SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور کا شاہی قلعہ صدیوں سے مختلف ادوار اور تہذیبوں کا امین رہا ہے۔ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل اس مقام کے اندر مغل، سکھ، ہندو اور برطانوی ادوار کی نشانیاں آج بھی محفوظ ہیں۔
حالیہ برسوں میں اس تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے ایک اہم منصوبہ شروع کیا گیا، جس نے قلعے کے کم معروف مگر مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے اہم مقامات کو دوبارہ زندگی دی۔
اکتوبر سنہ 2022 میں آغا خان کلچرل سروس پاکستان نے والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے کو یو ایس ایمبیسیڈر فنڈ فار کلچرل پریزرویشن سے مالی معاونت ملی۔
منصوبے کا مقصد شاہی قلعہ لاہور کے اندر موجود اُن چھوٹے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی مقامات کو نمایاں کرنا تھا جو جو مختلف ادوار اور مذاہب کی نمائندگی کرتے ہیں، لیکن ماضی میں زیادہ توجہ حاصل نہیں کر سکے۔
اس منصوبے کے تحت پانچ اہم چھوٹے مقامات پر کام کیا گیا، جن میں قدیم لوہ مندر سمیت سہہ درہ پویلین جہاں تاریخی عیسائی پینٹنگز موجود ہیں، آٹھ درہ پویلین جہاں سکھ دور کی تعمیر نظر آتی ہے، سکھ حمام جو کہ مغل دور میں بنا اور بعد میں سکھ دور کے حمام میں تبدیل ہوا اور زنانہ مسجد یا موتی مسجد جو شاہ جہاں کے عہد کی یادگار ہے۔
لاہور سے منسوب ’لوہ ٹیمپل‘ کی بحالی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کنزرویشن آرکیٹیکٹ منتہا احسان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم چاہتے تھے کہ قلعہ میں جتنے بھی چھوٹے مقامات ہیں جو کہ مختلف مذاہب کی نمائندگی کرتے ہیں وہ بھی لائم لائٹ میں آئیں اور لوگوں میں ان سے اپنائیت اور تعلق کا احساس پیدا ہو۔‘
روایات کے مطابق لوہ ٹیمپل یا لوہ مندر کو بھگوان رام اور سیتا کے جڑواں بیٹوں میں سے ایک لوہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ جبکہ دوسرے بیٹے کا نام قصو تھا۔
کہتے ہیں کہ لاہور کا نام لوہ سے اور اس کے جڑواں شہر قصور کا نام قصو سے منسوب ہے۔ اگرچہ تاریخ میں اس کا کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں ۔
شاہی قلعہ لاہور کے اندر حضوری باغ اور عالمگیری دروازے کے قریب ایک چھوٹا، بغیر چھت والا لوہ مندر واقع ہے۔ اگرچہ اس کی ابتدا کو روایتی طور پر لوہ سے جوڑا جاتا ہے، موجودہ عمارت ایک ایسے مجموعے کا حصہ ہے جس میں مغل دور اور بعد میں سکھ سلطنت کے ادوار میں بھی تعمیراتی اضافے اور تبدیلیاں کی گئیں۔
کھدائی میں سامنے آنے والی نئی حقیقتیں

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یہ ایک کمرے میں بنا چھوٹا سا مندر ہے جس کی چھت نہیں ہے۔ اسے پبلک کے لیے مستقل نہیں کھولا گیا تھا اور اس پر تالا پڑا رہتا تھا۔ البتہ سال میں ایک، دو دفعہ انڈیا اور پاکستان کے ہندو یاتری اس جگہ ماتھا ٹیکنے آتے تھے۔
