SOURCE :- BBC NEWS

جس طرح ہر کسی کو اپنی ماں کے ہاتھوں کا کھانا لذیذ اور من پسند لگتا ہے، ویسے ہی بہت سے لوگ بس اپنے شہر ہی کے کھانوں کے دلدادہ ہوتے ہیں۔
لکھنؤ والے جب اپنے شہر کو ’کھانے پینے کی جنت‘ کہتے ہیں تو بہت سے لوگ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں، بطور خاص دلی اور لاہور والے اس میں پیش پیش نظر آ سکتے ہیں۔
لیکن گذشتہ سال جب عالمی ادارے یونیسکو نے لکھنؤ کو ’کریئٹو سٹی آف گیسٹرونومی‘ کے خطاب سے نوازا کیا تو دلی اور لاہور کے کھانوں کے مداح کف افسوس ملتے ہوئے کہیں پیچھے چھوٹ گئے۔
اتفاق سے ہماری ملاقات بی بی سی کے سابق براڈکاسٹر ارون استھانا سے لکھنؤ کے معروف ریستوراں ’ٹنڈے کبابی‘ پر ہوئی تو انھوں نے کہا کہ ’جب لکھنؤ سے پہلے یونیسکو کی جانب سے یہ اعزاز حیدرآباد کو دیا گیا تھا تو مجھے بہت حیرت ہوئی تھی لیکن دیر آید درست آید۔‘
خیال رہے کہ یونیسکو نے دنیا بھر میں اب تک 70 شہروں کو کھانے پینے میں اختراع پیدا کرنے والے شہر کے طور پر سراہا ہے اور اس میں اب تک جنوب ایشیا کے صرف دو شہر حیدرآباد اور لکھنؤ ہی اپنی جگہ بنا پائے ہیں۔
ارون استھانا کا کہنا ہے کہ انھوں نے دنیا بھر کے کھانے چکھے لیکن لکھنؤ کا ذائقہ انھیں کہیں نہیں ملا۔ ’میں لاہور بھی گیا اور کراچی بھی ہو آیا، بنگلہ دیش کے بھی کھانے کھائے لیکن لکھنؤ کی بات کہیں نہیں ملی۔‘
لکھنؤ کے معروف ولاگر اور داستان گو ہمانشو واجپئی کا کہنا ہے کہ ’آپ لکھنؤ کی کسی گلی سے گزر جائيں آپ کو خوشبوئیں اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ رنگ بکھرے پڑے ہیں۔ آوازیں ذوق شوق کو رجھاتی ہیں، اور یہ ماحول اشتہا کو بڑھتا ہے اور ایک لطفِ خاص فراہم کرتا ہے۔‘

صبح سے شام تک لکھنؤ والے کیا کھاتے ہیں؟
ہم نے صبح سے شام تک کھائے جانے والے لکھنؤ کے مخصوص کھانوں کا جائزہ لیا۔ صبح صبح ہم لکھنؤ کی مشہور پوری سبزی کی دکان پر پہنچ گئے جہاں تازہ تازہ پوریاں اور جلیبیاں تلی جا رہی تھیں۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
نیتر رام کی پوریاں پورے لکھنؤ میں مشہور ہیں جہاں سے تقریبا 100 کلومیٹر دور کانپور سے آنے والے لوگ بھی محض یہ پوری کھانے کے لیے یہاں پہنچے تھے۔ نیتر رام کی یہ دکان سنہ 1854 سے قائم ہے لیکن دہائیاں گزرنے کے باوجود اس کی لذت میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ اس کے ساتھ والی دکان اس سے بھی زیادہ پرانی ہے جو سنہ 1825 سے سبزی خوروں کے ذوق کی تسکین کر رہی ہے۔
نیتررام کی ساتویں نسل اب اس کام کو آگے بڑھا رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جہاں ان کے گاہک ان کی پوریوں کی مقبولیت کے حقدار ہیں وہیں وہ اس بات کا آج بھی خیال رکھتے ہیں کہ گھی وہیں سے آئے جہاں سے ان کے جد امجد لیا کرتے تھے۔
چنانچہ وہ بتاتے ہیں کہ آج بھی ان کا گھی لکھنؤ سے 400 کلومیٹر دور خورجہ کے اسی خاندان سے آتا ہے جہاں سے ان کے دادا، پردادا کے زمانے میں آیا کرتا تھا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے ہاں جیسا دہی ملتا ہے کہیں اور نہیں ملتا۔
