SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تقریباً دو سال قبل جب شیخ حسینہ نے ایک ایسا الیکشن جیتا جسے بڑے پیمانے پر دھاندلی زدہ قرار دیا گیا تو یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ ان کی 15 سالہ مضبوط حکمرانی اچانک ختم ہو جائے گی یا ایک اور جماعت جو تقریباً سیاسی منظرنامے سے غائب ہو چُکی تھی اتنی شدید عوامی طاقت کے ساتھ واپسی کرے گی۔
تاہم بنگلہ دیش کی سیاست کے اتار چڑھاؤ میں یہ ایک اور تبدیلی ہے جہاں عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کئی دہائیوں سے باری باری اقتدار میں آتی رہی ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار بی این پی کی قیادت باضابطہ طور پر طارق رحمان کے ہاتھ میں ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ انھوں نے خود عام انتخابات میں حصہ لیا ہے۔
ان کی والدہ خالدہ ضیا جو گذشتہ برس علالت کے باعث وفات پا گئیں تھیں چار دہائیوں تک جماعت کی سربراہ رہیں۔ انھوں نے یہ ذمہ داری اپنے شوہر ضیا الرحمان کی وفات کے بعد سنبھالی تھی جو بی این پی کے بانی اور بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کے اہم رہنما تھے۔
ماضی میں جب ان کی والدہ برسراقتدار تھیں تو طارق رحمان پر اقربا پروری سے فائدہ اٹھانے کے الزامات لگتے رہے، جبکہ انھیں بدعنوانی کے مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ والدہ کی وفات سے محض پانچ روز قبل وہ 17 برس کی خود ساختہ جلاوطنی ختم کرتے ہوئے لندن سے بنگلہ دیش واپس آئے تھے۔
اگرچہ 60 سالہ طارق رحمان اپنی والدہ کی قید کے دوران اور بعد ازاں ان کی علالت کے زمانے میں جماعت کے عملی سربراہ کے طور پر کردار ادا کرتے رہے، تاہم انھیں عمومی طور پر ایک غیر آزمودہ رہنما تصور کیا جاتا ہے۔
سیاسیات کی ماہر نوین مرشد کے مطابق ’ان کے پاس سابقہ حکومتی تجربہ نہ ہونا شاید ان کے حق میں جا رہا ہے، کیونکہ لوگ تبدیلی کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔ وہ یقین کرنا چاہتے ہیں کہ نئی اور مثبت تبدیلی ممکن ہے اسی لیے عوام میں اُمید کی ایک فضا پائی جاتی ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انتخابی نتائج کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے اعلان کیا ہے کہ اس کی اولین ترجیح ملک میں جمہوریت کی بحالی ہے۔
پارٹی کے سینئر رہنما امیر خسرو محمود چودھری نے انتخابی عمل کے اعلان کے فوراً بعد بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ ایک دہائی کے دوران جن جمہوری اور مالیاتی اداروں کو تباہ کیا گیا ہمیں سب سے پہلے انھیں دوبارہ منظم اور فعال بنانا ہوگا۔‘
بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ ایسے وعدوں سے بھری پڑی ہے جو اقتدار میں آنے کے بعد اکثر ٹوٹ جاتے ہیں اور ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ جماعتیں برسراقتدار آ کر بتدریج زیادہ آمرانہ طرزِ حکمرانی اختیار کر لیتی ہیں۔
تاہم اس بار صورتحال کسی حد تک مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ملک کے نوجوان جنھوں نے سنہ 2024 کی ’جولائی بغاوت‘ میں بھرپور حصہ لیا تھا اور جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑنا پڑا، اب پرانے طرزِ سیاست کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتے۔
احتجاجی تحریک میں حصہ لینے والی 19 سالہ طالبہ تزین احمد کہتی ہیں کہ ’ہم دوبارہ لڑنا نہیں چاہتے۔ سابق وزیر اعظم کا مستعفی ہونا ہماری اصل کامیابی نہیں تھی۔ ہماری حقیقی کامیابی تب ہوگی جب ملک بدعنوانی سے پاک ہو کر درست سمت کی جانب اپنے سفر کا آغاز کر دے گا اور معیشت مضبوط ہوگی۔‘
ان کی کزن 21 سالہ تحمینہ تسنیم کا کہنا ہے کہ ’ہم سب سے پہلے عوام کے درمیان اتحاد چاہتے ہیں۔ ہمیں ایک مستحکم ریاست اور مستحکم معیشت کا حق حاصل ہے۔ ہم ایک عوامی تحریک کا حصہ رہ چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ کیسے مزاحمت کرنی ہے۔ اگر وہی حالات دوبارہ پیدا ہوئے تو ہمیں دوبارہ آواز اٹھانے کا حق بھی حاصل ہوگا۔‘
،تصویر کا ذریعہSanjay Ganguly/BBC

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد سے بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس کے دور میں ملک بدامنی اور تشدد کے واقعات سے دوچار رہا ہے۔
نئی حکومت کے لیے امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ معیشت کی بحالی، اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں کمی اور ملک کی بڑی نوجوان آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا بھی بڑے چیلنجز میں شامل ہیں۔
سماجی امور کی ماہر ثمینہ لطفہ کے مطابق ’حکومت چلانے کے تجربے کی کمی کا سامنا تو تقریباً تمام ہی جماعتوں کو رہا ہے۔‘
