Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں مردہ عورت کی بچہ دانی کے ذریعے پیدائش کا ’معجزہ‘

مردہ عورت کی بچہ دانی کے ذریعے پیدائش کا ’معجزہ‘

5
0

SOURCE :- BBC NEWS

ہیوگو کی تصویر جو اب 10 ہفتے کا ہو چکا ہے

برطانیہ میں پہلی بار ایک ایسے بچے نے جنم لیا ہے جو ایک مردہ ڈونر کی بچہ دانی کے ٹرانسپلانٹ کے ذریعے پیدا ہوا۔

اس بچے ہیوگو کی والدہ گریس بیل اپنی عمر کی 30 کی دہائی میں ہیں۔ پیدائشی طور پر ہی ان میں ایسی بچہ دانی نہیں تھی جس میں حمل ٹھہر سکے۔

ہیوگو کی عمر اب 10 ہفتے ہو چکی ہے۔ گریس بیل کہتی ہیں کہ ان کا ننھا بیٹا ’ایک معجزہ‘ ہے۔

بیل اور ان کے ساتھی سٹیو پاؤل یہ ’ناقابل یقین تحفہ‘ دینے پر ڈونر اور ان کے خاندان کی ’مہربانی اور ایثار‘ کو سراہتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ آکسفورڈ اور لندن کی میڈیکل ٹیموں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے اس پورے سفر میں ان کی معاونت کی۔

سرجنز نے اس پیدائش کو ’انقلابی لمحہ‘ قرار دیا ہے، جو اسی طرح کے مسئلے سے دوچار مزید کئی خواتین کے لیے امید کا سبب بن سکتا ہے۔

’ناقابل یقین تحفہ‘

ہیوگو کی پیدائش سنہ 2025 کے کرسمس سے ذرا پہلے ویسٹ لندن کے ایک ہسپتال میں ہوئی۔ پیدائش کے وقت ان کا وزن تقریباً سات پاؤنڈ تھا۔

بیل ان تقریباً پانچ ہزار برطانوی خواتین میں سے ایک ہیں جو ایم آر کے ایچ نامی سنڈروم کا شکار ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پیدائشی طور پر ہی ان میں رحم نہیں ہوتا، انھیں ماہواری نہیں آتی لیکن ان کی بیضہ دانی بالکل معمول کے مطابق ہوتی ہے۔

جب بیل 16 برس کی تھیں تو انھیں بتا دیا گیا تھا کہ وہ کبھی بچہ پیدا نہیں کر سکیں گی۔

اب اس جوڑے کے پاس بچہ پیدا کرنے کے دو ہی راستے تھے: یا تو رحم کی پیوندکاری کی امید رکھیں یا سروگیسی (کسی دوسرے کی کوکھ سے بچہ پیدا کرنا) کا انتخاب کریں۔

بیل کہتی ہیں کہ جب انھیں فون پر بتایا گیا کہ رحم کا عطیہ مل گیا ہے اور ٹرانسپلانٹ ممکن ہے تو وہ ’مکمل طور پر حیران اور انتہائی پُر جوش‘ تھیں۔

وہ ڈونر خاندان کے اس ’نا قابل یقین تحفے‘ کی اہمیت سے بھی پوری طرح واقف تھیں، جس کی بدولت وہ اپنے بچے کو خود اپنے بطن میں رکھ کر جنم دے سکیں گی۔

بیل نے کہا: ’میں اپنی ڈونر اور اس کے خاندان کے بارے میں روز سوچتی ہوں اور دعا کرتی ہوں کہ انھیں یہ سوچ کر سکون ملے کہ ان کی بیٹی نے مجھے سب سے بڑا تحفہ دیا: زندگی کا تحفہ۔‘

’ان کی بیٹی کا ایک حصہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔‘

ایک نوجوان جوڑا صوفے پر بیٹھا ہے۔ خاتون نے گود میں بچہ اٹھا رکھا ہے

بیل کے جسم میں رحم کی پیوندکاری کا آپریشن جون 2024 میں آکسفورڈ کے چرچل ہسپتال میں ہوا، جو 10 گھنٹے تک جاری رہا۔ اس کے چند ماہ بعد جوڑے کو آئی وی ایف علاج ملا اور پھر ایمبریو ٹرانسفر۔

آئی وی ایف ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے دوران عورت کے ایگز (انڈوں) کو مرد کے سپرم سے لیبارٹری میں فرٹیلائز کیا جاتا ہے اور اس کے بعد ایمبریو کو عورت کے رحم (بچہ دانی) میں ڈالا جاتا ہے۔

جب ہیوگو پیدا ہوا تو بیل نے کہا: ’یہ واقعی ایک معجزہ تھا۔‘

’مجھے یاد ہے صبح جاگ کر جب اس کا ننھا سا چہرہ دیکھا تو لگا یہ سب خواب ہے۔ یہ سب کچھ ناقابل یقین تھا۔‘

چار سرجن رحم کی پیوندکاری کا آپریشن کر رہے ہیں

مردہ ڈونر کے رحم کا بیل کے جسم میں کامیاب ٹرانسپلانٹ برطانیہ میں جاری کلینیکل ریسرچ ٹرائل کے تحت کیے جانے والے 10 ایسے آپریشنز میں سے ایک ہے۔ ان میں سے تین ٹرانسپلانٹ اب تک کیے جا چکے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