وہیں ہماری ملاقات وکیل سمتا چندرا سے ہوئی جنھوں نے کہا کہ ’لکھنؤ کی پوریوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بہت بڑی نہیں بلکہ سائز میں چھوٹی اور نرم ہوتی ہیں۔‘
ہمانشو واجپئی نے بتایا کہ ’ان پوریوں کے آٹے میں برائے نام دال مسالہ بھی شامل ہوتا ہے جسے آپ محسوس تو کر سکتے ہیں لیکن پکڑ نہیں سکتے۔‘
ان کے مطابق نوابی دور سے لکھنؤ ایک پُرامن، خوشحال اور محفوظ شہر تھا۔ چنانچہ فنون لطیفہ اور ثقافت کے شعبے میں بہت زیادہ کام ہوئے۔ زبان و ادب، رقص و موسیقی، شاعری اور مصوری سے لے کر ہر شعبے میں فنکاروں نے مثالی مشق اور ریاض کے ذریعے لکھنوی شان پیدا کی۔

تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ
اسی طرح لوگوں نے کھانے پینے میں بھی زبردست تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ عبدالحلیم شرر نے اپنی مشہور کتاب ’گذشتہ لکھنؤ‘ میں لکھا ہے کہ ’کسی شہر کی ترقی کے وقت سب سے پہلا شوق اپنی خوش مزاجی اور جدتوں کا اظہار دسترخوان پر کرنا ہوتا ہے۔ لکھنؤ نے بھی اپنے تہذیبی سفر میں دسترخوان پر ایک سے بڑھ کر ایک لطف کے پہلو نکالے اور خوب جدت طرازیاں کیں۔‘
یہی وجہ ہے کہ نوابی دور کو ختم ہوئے زمانہ ہوا لیکن لکھنؤ کے کھانوں کی شہرت میں کوئی کمی نہیں آئی اور یہ روز بروز بڑھتی ہی جا رہی ہے۔
اسی طرح گوشت خوروں کے لیے ناشتے میں قلچہ نہاری بہت مشہور ہے۔ یہ آپ کو مختلف علاقوں میں ملتی ہے لیکن لوگ بطور خاص چوک میں موجود رحیم کے ہاں قلچے اور نہاری کے لیے کشاں کشاں چلے آتے ہیں۔
کوئی 11 بجے جب ہم وہاں پہنچے تو ایک نوجوان خاتوں بیگوں کے ساتھ لدی پھندی وہاں پہنچیں۔ پتہ چلا کہ وہ گجرات کے شہر احمدآباد کی رہنے والی ہیں اور وہ لکھنؤ محض قلچہ نہاری کھانے کے لیے آئی ہیں۔
شگفتہ رضوی نے کہا کہ لکھنؤ کے جیسے قلچے کہیں نہیں ملتے ہیں۔ ’آج میں یہاں آئی ہوں دو دن کے بعد پھر مجھے اس کی یاد ستانے لگے گی۔ یہ مجھے بلائے گی کہ آؤ لیکن میں اتنی دور سے اتنی جلدی نہیں آ پاؤں گی۔‘
انھوں نے کہا: ’لکھنؤ کے کھانے کی خاص بات اس کا دل سے بنایا جانا ہے۔ یہاں کے کھانوں میں خلوص ہے اور یہی اسے دوسرے شہروں کے کھانوں سے ممتاز کرتا ہے۔‘
دوپہر کے کھانے کی تیاری کرتے ہوئے ادریس بریانی جوائنٹ کے مالک محمد ابوبکر نے بی بی سی کو بتایا کہ لکھنؤ کی مخصوص ڈش میں پلاؤ شامل ہے۔ اگرچہ ان کی بریانی بہت مشہور ہے لیکن در اصل یہ پلاؤ ہے اور اسے انتہائی احتیاط سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں پیاز کی جگہ پیاز کا پانی شامل کیا جاتا ہے تاکہ یہ پلاؤ کی نزاکت پر گراں نہ گزرے۔
جب ان سے دریافت کیا کہ ان کی بریانی کی اتنی دھوم کیوں ہے تو انھوں نے کہا کہ ’بس اللہ کا کرم ہے۔ قلم ایک ہی ہوتا ہے، کاغذ بھی ایک ہی طرح کا ہوتا ہے، سیاہی بھی ایک ہی ہوتی ہے لیکن ہر کسی کی تحریر الگ الگ ہوتی ہے۔ اسی طرح پکانے والے کے ہاتھوں پر اور ان کی لگن پر منحصر ہوتا ہے کہ کھانا کتنا لذیذ پکتا ہے۔‘

