Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں کیا سیز فائر سے جنگ ختم ہو جاتی ہے؟ ماضی کے واقعات...

کیا سیز فائر سے جنگ ختم ہو جاتی ہے؟ ماضی کے واقعات ہمیں کیا بتاتے ہیں؟

3
0

SOURCE :- BBC NEWS

EPA

،تصویر کا ذریعہEPA

ایک گھنٹہ قبل

مطالعے کا وقت: 8 منٹ

ایران اور امریکہ دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں، جس کے دوران آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت کی اجازت ہو گی۔

یہ پیش رفت امریکہ و اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے۔ یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے تیل اور خلیجی برآمدات کے لیے اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا تو ’آایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی۔‘

ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے جنگ بندی پر اس لیے اتفاق کیا کیونکہ ’ہم ایران کے ساتھ طویل مدتی امن اور مشرقِ وسطیٰ میں امن سے متعلق ایک حتمی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔‘

انھوں نے کہا، ’ماضی کے تقریباً تمام متنازع نکات پر امریکہ اور ایران کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے، لیکن دو ہفتوں کا یہ عرصہ معاہدے کو حتمی شکل دینے اور مکمل کرنے کی اجازت دے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا، ’اس دیرینہ مسئلے کو حل کے قریب لے آنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔‘

بعد ازاں ٹرمپ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ نے ’مکمل اور فیصلہ کن فتح‘ حاصل کی ہے۔

تاہم ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے کہا کہ امریکہ کو ایک تاریخی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ تفصیلات کو ’حتمی شکل دینے‘ کے لیے زیادہ سے زیادہ 15 دن کے اندر پاکستان میں مذاکرات ہوں گے، تاکہ ’جنگ میں ایران کی فتح کو سیاسی مذاکرات میں بھی مستحکم کیا جا سکے۔‘

U.S. President Donald Trump looks at Pakistan's Prime Minister Shehbaz Sharif during a world leaders' summit on ending the Gaza war, in Sharm El-Sheikh, Egypt, October 13, 2025.

،تصویر کا ذریعہReuters

پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا: ’دونوں فریقوں نے غیر معمولی دانشمندی اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری انداز میں مصروفِ عمل رہے ہیں۔‘

’ہم پُرامید ہیں کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے اور آنے والے دنوں میں مزید اچھی خبریں شیئر کرنے کے خواہاں ہیں۔‘

اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ’مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور جنگ بندی کی شرائط کی پابندی کریں تاکہ خطے میں دیرپا اور جامع امن کی راہ ہموار ہو سکے۔‘

تاہم، دیگر تنازعات کی طرح، دو ہفتوں کی جنگ بندی سے طویل مدتی امن کی جانب منتقلی کے لیے اب بھی اعلیٰ درجے کی مہارت رکھنے والی سفارت کاری کی ضرورت ہوگی۔

سیز فائر کا مطلب کیا ہے؟

اقوامِ متحدہ کے مطابق ’جنگ بندی (سیز فائر)‘ کی کوئی ایک متفقہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ تعریف موجود نہیں ہے، حالانکہ یہ لفظ فوجی حکم ’فائر بند کرو‘ سے نکلا ہے، جو ’فائر کھولو‘ کے برعکس ہے۔

یہ اصطلاح وہی معنی اختیار کر سکتی ہے جو جنگ میں شامل دو فریق اپنی بات چیت میں طے کریں۔

اسے ’عارضی جنگ بندی‘ (ٹروس) اور ’معاہدۂ جنگ بندی‘ جیسے الفاظ کے ساتھ بھی ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم اقوامِ متحدہ کے مطابق ’جنگ بندی (سیز فائر)‘ اور ’دشمنیوں کے خاتمے‘ میں اکثر فرق ہوتا ہے۔

’دشمنیوں کا خاتمہ‘ عموماً لڑائی روکنے کا ایک غیر رسمی معاہدہ ہوتا ہے۔

جبکہ ’جنگ بندی‘ نسبتاً ایک باقاعدہ معاہدہ ہوتی ہے، جس میں درج ذیل نکات کی وضاحت کی جاتی ہے:

  • جنگ بندی کا مقصد کیا ہے
  • اس کے بعد کون سا سیاسی عمل شروع ہو گا
  • یہ کب سے نافذ ہو گی
  • اس کا جغرافیائی دائرہ کار کیا ہو گا

اس کے علاوہ اس میں یہ بھی واضح کیا جا سکتا ہے کہ کون سی فوجی سرگرمیاں جائز ہوں گی اور کون سی نہیں، اور جنگ بندی کی نگرانی کس طرح کی جائے گی۔

Rebel fighters in National Patriotic Front of Liberia in 1993

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مثال کے طور پر، لائبیریا کی خانہ جنگی 1993 میں اس وقت اپنے اختتام کو پہنچی جب عبوری حکومتِ قومی اتحاد نے نیشنل پیٹریاٹک فرنٹ آف لائبیریا اور یونائیٹڈ لبریشن موومنٹ آف لائبیریا فار ڈیموکریسی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔

دونوں فریق اس بات پر متفق ہوئے کہ وہ اسلحہ اور گولہ بارود کی درآمد بند کریں گے، فوجی پوزیشنوں کو تبدیل یا ان پر حملہ نہیں کریں گے، مزید دشمنی کو ہوا نہیں دیں گے اور بارودی سرنگوں اور آتش گیر ہتھیاروں کا استعمال نہیں کریں گے۔

کیا جنگ بندی مستقل ہوتی ہے یا صرف عارضی؟

اقوامِ متحدہ کے مطابق، جنگ بندی (سیز فائر) دونوں طرح کی ہو سکتی ہے۔

کبھی کبھار جنگ میں شامل دونوں متحارب فریق عارضی یا ابتدائی جنگ بندی پر متفق ہو جاتے ہیں۔

یہ عموماً تشدد کم کرنے یا انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔

جب اسرائیل اور حماس کی قیادت میں عسکری گروپوں نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا، جو 24 نومبر سے 30 نومبر 2023 تک جاری رہی، حماس نے تقریباً 240 قیدیوں کے بدلے 105 یرغمالیوں کو رہا کیا۔

ابتدائی جنگ بندی اس ماحول کو بنانے کے لیے بھی کی جا سکتی ہے جو مذاکرات میں مدد دے اور مستقل یا حتمی جنگ بندی کی راہ ہموار کرے۔

The leaders of Ethiopia and Eritrea shake hands after signing a peace deal in Algiers in 2000.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جون 2000 میں، ایتھوپیا اور اریٹیریا نے تصادم کو روکنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تاکہ ایک حتمی جنگ بندی پر بات چیت کی جا سکے۔ یہ معاہدہ دسمبر میں الجزائر معاہدے کے تحت ممکن ہوا، جس نے جنگ کا خاتمہ کیا۔

تاہم، جنگ عموماً اس وجہ سے جاری رہ سکتی ہے کہ ابتدائی جنگ بندیاں ناکام یا کمزور ہو جاتی ہیں۔

اقوامِ متحدہ نے لبنان میں خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے متعدد جنگ بندیوں پر بات چیت کی۔۔۔ 1978، 1981 اور 1982 میں۔ لیکن ہر جنگ بندی کے بعد لڑائی دوبارہ بھڑک اٹھتی اور 1975 میں شروع ہونے والی جنگ 1990 میں ختم ہوئی۔

کچھ معاملات میں، جنگ میں شامل ایک یا دونوں فریق ابتدائی جنگ بندی کا استعمال اپنے زمینی موقف کو مضبوط کرنے کے لیے کر سکتے ہیں۔

حتمی یا مستقل جنگ بندی عام طور پر دونوں متحارب فریقین کے کامیاب امن مذاکرات کے بعد حاصل ہوتی ہے۔

یہ عموماً شناخت شدہ فورسز کے ہتھیار ڈالنے یا غیر فعال ہونے پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن معاہدے کے بعد حفاظتی انتظامات کئی سال تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

A female IRA recruit in a mask receives weapons training in Londonderry in the 1970s

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مثال کے طور پر، 1998 کے گڈ فرائیڈے معاہدے میں شمالی آئرلینڈ میں پروویژنال آئرلینڈ ریپبلکن آرمی اور وفادار گروپوں نے اپنے ہتھیار ’استعمال کے قابل نہ رکھنے‘ پر اتفاق کیا۔

معاہدے میں ایسے شقیں بھی شامل تھیں جو صوبے میں جاری امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے بنائی گئی تھیں، جیسے شمالی آئرلینڈ اور آئرلینڈ کی جمہوریہ کے درمیان سرحد کو کھلا رکھنا تاکہ بغیر رکاوٹ اور بغیر محصول کے تجارت ممکن ہو سکے۔

محدود جنگ بندی کی کون کون سی اقسام ہیں؟

Freed Israeli hostages on a bus, November 2023

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نومبر 2023 میں اسرائیل اور حماس نے اپنی عارضی جنگ بندی کو ’انسانی وقفہ‘ کہا۔

انسانی وقفے کبھی کبھار لڑائی کے دوران تشدد کم کرنے یا انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر، سوڈان کی حکومت نے دو عسکری گروپوں، سوڈان لبریشن موومنٹ اور جسٹس اینڈ ایکوالیٹی موومنٹ کے ساتھ جنگ بندی کی، جس سے دارفور میں 45 دن کے لیے لڑائی رک گئی تاکہ امدادی ادارے مقامی لوگوں تک انسانی مدد پہنچا سکیں۔

سن 2004 میں، جب انڈونیشیا پر سونامی آیا، تو انڈونیشیا کی حکومت اور فری آچہ موومنٹ نے جنگ بندی کا اعلان کیا تاکہ جن علاقوں میں لڑائی ہو رہی تھی وہاں امداد پہنچائی جا سکے۔

کچھ معاملات میں مخصوص علاقے میں لڑائی روکنے کے لیے بھی معاہدے کیے جاتے ہیں، جسے جغرافیائی جنگ بندی کہا جاتا ہے۔

2018 میں، اقوامِ متحدہ نے یمن کی حکومت اور حوثیوں کے درمیان بحریہ احمر کے بندرگاہی شہر الحدیدہ کے آس پاس لڑائی روکنے کا معاہدہ کروایا تاکہ مقامی آبادی کی حفاظت کی جا سکے۔

SOURCE : BBC