بنگلہ دیش میں دوسری بڑی سیاسی پارٹی سمجھی جانے والی ’جماعتِ اسلامی‘، جس پر بنگلہ دیش کی تاریخ میں دو مرتبہ پابندی عائد کی جا چکی ہے، نے بھی اس بار پہلی مرتبہ قابلِ ذکر تعداد میں نشستیں جیتی ہیں۔
اس کی اتحادی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی)، جو ان طلبہ رہنماؤں نے قائم کی تھی جنھوں نے احتجاجی تحریک کی قیادت کی اپنے پہلے ہی انتخاب میں چھ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
ثمینہ لطفہ کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بار بنگلہ دیش میں ایک ایسی پارلیمنٹ دیکھنے جا رہے ہیں جہاں کئی رہنما پہلی بار ایوان کا حصہ بنیں گے۔‘
ان کے مطابق ’این سی پی کے نوجوان رہنماؤں کو بہت کچھ سیکھنا ہے۔ دیگر جماعتوں کے رہنما تجربہ کار سیاست دان تو ہیں لیکن انھیں ملک چلانے کا عملی تجربہ نہیں۔ اس لیے یہ سفر آسان نہیں ہوگا اور حکومت کو سخت چیلنجز کا سامنا رہے گا۔‘
،تصویر کا ذریعہAakriti Thapar/BBC
جماعتِ اسلامی کے انتخابی منشور میں سیکولر اور ترقیاتی نکات پر زور دیا گیا تھا اور اس میں اسلامی قانون کے نفاذ کا کوئی واضح ذکر نہیں کیا گیا۔
تاہم جماعت کی ویب سائٹ پر درج ہے کہ ’جماعت سیاسی میدان میں اس لیے سرگرم عمل ہے کیونکہ سیاسی قوت کے بغیر اسلامی قانون نافذ نہیں کیا جا سکتا۔‘ اس مؤقف نے ہمیشہ یہ سوال کھڑا کیا ہے کہ اگر جماعت کبھی اقتدار میں آئی تو اس کی عملی حکمت عملی کیا ہوگی؟
سیاسیات کی ماہر نوین مرشد کے مطابق اس انتخاب میں جماعت کی کارکردگی غیر متوقع نہیں تھی۔
اُن کے مطابق ’جماعت ایک منظم سیاسی جماعت ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس نے نچلی سطح پر مسلسل اور منظم کام کیا ہے۔‘
مرشد کے بقول ’اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ جماعت کی بنیادی سوچ غیر جمہوری، صنفی امتیاز پر مبنی اور پدرشاہی رجحانات کی حامل ہے۔‘
دوسری جانب سماجی امور کی ماہر ثمینہ لطفہ کا کہنا ہے کہ ’تمام سیاسی جماعتوں نے بنگلہ دیش کی خواتین کو مایوس کیا ہے۔ حالیہ انتخابات میں صرف چار فیصد سے کچھ زائد امیدوار خواتین تھیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم خواتین جو جولائی کی عوامی تحریک کا حصہ تھیں، تمام سیاسی جماعتیں ہماری اجتماعی جدوجہد کو باضابطہ سیاسی اور انتخابی نمائندگی میں تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔‘
ثمینہ لطفہ نے زور دیا کہ ’پارلیمان کے اراکین کو فوری اقدامات کرنے چاہییں تاکہ خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر باصلاحیت، دیانتدار اور مستحق امیدواروں کو نامزد کیا جا سکے۔‘
،تصویر کا ذریعہAakriti Thapar/BBC
بنگلہ دیش کی پارلیمان کی مجموعی 350 نشستوں میں سے 300 ارکان براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں، جبکہ باقی 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ مخصوص نشستیں سیاسی جماعتوں کو ان کی انتخابی کارکردگی کے تناسب سے دی جاتی ہیں اور ان پر نامزدگی جماعتیں خود کرتی ہیں۔
حالیہ انتخابات ماضی کے اُن انتخابات سے نمایاں طور پر مختلف قرار دیے جا رہے ہیں جو شیخ حسینہ کے دور میں منعقد ہوئے تھے۔ اس بار مقابلہ حقیقی معنوں میں مسابقتی تھا اور پولنگ سے قبل نتائج واضح نہیں تھے۔ تاہم ان کی جماعت عوامی لیگ کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کے فیصلے نے اس عمل کی ساکھ پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
جمہوریت کی بحالی کے دعووں کے تناظر میں جب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عوامی لیگ کو دوبارہ سیاسی دھارے میں شامل کرنے کی حمایت کرے گی، تو پارٹی کے سینئر رہنما امیر خسرو محمود چودھری نے کہا کہ ’یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’عوامی لیگ کو بنگلہ دیش کے انتخابی عمل میں واپس آنے میں وقت لگے گا، کیونکہ اس کی ساکھ سوالات کی زد میں ہے۔ جب آپ پر اپنے ہی شہریوں کے قتل، مظالم اور سیاسی انتقام کے الزامات ہوں تو پھر یہ عوام ہی طے کریں گے کہ مستقبل کی سیاست میں اس جماعت کا مقام کیا ہوگا۔‘
دوسری جانب شیخ حسینہ نے انڈیا میں جلاوطنی کے دوران جمعرات کے انتخابات کو ’دھوکے اور تماشے کا انتخاب‘ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ نئے سرے سے ایسے انتخابات کرائے جائیں جن میں عوامی لیگ کو بھی حصہ لینے کی اجازت ہو۔
فی الوقت عوامی سطح پر ان کی جماعت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، تاہم بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عوامی لیگ کا سیاسی کردار ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔
SOURCE : BBC



