Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’ہنڈرڈ‘ کرکٹ لیگ: انڈین کمپنیوں کی ملکیت میں چلنے والی فرنچائزز پاکستانی...

’ہنڈرڈ‘ کرکٹ لیگ: انڈین کمپنیوں کی ملکیت میں چلنے والی فرنچائزز پاکستانی کھلاڑیوں پر ’غور نہیں کر رہیں‘

6
0

SOURCE :- BBC NEWS

محمد عامر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ذرائع نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا ہے کہ انگلینڈ میں اگلے مہینے سے شروع ہونے والی ‘دی ہنڈرڈ’ کرکٹ لیگ میں کھلاڑیوں کی نیلامی کے دوران انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) سے منسلک فرنچائزیں اپنی ٹیموں میں پاکستانی کرکٹرز کو شامل نہیں کریں گی۔

‘دی ہنڈرڈ’ میں شامل آٹھ ٹیموں میں سے چار، یعنی مانچسٹر سُپر جائنٹس، اہم آئی لندن، ساؤدرن بریو اور سنرائزرز لیڈز، جزوی طور پر اُن کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں، جن کے پاس آئی پی ایل کی ٹیموں کا بھی کنٹرول ہے۔

بی بی سی نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے ایک سینیئر افسر کے پیغامات دیکھے ہیں جو کہ ایک ایجنٹ کو بھیجے گئے تھے۔ ان پیغامات سے اشارہ ملتا ہے کہ ‘دی ہنڈرڈ’ کرکٹ لیگ میں صرف اُن ہی ٹیموں کی پاکستانی کھلاڑیوں میں دلچسپی ہو گی جن کا تعلق آئی پی ایل سے نہیں ہے۔

ایک اور انڈین ایجنٹ نے اس صورتحال کو ان تمام لیگز کے لیے ایک ‘غیرتحریر شدہ اصول’ قرار دیا ہے جہاں انڈین کمپنیوں کا سرمایہ لگا ہوا ہے۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے چیف ایگزیکٹیو رچرڈ گولڈ نے گذشتہ برس کہا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ’دی ہنڈرڈ‘ کی تمام ٹیموں کے لیے تمام ممالک کے کھلاڑی منتخب کیے جائیں گے۔ انھوں نے خبردار کیا تھا کہ ’واضح انسدادِ امتیاز پالیسیوں‘ پر عمل لازمی ہے۔

بی بی سی نے مانچسٹر سُپر جائنٹس، اہم آئی لندن، ساؤدرن بریو اور سنرائزرز لیڈز کا مؤقف جاننے کے لیے انھیں سوالات بھیجے تھے لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

Imad Wasim is bowling during last year's Hundred.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تاہم ای سی بی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ: ’دی ہنڈرڈ کرکٹ لیگ دنیا بھر سے مرد اور خواتین کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہتی ہے اور ہم توقع کریں گے کہ لیگ میں شامل آٹھوں ٹیمیں اس کی عکاسی کریں۔‘

’تقریباً 18 ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زیادہ کرکٹرز دی ہنڈرڈ کرکٹ لیگ کی نیلامی کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں اور اس طویل فہرست میں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے بالترتیب 50 سے زیادہ کھلاڑی شامل ہیں۔‘

دو پاکستانی انٹرنیشنل کھلاڑی محمد عامر اور عماد وسیم گذشتہ برس اس ٹورنامنٹ میں شریک ہوئے تھے، جو نئے سرمایہ کاروں کی آمد سے پہلے اس لیگ کا آخری ایڈیشن تھا۔

’دیگر کھلاڑی، جن میں شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان اورحارث رؤف شامل ہیں، ٹورنامنٹ کے پچھلے سیزنز میں حصہ لے چکے ہیں۔ تاہم خواتین کے دی ہنڈرڈ ٹورنامنٹ میں آج تک کسی بھی پاکستانی کھلاڑی نے شرکت نہیں کی ہے۔‘

خیال رہے پاکستان کی مینز کرکٹ ٹیم کا آئی سی سی ٹی 20 رینکنگ میں چھٹا، جبکہ وویمن ٹیم کا آٹھواں نمبر ہے۔

پاکستان کی مینز (مردوں کی) کرکٹ ٹیم رواں برس ہونے والی ’دی ہنڈرڈ‘ لیگ کے دوران ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز کھیل رہی ہو گی، تاہم وائٹ بال کرکٹ کھیلنے کے ماہر سمجھے جانے والے کھلاڑی نیلامی کے لیے دستیاب ہوں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اس سے قبل کھلاڑیوں کو بیرونِ ملک ٹورنامنٹس میں حصہ لینے کے لیے درکار این او سیز واپس لے چکی ہے۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں حالیہ بگ بیش لیگ میں سات پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پی سی بی کرکٹ لیگز کے معاملے اور کھلاڑیوں کی دستیابی پر لچک دکھا رہا ہے۔

