SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
لاہور کی گلیوں کو دیکھنے سے ہی آپ کو پتا لگ جائے گا کہ بسنت لوٹ آئی ہے۔ کوئی بجلی کی تاروں سے پتنگ نکال رہا ہے، کہیں دور ڈھول کی تھاپ سنائی دے رہی ہے، اور جب آپ اندرون شہر کی تنگ گلیوں میں سر اٹھا کر دیکھتے ہیں تو آسمان پر رنگین دکھائی دیتا ہے۔ یہ جشن فضاؤں میں منایا جا رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہSh Ed Kamil Khan
جیسے ہی سورج شہر کی فضاؤں میں نمودار ہوتا ہے، ہر چھت پر خاندان اور دوست دکھائی دیتے ہیں، ہنستے، شور مچاتے اور دیکھتے ہوئے کہ پتنگیں کس طرح آسمان میں دائیں بائیں جھولتی، چکر کاٹتی اور بلند پرواز کرتی ہیں۔
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ابو بکر مجھے بتاتے ہیں کہ ’یہ واقعی مشکل ہے!‘۔
25 سالہ ٹیک انجینیئر کو یہ گُر ان کے کزن نے سکھایا ہے، جو ڈور کی ہلکی جنبش سے پتنگ کو اور بلند کرتے جا رہے ہیں۔
’ہم سب یہاں بہت پُرجوش ہیں، بزرگوں کو پتنگ اُڑانا آتا ہے، لیکن ہم جین زی والے نہیں جانتے۔‘
،تصویر کا ذریعہSh Ed Kamil Khan
یہ تہوار تقریباً دو دہائیوں بعد لوٹا ہے۔ بہار کے آغاز کی علامت یہ جشن صدیوں پرانا ہے، لیکن 2007 میں اس پر پابندی لگا دی گئی تھی کیونکہ کئی برسوں تک تیز ڈور، گرنے اور ہوائی فائرنگ کے باعث زخمی اور ہلاکتیں ہوتی رہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ یہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ پہلا موقع ہے کہ وہ پتنگ اُڑا رہے ہیں، انھوں نے لاہور کے آسمان کو کبھی یوں نہیں دیکھا۔ جبکہ کچھ کئی برسوں بعد دوبارہ اپنی مہارت آزما رہے ہیں۔
48 سالہ کنول امین مجھے بتاتی ہیں کہ ’یہ میل جول ہے، یہ محبت ہے۔ پتنگ اُڑانا ٹھیک ہے، لیکن اصل چیز تعلق قائم کرنا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے یہ نظارا اور اچھی خوراک کھانا پسند ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہBILAWAL ARBAB/EPA
،تصویر کا ذریعہBILAWAL ARBAB/EPA
کاشف صدیقی پیشے کے اعتبار سے فارماسسٹ ہیں، مگر وہ مانتے ہیں کہ ان کی پتنگ اڑانے کی مہارت کچھ کم ہو گئی ہے۔ وہ مجھے اپنی آخری بسنت کی تصویریں دکھاتے ہیں۔۔ اُس وقت کاشف کا بیٹا تین برس کا تھا۔ اب ان کا بیٹا اپنے بچوں کے ساتھ یہاں موجود ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ لاہور والوں کے لیے خاص (تہوار) ہے۔۔ یہ ہمارے خون میں دوڑتا ہے۔ یہ صرف پتنگ اور ڈور کی بات نہیں، یہ روایت ہے۔ میرے والد اور ان کے والد بھی یہ کرتے تھے۔‘
،تصویر کا ذریعہSh Ed Kamil Khan
کاشف کی 60 برس کی خالہ مینا سکندر بسنت منانے میامی سے یہاں آئی ہیں۔ وہ یہ موقع کھونا نہیں چاہتی تھیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اس تہوار سے بہت لگاؤ ہے۔ یہ سفر بالکل قابلِ قدر تھا!‘
،تصویر کا ذریعہBILAWAL ARBAB/EPA
پتنگ بازی محض خوبصورتی کا ہی کھیل نہیں، بلکہ یہ ایک مقابلہ بھی ہوتا ہے کہ کس طرح مخالف کی پتنگ کو آسمان سے کاٹ کر گرایا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ ڈور کو اور زیادہ تیز اور مضبوط بنانے کی دوڑ شروع ہوئی۔۔ کچھ ڈوریں پسا ہوا شیشہ لگا کر تیار کی گئیں، کچھ دھات یا کیمیائی مواد سے بنائی جاتی تھیں جو ٹوٹتی نہیں تھیں۔
ہر بسنت میں اموات ہوتی رہیں، جن میں بچے بھی شامل تھے۔ یہ خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں کے لیے خطرناک تھا، جو سڑک پر تنی ہوئی ڈور میں پھنس کر اپنی گردن کٹوا بیٹھتے۔
جشن کے دوران ہوائی فائرنگ اور چھتوں سے گرنے کے واقعات بھی زخمیوں اور ہلاکتوں کا باعث بنتے رہے۔
،تصویر کا ذریعہMurtaza Ali/NurPhoto via Getty Images
تہوار کو محفوظ بنانے کی کوشش میں اب اسے صرف تین دن تک محدود کر دیا گیا ہے۔
