SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہICC via Getty Images
جنوبی افریقہ کو انٹرنیشنل کرکٹ میں لَوٹے ہوئے تین دہائیاں گزر چکیں مگر پرانے زخم شاید ابھی گئے نہیں کہ ہر بار پریشر کے ہنگام میں کوئی نہ کوئی ایسی بوکھلاہٹ طاری ہو جاتی ہے جو انھیں اچانک ورلڈ ٹائٹل سے پرے دھکیل چھوڑتی ہے۔ ایڈن گارڈنز کولکتہ میں بھی کیویز نے ایڈن مارکرم کی ٹیم پہ کچھ ایسی بوکھلاہٹ طاری کر ڈالی کہ ورلڈ کپ کی ہاٹ فیورٹ ٹیم رستہ ہی بھول گئی۔
ورلڈ کپ میں اب تک کے سفر کو ملحوظ رکھا جائے تو نہ صرف جنوبی افریقہ نیوزی لینڈ سے بہتر ٹیم تھی بلکہ اسے کنڈیشنز کے تجربے میں بھی فوقیت حاصل تھی کہ پہلے دن سے وہ اپنے سارے میچز انڈین کنڈیشنز میں کھیل رہی تھی جبکہ حریف نیوزی لینڈ گروپ سٹیج انڈیا میں کھیلنے کے بعد اپنا سپر ایٹ مرحلہ سری لنکا میں کھیل کر یہاں واپس آ رہی تھی۔
ٹی ٹونٹی بھلے اپنی فطرت میں ٹیسٹ کرکٹ سے کوسوں دور ہو مگر ایسے کڑے مواقع پہ یہ بھی کھیل کے اصل فارمیٹ کی ہی محتاج نظر آتی ہے۔ کول مک کونکی نے اپنا سارا کرئیر انٹرنیشنل منظرنامے سے پرے فرسٹ کلاس کرکٹ میں گزارا ہے اور اگر سپر ایٹ مرحلے میں کیویز کو سری لنکن کنڈیشنز درپیش نہ ہوتیں تو شاید وہ اس ٹیم کا حصہ ہی نہ بن پاتے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سری لنکا کے خلاف جب 34 سالہ مک کونکی کو موقع دیا گیا تو وہ کیویز کے لیے ٹرمپ کارڈ ثابت ہوئے۔ جہاں کیوی اننگز 140 کے مجموعے تک پہنچنے کو رینگ رہی تھی، وہاں مک کونکی کی تاخیری یلغار اس مجموعے کو 168 تک لے گئی۔ پھر بولنگ میں بھی انھوں نے آتے ہی سری لنکن اننگز کا ڈنک نکال دیا۔
کولکتہ میں اگرچہ نیوزی لینڈ نے جیمز نیشم کو الیون میں واپس بلایا مگر مک کونکی کو بھی ٹیم میں برقرار رکھا۔
جب خلافِ توقع دوسرے ہی اوور میں مچل سینٹنر نے پیسرز کی طرف جانے کی بجائے گیند مک کونکی کو تھمائی تو کوئنٹن ڈی کوک نے موقع غنیمت جانا اور پہلے اوور میں میٹ ہینری کی کنجوسی کا ازالہ کرنے کا سوچا۔ مک کونکی جونہی اپنی لینتھ سے بھٹکے، ڈی کوک نے بازو کھولے اور پوری قوت سے گیند کو مِڈ آن باؤنڈری کی سمت رسید کر دیا۔
مگر ڈی کوک شاید بھول بیٹھے کہ یہ بے ضرر دکھائی دینے والا آف سپنر فرسٹ کلاس کرکٹ میں پندرہ برس کا تجربہ رکھتا ہے۔ جونہی ڈی کوک کے قدم ہلے، مک کونکی نے لینتھ اتنی کھینچ لی کہ گیند کا بلے پہ ’مڈل ہونا‘ ممکن نہ رہا اور کیچ مڈ آن پہ کھڑے لوکی فرگوسن کے ہاتھوں میں محفوظ ہو گیا۔
رایان رکلٹن کی بوکھلاہٹ تو اور بھی نمایاں رہی کہ اپنی اننگز کی پہلی ہی گیند پہ کھنچی ہوئی لینتھ کو تَر نوالہ سمجھ کر ’کٹ‘ کھیلنے چل پڑے اور جنوبی افریقی اننگز میچ کے دوسرے ہی اوور میں اوپر تلے دو وکٹیں لُٹا کر بوکھلاہٹ کی ان حدود میں داخل ہو گئی جہاں سے واپسی سخت دشوار تھی۔
اس کے بعد پروٹیز بیٹنگ کی چال ماند پڑنے لگی۔ ہانپتے ہانپتے اگرچہ یہ مجموعہ مارکو یئنسن کی بدولت کسی قابلِ قدر ہندسے تک تو پہنچ ہی گیا مگر جنوبی افریقی بولنگ کا حوصلہ بندھانے سے پھر بھی قاصر رہا۔
فن ایلن اور ٹم سائفرٹ کی اوپننگ جوڑی جس روز اپنی دھن میں ہو، مخالف بولنگ اٹیک کے لیے ڈراؤنا خواب بن جایا کرتی ہے۔ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2022 میں جب گروپ سٹیج پہ آسٹریلوی بولنگ کا اسی اوپننگ جوڑی سے پالا پڑا تھا تو اپنے ہوم گراؤنڈز پہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ اٹھانے کا آسٹریلوی خواب وہیں چکنا چُور ہو گیا تھا۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
یہاں پاور پلے میں جیسا سرپرائز مچل سینٹنر نے جنوبی افریقی بلے بازوں کو دیا تھا، ویسا کوئی سرپرائز بھی ایڈن مارکرم کے پاس نہ تھا اور پھر فِن ایلن بھی اپنی لہر میں تھے۔ جو ہدف کیویز کو عبور کرنا تھا، وہ ویسے ہی مسابقت سے خاصا کم تھا اور اس کے بچاؤ کی تدبیر صرف پاور پلے میں وکٹیں گرانا ہی تھی۔
ٹی ٹونٹی کرکٹ میں جب بولر وکٹیں حاصل کرنے کو دوڑتے ہیں تو بولنگ مبادیات سے ہٹ کر بلے بازوں کو لبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر بلے باز کے لالچ سے فائدہ اٹھانے کے لیے گیند میں بھی کوئی سرپرائز تو ہونا چاہئے۔ لیکن جنوبی افریقی بولنگ بھی یہاں کیوی اوپنرز سے دو قدم پیچھے ہی نظر آئی۔
SOURCE : BBC



