Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں وزیرستان کی ننھی فاسٹ بولر کو پشاور زلمی کی پیشکش: ’بابر اعظم...

وزیرستان کی ننھی فاسٹ بولر کو پشاور زلمی کی پیشکش: ’بابر اعظم پسند ہیں لیکن خود بیٹنگ میں مزہ نہیں آتا‘

13
0

SOURCE :- BBC NEWS

آئینہ وزیر

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

ایک پھرتیلا رن اپ، جنوبی افریقہ کے فاسٹ بولر ڈیل سٹین جیسا ایکشن اور ہاتھ سے نکلتے ہی گیند کی ایسی رفتار تیز کہ بلے باز کو مشکل میں ڈال دے۔

یہ بھرپور پیکج محض آٹھ سالہ بچی آئینہ وزیر ہیں جن کی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ویڈیوز نے سابق کرکٹرز کے ساتھ ساتھ مقامی کرکٹ ٹیموں کو بھی حیران کیا ہے۔

پاکستان کے سابقہ قبائلی ضلعے شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی آئینہ وزیر نے انھی ویڈیوز کی بدولت چند ہی دنوں میں بے حد پذیرائی پائی ہے۔

اب پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے آئینہ کو زلمی وومن لیگ کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

جاوید آفریدی

،تصویر کا ذریعہX

جاوید آفریدی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے لکھا کہ ’ماشااللہ آئینہ وزیر انتہائی ٹیلنٹڈ کھلاڑی ہیں اور وہ ایک اچھے پلیٹ فارم پر آنے کا حق رکھتی ہیں۔‘

جاوید آفریدی نے یہ بھی لکھا کہ وہ آئینہ وزیر کو کرکٹ کی تمام اشیا اور سہولیات فراہم کرنے کو یقینی بنائیں گے تاکہ وہ اپنا ٹیلنٹ نکھار سکیں اور سائرہ جبین کی طرح ایک بہترین کھلاڑی بن کر سامنے آئیں۔

کچھ روز قبل آئینہ وزیر کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں انھیں پہاڑوں کے دامن میں شمالی وزیرستان کی تحصیل شیوا میں شگہ زلول خیل میں فاسٹ بولنگ اور بیٹنگ کرتے دیکھا گیا۔

جاوید آفریدی کے اعلان کے بعد بی بی سی نے آئینہ وزیر اور پشاور زلمی کی انتظامیہ سے بات کی۔

’مجھے بابر اعظم کی بیٹنگ پسند ہے‘

آئینہ وزیر کہتی ہیں کہ انھیں بچپن سے کرکٹ کا شوق ہے۔ ’اب میری اپنی کرکٹ ٹیم ہے اور ہم دو ٹورنامنٹ جیت چکے ہیں۔‘

آئینہ نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں بابر اعظم کی بیٹنگ پسند ہے لیکن خود انھیں بولنگ کرنا پسند ہے کیونکہ بیٹنگ میں انھیں مزہ نہیں آتا۔

آئینہ وزیر کے چچا زاد بھائی منظور نے بتایا کہ آئینہ کے چار بھائی اور تین بہنیں ہیں لیکن کرکٹ کا شوق آئینہ کو ہے۔

آئینہ وزیر کی عمر آٹھ سال بتائی گئی ہے۔ منظور نے بتایا کہ ان کے محلے میں بچے آپس میں کرکٹ کھیلتے رہتے ہیں، انھوں نے اپنا یونیفارم بھی بنا رکھا ہے اور ان کے ٹورنامنٹ بھی ہوتے ہیں۔

آئینہ وزیر

،تصویر کا ذریعہSocial Media

انھوں نے بتایا کہ پشاور زلمی کے لوگوں نے ان سے رابطہ تو کیا تھا لیکن ابھی تک معلوم نہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

اس بارے میں بی بی سی اردو نے پشاور زلمی کی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو زلمی وومن لیگ کے عہدیدار احد خان نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے بچی کے خاندان سے رابطہ کیا اور ابتدائی طور پر وہ بچی کو زلمی کی کٹ اور بیگ (جس میں بیٹ بالِ پیڈ گلوز اور دیگر سارا سامان ہوتا ہے) فراہم کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب زلمی وومن لیگ ہو گی تو آئینہ وزیر کو بھی ساتھ رکھا جائے گا اور کوچنگ کے ساتھ ساتھ انھیں تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

’اسی طرح کھیلتی رہو، ایک دن تم پاکستان کے لیے فخر بنو گی‘

آئینہ کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے جہاں سے آئے روز تشدد کی خبریں، حملے، ٹارگٹ کلنگ اور جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

اس پسماندہ علاقے سے بچی کی ویڈیو چند لمحوں میں نہ صرف وائرل ہوئی بلکہ اس پر کرکٹرز اور دیگر لوگوں نے بھی ردعمل دیا۔

پاکستان وومن ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے لکھا کہ ’کیا بات ہے ماشاء اللہ۔۔۔ چھوٹی سپر سٹار کو مزید کامیابیاں نصیب ہوں۔‘

پاکستان وومن ٹیم کی کھلاڑی عالیہ ریاض نے لکھا کہ ’ماشاء اللہ ٹیلنٹڈ آئینہ آپ سٹار ہو، اسی طرح کھیلتی رہو۔ میری بہترین تمنائیں تمہارے ساتھ ہیں اور ایک دن تم پاکستان کے لیے فخر بنو گی۔‘

آئینہ وزیر

،تصویر کا ذریعہManzoor Khan

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والی نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ اور سابق رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے آئینہ وزیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بچی نے کہیں سے کوئی تربیت حاصل نہیں کی، نہ ہی اس کی کوچنگ کی گئی لیکن اس کے باوجود وہ اتنی بہتر بولنگ اور بیٹنگ کر رہی ہیں، یہ بہت شاندار ہے۔‘

آئینہ وزیر کی ویڈیو پر بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے اور بچی کی کرکٹ سٹائل کی تعریف کی ہے لیکن کچھ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیرستان کی روایات اور کلچر کے مطابق بچی کو اس طرح کھیلوں میں حصہ نہیں لینا چاہیے ۔

شمالی وزیرستان میں ایک عرصے سے تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے پاکستان نے شمالی وزیرستان میں سنہ 2014 میں آپریشن شروع کیا تھا اور یہاں سے لاکھوں افراد نے نقل مکانی کی تھی۔

اس آپریشن کے چند برس بعد علاقے میں حالات قدرے بہتر ہونا شروع ہو گئے تھے لیکن اب پھر چند برسوں سے شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان کی تحصیل شیوا دور دراز پسماندہ علاقہ ہے جس کی سرحد ٹل کے ساتھ ملتی ہے۔

SOURCE : BBC