Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں وہ ملک جہاں سیاحت عروج پر تھی، مگر پھر ایک ڈرون آ...

وہ ملک جہاں سیاحت عروج پر تھی، مگر پھر ایک ڈرون آ گرا

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

جان جونز، جو نارتھ ویلز کے کوئنزفیری سے ہیں، اپنی زندگی کے بہترین لمحات گزار رہے ہیں۔ وہ ایک چمکتے ہوئے سوئمنگ پول کے کنارے ٹھنڈی لہروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

وہ اور ان کا خاندان ریزورٹ میں درجنوں خالی کرسیاں (لاؤنجرز) استعمال کر سکتے ہیں، جو آییا ناپا سے چند میل کے فاصلے پر ہے۔ یہاں کے منتظمین واضح طور پر چاہتے ہیں کہ جو چند گاہک موجود ہیں وہ خوش رہیں۔

جان کہتے ہیں: ’ہمیں معلوم تھا کہ ڈرون نے یہاں برطانوی بیس کو نشانہ بنایا ہے، لیکن اس نے ہمیں بالکل نہیں روکا۔‘

یکم مارچ کو آر اے ایف اکروتیری پر حملے نے قبرص کو خبروں کی زینت بنا دیا ا اور کئی پروازیں منسوخ ہو گئیں۔

تاہم جو لوگ جان کی طرح یہاں آئے ہیں وہ اپنے فیصلے سے خاصے خوش نظر آتے ہیں۔

جان کہتے ہیں: ’یہاں کے لوگ بہت دوستانہ اور فیاض ہیں۔ ہمیں کوئی فکر نہیں، کوئی مسئلہ نہیں۔‘

An empty beach at Ayia Napa

ساحل پر سوئس جوڑا الیگزینڈرا اور جیئیل مجھے بتاتے ہیں کہ جنگ نے ان کے سفر کے منصوبے بدل دیے، کیونکہ انھوں نے اصل میں تھائی لینڈ جانے کے لیے بکنگ کی تھی۔

والدین کے اعتراضات کے باوجود، دونوں نے قبرص آنے کا فیصلہ کیا، جہاں ساحل تقریباً ان کے لیے خالی ہے۔

الیگزینڈرا کہتی ہیں: ’ہمارے خاندان اس بارے میں سب سے زیادہ پریشان تھے۔ ہم ایئرپورٹ پہنچے تو وہاں کچھ فوجی موجود تھے، لیکن ہم نے ٹیکسی ڈرائیور سے بات کی، اس نے کہا کہ ہمیں یہاں کی صورتحال سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، کچھ نہیں ہوگا۔‘

John Jones sitting on a lounge chair at a resort

تاہم، ان کے کلبنگ کے منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔

الیگزینڈرا وضاحت کرتی ہیں: ’ہم نے کوشش کی، آییا ناپا گئے تاکہ کچھ لوگوں سے مل سکیں، لیکن وہاں صرف دو بارز کھلی تھیں۔‘

جیئیل اپنی کرسی پر ٹیک لگاتے ہوئے کہتے ہیں: ’یہ سکون حاصل کرنے کا اچھا وقت ہے۔‘

گذشتہ سال قبرص کی سیاحت کی صنعت کے لیے ریکارڈ ساز ثابت ہوا، جب 45 لاکھ سے زیادہ سیاح یہاں آئے۔ اب واضح طور پر یہ خدشہ ہے کہ جنگ اس ترقی کو روک سکتی ہے، حالانکہ ڈرون حملے کا ہدف برطانوی بیس آر اے ایف اکروتیری تھا۔

کریسو سوکّو، جو سوکّوس ہوٹلز اینڈ ریزورٹس (جزیرے کی سب سے بڑی چین جس کے 25 ہوٹل ہیں) کی ڈائریکٹر ہیں، کہتی ہیں کہ جنگ کے آغاز نے منسوخیوں کا ایک سلسلہ شروع ہوئی کیا لیکن اب حالات کچھ بہتر ہو رہے ہیں۔

وہ وضاحت کرتی ہیں: ’یہ غیر معمولی تھا لیکن متوقع بھی۔ ابتدائی 48 گھنٹوں میں پروازیں منسوخ ہوئیں اور آنے والوں کو فیصلہ کرنا پڑا۔‘

کریسو زور دے کر کہتی ہیں: ’فی الحال تمام ہوٹلز کھلے ہیں۔ دوبارہ شیڈول کرنا معمول کی بات ہے۔ کچھ لوگوں نے فوری طور پر منسوخ کیا، کچھ نے گرمیوں کے لیے، لیکن نئی بکنگز بھی آ رہی ہیں۔‘

Swiss couple Alexandra and Jehiel on lounge chairs facing an empty beach

یہاں کا اصل سیاحتی موسم اپریل یا مئی سے شروع ہوتا ہے، لیکن قبرص کے چیمبر آف کامرس کے فیلوکائپروس روسونیڈیس پورے سال کے بارے میں فکر مند ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’جزیرہ براہِ راست جنگ سے متاثر نہیں ہے، لیکن سیاحت میں امیج (تاثر) اکثر جغرافیہ سے زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔ سیاحت کی منصوبہ بندی علاقائی استحکام کے تاثر کے معاملے میں بہت حساس ہوتی ہے۔‘

جزیرے کے اکثر کاروبار معمول کے مطابق چل رہے ہیں اور زیادہ تر قبرصی باشندے اپنی روزمرہ زندگی بغیر رکاوٹ کے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آر اے ایف اکروتیری کے قریب دیہات میں رہنے والوں کو حکومت نے بتایا ہے کہ وہ واپس جا سکتے ہیں، کیونکہ انخلا کا حکم ختم کر دیا گیا ہے۔

تاہم علاقے کو ہائی الرٹ پر رکھا جائے گا اور باقاعدہ گشت جاری رہے گا، جبکہ برطانوی حکام نے بیس پر رہنے والے خاندانوں کی واپسی کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

پول کے کنارے، برطانوی نژاد اور یہاں کی رہائشی وکٹوریا اوفے مجھے بتاتی ہیں کہ قبرص کے بارے میں یہ تاثر کہ وہ جنگ کی زد میں ہے، حقیقت سے بہت دور ہے۔

British ex-pat Victora O'ffe sitting on a lounge chair with multiple empty lounge chairs from behind

وہ کہتی ہیں: ’اگر ہمیں برطانوی ٹی وی تک رسائی نہ ہوتی تو ہمیں پتہ ہی نہ چلتا کہ یہ سب ہو رہا ہے۔‘

وکٹوریا اس بات پر مایوس ہیں کہ برطانیہ میں ان کے اہلِ خانہ نے ان سے ملنے کا سفر منسوخ کر دیا ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’ہم انھیں کہتے ہیں کہ آ جاؤ لیکن ٹور آپریٹرز انھیں بتاتے ہیں کہ کسی اور جگہ کی بکنگ کریں۔‘

وکٹوریا زور دے کر کہتی ہیں: ’یہاں نہ آنے کی کوئی وجہ نہیں، یہ واقعی محفوظ ہے۔ موسم شاندار ہے، کھانا شاندار ہے، پھر کوئی یہاں کیوں نہ آئے؟‘

SOURCE : BBC