SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
قطر کی سرکاری پیٹرولیم کمپنی ’قطر انرجی‘ کا کہنا ہے کہ راس لافان انڈسٹریل سٹی کو میزائلوں کی مدد سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس علاقے میں قطر کے شمالی ساحل کا سب سے بڑا گیس کا پلانٹ واقع ہے۔
قطر انرجی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ میزائل حملے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور حملے کے بعد لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر ایمرجنسی ٹیموں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔
قطر کا کہنا ہے کہ راس لافان انڈسٹریل سٹی پر میزائل حملے اس کی قومی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز اسرائیل کی جانب سے ایران کے پارس گیس فیلڈ میں واقع پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر حملے کے بعد ایران نے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تیل اور گیس کی تنصیبات پر حملوں کی وارننگ جاری کی تھی۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی کو متاثر کیا ہے جبکہ ایران کی جانب سے قطر کی گیس کی تنصیبات پر بدھ کی رات کیے گئے نئے حملے نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ عالمی سطح پر گیس کی سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کو ڈیزل، پٹرول اور آر ایل این جی کی درآمد آبنائے ہرمز کے راستے سے ہوتی ہے اور حالیہ صورتحال کے باعث پاکستان میں ڈیزل و پٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عوام کی مالی مشکلات بڑھی ہیں۔
جہاں تک بات گیس کی ہے تو منگل (17 مارچ) کے روز وفاقی سیکریٹری پیٹرولیم نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ قطر سے ایل این جی کی سپلائی میں تعطل آنے کے باعث اپریل کے وسط سے پاکستان میں ایل این جی کی شدید قلت ہو جائے گی۔ تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اس ضمن میں اقدامات کر رہی ہے۔
اس اعلان کے بعد یہ سوال اہم ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال بدستور کشیدہ رہتی ہے اور تیل و گیس کی سپلائی متاثر رہتی ہے تو کیا پاکستان میں گیس کا بحران پیدا ہو سکتا ہے؟
اور اگر ایسا ہوا تو اس سے گھریلو صارفین، بجلی گھر، کھاد فیکٹریاں اور صنعتی و برآمدی شعبے کس حد تک اور کس طرح متاثر ہوں گے؟
اس سے قبل یہ جان لیتے ہیں کہ فی الوقت پاکستان میں گیس کی سپلائی کی صورتحال کیا ہے اور ملک میں کتنی گیس موجود ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں گیس سپلائی کی کیا صورتحال ہے اور کتنی گیس موجود ہے؟
پاکستان میں گھریلو، تجارتی اور صنعتی شعبے کی گیس کی ضروریات تین ذرائع سے پوری ہوتی ہیں: مقامی قدرتی گیس، درآمدی آر ایل این جی اور مقامی و درآمدی ایل پی جی۔
قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کے تحت پاکستان روزانہ تقریباً 600 ملین کیوبک فٹ آر ایل این جی درآمد کرتا ہے۔ مارچ کے آغاز میں آر ایل این جی کے دو جہاز کراچی پہنچے تھے، لیکن اس کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث چھ جہاز اپنے مقررہ وقت پر پاکستان نہیں پہنچ سکے ہیں جس کے باعث ایل این جی کی سپلائی فی الحال معطل ہے۔
ملک میں اس وقت مقامی گیس کی پیداوار 2700 ملین کیوبک فٹ روزانہ ہے۔
اوگرا کے مطابق پاکستان میں ایل پی جی کا 56 ہزار میٹرک ٹن سٹاک موجود ہے۔ تاہم ایران جنگ اور عمان کی بندرگاہوں کو درپیش مسائل کے باعث ایل پی جی کی درآمد میں بھی گذشتہ دنوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔
واضح رہے کہ مقامی ایل پی جی تیل و گیس فیلڈز کے ساتھ ریفائنریوں میں بھی پیدا ہوتی ہے۔
گیس کی سپلائی یقینی بنانے کے لیے حکومت نے کیا انتظامات کیے ہیں؟
قطر سے آر ایل این جی کی سپلائی معطل ہونے کے بعد وزارتِ پیٹرولیم کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ درآمدی ایل این جی ٹرمینل پر اس وقت 100 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کا سٹاک موجود ہے، جو مارچ کے آخر یا اپریل کے ابتدائی ایام تک کی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔
