SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پانچ ہزار سال قبل کیے گئے ایک پُراسرار فیصلے نے طے کیا کہ آج ہم وقت کو کیسے ناپیں گے۔
اکتوبر 1793 میں انقلاب کے نتیجے میں قائم ہونے والی فرانس کی نئی حکومت نے ایک تجربہ کیا، وقت کو بدلنے کا۔
فیصلہ یہ کیا گیا کہ دن کو 24 کے بجائے 10 گھنٹوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر گھنٹے میں 100 اعشاری (ڈیسیمل) منٹ ہوں گے اور ہر منٹ میں 100 اعشاری سیکنڈ ہوں گے جبکہ ایک ہفتے میں 10 دن ہوں گے۔
اور پھر پہلے سے موجود وقت کے نظام کو اعشاریہ نظام میں بدلنے کا کام شروع ہوا۔ ٹاؤن ہالز میں اعشاریہ میں وقت بتانے والی گھڑیاں نصب کی گئیں اور سرکاری سرگرمیاں نئے کیلنڈر کے تحت ریکارڈ کی جانے لگیں۔
تاہم جلد ہی بہت سے مسائل سامنے آنے لگے۔ موجودہ گھڑیوں کو نئے نظام کے تحت ڈھالنا انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ اس کی وجہ سے فرانس دیگر پڑوسی ممالک سے الگ ہو کر رہ گیا جبکہ دیہی آبادی کو بھی ہر 10 ویں دن ملنے والی چھٹی کی بات پسند نہ آئی۔
نتیجتاً، فرانس میں اعشاری وقت کا نام بمشکل ایک سال ہی نافذ رہ سکا۔
ہم نے گننا کیسے شروع کیا، دن میں 24 گھنٹے، ہر گھنٹے میں 60 منٹ اور ہر منٹ میں 60 سیکنڈ کیوں ہوتے ہیں، اس سوال کا جواب لینے کے لیے گھڑی کو الٹا گھمانا ہو گا اور ماضی کے اس دور میں جانا ہو گا جب وقت گننے کا تصور ہی نہیں آیا تھا۔
60 کی بنیاد
اس کی ابتدا قدیم زمانے کے سومیری افراد سے ہوئی۔ یہ 5300 سے 1940 قبل مسیح تک میسوپوٹیمیا (موجودہ عراق کا علاقہ) میں رہتے تھے اور شہر بنانے کا آغاز انھوں نے یہ کیا۔ آبپاشی اور حل چلانے کا نظام وضح کرنے کے ساتھ ساتھ پہلا تحریری نظام بنانے کا سہرا بھی انھی کے سر جاتا ہے۔
60 کے تصور پر مبنی نمبروں کا تصور بھی انھوں نے ہی دیا۔
اپنا ہاتھ اٹھا کر انگلی موڑیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ اس میں تین جوڑ ہیں۔ انگوٹھا چھوڑ کر ایک ہاتھ کی چار انگلیوں کے جوڑ گنیں تو آپ 12 تک پہنچ جائیں گے۔ اب دوسرے ہاتھ کی ایک انگلی اٹھائیں اور پہلے گنتی کیے گئے 12 کو ایک کے طور پر شمار کریں۔
یہ سلسلہ جاری رکھیں جب تک کہ دوسرے ہاتھ کی پانچ کی پانچ انگلیاں استعمال نہیں ہو جاتیں۔
آپ کی گنتی کہاں تک پہنچی؟ (12 ضرب پانچ) 60۔
قیاس کیا جاتا ہے کہ سومیری افراد نے اسی بنیاد پر اپنے ریاضیاتی نظام کی بنیاد 60 پر رکھی اور یہی فیصلہ آج وقت کی پیمائش پر اثر انداز ہوتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہCuneiform Digital Library Initiative

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کینیڈا کی یونیورسٹی آف نیو برنسوک میں ابتدائی تحریری نظام کے ماہر مارٹن ولس مونرو بتاتے ہیں کہ اُس وقت شہر پھیل رہے تھے اور زرعی نظام جدید ہوتے جا رہے تھے۔ اس کا ریکارڈ رکھنے کے لیے سومیری افراد کو ضرورت پیش آئی کہ وہ لکھنے اور شمار کرنے والے نظام میں بھی جدت لائیں۔
