Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں مجتبیٰ خامنہ ای: ایران کی بقا کی جنگ اور نئے رہبر اعلیٰ...

مجتبیٰ خامنہ ای: ایران کی بقا کی جنگ اور نئے رہبر اعلیٰ کا پہلا امتحان

9
0

SOURCE :- BBC NEWS

Mojtaba Khamenei looks down the lens.

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

تسلسل اور روابط نے 56 برس کے مجتبیٰ خامنہ ای کو اس وقت قیادت کے منصب تک پہنچایا جب ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای اس جنگ کے آغاز میں ہی قتل کر دیے گئے۔

سنہ 1979 کے انقلاب کے بعد اب ایران کا تیسرا رہبر اس منصب پر فائز ہو رہا ہے جب ایران کو اپنی بقا کی جنگ کا سامنا ہے۔

ایران میں لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگا کر مجلس خبرگان رہبری کے فیصلے کا جشن منایا، جس نے انھیں رہبر منتخب کیا۔

تمام سکیورٹی فورسز نے عہد کیا کہ وہ اپنے ’خون کے آخری قطرے تک‘ نئے سپہ سالار کے ساتھ ہیں۔

سرکاری ٹی وی نے وہ مناظر دکھائے جن میں ان کے نام پر داغے گئے پہلے میزائل پر یہ تحریر درج تھی: ’حاضر ہیں، سید مجتبیٰ۔‘

تاہم، جنوری میں ان کے والد کو ’آمر‘ قرار دے کر ان کی موت کے نعرے لگانے والے مظاہرین کل رات اپنے گھروں سے یہ نعرہ لگاتے سنے گئے: ’مجتبیٰ مردہ باد!‘

ان لوگوں کے لیے سخت گیر ایرانی حکومت مزید سخت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن وہ اب بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ خامنہ ای اور اس نظام کے دن گنے جا چکے ہیں۔

ایران کے دوسرے آیت اللہ کا دوسرا اور سب سے نمایاں بیٹا اپنے والد کے انتہائی قدامت پسند سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای دہائیوں تک اپنے والد کے سائے میں کام کرتے رہے اور وہ یہ بخوبی جانتے ہیں کہ ریاست کا اندرونی نظام یا ڈھانچہ کس طرح بیرونی خطرات اور اندرونی ہلچل کا مقابلہ کرتا ہے۔

پاسداران انقلاب بھی ان کے لیے نئی نہیں جس میں وہ ہائی سکول کے فوراً بعد شامل ہوئے اور پھر قم گئے، جو شیعہ اسلامی تعلیم کا سب سے بڑا مرکز مانا جاتا ہے۔

پاسداران انقلاب 1979 میں انقلاب کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی فورس تھی اب ایک کثیر سطحی سکیورٹی نظام اور وسیع معاشی سلطنت کی حامل ہے۔ اس کے کمانڈر اب اہم ترین فیصلے کر رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ کم عمر خامنہ ای انھی کے امیدوار تھے۔ یہ جنگ اب محض سیاسی لڑائی نہیں رہی بلکہ یہ نہایت شخصی ہو چکی ہے۔

یہ انتقام کا معاملہ بھی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اسرائیلی حملے میں نہ صرف اپنے والد کو کھویا بلکہ ان کی والدہ منصوره خجستہ باقرزاده، اہلیہ زہرہ حداد عادل اور ایک بیٹا بھی مارے گئے۔

A woman holds a picture of Iran's new Supreme Leader Ayatollah Mojtaba Khamenei during a rally in Tehran. Iranian flags are seen in the background. Photo: 9 March 2026

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اطلاعات کے مطابق وہ زخمی بھی ہوئے تھے لیکن اس کے بعد نہ کوئی تفصیل سامنے آئی اور نہ ہی ان کی کوئی جھلک دکھائی دی۔

یہ معاملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی نہایت ذاتی نوعیت کا بن چکا ہے، جو بار بار واضح کرتے ہیں کہ وہ اپنے احکامات پر اعتراض کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔

جانشینی کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ ٹرمپ نے ایک سے زیادہ مرتبہ کہا کہ علی خامنہ ای کا سخت گیر بیٹا ’ناقابل قبول‘ ہے۔

اب وہ خبردار کر رہے ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای ’زیادہ دیر نہیں چلیں گے‘۔ وہ اسرائیل کے نشانے پر بھی ہیں، جہاں وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے انھیں ’ایک غیر مبہم ہدف‘ قرار دیا۔

یوں ممکن ہے کہ خامنہ ای کچھ عرصہ مزید پردے میں رہیں۔ یوں گوشہ نشین رہبر اعلیٰ ایک راز ہی بنیں رہیں گے۔

ان کی کوئی عوامی تقریر ریکارڈ پر موجود نہیں، وہ شاذ و نادر ہی عوام میں دکھائی دیے ہیں، اور انھوں نے کبھی کوئی باضابطہ حکومتی عہدہ نہیں سنبھالا۔ ان کی تصویر کبھی ان کے والد کی عام جگہوں پر آویزاں تصاویر کے ساتھ نظر نہیں آئی۔

ان کےوالد آیت اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے انھیں جانشینی کی فہرست سے نکال دیا تھا تاکہ 1979 کے انقلاب میں ختم کی گئی بادشاہت کے موروثی نظام سے محفوظ رہا جا سکے۔

زیادہ تر ایرانیوں نے تو کبھی ان کی آواز تک نہیں سنی۔ تاہم، ان کے خیالات کے کچھ آثار ضرور ملے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

SOURCE : BBC