Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں پی ایس ایل میں پہلی نیلامی اور ’مہنگے کھلاڑی‘: ’اب ہم باقی...

پی ایس ایل میں پہلی نیلامی اور ’مہنگے کھلاڑی‘: ’اب ہم باقی لوگ بہت سوچ سمجھ کر ٹیم میں شامل کریں گے‘

15
0

SOURCE :- BBC NEWS

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

19 جنوری 2026

اپ ڈیٹ کی گئی ایک گھنٹہ قبل

مطالعے کا وقت: 13 منٹ

پی ایس ایل کے11 ویں سیزن کا آغاز 26 مارچ سے ہو رہا ہے اور حال ہی میں تین نئی ٹیموں کے اضافے کے بعد اب مجموعی طور پر نو ٹیمیں ٹائٹل کے حصول کے لیے مدمقابل ہوں گی۔ یہ ٹیمیں کن کھلاڑیوں پر مشتمل ہوں گی، اس کا فیصلہ آج کھلاڑیوں کی نیلامی کی تقریب میں ہو گا۔

پی ایس ایل کی انتظامیہ نے رواں برس سیزن 11 کے لیے انڈین پریمیئر لیگ کی طرز پر پہلی مرتبہ کھلاڑیوں کی نیلامی کا طریقۂ کار متعارف کرایا ہے۔ پاکستان سپر لیگ میں کھلاڑیوں کا انتخاب پلیئرز ڈرافٹ کے طریقہ کار کے تحت کیا جاتا تھا لیکن اس مرتبہ آئی پی ایل کی طرز پر کھلاڑیوں کی ’بیس پرائس‘ مقرر کر کے نیلامی کی جا رہی ہے۔

پی ایس ایل کے نئے قواعد و ضوابط کے مطابق ہر ٹیم کے پاس نیلامی میں کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے 45 کروڑ روپے کی مجموعی رقم دستیاب ہے جبکہ براہِ راست ’سائننگ‘ کے لیے مزید ساڑھے پانچ کروڑ روپے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یوں زیادہ سے زیادہ بجٹ ساڑھے 50 کروڑ روپے ہو گا۔

پی ایس ایل انتظامیہ نے ہر فرنچائز کو کسی بھی ایسے غیر ملکی کھلاڑی کو براہ راست سائن کرنے کی اجازت دی ہے جو پی ایس ایل 10 کا حصہ نہیں تھا اور اس آپشن کو استعمال کرتے ہوئے تین فرنچائزز نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کو اپنے سکواڈ کا حصہ بنایا ہے۔ ان میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے سپنسر جانسن، سیالکوٹ سٹالیئنز نے سٹیو سمتھ جبکہ حیدرآباد کنگزمین نے مارنس لبوشان کو سائن کیا ہے۔

اس نیلامی میں ہر فرنچائز اپنے سکواڈ میں کم سے کم 16 یا زیادہ سے زیادہ 20 کھلاڑی شامل کر سکے گی جبکہ سکواڈ کے حجم کے لحاظ سے غیرملکی کھلاڑیوں کی تعداد پانچ سے سات ہو گی۔

اس سکواڈ میں سے فرنچائز کے لیے پلیئنگ الیون میں کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ چار غیرملکی کھلاڑیوں کو کھلانا لازمی ہوگا۔

ٹیموں کے لیے سکواڈ میں 23 برس سے کم عمر کے کم از کم دو اور پلیئنگ الیون میں ایک کھلاڑی کو شامل کرنا بھی ضروری ہو گا۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

نیلامی کا طریقۂ کار

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق پی ایس ایل میں کھلاڑیوں کی نیلامی کے لیے اس بار بھی چار کیٹیگریز رکھی گئی ہیں۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پہلی کیٹیگری میں بنیادی معاوضہ چار کروڑ 20 لاکھ، دوسری میں دو کروڑ 20 لاکھ روپے، تیسری میں ایک کروڑ 10 لاکھ روپے جبکہ چوتھی کیٹیگری میں 60 لاکھ روپے رکھا گیا ہے۔

