Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ...

’گلف نیٹو‘ کا خواب: خلیجی ممالک کی رقابتیں، امریکی اثر و رسوخ اور پاکستان کا ممکنہ کردار

7
0

SOURCE :- BBC NEWS

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGOP

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے پس منظر میں قطر کے سابق وزیرِ اعظم حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی کی ایک تجویز کے بعد ایک بار پھر عرب-اسلامی سیاسی و فوجی اتحاد کے قیام کی بحث زور پکڑ رہی ہے۔

حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کو فوری طور پر اپنے اختلافات ختم کر کے ’نیٹو طرز کے ایک مؤثر فوجی و سکیورٹی اتحاد‘ قائم کرنے کی تجویز دی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب مرکزی کردار ادا کرے اور پاکستان و ترکی کے ساتھ قریبی تعاون موجود ہو۔‘

یہ بحث ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ نے ایران پر حملے کے لیے مزید امریکی فوجی (کم از کم پانچ ہزار) اور جنگی بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے اس سے قبل مسلم اتحاد قائم کرنے کا خیال ستمبر 2024 میں ترکی کے صدر رجب طیب ادروغان نے پیش کیا تھا، جب انھوں نے اسرائیل کے مبینہ توسیع پسندانہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم ممالک کو اتحاد بنانے کی تجویز دی تھی اور ستمبر 2025 میں پاکستان کے وزیرِ دفاع نے بھی ’اسلامی نیٹو‘ کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔

اس وقت بھی خلیجی ممالک کے درمیان تاریخی رقابتوں اور علاقائی مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے اس اتحاد پر سوال اٹھے تھے جو اب بھی موجود ہیں اور ایسے کسی بھی نئے اتحاد کے بننے میں بڑی رکاوٹ بھی ہیں۔ یمن کے معاملے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اختلافات، اور قطر و امارات کے درمیان ماضی کی کشیدگی اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

یمن کی جنگ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مختلف جغرافیائی اور سیاسی مفادات کو نمایاں کیا ہے، جبکہ اوپیک میں تیل کی پیداوار کے فیصلوں، افریقہ اور بحیرۂ احمر میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں پر بھی ان کے مؤقف ایک دوسرے سے مختلف رہے ہیں۔

اس کے علاوہ سمندری حدود کے تنازع اور یاسات کے علاقے کو میرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دینے جیسے معاملات پر بھی دونوں کے درمیان کشیدگی سامنے آ چکی ہے، جسے بعض مبصرین خلیجی خطے میں دونوں طاقتوں کے درمیان جاری خاموش مقابلہ قرار دیتے ہیں۔

ان حریفانہ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے سوال یہ ہے کہ ’گلف نیٹو‘ کا قیام کس حد تک حقیقت پسندانہ ہے اور اس میں کیا رکاوٹیں پیش آ سکتی ہیں؟ جی سی سی کی قیادت میں ایک فوجی اور دفاعی صنعتی بنیاد قائم کرنے کا ہدف کس حد تک عملی ہے اور اس پر امریکہ کا ممکنہ ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟

اور اگر خلیجی ممالک ترکی اور پاکستان کے ساتھ فوجی اور دفاعی تعاون بڑھانا چاہیں تو پاکستان حقیقت میں کس حد تک یہ کردار ادا کر سکتا ہے؟

راحیل شریف

،تصویر کا ذریعہAFP

سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم بن جبر نے کیا کہا؟

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم بن جبر کا کہنا ہے کہ ’ہمارے خطے کی موجودہ جنگ بالآخر ختم ہو جائے گی لیکن اس سے سبق اور عبرت حاصل کرنا ضروری ہے۔‘

انھوں نے ایکس پر تجویز دی کہ ’خلیجی تعاون کونسل کو اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ایک مؤثر اور حقیقی فوجی و سکیورٹی اتحاد قائم کرنا ہو گا جیسا کہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) ہے۔‘ انھوں تجویز کیا کہ اس میں ’سعودی عرب کو سب سے اہم کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ وہ سب سے بڑی ریاست ہے۔‘

