SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہgettyimages
5 گھنٹے قبل
مطالعے کا وقت: 6 منٹ
انڈیا نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں دو ہفتے کی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے مگر پاکستان کا نام لینے یا اس کی کوششوں کا ذکر کرنے سے گریز کیا ہے۔
جہاں دنیا بھر کے رہنما پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہ رہے ہیں، انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے اپنی سرکاری بیان بازی میں اسے ناصرف نظرانداز کیا ہے بلکہ ایران و امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات پر بھی خاموش اختیار کی ہے۔
انڈیا کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم جنگ بندی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے مغربی ایشیا میں دیرپا امن کے قیام میں مدد ملے گی ۔ جیسا کہ ہم پہلے سے کہتے آئے ہیں موجودہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے جنگ بندی ، مذاکرات اور سفارتکاری ناگزیر ہے۔‘
وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس جنگ سے اب تک بہت زیادہ تباہی ہو چکی ہے۔ ’اس نے عالمی سطح پر تیل اور انرجی کی سپلائی اور تجارتی نظام کو درہم برہم کر دیا ہے۔ ہم یہ امید کرتے ہیں آبنائے ہرمز سے تجارتی اور تیل کے جہاز مکمل آزادی کے ساتھ آ جا سکیں گے۔‘
اس سے قبل پاکستان جب امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا تھا تو انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں نے اسے ملک کے لیے ایک سفارتی دھچکا قرار دیا تھا۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپوزیشن رہنماؤں سے ایک ملاقات میں پاکستان کی ثالثی کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا تھا کہ انڈیا دلال یا بروکر ملک نہیں بننا چاہتا۔ پاکستان نے جے شنکر کے اس بیان کو ان کی جھنجھلاہٹ سے منسوب کیا تھا۔
،تصویر کا ذریعہ@MEAIndia
اگرچہ انڈیا کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ثالثی کے لیے پاکستان کا کوئی ذکر نہیں ہے تاہم انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں اور صحافیوں و تجزیہ کار اس حوالے سے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے اور مودی حکومت کی سفارتکاری پر طنز کرتے نظر آ رہے ہیں۔
اپوزیشن کانگریس کے رہنما راشد علوی نے جنگ بندی پر اپنی پارٹی کا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’جو پاکستان نے کر دکھایا ہے وہ انڈیا کو کرنا چاہیے تھا۔ لیکن جب وزیر اعظم مودی اسرائیل کو ’فادر لینڈ‘ کہتے ہوں تو وہ جنگ بندی کے لیے کیسے بات کرتے۔‘
سابق خارجہ سکریٹری نوپما مینن راؤ نے ایکس پر ایک طویل پوسٹ میں جنگ بندی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’پاکستان کا کردار ایک ثالث کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے چینل کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جس سے پیغامات کی ترسیل ہوئی، بمباری کی ڈیدلائن میں توسیع کی گئی اور ایک چھوٹا سا سفارتی راستہ کھولا گیا ۔ یہ کلاسیکی معنوں میں ثالثی نہیں ہے لیکن اس کی اہمیت کو بھی کم نہیں کیا جا سکتا۔‘
وہ مزید کہتی ہیں کہ ’انڈیا کو چاہیے کہ وہ اپنے مؤقف کو واضح طور پر بتائے۔ اسے جنگ بندی کی حمایت کرنی چاہیے۔ بحری راستوں کی آمدورفت کے تحفظ کے لیے کام کرے اور اس جنگ میں کسی ایک بیانیے کی حایت سے گریز کرے۔ یہ چپ رہنے کا مرحلہ نہیں ہے۔ یہ فہم و دانش مندی سے بولنے کا وقت ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہwhitehouse
انڈین تجزیہ کار اشوک سوئن نے اس جنگ بندی کو ایران کی فتح اور پاکستان کے لیے باعثِ اعزاز قرار دیا۔
انھوں نے لکھا ’پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے کامیاب مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسے نہ صرف امریکہ اور ایران کا اعتماد حاصل ہے بلکہ چین کا بھی۔ مودی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا چاہتے تھے، مگر اس کے برعکس انڈیا خود تنہا ہو گیا ہے۔‘
’سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور چین کے درمیان امن کی راہ ہموار کرنے والا پاکستان ہی تھا، اور اب سرد جنگ کے بعد کے دور میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں بھی پاکستان ہی کردار ادا کر رہا ہے۔ جے شنکر چاہے کچھ بھی کہہ لیں، مگر کسی کے پاس ایسا ریکارڈ نہیں۔‘
ابھینو سنگھ نے پاکستان کے امریکہ، چین، روس، خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ’اس کے برعکس مودی کے پاس نیتن یاہو کی دی گئی جھپی اور میڈل ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہx.com/ashoswai

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
عالمی امور کی صحافی انجنا شنکر نے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کچھ لوگ ثالثی میں پاکستان کے کردار کو اہمیت کیوں نہیں دینا چاہتے۔ اس جنگ کے عروج کے دوران پاکستان نے سفارتی راستے کو بند نہیں ہونے دیا ۔ صدر ٹرمپ کی بمباری کی ڈیڈلائن ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے اسلام آباد نے بات چیت کے لیے دو ہفتے کی جنگ بندی کرانے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ جنگ جس طرح کا خطرناک رخ اختیار کر رہی تھی اس لحاظ سے یہ بہت بڑا کارنامہ ہے۔‘
امت بھیرے نامی صارف نے لکھا ’کیا آپ لوگوں کو اندازہ ہے کہ انڈیا کے ایل پی جی اور پیٹرول کے مسائل ہمارے لیڈر (مودی) نے نہیں بلکہ پاکستان کے وزیرِاعظم نے حل کروائے ہیں؟ یہ بات ناقابلِ یقین لگتی ہے، مگر واقعی حیران کن ہے۔ شہباز شریف نے جنگ رکوا دی۔‘
اس دوران خبر رساں ادارے روئٹر نے خبر دی ہے کہ سات سال میں پہلی بار ایران سے خریدا ہوا تیل ایک ٹینکر کے ذریعے اس ہفتے انڈیا پہنچ رہا ہے۔
کیپٹن نریش سنگھ نامی صارف نے لکھا کہ مودی جی کی ناکام سفارت کاری کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان وشوا گرو بن گیا ہے۔
انکر بھاردواج کہتے ہیں کہ چھوٹی سوچ اور تلخی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس جنگ بندی میں پاکستان نے کردار ادا کیا، اور سنجیدگی سے خود احتسابی کرنی چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ سفارت کاری میں ہم سے کہاں غلطی ہوئی اور کیوں؟
SOURCE : BBC



