SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہ@drfazeelaabbasi/instagaram
5 گھنٹے قبل
مطالعے کا وقت: 4 منٹ
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پر مقبول شخصیت ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ اور 2.5 ارب روپے کے لین دین کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
ادھر اسلام آباد کے سپیشل جج سینٹرل کی عدالت سے ملزمہ کی ضمانت قبلِ از گرفتاری میں توسیع کی درخواست بھی مسترد کیے جانے کے بعد ایف آئی اے نے ان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔
بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس خادم حسین کی عدالت میں فضیلہ عباسی کی جانب سے دائر کی گئیں تین درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔
عدالت نے ایف آئی اے کو قانون کے مطابق شفاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ فضیلہ عباسی کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت تحقیقات جاری رہیں گی۔
تاہم عدالت نے منی لانڈرنگ سے متعلق مقدمے میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت الزامات پر مقدمے اور انکوائری کو غیرقانونی قرار دے دیا۔
اس حوالے سے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے کیس میں طے شدہ قانونی طریقہ کار کی پیروی نہیں کی اور اختیارات سے تجاوز کیا۔
عدالتی فیصلوں کے بعد ردعمل کے لیے جب بی بی سی نے فضیلہ عباسی کے وکیل سے رابطہ کیا تو انھوں نے بی بی سی کے سوالات کے جواب نہیں دیے۔
فضیلہ عباسی کے خلاف مقدمہ ہے کیا؟
ایف ائی اے میں درج ہونے والے مقدمے میں ملزمہ ڈاکٹر فضیلہ عباسی پر غیر قانونی طور پر رقوم امریکہ اور دبئی منتقل کرنے کا الزام ہے۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق ٹک ٹاکر ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے 22 بینک اکاؤنٹس میں ڈھائی ارب روپے کے ٹرن اوور کا انکشاف ہوا۔
اس ضمن میں درج ہونے والے مقدمے کے مطابق ڈاکٹر فضیلہ کی ایف بی آر میں ڈکلیئرڈ سالانہ آمدن چار سے 60 لاکھ روپے کے درمیان بتائی گئی۔
مقدمے کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں مزید منی لانڈرنگ کے شواہد ملے ہیں اور یہ رقم 3 ارب روپے سے بھی زیادہ بنتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ تفتیش کے دوران مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ملزمہ منی لانڈرنگ اکیلے ہی کر رہی تھی یا اس میں دیگر افراد بھی ملوث ہیں۔
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’حوالہ ہنڈی اور مشکوک ٹرانزیکشنز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے بظاہر شواہد موجود ہیں اور ایف بی آر حکام کے مبینہ کردار کا تعیّن بھی دورانِ تفتیش کیا جائے گا۔‘
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ’تحقیقاتی ایجنسی ضرورت پڑنے پر اکاؤنٹس ڈی فریز کرنے کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگی۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ ‘الزامات ثابت نہ ہونے کی صورت میں اکاؤنٹس فوری ڈی فریز کیے جائیں گے۔’
،تصویر کا ذریعہ@drfazeelaabbasi/instagaram
فضیلہ عباسی کون ہیں؟
واضح رہے کہ فضیلہ عباسی پاکستان میں ایک ڈرماٹالوجسٹ کی حیثیت سے کام کرتی ہیں اور وہ اداکار حمزہ عباسی کی بڑی بہن بھی ہیں۔
ان کی ذاتی ویب سائٹ کے مطابق ’ڈاکٹر فضیلہ عباسی ایک فنکار کی جمالیاتی صلاحیت اور ماہر امراض جلد کی سائنسی درستگی کا امتراج ہیں۔ ان کا فلسفہ ہے کہ وہ سب سے خوبصورت اور قدرتی نتائج پیدا کریں۔‘
ان کی ویب سائٹ پر ان کی اسلام آباد، دبئی اور لندن میں کلینکس پر خواہشمند افراد کے لیے اپائٹمنٹ بک کرنے کے آپشنز موجود ہیں۔
ویب سائٹ کے مطابق ’ڈاکٹر فضیلہ عباسی، ایم ڈی، 2003 سے ڈرماٹولوجیکل پریکٹس کر رہی ہیں۔ انھوں نے میڈیکل سکول مکمل کرنے کے بعد سینٹ جانز انسٹی ٹیوٹ آف ڈرماٹولوجی، کنگز کالج لندن، جو دنیا کا معروف ڈرماٹولوجی ادارہ ہے، سے کلینیکل ڈرماٹولوجی میں پوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کی۔’
’اس کے بعد انھوں نے ایم ڈی ڈرماٹولوجی میں شمولیت اختیار کی اور میڈیسن میں ڈاکٹریٹ مکمل کی، جس کے ساتھ ان کے تعلیمی کیریئر کو ڈرماٹولوجی کے شعبے میں سب سے معزز قابلیت سے نوازا گیا۔‘
وہ اکثر پاکستان کے ٹیلی وژن شوز میں شرٹکت کرتی ہیں اور فنکاروں کے کاسمیٹکٹ پروسیجرز کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔ ماضی قریب میں وہ اپنی بھابھی اور حمزہ علی عباسی کی اہلیہ کی مبینہ کاسمیٹک سرجری کی وجہ سے سوشل میڈیا بحث کا حصہ رہیں۔
نوٹ: اس خبر کے ابتدائی ورژن میں رقم کے حوالے سے دی گئی معلومات کی تصحیح کی گئی ہے
SOURCE : BBC



