Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں پاکستان بمقابلہ انڈیا: ’سوال پانچ سو ملین ڈالر کا‘

پاکستان بمقابلہ انڈیا: ’سوال پانچ سو ملین ڈالر کا‘

5
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کبھی کبھار عقل خود کو تھپیڑے رسید کرنے لگتی ہے کہ جو بات کرکٹ کے بنیادی طالبِ علم بھی جانتے ہیں، وہ اتنے مہنگے لیپ ٹاپوں اور ڈیٹا کے انباروں سے لدے اور بھاری بھر کم معاوضے بٹورتے کوچ حضرات کے سر پر سے کیوں گزر جاتی ہے۔

معاملہ یا تو سادگی بھری لاعلمی کا ہے یا پھر ٹیلی وژن براڈ کاسٹنگ کی مجبوریوں کے پیشِ نظر ایسے بے تُکے فیصلے جڑے جاتے ہیں، جو اپنی توجیہہ سے ہی قاصر ہوں۔

ڈیڑھ برس پہلے جب بابر اعظم اور شاہین آفریدی کی ٹیسٹ ٹیم سے بے دخلی پر رمیز راجہ نے احتجاج برپا کیا تھا تو بنیادی دلیل اُن کی یہی تھی کہ اگر ’سٹار‘ نہیں کھیلے گا تو پھر ٹی وی کون دیکھے گا اور سپانسر کہاں سے آئیں گے اور پھر کرکٹ ترقی کیسے کرے گی وغیرہ وغیرہ۔

پچھلے میچ میں پاکستان نے جب ایک سیمر کی قیمت پر ایک سپنر کو ٹیم میں لانے کا فیصلہ کیا تو اِس تلخ اقدام کی قیمت پہلے میچ کے بہترین بولر سلمان مرزا نے چُکائی۔ مگر جب دوسرا میچ کھیل کر بھی شاہین آفریدی کا ’ردھم‘ واپس نہیں آیا تھا تو پھر انھیں الیون میں رکھنے کا فیصلہ صرف ایک ہی منطقی جواز دے سکتا ہے کہ اگر ’سٹار نہیں کھیلے گا تو پھر ٹی وی کون دیکھے گا؟‘

واحد تبدیلی جو پاکستان کو انڈیا کے خلاف میچ میں اُترنے سے پہلے اپنی الیون میں لانا چاہیے تھی، وہ سلمان مرزا کی شمولیت تھی جو اس پچ پر اتنے ہی موثر ہو سکتے تھے جتنے ہاردک پانڈیا ثابت ہوئے۔ مگر سلمان مرزا ’سٹار‘ نہیں تھے اور جس میچ کی مالیت سینکڑوں ملین ڈالرز میں گِنی جا رہی ہو، وہاں سٹار کا کھیلنا تو ناگزیر ہی ہوتا ہے ناں!

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مگر اس سوال کی مالیت میچ کی اپنی وقعت سے بھی دوگنا ہے کہ جس کھیل کا سارا دارومدار ہی کنڈیشنز کے لحاظ سے ٹاس پر لیے فیصلے سے جڑا ہے، وہاں کس دانائے راز نے سلمان آغا کے کان میں پھونکا کہ ٹاس جیت کر وہ پہلے بیٹنگ کا موقع پلیٹ میں رکھ کر سوریا کمار یادیو کے حضور پیش کر دیں؟

آخر یہ بات سمجھنا اتنی دشوار کیوں ہے کہ کرکٹ چمڑے کی گیند سے کھیلی جاتی ہے اور چمڑے کی خاصیت ہے کہ یہ مختلف طرح کی ہوا، روشنی اور مٹی سے ٹکرا کر کئی تیور بدلتا ہے۔

جن کنڈیشنز سے شناسائی کا شرف پاکستانی ٹیم دو ہفتے پہلے سے ہی حاصل کر چکی تھی، وہاں ابھی تک یہ بنیادی بات پلے کیوں نہیں پڑ سکی کہ سری لنکن کنڈیشنز میں پرانی گیند کے خلاف رنز کا حصول جب پہلی اننگز میں ہی دشوار رہتا ہے، تو دوسری اننگز میں مزید پرانی پچ پر کون سورما لمبے ہدف کو تاڑ سکتا ہے؟

یہ پچ استعمال شدہ تھی اور اس پر کھیلا گیا پچھلا میچ بھی اس امر کا گواہ تھا کہ یہاں دوسری اننگز میں ہدف کا تعاقب سخت دشوار ہو گا۔ پاکستان بھلے ہی اپنے سپنرز پر نازاں ہو، انڈین سپنرز بھی ٹی ٹونٹی کرکٹ کے بہترین بولرز میں سے ہیں۔

ایسے میں یہ سوچنا حماقت سے کم نہ تھا کہ انڈین بولنگ کے خلاف ہدف کا تعاقب محض اس لیے آسان ہو جائے گا کہ اچانک کولمبو میں اوس پڑنے لگے گی اور گیند بولرز کے ہاتھ سے پھسلنے لگے گی۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کے جس تھنک ٹینک کو اتنے مہنگے میں ہائر کیا گیا ہے، بے چارہ ڈیٹا تو اس کو یہ بھی نہ بتا پایا کہ جس پچ میں گیند خود ہی رُک رہا ہو، وہاں گیند کو سپن کی بجائے بریک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ زیادہ سپن سے گیند پچ میں گرفت نہیں حاصل کر پاتی اور پھنسے ہوئے بلے بازوں کے لیے تر نوالہ بن جاتی ہے۔

یقیناً یہ بات اگر شاداب خان اور ابرار احمد کو بتائی گئی ہوتی تو وہ بھی اپنا سارا دھیان سٹمپس پر رکھتے نہ کہ اپنی ورائٹی ظاہر کرتے کرتے میچ ہی گن٘وا بیٹھتے۔

کوئی سمجھنا چاہے تو بات سیدھی سی ہے کہ کرکٹ کوئی رئیلٹی شو نہیں، ایک کھیل ہے جو فزکس کے بنیادی اصولوں پر چلتا ہے۔ یہ تو ’چیٹ جی پی ٹی‘ جیسی احمق ذہانت بھی بتا ہی دے گی کہ سری لنکن پچز سپن کے لیے سازگار ہیں اور اگر تقابل سری لنکا میں سپن کے خلاف بیٹنگ کے اعدادوشمار کا ہی کیا جائے تو بابر اعظم سے بہتر نام بھی مل جائیں گے۔

میچ کے پہلے اوور میں جیسے پاکستان نے انڈیا کی سانس روک ڈالی تھی، دوسرے ہی اوور میں وہ سارا پریشر شاہین آفریدی کے ان خوابوں کی نذر ہو گیا کہ گیند چونکہ ان کے ہاتھ سے نکلی ہے سو جہاں بھی پڑی کچھ نہ کچھ تو ضرور کرے گی۔

درمیانی اوورز میں جب سپنرز نے پھر سے میچ کو باندھ لیا تھا، وہاں بدقسمت آخری اوور پھر انڈیا کو مجموعے کا وہ اضافی مارجن دے گیا جو ساٹھ اوور پرانی پچ پر واقعی ناقابلِ تسخیر تھا۔

SOURCE : BBC