Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ٹرمپ کے اعلان سے چند منٹ پہلے تیل کے تاجروں کی شرطیں،...

ٹرمپ کے اعلان سے چند منٹ پہلے تیل کے تاجروں کی شرطیں، کروڑوں کا منافع اور سوالات

4
0

SOURCE :- BBC NEWS

ایک تاجر اپنے فون پر حصص کی قیمتیں دیکھ رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کے توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان کیا، اس سے صرف چند منٹ قبل تاجروں نے تیل کے معاہدوں پر کروڑوں ڈالرز کی شرط لگائی تھی۔

بی بی سی نے مارکیٹ ڈیٹا کا جائزہ لیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس اقدام کا اعلان کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹ سے تقریبا 15 منٹ پہلے تجارت کا حجم بڑھا۔

اعلان کے بعد تیل کی قیمت تیزی سے گر گئی، صرف چند منٹ میں 14 فیصد۔ جن تاجروں نے اس غیر متوقع اقدام پر شرط لگائی تھی انھوں نے کافی رقم کما لی ہو گی۔

کچھ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اس غیر معمولی سرگرمی سے یہ امکان جنم لیتا ہے کہ شرط لگانے والوں کو پہلے سے اس فیصلے کا علم تھا۔

بی بی سی نے تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔ ایک ترجمان نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ‘اگر انتظامیہ کے کسی اہلکار نے اندرونی معلومات کی تجارت سے غیر قانونی منافع کمایا تو یہ بات برداشت نہیں کی جائے گی۔’

کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

مشرق وسطیٰ کے تنازع سے عالمی مالیاتی منڈی کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ حصص کی قیمتیں گر رہی ہیں اور تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ جب کبھی جنگ کے ممکنہ خاتمے کی امید پیدا ہوتی ہے تو تیل کی قیمت تیزی سے کم ہوتی ہے اور سٹاک مارکیٹ میں تیزی آ جاتی ہے۔

آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ سنیچر کے روز ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے 48 گھنٹے کے اندر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو وہ اس کے بجلی گھروں کو ’تباہ‘ کر دیں گے۔

جس دن ٹرمپ نے یہ اعلان کیا، اس روز مارکیٹس بند تھیں، لیکن پیر کی صبح دوبارہ کھلنے پر ایشیا بھر کی منڈیاں تیزی سے گریں جبکہ تیل کی قیمت بڑھنے لگی۔

تاہم پیر کی صبح امریکی منڈیاں کھلنے سے پہلے، صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ واشنگٹن نے تہران کے ساتھ ’بہت اچھی اور تعمیری گفتگو کی ہے‘ تاکہ دشمنی کا ’مکمل اور حتمی حل‘ نکالا جا سکے۔

اس کے فوراً بعد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں اور تیل کی قیمت 84 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

مبصرین نے جائزہ لیا ہے کہ امریکی صدر کی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد مالیاتی منڈیوں میں کیا ہوا۔

ایسٹرن ٹائم چھ بج کر 49 منٹ (پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق تقریباً سہ پہر چار بجے) پر تاجروں نے نیو یارک مرچنٹائل ایکسچینج پر ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کے معاہدوں پر 734 شرطیں لگائیں۔

ایک منٹ بعد یہ تعداد 2168 تک پہنچ گئی۔ یہ تقریباً 17 کروڑ ڈالرز کے برابر ہے۔

یہی رجحان برینٹ خام تیل کی خریداری میں بھی نظر آیا۔ ایسٹرن ٹائم چھ بج کر 48 منٹ سے چھ بج کر 50 منٹ کے درمیان تجارت کا حجم 20 سے بڑھ کر 1650 سے بھی اوپر چلا گیا۔ یہ تقریباً 15 کروڑ ڈالرز کے معاہدے بنتے ہیں۔

ماضی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پیر کے روز اس وقت تجارت کا حجم عموماً کم ہی ہوتا ہے۔

پیر کے روز اسی طرح کا رجحان ایس اینڈ پی 500، یورو سٹاکس 50 اور دیگر فیوچر کانٹریکٹس کی خریداری میں نظر آیا۔

اس کا مطلب ہے کہ تاجروں نے امریکہ اور یورپ کی سٹاک مارکیٹس میں درج سب سے بڑی کمپنیوں پر شرط لگائی تھی، جن کی قیمتیں ٹرمپ کے اعلان سے چند منٹ پہلے بڑھ رہی تھیں۔

ایکس اینالسٹس کے چیف آئل اینالسٹ مکیش سہدیو کہتے ہیں: ’یہ یقینی طور پر غیر معمولی لگتا ہے۔ اُس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان سنجیدہ بات چیت کے کوئی اشارے نہیں تھے۔ لہٰذا تیل کے نیچے جانے پر اتنی زیادہ رقم کی شرط لگانا سوالات کو جنم دیتا ہے۔‘

یہ شرطیں جس وقت لگائی گئیں اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا شرطیں لگانے والوں کو پہلے سے علم تھا کہ امریکی صدر کیا اعلان کرنے والے ہیں؟

ویلتھ مینیجمنٹ فرم کِلِک اینڈ کمپنی کی شراکت دار ریچل ونٹر کہتی ہیں: ’سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی پوسٹ سے پہلے کافی لوگوں نے ایسے معاہدے کیے جن سے وہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے منافع کما سکتے تھے۔‘

ان کے مطابق: ’قیاس آرائیاں تو ہو رہی ہیں کہ کیا اندر کی معلومات باہر پہنچائی گئیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ سچ ہے یا نہیں، لیکن یہ امید ضرور ہے کہ اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔‘

پیر کے روز ہی بعد میں ایرانی حکومت نے امریکہ سے کسی قسم کی بات چیت کی تردید کرتے ہوئے ان خبروں کو ’جعلی‘ قرار دیا۔ اس کے بعد تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھ گئیں۔

ایکس پر پوسٹ میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے لکھا: ’مالیاتی اور تیل کی منڈیوں پر اثر انداز ہونے کے لیے اور امریکہ اور اسرائیل جس دلدل میں پھنس چکے ہیں اس سے انھیں نکالنے کے لیے جھوٹی خبروں کا سہارا لیا جا رہا ہے۔‘

بی بی سی نے امریکی مالیاتی ریگولیٹر اور کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن سے رابطہ کیا ہے۔

برطانیہ کی فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے چیف ایگزیکٹو نکھل راٹھی نے منگل کے روز ٹریژری سلیکٹ کمیٹی کو کیا بیان دیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا: ’ہم مارکیٹس کی نگرانی کر رہے ہیں اور اگر مارکیٹ کا غلط استعمال کیا گیا ہوا تو ہمارا طریقہ کار یہ ہو گا کہ ہم سامنے موجود شواہد کو دیکھیں گے۔ میں اپنے امریکی ساتھیوں کے اقدامات کے بارے میں کوئی رائے نہیں دے سکتا۔‘

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ شرطیں لگانے کی سرگرمی کو امریکی خارجہ پالیسی سے جوڑا گیا ہو۔

جنوری میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے پیش گوئیاں کرنے والے پلیٹ فارم پولی مارکیٹ پر شرطیں بڑھ گئیں۔ جواریوں نے شرطیں لگائیں کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اس ماہ کے آخر تک اقتدار سے باہر ہو جائیں گے۔

کئی گھنٹے بعد انھیں امریکی افواج نے اٹھا لیا۔

ایک اکاؤنٹ نے 32 ہزار 537 ڈالرز کی شرط لگا کر چار لاکھ 36 ہزار ڈالرز کمائے۔

SOURCE : BBC