پی ایس ایل کے پہلے 10 سیزنز میں کھلاڑیوں کو ڈالرز میں ادائیگی کی جاتی تھی، تاہم اس مرتبہ اُنھیں پاکستانی روپوں میں معاوضہ دیا جائے گا۔

پی سی بی کے مطابق نیلامی کے دوران جس کھلاڑی کی بولی چار کروڑ 20 لاکھ سے شروع ہو گی، اس کے بعد ہر بولی کے دوران فرنچائز کو کم سے کم 15 لاکھ روپے کا اضافہ کرنا لازمی ہو گا۔

اسی طرح جس کھلاڑی کی بیس پرائس دو کروڑ 20 لاکھ ہو گی، اس میں ہر بولی کے دوران پانچ لاکھ جبکہ ایک کروڑ 10 کروڑ والے کرکٹر کی بولی بڑھانے کے لیے کم از کم ڈھائی لاکھ روپے بڑھانا ہوں گے۔

نیلامی میں پہلی کیٹیگری میں نو پاکستانی کھلاڑی شامل ہیں جو پاکستان کی ٹی 20 کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان آغا کے علاوہ صاحبزادہ فرحان، حارث رؤف، محمد رضوان، محمد عامر، نسیم شاہ، عماد وسیم اور فخر زمان کے علاوہ فہیم اشرف ہیں۔

پانچ پاکستانی کھلاڑیوں کی بیس پرائس دو کروڑ 20 لاکھ روپے رکھی گئی ہے یعنی وہ دوسری کیٹیگری کا حصہ ہیں اور یہ تمام کھلاڑی پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ان میں شان مسعود، افتخار احمد، اسامہ میر، سعود شکیل اور محمد وسیم جونیئر شامل ہیں۔

زیادہ سے زیادہ بیس پرائس پانے والے غیرملکی کھلاڑیوں میں آسٹریلیا کے چھ، انگلینڈ کے چار، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے تین، تین اور سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کے دو، دو کھلاڑی شامل ہیں۔

ابتدائی طور پر ایسے کھلاڑیوں کی مجموعی تعداد 22 تھی لیکن افغان کھلاڑیوں کے پی ایس ایل کا حصہ نہ بننے کے فیصلے کے بعد فضل حق فاروقی اور مجیب الرحمان اب نیلامی میں شامل نہیں ہوں گے۔

Social media

،تصویر کا ذریعہSocial media

کون سے کھلاڑی نیلامی کا حصہ نہیں ہوں گے

پی ایس ایل 11 کے لیے ہونے والی نیلامی میں بابر اعظم اور شاہین آفریدی جیسے کئی بڑے نام شامل نہیں ہوں گے جس کی وجہ ’ریٹینشن پالیسی‘ ہے۔

کراچی کنگز نے اس سیزن کے لیے حسن علی، خوشدل شاہ، سعد بیگ اور عباس آفریدی کو ٹیم میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ کراچی کنگز نے حسن علی کو چار کروڑ 76 لاکھ، عباس آفریدی کو تین کروڑ آٹھ لاکھ، خوشدل شاہ کو تین کروڑ 36 لاکھ جبکہ سعد بیگ کو 60 لاکھ روپے میں ریٹین کیا ہے یوں نیلامی میں اس فرنچائز کے پاس 33 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ہو گی۔

پشاور زلمی نے بابر اعظم کو پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھا ہے اور انھیں سات کروڑ روپے ملیں گے۔ ڈائمنڈ کیٹیگری میں سپنر سفیان مقیم کو رکھا گیا ہے جنھیں چار کروڑ 48 لاکھ روپے کی رقم ملے گی جبکہ گولڈ کیٹیگری میں عبدالصمد دو کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کریں گے اور پشاور کی جانب سے ریٹین کیے جانے والے چوتھے کھلاڑی علی رضا ہیں جن کی قیمت ایک کروڑ 96 لاکھ روپے رکھی گئی ہے۔

ان چار کھلاڑیوں پر پشاور زلمی نے 16 کروڑ 24 لاکھ روپے کی رقم خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے پاس نیلامی میں خرچ کرنے کے لیے 28 کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ہو گی۔