حمد بن جاسم نے زور دیا کہ ’جنگ کے خاتمے کا انتظار کیے بغیر تیاری شروع کی جائے اور اختلافات ختم کیے جائیں تاکہ عوام کو محفوظ رکھا جا سکے۔‘

انھوں نے ایران کی مثال دی کہ ’پابندیوں کے باوجود اس نے میزائل صنعت قائم کی اور افسوس کہ انھی میزائلوں سے خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنایا۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس جنگ کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے جس نے خطے میں فوجی، اقتصادی اور سیاسی برتری حاصل کرنے کے لیے شعلے بھڑکائے۔‘

حمد بن جاسم نے تجویز دی کہ ’خلیجی ریاستیں اسرائیل اور ایران دونوں کے خلاف متحد ہوں، ایران پڑوسی ہے اس لیے اس کے ساتھ بات چیت کے لیے واضح حکمتِ عملی ضروری ہے، جبکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات حسنِ ہمسائیگی اور فلسطینی حقوق کے تحفظ کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔‘

آخر میں انھوں نے کہا کہ ’کونسل کی ریاستوں پر حملوں کے باوجود کئی عرب ریاستوں کی خاموشی باعثِ حیرت ہے اور یہی صورتحال خلیجی ممالک کو فوری طور پر ایک فوجی، سلامتی اور جغرافیائی اتحاد قائم کرنے پر مجبور کرتی ہے، جو ترکی اور پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھے، لیکن اپنے بیٹوں کے بازوؤں پر بھی انحصار کرے۔‘

سابق قطری وزیراعظم حمد بن جاسم بن جبر

،تصویر کا ذریعہX/HAMD BIN JASIM

سوشل میڈیا پر بحث

حمد بن قاسم کی ٹویٹ نے سوشل میڈیا پر ایک بحث کا آغاز کیا ہے۔

جدہ میں مقیم صحافی صالح الفهيد نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’اتفاق اور اتحاد کیسے ممکن ہے جب چھوٹی ریاستیں بڑی ریاست سے قیادت چھیننے کی کوشش کرتی ہیں؟ یکجہتی اور سمجھوتے کیسے ہوں جب چھوٹی ریاستیں بڑی کے خلاف کینہ اور مداخلت کی پالیسی پر اصرار کرتی ہیں؟‘

انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’برسوں تک سعودی عرب نے بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ ایرانی منصوبے کے خلاف کھڑا ہو کر اس کی توسیع کو روکنے کے لیے بہت کچھ برداشت کیا، جبکہ کچھ لوگ تہران کی طرف دوڑتے رہے، اس کے ساتھ خفیہ سمجھوتے کرتے رہے اور ایران کے ساتھ تعلقات سمیت دیگر معاملات میں سعودی عرب کو الجھاتے رہے۔‘

صالح الفهيد نے حمد بن قاسم سے کہا کہ ’آپ نے بہت خوبصورت بات کی مگر کیا خلیج کی چھوٹی ریاستیں واقعی تیار ہیں؟‘

قطر کے ایک سینئر سفارتکار حمد بن عبدالعزیز القواری نے حمد بن قاسم سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا کہ ’خطے کی موجودہ آزمائش محض عارضی بحران نہیں تھی، بلکہ ہمارے لیے ایک وجودی امتحان تھا جس نے ہماری شناخت، سمت اور مستقبل کو پرکھا۔‘ انھوں نے زور دیا کہ ’خلیجی ممالک کو اپنی سکیورٹی اور سٹریٹیجک اتحاد کا جائزہ لینا چاہیے اور پاکستان و ترکی جیسے مسلم بھائیوں کے ساتھ شراکت کو مضبوط کرنا چاہیے۔‘

