گئے تھے اور اب انھیں پاکستان واپسی پر گرفتار کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم ثاقب ججہ اور اس گروہ کے دیگر ارکان بیرون ملک جانے کے خواہشمند سینکڑوں افراد کو غیر قانونی طور بیرون ملک بھجوا چکے ہیں۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ملزم کے خلاف جو مقدمات درج ہیں ان کے بارے میں تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ’ہر ایک شخص سے ثاقب ججہ نے 20 لاکھ سے لے کر 38 لاکھ روپے تک وصول کیے تھے۔‘
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ نے اس گروہ کے دو ارکان کو اسی واقعے سے متعلق درج ایک مقدمے میں 20، 20 سال اور 10، 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزائیں سنائی ہیں۔
پسرور کے رہائشی دلاور حسین کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے راحت دلاور کو اٹلی بھجوانے کے لیے تنویر نامی شخص سے رابطہ کیا تھا جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ ’ثاقب ججہ کا سب ایجنٹ ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کی ججہ سے کبھی براہ راست ملاقات نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ بہت کم اپنے گاؤں موریکے ججہ آتے تھے۔ ان کے مطابق یہ گینگ علاقے سے سینکڑوں لڑکوں کو غیر قانونی طریقے سے بھجوا چکا ہے جس کی وجہ سے ان سمیت علاقے کے دیگر افراد اپنے بچوں کو بیرون ممالک بھجوانے کے متمنی ہوتے تھے۔
دلاور حسین کا کہنا تھا کہ ’بچے کو باہر بھجوانے کی ڈیل پچاس لاکھ سے شروع ہو کر اسی لاکھ روپے تک بھی جاتی تھی۔‘
ان کی اپنے بیٹے کو اٹلی بھجوانے کے لیے ’ثاقب ججہ کے سب ایجنٹ سے پچاس لاکھ میں ڈیل ہوئی اور ان کو تیس لاکھ روپے ایڈوانس میں دیے تھے جبکہ باقی 20 لاکھ روپے راحت کے اٹلی پہنچنے اور وہاں کام ملنے کے بعد دینے تھے۔‘
ان کا بیٹا بھی اس کشتی میں سوار تھا جو یونان کے قریب حادثے کا شکار ہوئی تاہم وہ ان خوش نصیبوں میں شامل تھا جنھیں بچا لیا گیا۔
دلاور حسین کا کہنا تھا کہ مختلف گاؤں کی خواتین بھی ’ججہ گروہ کے لیے کام کرتی تھیں، خاص طور پر وہ خواتین جو لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں۔‘
’یہ خواتین ان عورتوں کو اس گروہ کی طرف سے نوجوانوں کو بیرون ملک بھجوانے کے کارناموں کے بارے میں آگاہ کرتی تھیں جس کے بعد بیرون ملک جانے کے خواہشمندوں سے مالی معاملات طے کیے جاتے تھے۔‘

’مقدمات کے مدعیوں کو بیانات بدلنے پر مجبور کیا گیا‘
دلاور حسین کا کہنا ہے کہ کشتی حادثے کے بعد ثاقب ججہ اور گروہ کے دیگر ارکان نے ’ان فیملیز کے ساتھ رابطہ کیا جن کے بچے کشتی کے اس حادثے میں بچ گئے تھے اور انھیں اس شرط پر پیسے واپس کرنے کی پیشکش کی کہ اگر وہ ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کو درخواست نہیں دیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ انھیں بھی عدالت میں بیان دینے پر وہ 30 لاکھ روپے واپس کرنے کی آفر کی گئی جو انھوں نے اپنے بیٹے کو باہر بھجوانے کے لیے ثاقب ججہ کو دیے تھے۔
تاہم دلاور حسین کے بقول انھوں نے یہ پیشکش ٹھکرا دی تھی۔
مگر دلاور حسین کے بقول ’کچھ افراد ان کی باتوں میں آ گئے اور انھوں نے متعلقہ عدالت میں وہ بیان واپس لینے کے لیے درخواستیں دیں جن کی بنیاد پر ثاقب ججہ کے خلاف مقدمات درج ہوئے تھے۔‘
اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ایف آئی اے ٹیم میں شامل رانا شہواز نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم کے خلاف صرف گوجرانوالہ میں 14 مقدمات درج ہیں جن میں وہ ایف آئی اے کو مطلوب تھے۔ ان کے بقول 14 مقدمات میں سے پانچ اِن افراد کے لواحقین نے درج کروائے جو لیبیا کشتی حادثے میں ڈوب کر ہلاک ہوئے جبکہ نو افراد اس حادثے میں زندہ بچنے کے بعد پاکستان ڈی پورٹ ہوئے تھے۔
رانا شہواز نے دعویٰ ہے کہ ملزم نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے 14 میں سے پانچ مقدمات کے مدعیوں کو اپنا بیان بدلنے پر مجبور کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ حادثے کے بعد ملزم ’غیر قانونی طریقے سے ایران فرار ہوگیا تھا کیونکہ اس واقعے کے بعد اس کا نام سٹاپ لسٹ میں ڈالا ہوا تھا۔‘
تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ‘ایک سال تک بیرون ملک رہنے کے بعد ملزم واپس آیا اور اس نے ان افراد کے ساتھ رابطہ کیا جنھوں نے ان کے خلاف مقدمات درج کروائے تھے۔’
ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ان مدعیوں میں سے پانچ افراد نے متعلقہ عدالت میں بیان دیا کہ ایف آئی اے نے جن بیان حلفی کو بنیاد بنا کر ملزم ثاقب ججہ کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے وہ بیان حلفی انھوں نے اپنی مرضی سے نہیں دیے بلکہ ان سے زبردستی یہ بیان دلوایا گیا ہے۔
جب یہ معاملہ ٹرائل کورٹ میں گیا تو وہاں پر بھی ان پانچ مدعیوں نے یہی موقف اپنایا کہ ایف آئی اے نے ان کی رضامندی کے بغیر بیان لے کر ملزم کے خلاف دسمبر 2024 میں مقدمات درج کیے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ ان کے بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار نہیں ہے۔
ٹرائل کورٹ سے جب یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں گیا تو وہاں پر بھی پانچ مقدمات کے مدعیوں نے یہی موقف اپنایا کہ ان سے ایف آئی اے نے ’زبردستی بیان لیے ہیں۔‘
چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے اس معاملے کی فرانزک کروانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی حکم دیا کہ یہ معلوم کیا جائے کیا ان مقدمات کے مدعیوں نے پہلا بیان اپنی مرضی سے دیا تھا یا پھر کسی دباؤ کے تحت اپنا بیان بدل رہے ہیں۔
ایف آئی اے کے حکام کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی فرانزک کروانے کے بعد رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی جس کے بعد عدالت نے ان پانچ مقدمات کے مدعیوں کا موقف تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ثاقب ججہ نے ٹرائل کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جو کہ مسترد کر دی گئی تھی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ملزم نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے ساتھ ساتھ ضمانت قبل از گرفتاری کی بھی درخواست دی تھی جو کہ مسترد ہوئی جس کے بعد ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ متعلقہ عدالت سے ملزم کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے تفتیش کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔
ثاقب ججہ کے وکلا کا موقف
ملزم ثاقب ججہ کے خلاف درج مقدمات کی پیروی کرنے والی وکلا ٹیم میں شامل وحید ناصر کا کہنا ہے کہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد وہ متعلقہ عدالت میں ضمانت کی اپیل دائر کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر مقدمہ اپنے منطقی انجام کو نہ پہنچا ہو تو مدعی مقدمہ کسی بھی مرحلے پر اپنا موقف تبدیل کرنا چاہے تو قانون اس کو ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ چونکہ ان کے موکل کے خلاف 14 مقدمات درج ہیں اس لیے یہ دیکھنا ہوگا کہ ان مقدمات کی تحقیقات کے حوالے سے ایف آئی اے نے جو چالان عدالت میں پیش کرنے ہیں ان میں ثاقب ججہ کے خلاف کیا کیا الزامات ہیں اور ان الزامات کو سچ ثابت کرنے کے لیے کیسے شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ایجنٹوں کا گاؤں‘ موریکے ججہ
ایف آئی اے حکام کے مطابق لیبیا سے یونان جانے والی کشتی ڈوبنے کے واقعے میں جن 47 پاکستانیوں کو بچا لیا گیا تھا ان میں سے 29 کا تعلق گوجرانوالہ، نارووال اور سیالکوٹ اضلاع سے تھا۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر افراد کم عمر تھے اور ان کا تعلق سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے علاقے موریکے ججہ سے ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملزم ثاقب ججہ کا تعلق بھی اسی گاؤں سے ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس گاؤں میں ’کوئی ایک بھی گھر ایسا نہیں ہے جس کا کوئی ایک بھی بندہ بیرون ملک نہ گیا ہو اور ان میں سے اکثریت غیر قانونی طریقوں سے یورپی ملکوں میں گئی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ لیبیا کشتی حادثے کی تحقیقات میں متاثرہ افراد اور بالخصوص اس علاقے کے لوگوں نے ’تعاون نہیں کیا جس کی وجہ سے شواہد اکٹھے کرنے میں مشکلات درپیش تھیں۔‘
لیبیا کشتی حادثے کے بعد بی بی سی نے اس گاؤں کا دورہ کیا تھا۔ وہاں کے مکینوں اور بالخصوص کم عمر اور نوجوانوں کا کہنا تھا کہ میٹرک کے بعد ان کے گھر والوں کا یہی خواب ہوتا تھا کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے بیرون ملک چلے جائیں، چاہیے انھیں اس مقصد کے حصول کے لیے جتنی بھی مشکلات جھیلنی پڑیں۔
SOURCE : BBC