موٹر سائیکل سواروں کو لوہے کی سلاخیں دی گئی ہیں جو ہینڈل کے درمیان اوپر کی طرف نکلی ہوئی ہیں، تاکہ اگر وہ کسی ڈور میں پھنس جائیں تو وہ ان کی گردن کے گرد نہ لپٹ سکے۔ بڑی پتنگوں پر پابندی ہے کیونکہ ان کے لیے زیادہ مضبوط ڈور درکار ہوتی ہے اور حکام کے مطابق اس سے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
کچھ گلیوں پر جال لگائے گئے ہیں۔ پچھلے برسوں میں دھاتی ڈوریں بجلی کی تاروں پر گر جاتی تھیں، جس سے انھیں پکڑنے والوں کو جھٹکا لگتا اور تاریں شارٹ سرکٹ کر جاتی تھیں۔
،تصویر کا ذریعہArif ALI / AFP
تہوار کے باضابطہ آغاز سے قبل کسی کو پتنگ اُڑانے سے روکنے کے لیے، یکم فروری سے پہلے فروخت ہونے والی تمام پتنگیں ضبط کر لی گئیں، ساتھ ہی وہ ڈور بھی جو خطرناک سمجھی جاتی تھی۔
لاہور پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل فیصل کامران نے ہمیں وہ پتنگیں اور ڈور دکھائی ہیں جنھیں ان کی ٹیم نے ضبط کیا۔ ان کے مطابق یہ تعداد ایک لاکھ سے زائد پتنگوں اور 2,100 ڈور کے ’رولز‘ پر مشتمل ہے۔
ان کے اہلکار ڈرونز، موقع پر موجود پولیس اور دوبارہ نصب کیے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے آسمان اور چھتوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہSh Ed Kamil Khan
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ تمام کیمرے ہماری مرکزی سڑکوں کی نگرانی کر رہے تھے۔‘ لاہور کی چھتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس اچھا منظر ہے تاکہ یہ دیکھ سکیں کہ کہیں کوئی ممنوعہ مواد یا ہتھیار استعمال تو نہیں کر رہا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ بسنت ختم ہونے کے بعد کیمرے دوبارہ سڑکوں کی طرف موڑ دیے جائیں گے۔
بہت سے لوگ امید کر رہے ہیں کہ یہ اقدامات کامیاب ثابت ہوں گے۔۔۔ خاص طور پر پنجاب حکومت، جس نے بسنت کو واپس لانے اور اس کے فروغ کا فیصلہ کیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہSh Ed Kamil Khan
موچی گیٹ کی تنگ گلیوں میں گاہک اپنی کاغذی پتنگیں سر کے اوپر اٹھائے رکھتے ہیں تاکہ بھیڑ میں سے گزرتے ہوئے اور کبھی کبھار آہستہ چلتی موٹر سائیکل کے پاس سے نکلتے وقت وہ پھٹ نہ جائیں۔
پتنگ فروشوں میں سے ایک، عثمان، مجھے بتاتے ہیں کہ انھوں نے صرف چند دنوں میں سات ہزار سے زیادہ پتنگیں فروخت کی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہA HUSSAIN/EPA
یوسف صلاح الدین کئی دہائیوں سے اس تہوار کے بڑے حامی اور وکیل رہے ہیں۔
سنہ 1980 کی دہائی میں انھوں نے پاکستان کی نمایاں شخصیات کو بسنت میں مدعو کیا اور میڈیا کو بھی کوریج کے لیے بلایا تاکہ اس کی شہرت بڑھے۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ شہر کے لیے مالی طور پر بھی اہمیت کا حامل ہے۔
یوسف صلاح الدین کہتے ہیں کہ ’بہت زیادہ آمدنی ہوتی تھی اور وہ آمدنی سب سے غریب لوگوں تک پہنچتی تھی۔۔ دکانداروں، پرانے شہر کے ریستوران، کپڑے رنگنے والے، جوتے اور چوڑیاں بیچنے والے، سب اس سے مستفید ہوتے تھے۔
اور پھر ہوٹل مکمل طور پر بُک ہو جاتے تھے، اضافی پروازیں بھی آتی تھیں۔
،تصویر کا ذریعہSh Ed Kamil Khan
یوسف صلاح الدین کی اس تہوار سے جڑی پہلی یادیں اُس وقت کی ہیں جب وہ خود پتنگ اُڑانے کی عمر کے نہیں تھے، بلکہ چھتوں پر دوڑتے ہوئے وہ پتنگیں پکڑتے تھے جن کی ڈور کٹ جاتی تھی۔
اس ہفتے کے آخر میں جب لاہور کے آسمان پر اتنی بڑی تعداد میں پتنگیں اُڑتی دیکھیں تو وہ جذباتی ہو گئے۔
’یہ (تہوار) ہمیشہ ہمارا حصہ رہا ہے، مجھے شہر پتنگوں کے بغیر یاد ہی نہیں۔‘
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خود پتنگ اُڑانا چاہتے ہیں۔
یوسف صلاح الدین کا کہنا ہے کہ ’مجھ میں اب صبر نہیں، میں نے کل رات ایک پتنگ اُڑائی اور وہ کٹ گئی۔ تو میں نے کہا، اب اور نہیں ۔۔ بس ختم!‘
،تصویر کا ذریعہArif ALI/AFP
SOURCE : BBC