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سعودی عرب سے بدر نے تبصرہ کیا کہ ’سعودی عرب کوئی ایسی ریاست نہیں ہے جو کسی کے تحفظ کی تلاش میں ہو، یہ سیاسی اور عسکری طور پر اپنی حفاظت اور اپنے مفادات کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے، اور اسے کسی خلیجی فوجی اتحاد کی ضرورت نہیں۔ اس کے برعکس، دیگر چھوٹی خلیجی ریاستیں سعودی عرب کے بغیر تنہا کھڑی نہیں ہو سکتیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جو کوئی سعودی عرب کے سائے میں پناہ لینا چاہے، اس کے لیے دروازہ کھلا ہے۔ لیکن جو ایران کے سائے میں پناہ لینا پسند کرے، جیسا کہ قطر نے پہلے کیا، یا اسرائیل کے ساتھ جیسا کہ متحدہ عرب امارات نے اسے اپنی سلامتی کی ضمانت سمجھا، تو اسے اپنے انتخاب کے نتائج برداشت کرنے ہوں گے۔‘

ادھر متحدہ عرب امارات کے صارفین کا ماننا ہے کہ ’یو اے ای کو اپنے عالمی اثر و رسوخ اور نرم طاقت کے ساتھ اس تعاون کی قیادت میں بڑا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘

کچھ افراد حمد بن قاسم سے شکوہ کرتے نظر آئے کہ آپ نے خطے کے ممالک میں امریکی اڈوں پر بات نہیں کی کیونکہ ’یہیں سے سارا مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ امریکہ کے سامنے عربوں کی محکومی ختم ہونی چاہیے۔‘

اور پاکستانی صارفین تبصرہ کر رہے ہیں کہ ’اچانک سب کو پاکستان کے ساتھ فوجی اتحاد چاہیے۔۔‘

عرب ریاستوں میں تاریخی رقابتیں اور’گلف نیٹو‘ کا خواب

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے درمیان تاریخی رقابتوں کے پیش نظر گلف نیٹو کا قیام کتنا حقیقت پسندانہ ہے اور کون سے بڑے چیلنجز اس کے قیام میں رکاوٹ بن سکتے ہیں؟

مہران كامرافا، جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر میں پروفیسر اور عرب سینٹر فار ریسرچ اینڈ پالیسی سٹڈیز میں تحقیقی یونٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کے مطابق ’تاریخ نے ہمیں دکھایا ہے کہ جب بھی خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کسی بحران کا سامنا کرتی ہے، تو یہ اکٹھا ہو کر ایک مربوط اکائی کے طور پر کام کرتی ہے۔ بیرونی دنیا کی نظر میں جی سی سی اس وقت تشکیل پائی جب ایران-عراق جنگ ہوئی، اس مفروضے کے تحت کہ جنگ جیتنے والا کسی نہ کسی طور جی سی سی یا اس کے رکن ممالک کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔۔ اور ہم نے دیکھا کہ جنگ کے اختتام کے فوراً بعد عراق نے واقعی جی سی سی کے ایک رکن پر حملہ کیا۔‘

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے مہران كامرافا کہتے ہیں کہ ’ابتدا سے ہی جی سی سی بحرانوں میں تشکیل پائی ہے اور بحران کے دوران یہ ایک مربوط اکائی کی طرح کام کرتی ہے۔ لیکن جب خارجی بحران کم ہو جاتا ہے، تو جی سی سی کا رویہ مختلف ہو جاتا ہے۔ اس موجودہ بحران کو موجودگی کا ایک اہم اور غیر مستحکم کرنے والا بحران سمجھا جا رہا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے حیرت نہیں ہوگی اگر جی سی سی اپنے ارکان کی حفاظت، اقتصادی بقا اور عسکری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی اقدام کرے، چاہے وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو گہرا کرے، نیٹو میں شامل ہونے پر غور کرے، یا اسی طرح کے دیگر اتحاد قائم کرے۔‘