A sign at the Hundred that reads 'Hundred is for everyone'

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستانی کھلاڑیوں کو ٹیموں میں شامل نہ کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

جنوبی افریقہ کی ایس اے 20 لیگ میں کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ اس ٹورنامنٹ کی تمام چھ ٹیمیں آئی پی ایل فرنچائزوں کی ملکیت ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی آئی ایل ٹی 20 لیگ میں ایم آئی لندن اور ساؤدرن بریو کی ٹیموں نے چاروں سیزنز میں کسی بھی ایک پاکستانی کھلاڑی کو سائن نہیں کیا ہے، جبکہ ان کی ٹیموں میں 15 ممالک سے تعلق رکھنے والے دیگر کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔

تاہم امریکی کمپنی کی ملکیت آئی ایل ٹی 20 ٹیم ڈیزرٹ وائپرز نے اس دوران آٹھ پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔

اس سال جنوری میں آئی پی ایل ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو اس وقت ریلیز کر دیا تھا جب انڈین کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انھیں ایسا کرنے کی ہدایت دی تھی۔

اس اقدام کی کوئی سرکاری وجہ بیان نہیں کی گئی تھی، تاہم یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان سیاسی کشیدگی پائی جا رہی تھی۔

عالمی کھلاڑیوں کی یونین ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو ٹام موفٹ کا کہنا ہے کہ: ’ہر کھلاڑی کو منصفانہ اور برابری کے مواقع فراہم کیے جانے چاہییں۔‘

’ریکروئٹمنٹ کے معاملے میں مالکان کو خودمختاری ضرور حاصل ہے لیکن ان کے فیصلے ہمیشہ انصاف، مساوات اور احترام کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہییں۔‘

’رعایت نہیں منصفانہ مواقع‘

گذشتہ برس ای سی بی نے دی ہنڈرڈ کی آٹھوں فرنچائزز میں اپنے 49 فیصد حصص فروخت کیے تھے، جس کے تیجے میں 500 ملین پاؤنڈ کی نجی سرمایہ کاری حاصل ہوئی، جو بعدازاں کاؤنٹی کرکٹ اور نچلی سطح پر کھیل کے فروغ کے لیے استعمال کی گئی۔

میزبان کاؤنٹیز اپنے باقی ماندہ 51 فیصد حصص میں سے کچھ حصہ رکھنے یا فروخت کرنے کی مجاز تھیں۔

ای سی بی کا اس کرکٹ ٹورنامنٹ پر کنٹرول برقرار ہے، اور ایک نیا بورڈ، جس میں ٹیموں کے نمائندے شامل ہیں، تشکیل دیا گیا ہے تاکہ اس کی سٹریٹجک سمت طے کرنے میں مدد مل سکے۔

یہ ٹورنامنٹ بھی آزاد کرکٹ ریگولیٹر کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جو سنہ 2023 کی ’ایکوئٹی اِن کرکٹ‘ رپورٹ کے بعد قائم کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ انگلش کرکٹ میں امتیاز ’وسیع پیمانے پر‘ موجود ہے۔

Shaheen

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کاؤنٹی کرکٹ ممبرز گروپ کا کہنا ہے کہ: ’اگر یہ یقین کرنے کی کوئی وجہ موجود ہو کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے عدم انتخاب کا فیصلہ محض قومیت کی بنیاد پر اجتماعی طور پر کیا گیا ہے تو ہم توقع کرتے ہیں کہ متعلقہ کاؤنٹی بورڈز اور ای سی بی اپنے نجی شراکت داروں کو اس عمل پر جوابدہ ٹھہرائیں گے۔‘

اعداد و شمار کے مطابق گریٹر مانچسٹر کی آبادی کا 12 فیصد اور لیڈز میں چار فیصد لوگ خود کو بطور پاکستانی شناخت کرتے ہیں۔

سنہ 2018 میں ای سی بی نے اپنا ساؤتھ ایشیئن ایکشن پلان پیش کیا تھا، جس کی قیادت وکرَم بنرجی جو اب دی ہنڈرڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں، کر رہے تھے۔ اس منصوبے کا مقصد 10 ’مرکزی شہروں‘ میں جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے ساتھ روابط میں اضافہ کرنا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ تین بڑے شہروں کی ٹیموں میں کوئی بھی پاکستانی کھلاڑی شامل نہیں ہو گا۔

ایک مشہور ایجنٹ کہتے ہیں کہ ’ہمارے کھلاڑی کوئی رعایت نہیں چاہتے بلکہ منصافانہ مواقع چاہتے ہیں۔‘

’مجھے امید ہے کہ دی ہنڈرڈ میں اُن رجحانات کی نقل نہیں ہو گی جو رجحان ہم کچھ دیگر فرنچائز سسٹمز میں دیکھ رہے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ میں غلط ثابت ہوں۔‘

SOURCE : BBC