تو اعداد و شمار درج کرنے کے لیے انھوں نے مٹی کی چھوٹی چھوٹی تختیاں استعمال کرنا شروع کیں۔ اکثر تختیاں موجودہ سمارٹ فون یا اس سے بھی چھوٹی ہوتی تھیں۔ پھر تحریر کو تصویر کی صورت دی جانے لگی۔
مٹی کی یہ تختیاں 19 ویں صدی کے وسط میں دریافت ہوئیں اور ان کی تشریح شروع ہوئی۔ مونرو کے مطابق ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سومیری افراد نے کئی عددی نظام استعمال کیے۔ ریاضی کے لیے، فلکیات کے لیے اور وقت کے لیے بھی۔ جلد ہی اس نے ایک پورے نظام کی شکل اختیار کر لی۔
سومیری افراد نے 60 کو اسی طرح استعمال کیا جیسے آج ہم 10 کو استعمال کرتے ہیں۔ یعنی نو تک پہنچنے کے بعد بائیں طرف ایک اور دائیں طرف صفر لکھتے ہیں۔
امریکہ کی براؤن یونیورسٹی سے ایگزیکٹ سائنسز اور قدیم تاریخ میں ڈاکٹریٹ مکمل کرنے والی ایریکا میسزاروس کہتی ہیں کہ ’اسی طرح وہ 59 تک پہنچ کر 60 لکھنے کے بجائے ایک لکھ دیتے ہیں۔‘
اور یہ نظام استعمال کرنے میں بھی بہت آسان ہے۔ 60 کو ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ، 10، 12، 15، 20، 30 اور 60 سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ 10 کو صرف ایک، دو، پانچ اور 10 سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
مسزاروس کہتی ہیں کہ ’اگر آپ جمع تفریق، کھیتوں کی پیمائش یا اپنے بیٹوں میں انھیں تقسیم کرنے جیسے عملی مقاصد کے لیے اعداد کا استعمال کر رہے ہیں تو اس کے لیے ایک آسان نظام بنانا بہت فائدہ مند ہو سکتا ہے۔‘
وقت کی ابتدا
مونرو کے مطابق اس بات کا کوئی واضح ثبوت نہیں کہ سومیری افراد نے وقت کا استعمال کیا۔ سومیری افراد کے بعد آنے والے بابل افراد (جن کا تعلق بغداد کے علاقے بابل سے جنم لینے والی قدیم تہذیب سے تھا) کی جانب سے، ایک ہزار قبل مسیح کے آس پاس، وقت کی پیمائش کے لیے سورج اور پانی کی مدد سے گھڑیاں بنانے کے دستاویزی ثبوت ملتے ہیں۔ تاہم خطے میں وقت کی پیمائش کے لیے نظام اس سے بھی پہلے سے موجود تھے۔
سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف باسل سے وابستہ ریٹا گوٹشی کے مطابق پہلی تہذیب جو دن کو گھنٹوں میں تقسیم کرنے کے لیے جانی جاتی ہے، وہ قدیم مصری تھے اور یہی بات تقریباً 2500 قبل از مسیح میں سامنے آنے والے مذہبی متن میں ظاہر ہوتی ہے۔
گوٹشی کے مطابق گھنٹوں کی پیمائش سے متعلق پہلی معلوم اشیاء رات کے 12 گھنٹوں کا بتاتی تھیں۔ یہ ترچھے ستاروں والی گھڑیاں تھیں جو 2100 سے 1800 قبل از مسیح کے درمیان اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے مصریوں کے تابوتوں کے اندرونی ڈھکنوں پر پائی گئیں۔