کنزرویشن آرکیٹیکٹ منتہا نے بتایا کہ انھوں نے اپنے کام کی ابتدا لوہ ٹیمپل کے اسی کمرے سے کی جس تک رسائی تھی اور دیکھا کہ ماضی میں سنہ 2019 میں بھی اس مقام کی مرمت اور بحالی کا کام ہوچکا ہے۔
بحالی کے آغاز میں سب سے بڑا مسئلہ واٹر انفِلٹریشن یعنی پانی کا داخل ہونا تھا۔ مندر کی چھت نہ ہونے کی وجہ سے کمرے میں پانی جمع ہوکر دیواروں کو نقصان پہنچاتا تھا، اسی لئے اس جگہ کی واٹر پروفنگ کا فیصلہ کیا گیا۔ کھدائی کے دوران لوہ مندر سے جڑے مزید تین کمرے دریافت ہوئے۔
منتہا احسان بتاتی ہیں کہ ’ہمیں پلاسٹر کے کچھ اثرات ملے تھے۔ چھ فٹ تک کھدائی کے بعد مزید کمرے سامنے آئے۔ جب ہم نے کلچرل فِل ( ملبہ) ہٹانا شروع کیا تو ہمیں شراب کی خالی بوتلیں، شیشے کے ٹکڑے، سرخ مٹی سے بنی چیزوں کی باقیات اور شنگلز (چھتوں کو محفوظ بنانے والی چادریں) کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے ملے۔‘
واضح رہے کہ لوہ مندر کے بالکل ساتھ ہی رائل کچن یا شاہی باورچی خانے کی سائٹ بھی ہے ۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق برطانوی دور میں شاہی باورچی خانے کے بعض حصوں کو رم سٹوریج یا شراب ذخیرہ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا اور اس کے ملبہ سے ان دریافت ہونے والے کمروں کو بھر دیا گیا ہے۔
منتہا کے مطابق اس سائٹ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر دور میں اس جگہ پہ ہر حکمران نے تبدیلیاں کیں اور اسے اپنے حساب سے ڈھال کر استعمال کیا۔
’ہمیں جو کمرے ملے ان میں سکھ دور میں کی گئی تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔ اس دور میں آخری کمرے کو بند کردیا گیا تھا۔ پہلے کمرے میں سکھوں نے ایک مداخلتی تہہ متعارف کروائی جس میں پینٹنگز کا سٹائل بھی سکھ دور کا ہے۔ درمیانی کمرے میں آپ کو ایک ممکنہ مذہبی مقام بھی نظر آئے گا۔‘
سکھ حمام اور آٹھ درہ کی بحالی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہی قلعہ لاہور دراصل مختلف ادوار کی تہیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ جہاں اس میں مغل دور کا تعمیراتی حسن واضح جھلکتا ہے وہیں سکھ دور کی نشانیاں بھی کافی نمایاں ہیں۔
ان ہی میں ایک سکھ حمام اور آٹھ درہ ہیں۔ مغل دور کے شاہکار شیش محل کی احاطے میں بنی ان دونوں جگہوں کو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے مطابق تبدیل کرکے استعمال کیا۔ سنہ 2023 میں ان سائیٹس کی بحالی کا کام شروع ہوا تھا۔
آغا خان کلچر سروسز سے منسلک انجینیئر محمد حیدر علی نے بتایا کہ ’چھت کی فریسکو پینٹنگز اور دیواروں پہ سیکو پینٹنگز اور گلڈنگ (سنہری ملمع کاری) کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا گیا ہے۔ یہ ایک مغل یادگار ہی تھی لیکن سکھوں نے اس جگہ کو استعمال کیا، اسی لیے اسے سکھ حمام کہا جاتا ہے۔‘