اسلام آباد یونائیٹڈز نے پی ایس ایل 11 کے لیے کپتان شاداب خان کو پلاٹینم کیٹیگری، سلمان ارشاد کو گولڈ کیٹیگری اور اندریس گوس کو سلور کیٹیگری میں سکواڈ میں برقرار رکھا ہے۔

اسلام اباد یونائیٹڈ نے کپتان شاداب خان کو سات کروڑ روپے میں ریٹین کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ معاوضہ انھیں پلاٹنیم کیٹیگری میں ادا کیا جائے گا جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے سلور کیٹیگری میں اندریس گوس کو ایک کروڑ 40 لاکھ روپے اور گولڈ کیٹیگری میں سلمان ارشاد کو ایک کروڑ 20 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔

اس طرح اسلام آباد یونائیٹڈ نے کھلاڑیوں کی خریداری کے لیے مقرر 45 کروڑ روپے کی مجموعی رقم میں سے نو کروڑ 60 لاکھ روپے پہلے ہی استعمال کر لیے ہیں اور اب ان کے پاس 35 کروڑ سے زیادہ کی رقم باقی ہے۔

لاہور قلندرز نے شاہین شاہ آفریدی، عبداللہ شفیق، زمبابوے کے پاکستانی نژاد آل راؤنڈر سکندر رضا کے علاوہ محمد نعیم کو نیلامی کے لیے پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرنچائز نے شاہین آفریدی کو سات کروڑ، عبداللہ شفیق کو دو کروڑ 20 لاکھ، سکندر رضا کو دو کروڑ 80 لاکھ جبکہ محمد نعیم کو 70 لاکھ کی رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

یوں لاہور کے پاس نیلامی میں خرچ کرنے کے لیے دستیاب رقم 32 کروڑ 30 لاکھ روپے ہو گی۔ لاہور کی ٹیم نے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو براہِ راست سائن بھی کیا ہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے فاسٹ بولر سپنسر جانسن کو براہِ راست سائن کیا ہے جبکہ سپنر ابرار احمد اور عثمان طارق کے علاوہ حسن نواز اور ایمرجنگ کھلاڑی شمائل حسین کو ‘ریٹین’ کرنے کا اعلان کیا ہے جنھیں بالترتیب سات کروڑ، پانچ کروڑ 60 لاکھ، تین کروڑ 92 لاکھ اور 84 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ اس طرح کوئٹہ کے پاس 27 کروڑ 64 لاکھ روپے کی رقم باقی بچی ہے۔

سیالکوٹ سٹالیئنز نے جہاں سٹیو سمتھ کو 14 کروڑ روپے کی خطیر رقم کے عوض براہِ راست ٹیم کا حصہ بنایا ہے وہیں یہ ٹیم محمد نواز کو چھ کروڑ 16 لاکھ، سلمان مرزا کو تین کروڑ 92 لاکھ، احمد دانیال کو دو کروڑ 24 لاکھ جبکہ سعد مسعود کو 84 لاکھ روپے کی رقم دے گی۔

پی ایس ایل 11 میں شامل کی جانے والی دوسری نئی ٹیم حیدرآباد کنگزمین نے جہاں آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے مارنس لبوشان کو براہِ راست ٹیم کا حصہ بنایا ہے وہیں صائم ایوب کو 12 کروڑ 60 لاکھ روپے، عثمان خان کو چار کروڑ 62 لاکھ، ایمرجنگ کھلاڑی معاذ صداقت کو ساڑھے تین کروڑ جبکہ عاکف جاوید کو ایک کروڑ 96 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

