Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں گلف سٹریم لگژری طیارہ، پنجاب حکومت کی وضاحت اور نئے سوال

گلف سٹریم لگژری طیارہ، پنجاب حکومت کی وضاحت اور نئے سوال

6
0

SOURCE :- BBC NEWS

Gulfstream

،تصویر کا ذریعہGulfstream

پاکستانی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر پنجاب حکومت کی جانب سے ایک لگژری طیارے کی مبینہ خریداری کی اطلاعات کو اس وقت تقویت ملی جب اس معاملے پر حکومت کا موقف سامنے آیا۔

بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس کے دوران پنجاب کی وزیر اطلاعات اعظمیٰ بخاری سے ایک صحافی کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ ’سوشل میڈیا پر پنجاب حکومت کی جانب سے اربوں روپے مالیت کا جہاز خریدنے سے متعلق بات کی جا رہی ہے، کیا پنجاب حکومت نے یہ جہاز خریدا ہے اور اگر خریدا تو اس کی مالیت کتنی ہے؟‘

اس پر اعظمیٰ بخاری نے جواب دیا کہ یہ ’ائیر پنجاب‘ بنانے کی ایک کڑی ہے۔ ’ایئر پنجاب کے لیے ہم مختلف جہاز خرید رہے ہیں اور کچھ ہم لیز پر لیں گے کیونکہ ہمیں ایک فلیٹ بنانا ہے جس میں ہر طرح کے جہاز ہوں گے اور یہ اُسی کی کڑی ہے۔ اس پر حتمی معاملات سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سال ایئر پنجاب نے اپنی سروسز شروع کرنی ہیں اور ’اس کے لیے ہمیں جہاز یا تو خریدنے پڑیں گے یا لیز پر لینے پڑیں گے۔‘

تاہم وزیر اطلاعات کی جانب سے نہ تو یہ بتایا گیا کہ ’ایئر پنجاب‘ سے متعلق صوبائی حکومت کا منصوبہ کیا ہے اور یہ کس سٹیج پر ہے اور نہ ہی یہ تصدیق کی گئی کہ خریدا جانے والا طیارہ ’گلف سٹریم لانگ رینج‘ ہے یا کوئی اور طیارہ۔

یاد رہے کہ میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پنجاب حکومت نے جو طیارہ خریدا، یہ گلف سٹریم G500 لانگ رینج لگژری ایئر کرافٹ ہے جو سنہ 2019 میں تیار کیا گیا اور یہ عام طور پر سربراہان مملکت اور کاروباری شخصیات استعمال کرتے ہیں۔

بی بی سی اُردو نے اس معاملے پر مزید جاننے کے لیے اعظمیٰ بخاری سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم اُن کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

یہ طیارہ کب پاکستان پہنچا اور کب سے استعمال ہو رہا ہے؟

اس معاملے کی تفصیلات سے واقف ایک متعلقہ سرکاری اہلکار نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ طیارہ گلف سٹریم جی فائیو ہنڈرڈ ہے جس کا ماڈل سنہ 2019 کا ہے اور اس کی ملکیت اس وقت تک پرائیویٹ ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ طیارہ تاحال پاکستان میں رجسٹر نہیں کیا گیا۔‘

ان کے مطابق ’وہ تمام طیارے جو پاکستان میں رجسٹر ہوتے ہیں اُن کے رجسٹریشن نمبر کے آغاز میں ’اے پی‘ کا سابقہ یا پری فکس لگا ہونا ضروری ہوتا ہے جبکہ اس طیارے کا رجسٹریشن نمبر ’این‘ سے شروع ہوتا ہے اور ’ایس‘ پر ختم ہوتا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ طیارے کو تاحال پاکستان میں رجسٹر نہیں کیا گیا۔‘

پاکستان، طیارے

،تصویر کا ذریعہGulfstream

بی بی سی کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق طیارے کا رجسٹریشن نمبر این ون ڈبل فور ایس ہے اور یہ امریکہ میں رجسٹرڈ ہے۔ یہ طیارہ پہلی مرتبہ گزشتہ برس 28 دسمبر کی رات لاہور پہنچا تھا۔

دستاویزات کے مطابق اس طیارے نے حال ہی میں لگ بھگ چھ فروری سے مقامی طور پر پروازیں شروع کی ہیں اور اس نے زیادہ تر اپنے رجسٹریشن نمبر کے کال سائن سے پرواز کی تاہم 10 سے 12 فروری کے درمیان اس نے ’پنجاب ٹو‘ کے کال سائن سے لاہور سے کوئٹہ اور لاہور سے میانوالی کا سفر کیا۔

اسی کال سائن سے اس نے دوبارہ 16 فروری کو لاہور سے سیالکوٹ اور واپسی کا سفر کیا۔

سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر طیارے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس پر اس کا رجسٹریشن نمبر آویزاں ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بعض معاہدوں کے تحت ایسا بندوبست ہوتا ہے کہ طیارہ جب تک رجسٹر نہیں کیا جاتا اور مقامی طور پر اس کے پائلٹ بھرتی نہیں کیے جاتے اُس وقت تک وہی کمپنی اس کو اڑانے میں معاونت فراہم کرتی ہے جس سے یہ طیارہ حاصل کیا گیا ہو۔‘