واضح رہے کہ فریسکو دراصل دیواروں اور چھتوں پہ مصوری کی ایک تکنیک ہے، جس کی تین بڑی اقسام ہیں بون (گیلے)، سیکو (خشک)، اور میزو (درمیانی)۔ ان میں فرق اس بات پر ہوتا ہے کہ مصوری گیلے چونے کے پلستر پر کی جاتی ہے یا خشک پلستر پر۔
سکھ حمام سے ملحق ایک داخلی دروازہ ہے جو رنجیت سنگھ کے دور میں سکھ دربار کی طرف کھلتا تھا۔ اس جگہ کو آٹھ درہ پویلین کہتے ہیں۔
آٹھ درہ کا مطلب ہے کہ آٹھ دروازے۔ اس دربار میں سفید سنگِ مرمر اور سرخ ریتیلے پتھروں کا کام نمایاں ہے۔ چھت پر تسمہ بندی کے ساتھ لکڑی پہ خوبصورت نقش نگاری جبکہ سفید سنگِ مرمر پہ گلڈنگ پینٹنگ (سنہری ملمع کاری) اور ایک دیوار پہ بنی تصاویر میں رادھا کرشن کی داستان نگاری واضح نظر آتی ہے۔
(تسمہ بندی دراصل ایک فنِ تعمیر اور آرائشی تکنیک ہے جس میں لکڑی، پتھر یا دیگر مواد پر تسموں (پٹیاں یا باریک لکیریں) کی شکل میں ڈیزائن بنایا جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر چھتوں، دروازوں اور دیواروں پر آرائشی نمونوں کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔)
محمد حیدر علی کے بقول ’ہم نے صرف اس کی صفائی کی ہے اور اس کو اس کی اصل شکل میں ہی رکھا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس پہ کوئی گریفٹی نہیں ہے۔ لوگوں کو اس تک رسائی نہیں تھی جس کی وجہ سے یہ اپنی اصل حالت میں بچی ہوئی ہے۔‘
انڈین سنگِ مرمر کے بغیر تاریخی ورثہ کی بحالی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ماہرین کے مطابق شاہی قلعہ لاہور کی زیادہ تر تعمیرات مغل دور میں ہوئی ہیں۔ اس میں سفید سنگِ مرمر اور سرخ ریتیلے پتھر کا استعمال زیادہ کیا گیا ہے۔
اس دور میں یہ سفید سنگِ مرمر انڈیا کے علاقے مکرانہ سے منگوائے جاتے تھے۔ سکھوں کی حکمرانی میں جو علاقے آتے تھے ان میں سنگِ مرمر کی کان اور سرخ ریتیلے پتھر دستیاب نہیں تھے، اسی لئے انھوں نے مغل دور کی تعمیرات کو اپنی ضرورت کے حساب سے قابل استعمال بنایا۔
انڈیا کے ساتھ تجارت بند ہونے کی وجہ سے سفید سنگِ مرمر یا سنگِ مرمر کی ترسیل ناممکن تھی، اسی لئے اس تاریخی ورثہ کی بحالی کے کام میں کافی وقت لگا لیکن پاکستان میں ہی اس کا متبادل تلاش کرلیا گیا۔
انجینیئر محمد حیدر علی نے بتایا کہ ’آٹھ درہ میں سب سے چیلنجنگ کام اس کے مواد کا انتظام کرنا تھا۔ سفید سنگِ مرمر کے لیے خیبرپختونخوا کے علاقے شبقدر سے انہی خصوصیات والا سنگِ مرمر دستیاب تھا، جو مکرانہ سے ملتا جلتا تھا۔‘
انھوں نے مزید بتایا کہ ’اس میں ایک خاص لکڑی استعمال ہوئی تھی جس کی لمبائی سترہ سے اٹھارہ فٹ تھی۔ ٹیم نے خیبرپختونخوا کے علاقے چکدرہ کا وزٹ کیا اور وہاں انھیں دیودار کی لکڑی ملی، جو سترہ فٹ سے زیادہ لمبی تھی۔ اسے چکدرہ سے خریدا گیا اور سرخ ریتیلا پتھر جو اب بہت نایاب ہے اور انڈیا میں ہوتا ہے، ہمیں مقامی مارکیٹ میں اس کے مطلوبہ سائز تلاش کرنے میں بہت مشکل ہوئی۔ لیکن اسے مقامی ذرائع سے حاصل کرلیا گیا۔‘
’ہم کسی دور کو حذف نہیں‘