ایک مہنگا کھلاڑی خریدنے کا اثر باقی ٹیم پر؟

سیالکوٹ سٹالیئنز نے سٹیو سمتھ کو 14 کروڑ روپے کی خطیر رقم کے عوض براہِ راست ٹیم کا حصہ بنایا ہے جبکہ حیدرآباد کنگزمین نے صائم ایوب کو 12 کروڑ 60 لاکھ روپے اور لاہور قلندر نے بنگلہ دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمان کو چھ کروڑ 44 لاکھ روپے میں سائن کیا ہے۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ایک غیر ملکی کھلاڑی کو بڑی رقم دے کر ڈائریکٹ سائن کرنے سے باقی غیر ملکی و ملکی کھلاڑیوں کے لیے رقم بچے گی ؟ اور کیا فرنچائز کے پاس اتنا بجٹ (پرس) ہے کہ وہ باقی کھلاڑیوں کو بھی ایڈجسٹ کر سکے؟ اس سے دوسرے کھلاڑیوں کا معاوضہ متاثر نہیں ہو گا؟

اس حوالے سے سیالکوٹ سٹالیئنز کے مالک کامل خان نے بی بی سی اردو کی منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یقیناً سٹیو سمتھ جیسے کھلاڑی کو اتنی رقم کے عوض سائن کرنے سے ہمارا مجموعی بجٹ متاثر ہو گا۔۔۔ مگر اب ہم باقی کھلاڑی بہت سوچ سمجھ کر ٹیم میں شامل کریں گے۔‘

تاہم لاہور قلندر کے سی ای او عاطف رانا نے بی بی سی اردو کی منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹیم ایک کھلاڑی سے نہیں بنتی، 11 کھلاڑیوں اور مجموعی بجٹ کو دیکھتے ہوئے ہی کسی کھلاڑی کو رقم آفر کی جاتی ہے۔‘

لاہور قلندر کے سی ای او کا مزید کہنا تھا کہ ’جو کچھ بھی ہو گا سب کے سامنے ہو گا‘۔۔۔۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ آپ گھر سے بازار سامان لینے گئے ہیں اور آپ کا ایک لاکھ بجٹ ہے تو آپ ساری چیزیں اس کی مناسبت سے ہی لیں گے نا۔۔۔۔ اسی طرح کھلاڑیوں کے آکشن کی بھی یہی صورتحال ہے۔‘

عاطف رانا کا کہنا تھا کہ ’جتنے فرنچائز مالکان ہیں وہ کاروبار کرکے ہی یہاں تک پہنچے ہیں اور انھیں آئیڈیا ہے کہ انھوں نے اپنی ٹیمیں کیسے بنانی ہیں۔۔۔ جیسے وہ کارپورٹ کی ٹیمیں بناتے ہیں ویسے ہی انھیں کھیل کی ٹیم بھی بنانی آتی ہے۔ ہمیں پتا ہے کہ ہمارا بجٹ کتنا ہے اور اس کے اندر ہی ہم نے کھلاڑیوں کا سب سے بہترین کامبینیشن (امتزاج) بنانا ہے جس سے ہم فینز کو بہترین انداز میں انٹرٹین کر سکیں۔‘

’امیر کھلاڑی مزید امیر ہوتے جائیں گے اور غریب کھلاڑی مزید غریب ہوتے جائیں گے‘

سپورٹس تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز نے بی بی سی اردو کی منزہ انوار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک مہنگا کھلاڑی سائن کر لینے سے باقی ٹیم پر اثر ضرور پڑتا ہے۔‘

اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس میں ایک دو نہیں بلکہ تین اہم نکات ہیں۔

ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق ’ہم نے جو حالیہ نیلامیاں دیکھی ہیں جہاں قیمتیں ایک ارب 75 کروڑ روپے، 185 کروڑ روپے اور دو ارب 45 کروڑ تک گئی ہیں، یہ سب خسارے کا باعث بھی بنتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فرنچائزز بیرونی ذرائع سے کمائی بھی کرتی ہیں مگر امریکی ڈالر اور روپے کے فرق کی وجہ سے وہ بھی دباؤ میں آ جاتی ہیں۔‘

ان کے مطابق ’دوسری اہم بات یہ ہے کہ اب ایسی فرنچائزز آ رہی ہیں جن کی ڈیپ پاکٹس ہیں یعنی مالی طور پر مضبوط مالکان ہیں۔ اس لیے کم از کم ان کے پاس بیک اپ تو ہو گا۔ حالیہ تین مثالیں ملتان سلطانز، سیالکوٹ اور حیدرآباد کی ہیں۔‘

ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق باقی ٹیموں میں ’ہم نے ڈرافٹ کے دوران دیکھا کہ کم قیمت پر کھلاڑی لینے کی کوشش کی گئی اور کھلاڑیوں کے لیے حالات خاصے مجبوری والے تھے۔‘

نیلامی کے متعلق ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ میرا نظریہ یہ ہے کہ ’امیر کھلاڑی مزید امیر ہوتے جائیں گے اور غریب کھلاڑی مزید غریب ہوتے جائیں گے، اس طرح عدم توازن پیدا ہو گا اور کھلاڑیوں کے درمیان فرق مزید بڑھ جائے گا۔۔۔ کہیں 12 کروڑ، کہیں چھ کروڑ، کہیں چار کروڑ۔‘

ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق ’جب فرنچائزز اس طرح کھلاڑی حاصل کر رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مالی طور پر مضبوط تو ہیں، مگر وہ کھلاڑی جن کی نیلامی میں زیادہ قدر نہیں، وہ اس سے متاثر ہوں گے۔‘

x.com

،تصویر کا ذریعہx.com

کیا 16 لاکھ ڈالرز کا پرس اچھے کھلاڑیوں پر مشتمل سکواڈ بنانے کے لیے کافی ہے؟

اس سوال کے جواب میں سیالکوٹ سٹالیئنز کے مالک کامل خان کا کہنا تھا کہ 16 لاکھ ڈالر کی کیپ ایک اچھی چیز ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کیپ سے ساری ٹیموں کو فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بہتر مالی حالات کی وجہ سے کوئی ایک ٹیم بازی نہیں لے پاتی، اس طرح سب کو برابر موقع ملتا ہے۔‘

اس حوالے سے لاہور قلندر کے سی ای او عاطف رانا کا کہنا تھا کہ ’یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے اور اس کا اندازہ تو آکشن کے بعد ہی ہو پائے گا۔‘

عاطف رانا کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جو قواعد و ضوابط بنائے ہیں وہ ان کے تھنک ٹینک نے بہت سوچ سمجھ کر بنائے ہیں، لہذا تمام ٹیموں کے مالکان اور ان کی پروفیشنل ٹیمز انھیں ذہن میں رکھتے ہوئے اور اپنے بجٹ کو دیکھتے ہوئے ہی پلاننگ کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ پہلے سے پتا نہیں تھا اور ابھی ہمیں اس بارے میں پتا چلا ہے، ہم سب کو اس بارے میں کافی عرصے سے معلوم تھا اور ہم سب کی مشاورت سے ہی سبھی کچھ طے پایا تھا۔‘

تاہم سپورٹس تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا ہے کہ 16 لاکھ ڈالر کا پرس بڑھایا جانا چاہیے اور اگر نیلامی کی طرف جانا تھا اسے کم از کم 20 لاکھ ڈالر کرنا چاہیے تھا۔

’اونٹ رکھنے ہیں تو دروازے بھی بڑے کریں‘

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پی ایس ایل میں بڑے نام نہیں آتے، تو اگر کسی ٹیم نے ایک دو بڑے نام اتنی بڑی رقم میں لے لیے ہیں تو وہ باقی کھلاڑیوں کو کیسے متوجہ کریں گے؟

اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ ’ہر فرنچائز صرف ایک ڈائریکٹ سائننگ کر سکتی ہے۔ باقی کھلاڑی ڈرافٹ کے ذریعے آتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ممکن ہے کہ کرکٹ بورڈ کی طرف سے ایک لاکھ ڈالر تک کی معاونت یا ایکویٹی بھی دی جائے۔‘

ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق ’اگر آپ واقعی بڑے کھلاڑی لانا چاہتے ہیں تو مواقع بڑھانے ہوں گے۔ اونٹ رکھنے ہیں تو دروازے بھی بڑے کریں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہی تو ہمارا مسئلہ رہا ہے اسی لیے بڑے کھلاڑی متوجہ نہیں ہوتے اور یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر کھلاڑی زیادہ تر تین بڑی لیگز کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں مالی سہولتیں بہتر ہوتی ہیں۔‘