شام کو چاٹ اور چائے
بہرحال لکھنؤ والوں کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں کھانوں کا شمار نہیں لیکن شام کی چائے اور پھر چاٹ کے چرچے بھی ہم نے سُنے۔
چائے کا رواج تو پورے بر صغیر میں ہے لیکن لکھنؤ میں چائے دوستوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا بہانہ ہے اور یہاں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اچھی صحبت میں چائے پی جائے تو یہ شراب سے زیادہ نشہ فراہم کرتی ہے۔
شام کے دھندلکے میں لکھنؤ کے حسن میں اضافہ ہو جاتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ زمانۂ قدیم سے ہی صبح بنارس کے ساتھ ساتھ شام اودھ کی دھوم رہی ہے۔
شرما ٹی سٹال پر ہمیں ایک نوجوان جوڑا نظر آيا جنھوں نے چاٹ کے کلچر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہاں چاٹ کی دھوم ہے۔ شام کو لوگ اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
شروتی نے بتایا کہ یہاں چاٹ کے کئی مشہور مقامات ہیں۔ جن میں سے ایک باسکٹ چاٹ ہے، یعنی آپ چاٹ کے ساتھ باسکٹ بھی کھا جائیں۔
اسی طرح شام کو ہم آشا رام کی مٹھائی کی دکان پر پہنچے، جہاں کی مٹھائیوں سے زیادہ وہاں کی ملائی گلوری کی دھوم ہے۔ ملائی گلوری میں دراصل ملائی کو پان کے پتے کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اور اس میں پان کے مصالحے ڈال کر پان کی گلوری کے انداز میں موڑ دیا جاتا ہے۔
مسٹر واجپئی کا کہنا ہے کہ ملائی گلوری منھ میں ڈالتے ہیں شیرینی کا ایک دریا منھ سے روح تک رواں ہو جاتا ہے۔
دکاندار نے بتایا کہ یہ پان صبح صبح تیار ہوتے ہیں اور شام تک ختم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح آپ کو لکھنؤ میں جگہ جگہ مکھن ملائی کے سٹال بھی نظر آئیں گے۔
چوک پر تو قطار در قطار خوانچے والے اس کے ساتھ ہوتے ہیں اور جسے دیکھیے اس سے محظوظ ہو رہا ہے۔
اگر چہ صحت کا راز بتانے والے رات کے کھانے کو ہلکا رکھنے کو کہتے ہیں لیکن پوری دنیا میں رات کے کھانے کا ہی سب سے زیادہ اہتمام نظر آتا ہے۔
چنانچہ لکھنؤ میں ایک کہاوت ہے کہ رات کو اگر انھیں گلاوٹی کباب مل جائے تو سمجھو پورا دن اچھا گزرا۔

گلاوٹی کباب
گلاوٹی کباب کو لکھنؤ میں ٹنڈے کبابی والوں نے بہت شہرت دی ہے، دنیا بھر میں اس کی نقل کی گئی لیکن وہ ذائقہ پیدا نہ ہو سکا۔
ٹنڈے کبابی کے مالک محمد عثمان کا کہنا ہے کہ ان کے جد امجد اس کباب کا نسخہ بھوپال کے نواب کے ہاں سے لے کر آئے تھے۔
ان کا ایک ہاتھ کسی حادثے میں جاتا رہا لیکن ان کے بنائے کباب کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا رہا۔ وہ ایک ہی ہاتھ سے کباب کے گوشت اور مصالحے ملایا کرتے تھے اس لیے ازراہ مذاق لوگوں نے انھیں ٹنڈے کباب والے کے نام سے پکارنا شروع کر دیا جو کہ بعد میں ان کا سگنیچر ڈش کہلایا۔