یہ واضح نہیں کہ مصریوں نے 12 کی تقسیم کیوں منتخب کی، جو بالآخر پورے دن میں 24 گھنٹے تک پہنچ گئی۔ مصریوں کے پاس 12 برجوں کا ایک مجموعہ تھا لیکن غالب امکان یہ ہے کہ یہ نظام اُس وقت متعارف ہوا جب 12 گھنٹوں کا ذکر پہلے ہی عام ہو چکا تھا۔ ایک اور امکان یہ ہے کہ وہ ایک ہاتھ کی انگلیوں کے جوڑ گن کر آسانی سے 12 تک پہنچ سکتے تھے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ انھیں جتنے دن بعد کچھ مخصوص ستارے نظر آتے تھے، اس حساب سے 10 دنوں پر مشتمل ہفتے کا انتخاب کیا گیا۔
وقت ناپنے کے لیے سب سے قدیم معروف آلات، سن ڈائلز اور پانی کی گھڑیاں، مصر میں تقریبا 1500 قبل از مسیح میں سامنے آئیں۔ گوٹشی کہتی ہیں کہ کچھ آلات تو روزمرہ کے کام کے دوران استعمال ہوتے تھے لیکن زیادہ تر کا تعلق ’ممکنہ طور پر مذہبی رسومات سے تھا۔ ہمارے پاس زیادہ معلومات نہیں ہیں کہ اس دور میں وقت کی پیمائش کا کوئی سائنسی طریقہ موجود تھا۔‘
گوٹشی کے مطابق روزمرہ کے کام کاج سے متعلق جو قدیم متن ملتا ہے اس میں وقت کی پیمائش کام کے اوقات کے حساب سے کی جاتی تھی، یعنی صبح یا دوپہر کا وقت۔ لیکن قدیم مصر کے رومی دور (30 قبل از مسیح) تک پہنچتے پہنچتے گھنٹوں کو معیار بنا لیا گیا تھا اور آدھے گھنٹے کا تصور بھی رائج ہونے لگا تھا۔
،تصویر کا ذریعہThe Fitzwilliam Museum, University of Cambridge
منٹوں کی آمد
اس دوران بابل افراد نے بھی وقت کی پیمائش کے لیے گھنٹوں کے استعمال کو فروغ دیا تھا۔ اور انھوں نے ہی سب سے پہلے گھنٹے کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا۔
بابل تہذیب سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ 2000 قبل مسیح سے 540 قبل مسیح تک خوشحال رہے۔ انھوں نے سومیری افراد کا رسم الخط اور اعدادی نظام اپنایا۔
مسزاروس کہتی ہیں کہ تقریباً 1000 قبل مسیح تک وہ ایک کیلنڈر بنا چکے تھے؛ اس بنیاد پر کہ آسمان پر موجود سورج کو واپس اپنے مقام پر آنے میں کتنا وقت لگتا ہے، 360 دن سے کچھ زیادہ۔
یہ اس تہذیب کے لیے ایک مفید نمبر تھا جس کی گنتی پہلے ہی 60 پر مبنی تھی۔
مسزاروس کے مطابق: ’اسی بنیاد پر سال کے 12 مہینے اور ہر مہینے میں 30 دن کا نظام وضع کیا گیا اور یہ چاند کے چکر کے ساتھ بھی میل کھاتا تھا۔‘
بابل افراد نے روزمرہ استعمال کے لیے وقت کی پیمائش کا ایک عملی نظام تیار کیا جو دن اور رات کو 12، 12 گھنٹوں میں تقسیم کرتا تھا، بالکل ایسے ہی جیسے مصریوں نے کیا تھا۔ یہ گھنٹے موسموں کے حساب سے بنائے گئے تھے اور دن اور رات کے حساب سے ان کی لمبائی بدلتی رہتی تھی۔
بہت سی دیگر قدیم تہذیبوں نے گھنٹوں کی پیمائش موسموں کے اعتبار سے کی اور یہی پیمائش 15 ویں صدی کے یورپ اور 19 ویں صدی کے جاپان تک استعمال ہو رہی تھی۔ تاہم، مونرو کے مطابق، قدیم تہذیبوں میں گھنٹوں کو مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم نہیں کیا گیا کیوں کہ اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
بابل افراد نے فلکیاتی واقعات کی پیمائش کے لیے بھی وقت کا ایک اور نظام تیار کیا، یہ روزمرہ کے استعمال کیے لیے نہیں تھا۔ اس میں دن کو 12 ’بیرو‘ میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ ہم اسے آج کل کے دو گھنٹوں کے برابر سمجھ سکتے ہیں۔