متحادہ عرب امارات اور سعودی عرب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان مقابلے بازی کی جنگ‘

سائمن وولف گینگ فُکس، یروشلم کی ہیبرو یونیورسٹی میں اسلام برصغیر اور مشرق وسطیٰ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ قطر کے سابق وزیراعظم کے بیان کو غیر معمولی قرار دیتے ہیں کیونکہ ’اس میں جنگ کے لیے اسرائیل اور ایران دونوں کو مساوی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کس طرح خلیجی ریاستیں اس میں الجھ گئی ہیں۔‘

ان کے مطابق ’یہ بلاشبہ، امریکہ پر بھی بالواسطہ تنقید ہے، جس نے خلیجی ریاستوں کو تنہا چھوڑ دیا، ان کو کوئی پیشگی اطلاع یا وارننگ نہیں دی اور جنگ کے دوران انھیں فضائی دفاعی صلاحیتیں دوبارہ سپلائی کرنے کے لیے بھی تیار نہیں تھا۔‘

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سائمن کا کہنا تھا کہ ’خلیجی ریاستوں میں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں کی سلامتی کو ان پر ترجیح دی گئی، حالانکہ امریکہ کے ساتھ ان کا پرانا اتحاد ہے، اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدے گئے اور تحفظ کے لیے امریکہ پر انحصار کیا گیا، لیکن یہ تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔‘

ان کے مطابق ’عرب ریاستوں میں یہ جذبات بہت واضح ہیں اور انھیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘

سائمن کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب نے قطر پر جو ناکہ بندی کی تھی، اس پس منظر میں سعودی عرب کی برتری کو تسلیم کرنا بھی غیر معمولی ہے۔

’یہ ظاہر کرتا ہے کہ کچھ بدل گیا ہے اور خلیجی ریاستیں واقعی فکر مند ہیں۔ وہ محسوس کرتی ہیں کہ ان کے ساتھ کھیل کھیلا گیا ہے اور وہ بہت عرصے سے اس خیال پر انحصار کرتی رہی ہیں کہ وہ استحکام کا جزیرہ ہیں اور اپنے گرد ایران، عراق، شام، یمن، اسرائیل اور فلسطین کے تنازعات سے خود کو الگ رکھ سکتی ہیں۔‘ ان کے مطابق یہ احساس اب سب ریاستوں میں مشترک ہے۔

تاہم ان کا ماننا ہے کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کوئی اتحاد قابلِ عمل ہے۔‘

وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدہ تعلقات اور خطے میں وسیع تر تنازعات جیسے سوڈان اور لیبیا میں مقابلے بازی کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان برتری کی کشمکش ختم نہیں ہو سکتی۔ عسکری طور پر سعودی فوج متحدہ عرب امارات سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، جس کے پاس صرف تقریباً 65 ہزار فوجی اہلکار ہیں۔ اس لیے انھیں بھی جھکنا پڑے گا۔‘

’پھر اسرائیل کے ساتھ اتحاد کا سوال ہے، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے ابراہام معاہدوں میں شمولیت اختیار کی، جبکہ سعودی عرب مستقل طور پر فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیتا رہا ہے۔ امارات نے یہاں تک تجویز دی کہ وہ غزہ کا انتظام سنبھالنے کو تیار ہیں، جو سعودی عرب کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ اس لیے یہ دونوں بڑے کھلاڑی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ چھوٹی ریاستیں جیسے کویت، بحرین، عمان اور قطر شاید ساتھ ہو جائیں، لیکن مجموعی طور پر ’گلف نیٹو‘ شدید اختلافات کی وجہ سے ممکن نہیں۔‘

برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر اور ’کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک سٹڈیز‘ سے منسلک ایسوسی ایٹ فیلو عمر کریم بھی سائمن اور مہران سے اتفاق کرتے ہوئے گلف نیٹو کے خیال کو بالکل ’غیر حقیقت پسندانہ‘ قراد دیتے ہیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے عمر کہتے ہیں کہ ’یہ معاملہ صلاحیت اور ارادے دونوں کا ہے، جو اس اقدام کو غیر حقیقت پسندانہ بنا دیتا ہے۔‘

عمر کا ماننا ہے کہ ’خلیجی ریاستوں میں ارادے کی کمی، ان کے درمیان قیادت کے حوالے سے اختلافات اور غیر ملکی طاقتوں اور غیر مقامی ہتھیاروں پر انحصار کی وجہ سے یہ ممکن نہیں لگتا۔‘

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

خلیجی دفاعی صنعت کا خواب: ’امریکہ پر انحصار جلد ختم ہونا مشکل ہے‘

جی سی سی کی قیادت میں فوجی اور دفاعی صنعتی بنیاد قائم کرنے کا ہدف کتنا حقیقت پسندانہ ہے اور امریکہ اس اتحاد پر کس طرح ردعمل دے سکتا ہے؟

اس حوالے سے یروشلم کی ہیبرو یونیورسٹی میں اسلام، برصغیر اور مشرق وسطیٰ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سائمن وولف گینگ فُکس کا ماننا ہے کہ ’صنعتی بنیاد کا معاملہ بھی پیچیدہ ہے۔ خلیج نے سیاحت، ٹرانسپورٹ اور ہائی ٹیک شعبوں پر توجہ دی ہے، لیکن اس کے پاس کوئی حقیقی صنعتی بنیاد نہیں ہے۔ اس کے لیے انجینئرنگ سکولز، یونیورسٹیاں اور مقامی کارکنان درکار ہیں، جو فی الحال موجود نہیں۔‘

سائمن کہتے ہیں کہ ’جب معاملہ قومی سلامتی اور ہتھیار سازی کا ہو تو کیا غیر ملکی کارکنان پر انحصار کیا جا سکتا ہے؟ اس پر بھی شکوک ہیں۔ اس لیے قلیل اور درمیانی مدت میں امریکہ پر انحصار جاری رہے گا، کیونکہ متبادل موجود نہیں اور خلیجی افواج امریکی ہتھیاروں پر انحصار کرتی ہیں۔‘

عمر کریم ایسے دیگر اتحادوں کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے بنیادی ڈھانچے کے قیام میں کم از کم دس سال لگیں گے اور شاید مزید ب20-30 سال درکار ہوں گے تاکہ کسی قسم کی بنیاد تیار ہو سکے، اور وہ بھی دیگر طاقتوں کے ساتھ تعاون اور اشتراک کے ذریعے، نہ کہ تنہا۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ محض خیالی سوچ ہے اور امریکہ اس پر زیادہ غور نہیں کرے گا۔‘

جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر کے پروفیسر مہران كامرافا کو بھی یقین نہیں ہے کہ ایسی کوئی صنعتی بنیاد قائم ہو سکے گی۔۔۔۔ کیونکہ ان کے مطابق ’ریاستوں کے مابین فوجی صلاحیت سے لے کر کمانڈ اور کنٹرول اور دیگرمعاملات میں شدید رقابتیں اور اختلافات موجود ہیں۔‘

مہران كامرافا کا ماننا ہے کہ ’نظریاتی طور پر یا تقریری طور پر یہ ریاستیں متحد ہو سکتی ہیں، لیکن ایک صنعتی فوجی بنیاد کے قیام کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری، لاجسٹکس اور عملی حالات درکار ہیں اور یہ سب طویل مدت میں قابلِ عمل نظر نہیں آتے۔‘

KSA MOFA

،تصویر کا ذریعہKSA MOFA

’پاکستان امریکہ کی جنگوں میں شامل ہونے سے ہچکچاتا ہے‘

اگر خلیجی ریاستیں ترکی اور پاکستان کے ساتھ فوجی اور دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنا چاہیں تو پاکستان کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟

عمر کریم کا کہنا ہے کہ پاکستان کو سیاسی اور صلاحیت کے لحاظ سے کچھ حدود کا سامنا ہے۔۔ ’ایک طرف پاکستان کی اپنی دفاعی صنعتی بنیاد زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہے اور جدید فوجی ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کے نظام کے لیے چین پر بہت زیادہ انحصار ہے۔ اس لیے اگر پاکستان خلیجی ممالک کو کچھ فراہم کرتا ہے تو اس کا مطلب کسی حد تک یہ بھی ہوگا کہ چینی اسلحہ اور ٹیکنالوجی بالواسطہ طور پر خلیجی منڈیوں میں داخل ہو جائے گی۔ مزید یہ کہ اس وقت پاکستان کے دفاعی تعلقات خلیج میں بنیادی طور پر صرف سعودی عرب کے ساتھ ہیں، لہٰذا اس کا مطلب زیادہ تر سعودی منڈی ہوگا۔‘

ان کے مطابق ’دوسری طرف ترکی کے پاس نسبتاً زیادہ ترقی یافتہ صنعتی بنیاد موجود ہے اور وہ مختلف خلیجی ریاستوں کے ساتھ مشترکہ پیداوار (جوائنٹ پروڈکشن) کے منصوبوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے معاہدوں کے ذریعے خلیجی ممالک میں اسلحے کی مقامی سطح پر پیداوار بھی ممکن ہو سکتی ہے۔‘

عمر کا کہنا ہے کہ ’خلیجی ریاستیں پاکستان اور ترکی دونوں میں نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری بھی کر سکتی ہیں، جس سے ان کی دفاعی صنعت کو فروغ ملے گا اور مقامی دفاعی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر پیداوار کے مسئلے کو حل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔‘

اس حوالے سے سائمن وولف گینگ فُکس کہتے ہیں کہ ’پاکستان نے روایتی طور پر خلیجی بادشاہتوں کو افرادی قوت فراہم کی ہے، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ سعودی عرب نے اپنی فوج میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جو اب پاکستان کی فوج کے نصف کے برابر ہے اور اپنے جی ڈی پی کا سات فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے۔ اس لیے اب پاکستانی فوجیوں پر انحصار کی ضرورت نہیں رہی۔‘

سائمن مانتے ہیں کہ پاکستان کی فوج تربیت یافتہ اور مؤثر ہے اور بحران کی صورت میں شراکت دار ہو سکتی ہے۔ ’لیکن پاکستان ایران اور خلیجی ریاستوں دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے اور یمن جیسے تنازعات میں شامل ہونے سے گریز کرتا ہے۔ اسی طرح ترکی بھی ایران اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے اور نیٹو کا رکن ہے۔‘

ترکی کے حوالے سے سائمن کا ماننا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ نیٹو اس بات کو قبول کرے گا کہ ترکی کسی ایسے منصوبے میں شامل ہو جو امریکی غلبے کے تحت نہ ہو۔ ’ماضی میں سینٹو (CENTO) جیسا اتحاد رہا ہے جس میں پاکستان، ترکی اور عراق شامل تھے، لیکن قطریوں کی تجویز کچھ اور ہی دکھائی دیتی ہے۔‘

مہران كامرافا بھی سائمن سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تربیت، کمانڈ اور کنٹرول اور اضافی سہولتوں کے حوالے سے پاکستان ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ’لیکن جیسا کہ موجودہ تنازع میں دیکھا گیا ہے، پاکستان امریکہ کی جنگوں میں شامل ہونے سے ہچکچاتا ہے۔‘

مہران کامرافا کو شک ہے کہ وہ ’ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں پاکستان کی عملی شمولیت دیکھیں گے، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ’پاکستان ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھتا ہے اور اس حوالے سے بہت محتاط ہے۔‘

SOURCE : BBC