’یہ ہائی اینڈ بزنس جیٹ ہے‘

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

گلف سٹریم G500 لگژری طیارے امریکی کمپنی ’گلف سٹریم ایئرو سپیس‘ تیار کرتی ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق گلف سٹریم جیٹ طیارے مسافروں کی آسائش کی سہولیات سے لیس ہیں اور تیز رفتاری کے ساتھ مسافروں کو اُن کی منزل مقصود پر پہنچاتے ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق گلف سٹریم GVII-G500 لانگ رینج لگژری ایئر کرافٹ وقت بچاتا ہے اور یہ 1000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑتے ہوئے ایک ہی پرواز میں آٹھ ہزار 334 کلومیٹر تک سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق اس طیارے میں 13 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ طویل روٹس کے دوران مسافر طیارے میں آرام بھی کر سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کے مطابق نیا G500 طیارہ ساڑھے چار کروڑ ڈالر تک میں فروخت ہوتا ہے۔

کمپنی کی جانب سے ویب سائٹ پر دی گئی ایک عمومی G500 کی تصاویر کے مطابق جدید سہولیات سے آراستہ اس طیارے میں مسافروں کے آرام اور سہولت کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ طیارے میں آرام دہ صوفہ سیٹس کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کے لیے ڈائننگ ٹیبل بھی موجود ہیں۔

ایک نجی ایئر لائن سے وابستہ پائلٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اسے ’بزنس جیٹ کہا جاتا ہے اور یہ دُنیا بھر میں بزنس ٹائیکون اور اہم حکومتی شخصیات استعمال کرتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بڑے ارب پتی افراد اور شخصیات ان جہازوں کا ذاتی استعمال کرتے ہیں۔ خاص طور پر عرب ریاستوں کے حکمران اور اشرافیہ ان جہازوں کا استعمال کرتی ہے۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGulfstream

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ خالصتاً ایک بزنس جیٹ ہے اور اس میں اتنی نشستیں نہیں ہوتیں کہ اسے کمرشل بنیادوں پر استعمال کیا جا سکے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں طیارے کی خریداری یا لیز پر لینے کا طویل عمل ہے جس کے لیے پہلے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو درخواست دینا پڑتی ہے اور پھر لائسنس ملتا ہے اور اس کے بعد پائلٹ ہائر کیا جاتا ہے اور اس کے بعد طیارہ خریدا جاتا ہے۔‘

کیا اس نوعیت کے طیاروں کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کیا جا سکتا ہے؟

ایوی ایشن ماہر عمیر میاں کہتے ہیں کہ اس نوعیت کے طیاروں کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنے کا منصوبہ قابل عمل نہیں لگتا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر یہ جہاز واقعی مجوزہ ’ایئر پنجاب‘ کے فلیٹ میں شامل کیا جاتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ حکومت اس کی آپریشنل لاگت پوری کرنے میں کامیاب ہو جائے تاہم اس کا اندازہ اسی وقت لگایا جا سکتا ہے جب اس ضمن میں مکمل تفصیلات سامنے ہوں۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGulfstream

ایئر پنجاب کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

پنجاب حکومت کے ترجمان ادارے ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز نے گذشتہ برس اپریل میں ایک اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں پہلی مرتبہ ’ایئر پنجاب‘ کا ذکر سامنے آیا۔

ڈی جی پی آر کے بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ نے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی صوبائی اِیئر لائن ایئر پنجاب کے قیام کی منظوری دی۔

ڈی جی پی آر کے مطابق وزیر اعلی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اس ایئر لائن کے لیے فوری طور پر چار ایئر بس طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں۔

وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ ایئر پنجاب ابتدائی مرحلے میں ڈومیسٹک پروازیں چلائے گی اور ایک برس بعد بین الاقوامی پروازیں بھی شروع کی جائیں گی۔

گذشتہ برس دسمبر میں گورنمنٹ جابز ایمپلائمنٹ پروسیسنگ ریسورس (ای پی آر) کی ویب سائٹ پر ایئر پنجاب کے لیے مختلف آسامیاں پُر کرنے کے لیے اشتہار بھی دیا تھا۔

اس اشتہار میں چیف ایگزیکٹو آفیسر، چیف آپریٹنگ آفیسر، چیف کمرشل آفیسر، چیف فنانشل آفیسر، ہیڈ آف ہیومن ریسورس، کمپنی سیکریٹری کی آسامیاں شامل تھیں۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

پنجاب حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر طیارے کی خریداری کا معاملہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

بعض صارفین اس طیارے کی خریداری پر پنجاب حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔

وزیر اطلاعات اعظمیٰ بخاری کی اس وضاحت کہ یہ ’ائیر پنجاب‘ بنانے کے سلسلے کی کڑی ہے، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اس شعر کا سہارا لیا کہ ’ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا، کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔‘

خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے ایکس پر لکھا کہ ’ایک طرف شہباز شریف کی حکومت نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص محض 10 ارب روپے میں فروخت کر دیے جبکہ دوسری طرف پنجاب حکومت نے 11 ارب روپے کا جہاز خرید لیا۔‘

واضح رہے کہ تاحال یہ معلوم نہیں کہ پنجاب حکومت نے اس طیارے کی خریداری کس بندوبست کے تحت کی اور اس پر کتنی لاگت آئی۔

خرم مشتاق نامی صارف نے لکھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے یہ موقف پیش کیا جا رہا ہے کہ مبینہ گلف سٹریم طیارہ ’ایئر پنجاب‘ کے فلیٹ کے لیے لیا جا رہا ہے ’مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ گلف سٹریم کوئی کمرشل مسافر جہاز نہیں بلکہ لگژری پرائیویٹ جیٹ ہے، جو دنیا بھر میں وی آئی پی موومنٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔‘

عمر قریشی نے لکھا کہ ’طیارے کی خریداری وقت کی ضرورت ہے اور اگر اس کا استعمال پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے کے لیے ہو رہا ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ‘

SOURCE : BBC