اسے استعمال کرنے والوں میں صرف بابل افراد ہی نہیں تھے، بلکہ قدیم چین اور جاپان میں اس نظام کے اثرات ملتے ہیں۔
زیادہ تفصیلی پیمائش کے لیے بابل افراد نے ان بیرو گھنٹوں کو 30 منٹوں میں تقسیم کرنا شروع کیا۔ اُس وقت یہ منٹ اُش کہلاتے تھے اور ایک اُش منٹ موجودہ چار منٹ کے برابر ہوتا تھا۔ اس کے بعد ایک اُش منٹ کو مزید 60 چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ یہ چھوٹے حصے نندا کہلاتے۔ ہر نندا موجودہ دور کے چار سیکنڈز کے برابر ہوتا۔
تاہم، مونرو کے مطابق: ’بابل افراد بیرو گھنٹوں، اُش منٹس اور نندا سیکنڈز کا نظام بناتے ہوئے یہ نہیں سوچ رہے تھے کہ انھوں نے وقت کو تقسیم کرنا ہے۔ بلکہ انھوں نے یہ نظام آسمان میں فاصلوں اور سیاروں کی رفتار کو ماپنے کے لیے بنایا تھا۔‘
مسزاروس کہتی ہیں کہ پھر قدیم یونانیوں نے بابل کا وضع کردہ فلکیاتی وقت کا نظام اپنایا۔
’انھوں نے وہی تقسیم رکھی کیوں کہ اس سے وہ موجودہ مشاہدات میں اپنے نئے مشاہدات شامل کر سکتے تھے۔ یہ نظام بابل افراد کے لیے بہت اچھے طریقے سے کام کرتا رہا تھا اور بعد میں آنے والوں نے اسے مکمل طور پر اپنا لیا۔‘
وقت کی درست پیمائش کے طریقے میں کیسے کیسے جدت آئی
- 12 ویں صدی: پہلی مکینیکل گھڑیاں بنائی گئیں، جو تقریبا ایک گھنٹے تک درست وقت بتاتی تھیں۔
- 16 ویں صدی: پینڈولم گھڑیاں بھی روزانہ اصل وقت سے 10، 15 منٹ آگے پیچھے ہو جاتی تھیں۔
- 18 ویں صدی: ایچ 4 گھڑی ایجاد ہوئی جو کئی کئی ہفتوں تک ایک منٹ بھی آگے پیچھے نہیں ہوتی تھی۔
- 1920 کی دہائی: کوارٹز گھڑیاں درست وقت بتانے لگیں، یہ تین سال بعد صرف ایک سیکنڈ پیچھے ہوتی تھیں۔
- 1950 کی دہائی: ایٹمی گھڑیاں آئیں، جو وقت کو درست رکھنے کے لیے ایٹم کا استعمال کرتی ہیں۔ لندن کے رائل میوزیمز میں سائنس سے متعلق آگاہی فراہم کرنے والے ماہر فن بریچ کے مطابق ‘یہ گھڑیاں اربوں سال تک ایک سیکنڈ بھی آگے پیچھے نہیں ہوں گی۔’
سیکنڈز کی پیمائش
گوٹشی بتاتی ہیں کہ یونانیوں کے دربار میں ریت کی گھڑیاں ہوتی تھیں ’تاکہ لوگوں کو بولنے کے لیے برابر وقت ملے۔‘
بابل افراد نے وقت کی پیمائش کا جو نظام بنایا وہ روزمرہ کی ضرورت کے بجائے فلکیاتی واقعات کی پیمائش کے لیے تھا۔ تاہم صدیاں گزرنے کے ساتھ ساتھ وقت کو گھنٹوں، منٹوں اور سیکنڈز میں ناپنے کے نظام بنتے چلے گئے اور روزمرہ کی زندگیوں میں ان کا استعمال بھی شروع ہو گیا۔
اب تو ایک سیکنڈ کو بھی ملی سیکنڈ (سیکنڈ کا ہزارواں حصہ) اور مائیکرو سیکنڈ (سیکنڈ کا 10 لاکھواں حصہ) میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔
20 ویں صدی میں ایٹمی گھڑیوں کی وجہ سے سائنسدان سیکنڈز تک کی درست پیمائش کرنے کے قابل ہوئے۔ اور آج انٹرنیٹ سے لے کر جی پی ایس تک، ہر درست پیمائش کے پیچھے یہی نظام ہے۔
SOURCE : BBC