آج ٹنڈے کبابی کی کئی شاخیں ہیں اور دبئی تک ان کی دھوم ہے۔ عثمان نے بتایا کہ انھیں جو نسخہ حاصل ہوا اسے حکیم تیار کرتے تھے تاکہ نواب صاحب کی صحت پر اس کے مضر اثرات مرتب نہ ہوں۔
چنانچہ ان کا دعوی ہے کہ ان کے کباب کو اگر کچھ زیادہ مقدار میں بھی کھا لیا جائے تو طبیعت پر گراں نہیں گزرتا۔
اسی طرح ادریس بریانی کے مالک محمد ابوبکر نے بتایا کہ وہ اچھے چاول کے ساتھ اچھے گوشت اور بہترین مصالحوں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ ذائقے پر کوئی سودا نہ ہو اور ان کی پلاؤ نما بریانی زود ہاضم بھی ہو۔
شاید اسی لگن اور اسی اختراع کے لیے یونیسکو نے لکھنؤ کو اس اعزاز سے نوازا ہے جو کہ لکھنؤ والوں کو ایک طرح کی طمانیت بخشتا ہے کہ وہ اب کھانوں کے عالمی نقشے پر جلوہ گر ہیں۔
بہت سے پرانے واقعے بھی ہیں جب یہاں متنجن اور مرغ مسلم جیسی چیزیں بنائی جاتی تھیں جو کہ اب ناپید اور کمیاب ہو گئی ہیں۔
’قدیم لکھنؤ کی آخری بہار‘ کے مصنف مرزا جعفر حسین کے مطابق پرانے لکھنؤ نے دنیا کو متنجن سے روشناس کرایا۔
انھوں نے اپنی کتاب میں 13 قسم کے پکوانوں کا ذکر کیا ہے اور ان کے مطابق یہ لکھنؤ کی دین ہے۔
متنجن: کمیاب کھانا

متنجن کی کہانی بہت پیچیدہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ عرب و فارس سے ہندوستان پہنچا لیکن یہاں پہنچ کر یہ بالکل نیا بن گيا۔
ابوالفضل نے اکبر کے درباری کھانوں میں متنجن کا ذکر کیا ہے۔ یہ چاول کی ایک ڈش ہے جو زردہ اور پلاؤ کا مرکب کہی جا سکتی ہے۔ مختصرا یہ کہا جا سکتا ہے کہ رنگ برنگے چاولوں میں میوہ جات کی بھرمار ہوتی ہے اور ساتھ گوشت کے ٹکڑے بھی ہوتے ہیں۔
امرا اور نوابوں کے ہاں کھانا بنانے والوں کی بہت قدر تھی۔ لکھنؤ کے کھانے کے ذوق اور شوق کے بارے میں فوڈ ہسٹورین سلمی حسین لکھتی ہیں: ‘آخری دور میں اودھ کے نواب واجد علی شاہ کے دسترخوان پر ایک ظرف میں رکھے مربے پر نواب سلیمان قدر کو قورمے کا دھوکہ ہو گیا، نواب موصوف صاحب ذوق تھے ان کے یہاں بھی بہترین اور ہنرمند باورچی ملازم تھے۔ انھوں نے واجد علی شاہ کو خصوصی طور پر کھانے کی دعوت دی۔ وہ بھی تیار ہو کر گئے کہ دھوکہ نہ ہو لیکن پھر بھی دھوکہ کھا گئے۔
دسترخوان پر چنے جانے والے تمام خوان شیریں تھے یہاں تک کہ دسترخوان، ظروف اور طشتریاں تک شکر سے تیار کی گئی تھیں۔
عبدالحلیم شرر اپنی تصنیف ’گذشتہ لکھنؤ‘ میں بیان کرتے ہیں کہ بعض رکابدار مسلّم کریلے ایسی نفاست اور صفائی سے پکاتے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ ان میں بھاپ تک نہیں لگی ہے اور بالکل ہرے اور کچے دسترخوان پر لا کر رکھے ہیں مگر کاٹ کر کھائیے تو لذیذ اور بامزہ۔
ان کے ہی مطابق بعض رکابدار گوشت کی چھوٹی چھوٹی چڑیاں بناتے اور اس قدر احتیاط سے پکاتے کہ ان کی صورت بگڑنے نہیں پاتی تھی۔ یہ چڑیاں پلاؤ پر اس طرح سجائی جاتیں گویا پلیٹ میں بیٹھی دانا چُگ رہی ہوں۔
SOURCE : BBC