لاہور کی والڈ سٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نجم الثاقب کے مطابق اس منصوبے کی بنیادی پالیسی یہ ہے کہ ’کسی دور کی نشانی کو مٹایا نہ جائے بلکہ ہر دور کی تاریخی تہوں کو اس کے شواہد کے ساتھ محفوظ رکھا جائے۔‘
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم یہ نہیں کرتے کہ اکبر کے دور کی تہہ کے اوپر دوسری تہہ آئی تو اسے ختم کر دیں۔ ہم تمام ادوار کو ان کے تاریخی شواہد کے ساتھ محفوظ کرتے ہیں ۔اس پالیسی کے تحت اکبر سے لے کر برطانوی دور تک کی تعمیرات کو ایک ساتھ محفوظ کیا جا رہا ہے تاکہ نئی نسل سمجھ سکے کہ یہ تاریخی ورثہ کیسے تشکیل پایا۔‘
ڈائریکٹر جنرل نجم الثاقب کے مطابق پنجاب بھر میں سو سے زائد تاریخی ورثے پر کام جاری ہے۔
’وقت کے ساتھ ساتھ ہنر مند کاریگر ختم ہوتے جارہے تھے، لیکن شکر ہے کہ والڈ سٹی اتھارٹی اور حکومت کے اقدامات سے لوگوں کو پتا چلا کہ اس میں بہتر روزگار بھی ملتا ہے۔ پچھلے پانچ، چھ سالوں میں ان کی تعداد بہتر ہوگئی ہے۔ ہمارے پاس فریسکو، لکڑی کی تسمہ بندی، کیلیگرافی، ٹائل ورک، موزیک، پلاستر سمیت مختلف کاموں کے لیے اچھی تعداد میں ہنر مند کاریگر موجود ہیں۔‘
انھوں نے امید ظاہر کی کہ پنجاب میں تاریخی ورثہ کی بحالی سے سیاحت کو فروغ ملےگا۔
’ہم بین المذاہب ہم آہنگی پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ڈبلیو سی ایل اے مندروں، چرچوں، درگاہوں اور تمام تاریخی مقامات پر کام کر رہی ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے تاریخی ورثہ کو محفوظ کریں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے یہ برقرار رہے اور اس کے ساتھ سیاحت بھی فروغ پائے۔ چاہے وہ نیشنل ہو، انٹرنیشنل ہو یا مذہبی۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پنجاب میں تاریخی عبادت گاہوں کی بحالی اور مذہبی سیاحت
وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑا نے مذہبی اور ثقافتی ورثہ کی بحالی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہندوؤں کی عبادت گاہ لوہ مندر، آٹھ درہ اور سکھ حمام کی بحالی ایک اہم قدم ہے۔ یہ مذہبی سیاحت کو فروغ دے گا اور اقلیتوں کے احساس محرومی کو کم کرے گا۔‘
ان کے مطابق موجودہ مالی سال میں سترہ تاریخی گوردواروں کی بحالی کا کام جاری ہے اور آئندہ سال مزید منصوبے شامل کیے جائیں گے۔
رمیش سنگھ اروڑا نے کہا کہ ’گوردواروں اور دیگر عبادت گاہوں کو اصل حالت میں محفوظ کیا جائے گا۔ کسی بھی سکھ گوردوارے کو گرا کے نہیں بنائیں گے اور نہ ہی سنگِ مرمر لگائیں گے۔‘
اس موقع پر انھوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی طرف سے تاریخی پس منظر رکھنے والی عبادت گاہوں کی بحالی پر توجہ دینے کی فیصلے کی تعریف کی اور کہا کہ ’ان کا وژن ہے اور وہ بار بار ایک بات کہتی ہیں کہ اقلیت ہمارے سر کا تاج ہے۔ ان کو تحفظ دینا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔‘
SOURCE : BBC