اُن کے مطابق قطر نے موجودہ حالات کے باعث فورس میجور نافذ کر دیا ہے۔
اہلکار کے مطابق احتیاطی تدبیر کے طور پر مقامی گیس کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے پر فوری کام شروع کر دیا گیا ہے اور کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی اُن فیلڈز کو دوبارہ فعال کریں جو درآمدی ایل این جی کے باعث آف لائن ہوئی تھیں۔
انرجی ماہر فرحان محمود کے مطابق تقریباً 200 ایم ایم سی ایف ڈی مقامی گیس پہلے ہی آف لائن تھی کیونکہ قطر سے آنے والی آر ایل این جی کے باعث ملک میں گیس اضافی ہو گئی تھی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا پاکستان میں گیس کا کوئی بحران پیدا ہو سکتا ہے؟

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ماہرین کے مطابق آر ایل این جی کی سپلائی کی بندش اور ایران سے ایل پی جی کی کم درآمد نے خطرات ضرور پیدا کیے ہیں لیکن اس ضمن میں پاکستان میں بڑے پیمانے پر کسی بحران کا امکان کم ہے۔
پاکستان اپنی ایل پی جی کی درآمد کا 60 فیصد سے زائد ایران سے حاصل کرتا ہے، اور ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق ایران کے اندرونی حالات کے باعث سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ تاہم اوگرا نے قلت کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں روزانہ چھ ہزار میٹرک ٹن کھپت کے مقابلے میں کمی نہیں ہو رہی ہے۔
گیس کے ماہر غیاث پراچہ کے مطابق ملک میں ایل پی جی کا نو دن کا سٹاک موجود ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ سپلائی میں کمی کے باعث قیمتوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے اور فی الوقت یہ ایل پی جی کے حکومتی نرخ یعنی 225 روپے فی کلو سے زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔
اوگرا کا کہنا ہے کہ حکومتی انفورسمنٹ ٹیمیں قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے مختلف شہروں میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔
غیاث پراچہ کے مطابق درآمدی ایل این جی رکنے کے بعد اب مقامی گیس کو ترجیحی بنیادوں پر تقسیم کیا جائے گا۔
فرحان محمود کا کہنا ہے کہ فی الحال کسی بڑے بحران کا خطرہ نہیں کیونکہ پاکستان میں سردیوں کا موسم گزر چکا ہے، جب گیس کی طلب چار ارب کیوبک فٹ روزانہ ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ موسمِ گرما میں یہ طلب کم ہو کر ساڑھے تین ارب کیوبک فٹ رہ جاتی ہے۔
ان کے مطابق مقامی پیداوار کے ساتھ وہ 200 ایم ایم سی ایف ڈی آف لائن گیس بھی سسٹم میں شامل ہو جائے گی، جس سے سپلائی تقریباً تین ارب کیوبک فٹ تک پہنچ سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ سپلائی اور طلب کے فرق سے کچھ مشکلات تو ہوں گی، لیکن ایسا بحران نہیں آئے گا جس سے گھریلو یا صنعتی زندگی مفلوج ہو جانے کا خطرہ ہو۔
گیس کی ممکنہ کمی کی صورتحال سے کون سے شعبے متاثر ہو سکتے ہیں؟

فرحان محمود کے مطابق گیس کے بڑے صارفین میں گھریلو صارفین، فرٹیلائزر فیکٹریاں، پاور پلانٹس اور صنعتی شعبہ شامل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ فرٹیلائزر صنعت کے پاس تین ماہ کا یوریا سٹاک موجود ہے، اس لیے اس شعبے میں کسی فوری بحران کا امکان نہیں۔
ان کے مطابق پاور سیکٹر میں ایل این جی پر چلنے والے بجلی گھروں کے پاس کوئلے پر منتقل ہونے کی صلاحیت موجود ہے، اور نیوکلیئر بجلی کی پیداوار بھی بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے بجلی کے شعبے میں کمی کا اثر کم محسوس ہو گا۔
فرحان محمود کے مطابق گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے صورتحال زیادہ تشویشناک نہیں کیونکہ آف لائن مقامی گیس کی بحالی سے سپلائی بہتر ہو جائے گی۔ تاہم، اُن کے مطابق، البتہ شمالی اور دیہی علاقوں میں ایل پی جی کی درآمد کم ہونے سے صارفین متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے پاس بطور متبادل مٹی کا تیل موجود ہے، جس کی قیمت تقریباً ایل پی جی کے برابر ہے۔
SOURCE : BBC



