Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’پاکستان کی ثالثی کامیاب رہی تو اس کی حیثیت بہت بڑھ جائے...

’پاکستان کی ثالثی کامیاب رہی تو اس کی حیثیت بہت بڑھ جائے گی‘: ایران جنگ، اسلام آباد کی سفارت کاری اور دلی کے خدشات

7
0

SOURCE :- BBC NEWS

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

اسرائیل اور امریکہ کے شدید حملوں کے درمیان ایران اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کرانے کے لیے پاکستان کی ممکنہ ثالثی کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں جس کے بعد انڈیا میں ملک کی سفارت کاری پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’دوست ممالک کے ذریعے ایران کو پیغامات بھجوائے گئے ہیں لیکن تہران کا ‘فی الحال مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘ ایسے میں اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ جنگ کے موجودہ ماحول میں دونوں فریق بات چیت کے لیے تیار بھی ہوں گے یا نہیں لیکن یہ واضح ہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

دنیا کی توجہ اس وقت اسلام آباد پر مرکوز ہے اور پاکستان کا اچانک اس خطرناک جنگ میں ثالث کے کردار میں ابھرنا انڈیا میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

تجزیہ کار اور مبصرین ایک طرف تو انڈیا کی اسرائیل اور امریکہ حامی پالیسی پر تنقید کر رہے ہیں تو دوسری طرف انھیں یہ خدشہ ہے کہ پاکستان اگر ثالثی میں کامیاب ہو گیا تو عالمی سطح پر اس کا درجہ بہت بڑھ جائے گا۔

اپوزیشن کانگریس پارٹی کے رہنما ششی تھرور نے امریکہ ایران امن مذاکرات میں پاکستان کی ممکنہ ثالثی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں گذشتہ تین ہفتے سے حکومت سے کہہ رہا ہوں وہ دونوں فریقوں سے اپنے قریبی تعلقات کو بروئے کار لا کر امن کے لیے بات چیت شروع کرانے میں پہل قدمی کرے۔ پاکستان، مصر اور ترکی نے قدم آگے بڑھایا، ان کے لیے نیک خواہشات۔ ہم سبھی امن چاہتے ہیں۔ پاکستان اب امن مذاکرات کی ثالثی کرنے والا ہے۔ اںڈیا نے یہ موقع کھو دیا۔‘

مبصر برہم چیلانی نے ایکس پر ایک تبصرے میں لکھا ہے کہ ’جنگ کے خاتمے کے لیے اپنے 15 نکاتی پلان کو پاکستان کے توسط سے ایران کو بھیج کر صدر ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف کو ایک ناگزیر ثالث بنا دیا ہے۔‘

’تہران تک پہنچنے کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا واشنگٹن کے ثالث کے طور پر ابھرنا ناصرف پاکستان کی سیاسی اور علاقائی اہمیت کا عکاس ہے بلکہ یہ صدر ٹرمپ کے اس جملے سے سے بھی مطابقت رکھتا ہے کہ منیر ان کے سب سے پسندیدہ فیلڈ مارشل ہیں۔‘

سرکردہ صحافی آشوتوش نے ایک ٹی وی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان جو کوشش کر رہا ہے اگر وہ اس میں کامیاب ہو گیا تو یہ ایک سفارتی انقلاب کی طرح ہو گا۔ یہ انڈیا کو سوچنا ہو گا کہ وہ خواہ پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز کہے، ناکام مملکت قرار دے، اسےاقتصادی طور پر دیوالیہ کہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اتنی بڑے عالمی بحران میں ایک ذمہ دار کردار ادا کر رہا ہے۔‘

’اگر وہ اپنی ثالثی سے جنگ رکوانے میں کامیاب ہوتا ہے تو عالمی سطح پر پاکستان کا قد بہت اونچا ہو جائے گا۔‘ آشوتوش کا کہنا تھا کہ انڈیا کی حکومت نے ’اپنی پالیسیوں کے سبب اپنی ساکھ کھوئی ہے۔‘

white house

،تصویر کا ذریعہwhite house

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

روزنامہ ’دی ہندو‘ میں عالمی امور کی مدیرہ سوہاسنی حیدر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ثالثی سے بین الاقوامی حیثیت پر کوئی بہت زیادہ اثر نہیں پڑتا۔ ابھی اس مرحلے پر یہ پتہ نہیں ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کرانے کی جو کوشش کر رہا ہے وہ ہو بھی پاتی ہے یا نہیں۔ لیکن اگر یہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو مستقبل کے ابھرتے ہوئے نئے نظام میں پاکستان کی پوزیشن بین اقوامی سطح پر یقیناً بہتر ہو گی۔‘

مشرق وسطیٰ سے متعلق انڈیا کی پالیسی کے بارے میں سوہاسنی حیدر کا خیال ہے کہ ’انڈیا نے مغربی ایشا کے ممالک سے متعلق ایک واضح پالیسی اختیار کر رکھی تھی۔ اس کے خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ بہت قریبی تعلقات تھے۔ 1991 میں اسرائیل سے سفارتی تعلقات کے بعد اس سے بھی انڈیا کے تعلقات میں مسلسل قربت آئی۔‘

’انڈیا نے فلسطینیوں کے سلسلے میں بھی ایک اصولی اور متوازن موقف اختیار کر رکھا تھا لیکن ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے بعد اس پالیسی میں واضح طور پر تبدیلی آئی ہے۔ وہ اس جنگ میں امریکہ، اسرائیل اور خلیبی ملکوں کی جانب کھڑا ہے۔ انڈیا نے ایک بار بھی ایران پر حملے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی مذمت نہیں کی۔ بلکہ متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور سعودی عرب پر حملے کے لیے ایران کی کئی بار مذمت کی۔‘

بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار نینیما باسو نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ایران کی جنگ ایک بہت پیچیدہ معاملہ ہے۔ ’دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز تک لانا ایک مشکل امر ہو گا۔‘

وہ کہتی ہیں ’اس لڑائی میں سب سے بڑا کھلاڑی اسرائیل ہے۔ پاکستان کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو مجوزہ ثالثی میں پاکستان کو کتنی کامیابی مل پاتی ہے یہ دیکھنے والی بات ہو گی۔ لیکن ایک اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کو آج اپنے اوپر اعتماد ہے اور ثالثی کے لیے بہت حد تک یہ اعتماد اسے امریکہ سے حاصل ہوا ہے۔‘

’جہاں تک انڈیا کی بات ہے اس نے شروع سے ہی ایک واضح پوزيشن اختیار کر رکھی ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف ہے۔ وہ سعودی عرب، امارات، قطرجیسے خلیجبی ملکوں کے ساتھ ہے کیونکہ لاکھوں انڈین وہاں کام کرتے ہیں۔ انڈیا نے ہر جگہ حملوں کے لیے ایران کی ہی مذمت کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ حال ہی میں ایران کے صدر اور وزیر خارجہ سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’انڈیا دونوں فریقوں پر مذاکرات اور امن کے لیے زور دیتا رہا ہے۔ لیکن اس نے کبھی بھی ثالثی کی پیشکش نہیں کی۔ امریکہ کو بھی محسوس ہوتا ہے کہ انڈیا ثالثی نہیں کر سکتا، اس سے بہتر ہے کہ وہ امریکہ کی مدد کرے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انڈیا امریکہ کا بالواسطہ اتحادی بن چکا ہے۔‘

تاہم وہ کہتی ہیں کہ ’انڈیا کو کافی بڑا رول ادا کرنا چاہیے تھا۔ ایران ہمارا دور کا پڑوسی ہے۔ جنگ ہمارے دروازے پر لڑی جا رہی ہے۔ ایران میں انڈیا کے سٹریٹیجک اثاثے تھے۔ لیکن امریکہ کے ڈر سے انڈیا نے وہ چھوڑ دیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بیان دیا ہے لیکن انھوں نے نہ تو مناب کے گرلز سکول پر حملے کی مذمت کی اور نہ ہی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کا کوئی ذکر کیا۔‘

’بہتر ہوتا کہ انڈیا ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے بلا اشتعال حملے کی مذمت کرتا۔ وہ اںڈیا نے نہیں کیا۔ اگر انڈیا مذاکرت اور سفارتکاری کے حق میں تھا تو اسے امریکہ اور اسرائیل سے کہنا چاہیے تھا کہ وہ پرامن بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں۔‘

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر انڈیا میں ہونے والے ردعمل کے بارے میں نیمنیا باسو نے کہا ’انڈیا کو سب کچھ شاکنگ ہی لگتا ہے۔ جب پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹیجک دفاعی معاہدہ ہوا تب بھی انڈیا شاک میں تھا۔‘

وہ کہتی ہیں ’ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ پاکستان میں یہ فیصلہ سازی کس طرح ہو رہی ہے۔ وہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر بیٹھے ہیں۔ جنرل عاصم کے بارے میں انڈیا میں جو بھی کہیں لیکن وہ اپنے ملک میں فیصلہ کن قدم اٹھا رہے ہیں۔ وہ فیصلہ کن قیادت کر رہے ہیں۔ انڈیا میں وزیر اعظم نریندر مودی کو فیصلہ کن رول ادا کرنے سے کس نے روکا ہے۔ وہ تو امریکہ کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ انھیں بیرون ملک مقیم انڈین کی فکر ہے۔ اس کے برعکس پاکستان اپنا فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔‘

انڈیا میں اپوزیشن اور کئی سرکردہ سابق سفارتکار مودی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہیں۔ اپوزیشن نے بھی کہا ہے کہ حکومت کی خارجہ پالیسی اپنے طے شدہ اصولوں سے منحرف ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار امت بروا کہتے ہیں کہ ’جب سے غزہ کے اوپر اسرائیل کے حملے شروع ہوئے ہیں اس وقت سے مغربی ایشیا میں انڈیا کی پالیسی کمزور ہوئی ہے۔ جون میں جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے کیے تھے اس وقت بھی انڈیا کی آواز بہت ہلکی سی تھی۔ 28 فروری کو ایران پر حملے سے محض دو دن پہلے وزیر اعظم مودی اسرائیل کے دورے پر گئے۔ اس کا بہت خراب اثر پڑا ہے۔ انڈیا نے مجموعی طور پر اپنی پوزیشن کافی حد تک کھوئی ہے۔‘

پاکستان کی ثالثی کے بارے میں امت بروا کہتے ہیں کہ ’آپریشن سندور کے بعد پاکستان کی پروفائل کافی اونچی ہوئی ہے۔ پچھلے مہینوں میں کتنی میٹنگز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی صدر ٹرمپ کے ساتھ ہوئی ہیں۔ ایران پاکستان کا پڑوسی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ثالثی کا کردار ادا کریں۔ اس کے برعکس انڈیا نے پچھلے 20-25 برس میں امن کے لیے اس طرح کی کوئی عالمی پہل نہیں کی ہے۔ امریکہ کی بات ہو یا ایران کے ساتھ اعتماد کی بات ہو، انڈیا کا اس میں کوئی رول بنتا ہی نہیں ہے۔‘

SOURCE : BBC