سنہ 2025 کے اوائل میں ایمی کی پیدائش ہوئی۔ یہ برطانیہ میں زندہ ڈونر کے رحم کے عطیے سے پیدا ہونے والی پہلی بچی تھی۔ جنوری 2023 میں ایمی کی ماں میں ان کی بڑی بہن کا رحم منتقل کیا گیا تھا۔ ان کی بہن پہلے ہی اپنے دو بچے پیدا کر چکی تھیں۔

برطانیہ میں قریبی رشتہ داروں کے عطیہ کردہ رحم کی پیوندکاریوں کے مزید پانچ آپریشن کیے جانے ہیں۔

ایسی خواتین کے لیے امید جو بچہ دانی کے بغیر پیدا ہوئیں

امپیریل کالج ہیلتھ کیئر این ایچ ایس ٹرسٹ کے کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ پروفیسر رچرڈ سمتھ نے رحم کی پیوندکاری پر تحقیق 25 برس سے بھی پہلے شروع کی تھی۔ وہ ہیوگو کی پیدائش کے وقت بھی موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ٹرانسپلانٹ سے لے کر ایمبریو کی منتقلی اور پھر بچے کی پیدائش تک، اس پورے عمل میں ‘لوگوں کی ایک بہت بڑی ٹیم’ شامل رہی۔

رچرڈ سمتھ برطانیہ میں رحم عطیہ کرنے والے ادارے کے بانی بھی ہیں۔ بیل اور پاؤل نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر رچرڈ کو اپنے بیٹے کے نام کا حصہ بنایا۔

ہو سکتا ہے یہ جوڑا مستقبل میں مزید بچے پیدا کرنے کا بھی فیصلہ کرے۔ جس کے بعد سرجنز بیل کے جسم سے پیوند شدہ رحم کو ہٹا دیں گے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو جسم کا مدافعتی نظام ٹرانسپلانٹ شدہ عضو پر حملہ کر سکتا ہے اور بیل کو زندگی بھر طاقت ور دوائیں لینی پڑیں گی۔

عورت کے تولیدی نظام کا خاکہ
مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ٹرانسپلانٹ سرجن اور ٹیم کی مشترکہ سربراہ ازابیل کیروگا نے کہا کہ وہ ہیوگو کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے برطانیہ میں اعضا کی پیوندکاری کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

انھوں نے کہا: ’یورپ میں بہت کم ایسے بچے پیدا ہوئے ہیں جن کی ماؤں نے کسی مردہ ڈونر کا رحم حاصل کیا ہو۔ ہم تجربات کے ذریعے معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا یہ طریقہ علاج منظوری حاصل کر کے باقاعدہ طور پر ایسی خواتین کے لیے دستیاب ہو سکے گا جو بچہ پیدا کرنے کی عمر میں ہیں لیکن ان کے رحم میں حمل نہیں ٹھہر سکتا۔‘

سمتھ نے کہا کہ اس پیدائش نے ثابت کیا ہے کہ وہ لڑکیاں اور نوجوان خواتین جنھیں بتایا جاتا تھا کہ ان کے پاس رحم نہیں ہے، اب یہ امید رکھ سکتی ہیں کہ اپنے بطن سے اپنے بچے کو جنم دے سکیں گی۔

کسی مردہ ڈونر سے رحم کی پیوندکاری کے بعد پیدا ہونے والا بچہ ڈونر سے کوئی جینیاتی تعلق نہیں رکھتا۔

دنیا بھر میں اب تک 100 سے زیادہ رحم کی پیوندکاریاں کی جا چکی ہیں اور ان کے نتیجے میں 70 سے زائد صحت مند بچوں کی پیدائش ہو چکی ہے۔

رحم کا عطیہ کرنا گردہ اور دل جیسے دوسرے اعضا عطیہ کرنے سے مختلف ہے۔ جس خاندان نے اپنے فوت ہونے والے عزیز کے اعضا عطیہ کرنے پر پہلے ہی آمادگی ظاہر کر دی ہو، رحم کے عطیے ان سے الگ سے رضا مندی لی جاتی ہے۔

اگر کوئی شخص اپنی وفات کے بعد اعضا عطیہ نہیں کرنا چاہتا تو برطانیہ میں اسے یہ بات خاص طور پر اپنی زندگی میں ہی بتانا پڑتی ہے۔ ورنہ سمجھا جاتا ہے کہ موت کے بعد وہ اعضا عطیہ کرنے پر رضا مند ہے۔

ڈونر کے والدین گمنام ہی رہنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ انھیں اپنی بیٹی کے چھوڑے ہوئے ورثے پر ’بے پناہ فخر‘ ہے۔

ان کی بیٹی نے مزید پانچ اعضا عطیہ کیے، جو چار افراد کو لگائے گئے۔

ان کے اہل خانہ نے کہا: ’اعضا کے عطیے کے ذریعے اس نے دیگر خاندانوں کو وقت، امید، شفا اور اب زندگی جیسے قیمتی تحفے دیے۔‘

SOURCE : BBC