ڈاکٹر نعمان نیاز کہتے ہیں کہ ’نیلامی ایک درست قدم ہے، یہ درست سمت میں پیش رفت ہے۔ دنیا میں اب ڈرافٹ نہیں ہوتے، صرف نیلامیاں ہوتی ہیں۔ مگر اس کے ساتھ مالی بجٹ بھی بڑھانا ہو گا۔۔۔ ’کرکٹ بورڈ کب تک سبسڈی دے گا اور کب تک ڈالر اور روپے کے فرق کے ساتھ گزارا کیا جائے گا؟‘

’میرا خیال ہے کہ اگر نیلامی کی طرف جانا تھا تو کم از کم 20 یا 25 لاکھ ڈالر کا بجٹ رکھنا چاہیے تھا۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پی ایس ایل کے نئے ماڈل میں نیا کیا ہے؟

پی ایس ایل کے نئے آکشن ماڈل میں فرنچائزز کی جانب سے کھلاڑیوں، مینٹورز اور برینڈ ایمبیسیڈرز سے متعلق متعدد تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔

  • نئے ماڈل کے تحت ہر فرنچائز زیادہ سے زیادہ چار کھلاڑیوں کو برقرار رکھ سکتی ہے، پرانے ماڈل میں آٹھ کھلاڑیوں کو رکھنے کی اجازت تھی۔ ان چار کھلاڑیوں کو پلاٹینیم، ڈائمنڈ، گولڈ اور سلور کیٹیگری میں رکھا جائے گا۔
  • مینٹورز، برینڈ ایمبیسیڈرز اور رائٹ ٹو میچ قوانین کو ختم کردیا گیا۔ اس شق کے تحت کسی بھی کیٹیگری میں شامل ایک کھلاڑی کو برینڈ ایمبیسیڈرز یا مینٹور بنا کر اسے اضافی رقم دی جاتی تھی۔
  • نئی شامل کی گئی ٹیموں کو کھلاڑیوں کی نیلامی سے پہلے دستیاب پلیئر پول میں سے چار کھلاڑیوں کو منتخب کرنے اور برقرار رکھنے کی اجازت ہو گی۔
  • ہر فرنچائز کو کسی بھی ایسے غیر ملکی کھلاڑی کو براہ راست سائن کرنے کی اجازت ہو گی، جو پی ایس ایل 10 کا حصہ نہیں تھا۔ اس کے ذریعے ٹیموں کو نئے غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کرنے کے علاوہ اپنے سکواڈز کو مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق غیر ملکی کھلاڑیوں کی براہ راست سائن کرنے کے لیے رقم کا تعین پاکستان کرکٹ بورڈ کرے گا۔

لیگ کو مزید مسابقتی بنانے کے لیے ایک فرنچائز کے لیے کھلاڑیوں کی تنخواہوں کا مجموعی بجٹ 11 لاکھ ڈالرز سے بڑھا کر 16 لاکھ ڈالرز کر دیا گیا ہے۔

پی ایس ایل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سے نئے غیر ملکی کھلاڑیوں کو راغب کرنے کا موقع ملے گا۔

واضح رہے کہ ناقدین کا یہ شکوہ رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان سپر لیگ میں بڑے ٹی ٹوئنٹی کھلاڑی نہیں آئے اور وہ پی ایس ایل کے بجائے آئی پی ایل کا حصہ بننے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کا دعویٰ ہے کہ اس نئے ماڈل سے بڑے غیر ملکی کھلاڑی پی ایس ایل کا حصہ بن سکیں گے۔

پی ایس ایل انتظامیہ کے مطابق پی ایس ایل 11 میں فیصل آباد کو لیگ میچز کے ایک نئے وینیو کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق نیلامی کے عمل، شیڈول اور دیگر آپریشنل معاملات سے متعلق تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

SOURCE : BBC