Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملہ کرنے والا شخص گرفتار: ’ملزم...

محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملہ کرنے والا شخص گرفتار: ’ملزم نے کہا انجینیئر کے ساتھ میری تصویر بناؤ تاکہ یادگار رہے‘

10
0

SOURCE :- BBC NEWS

تصویر

،تصویر کا ذریعہEMAM/Facebook

58 منٹ قبل

مطالعے کا وقت: 4 منٹ

صوبہ پنجاب کے شہر جہلم کے تھانہ سٹی میں مذہبی سکالر اور مبلغ انجینیئر محمد علی مرزا پر قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ ملزم کے خلاف اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

انجینیئر محمد علی مرزا پر مبینہ قاتلانہ حملے کا مقدمہ اُن کی اکیڈمی ’قرآن و سنت ریسرچ اکیڈمی‘ کے کور کمیٹی کے ایک رکن کی مدعیت میں درج کروایا گیا ہے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اتوار کے روز لیکچر کے اختتام پر فوٹو سیشن کے دوران ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انجینیئر محمد علی مرزا پر حملہ کرتے ہوئے اُن کے عمامہ (پگڑی) کو زمین پر پٹخ دیا اور اُن کے گلے کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دبوچ کر اُن کا سانس روکنے کی کوشش کی۔

ایف آئی آر کے مطابق اس موقع پر حملہ آور نے بلند آواز میں نعرے بازی کی اور مذہبی کو سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے نعرے لگائے۔ ٹی ایل پی نے اس معاملے پر تاحال کوئی ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر موجود افراد نے ملزم کو پکڑا اور انھیں اکیڈمی کی ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکاروں کے حوالے کیا ہے۔

پولیس نے یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 (اقدام قتل) کے تحت درج کی ہے۔

جہلم پولیس کے مطابق انجینیئر محمد علی مرزا پر مارچ 2021 میں بھی چاقو سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اُن کے بازو پر زخم آیا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔ اسی طرح سنہ 2017 میں ہونے والے ایک قاتلانہ حملے میں بھی وہ محفوظ رہے تھے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال انجینیئر محمد علی مرزا کو مبینہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم دسمبر 2025 میں انھیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہengineermuhammadaliofficial

’میری انجینیئر صاحب کے ساتھ تصویر بناؤ، تاکہ یادگار رہے‘

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

انجینیئر محمد علی مرزا کے وکیل محمد طاہر ایوبی ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ جہلم میں انجینیئر محمد علی مرزا کی اکیڈیمی میں ہر اتوار کو درس و تدریس اور سوال جواب کا سیشن ہوتا ہے جس میں ملک بھر سے بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے ہیں اور اس موقع پر دینی موضوعات پر سوالات و جوابات ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘اکیڈیمی کی یہ پالیسی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک بار اس سیشن میں شریک ہو تو وہ دوسری بار شامل نہیں ہو سکتا، اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ سیشن میں شریک ہوسکیں۔’

انھوں نے دعویٰ کیا کہ آج کے قاتلانہ حملے کے واقعے کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے اکیڈیمی میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ چیک کیا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم اتوار کی صبح نو بجے اکیڈیمی میں داخل ہوا تھا اور یہ اکیلا ہی یہاں موجود رہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اتوار کے روز درس و تدریس کا سیشن صبح 10 بجے شروع ہوا تھا جو کہ کسی وقفے کے بغیر تقریبا ڈیڈھ بجے تک جاری رہا اور یہ شخص پورے سیشن میں موجود رہا، سیشن ختم ہونے کے بعد مرکزی ہال سے منسلک ایک کمرہ الگ سے مختص کیا گیا ہے جہاں دوسرے شہروں سے آنے والے لوگ محمد علی مرزا کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص بھی تصویر بنوانے کےلیے اُس کمرے میں آیا اور اس نے وہاں کمرے میں موجود انتظامیہ کے ایک شخص کو اپنا موبائل فون پکڑا کر کہا کہ ‘میری انجینیئر صاحب کے ساتھ تصویر بنا دو تاکہ یادگار رہے۔’

وکیل نے بتایا کہ جونہی ملزم انجینیئر محمد علی مرزا کے قریب ہوا تو اُس نے اُن پر اچانک حملہ کردیا اور دونوں ہاتھوں کی مدد سے اُن کا گلہ دبانے کی کوشش کی۔ ‘اس سے پہلے اس نے نعرہ لگایا لبیک یا رسول اللہ۔’

محمد طاہر ایوبی ایڈووکیٹ کے مطابق اس اچانک پیش آنے والے واقعے پر وہاں شور مچ گیا اور ہال کے اندر اور باہر موجود لوگ اس کمرے میں پہنچے جنھوں نے حملہ آور شخص کو قابو پا لیا اور اسے حوالہ پولیس کیا۔

انھوں نے کہا کہ ‘اس واقعہ کے فوری بعد اکیڈیمی کے تمام دروازے بند کر دیے گئے تاکہ اگر حملہ آور کا کوئی ساتھی یہاں موجود ہے تو اس کو بھی پکڑا جا سکے، پولیس کی ٹیموں اور اکیڈیمی کے سٹاف نے تمام لوگوں کی فرداً فرداً چیکنگ کی جس کے بعد دروازے کھول دیے گئے اور لوگوں کو یہاں سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی۔’

مقامی پولیس کے مطابق ملزم کی جیب سے اس کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا ہے جس کے مطابق اس کی عمر 26 سال ہے، اور وہ خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد سے تعلق رکھتا ہے۔

SOURCE : BBC