SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
زمین شَق ہوئی اور وہ شخص، جس کے خزانوں کی کنجیاں کئی طاقتور آدمیوں پر بھاری تھیں، زمین میں دھنسا دیا گیا۔۔۔
مسحیوں کی مقدس کتاب بائبل میں اِس شخص کو ’قورح‘ کہا گیا جبکہ مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن میں ’قارون‘۔
مفسرین کے مطابق مسلمانوں کی مقدس کتاب میں قارون کا واقعہ (یعنی ایک انتہائی دولتمند شخص کی بنی اسرائیل کی جانب بھیجے گئے پیغمبر حضرت موسیٰ کی مخالفت) بیان کرنے کی وجہ مکہ میں قریش کے امیر کبیر افراد کی پیغمبرِاسلام سے دشمنی تھی۔
قرآن مجید کی 28ویں سورہ ’القصص‘ میں ہے کہ ’(یہ اپنے سازوسامان پر نہ اِترائیں۔ اِنھیں بتاؤ کہ) قارون موسیٰ کی قوم ہی میں سے تھا، پھر وہ اُن کے خلاف سرکش ہو گیا۔‘
اِس سرکشی یا بغاوت کا سبب قورح کا حضرت موسیٰ سے حسد تھا کہ انھیں بنی اسرائیل نے اپنا رہنما مانا اور اُن کے ساتھ ہجرت کر کے مصر سے نکلنے پر تیار ہوئے۔
اس واقعے کے تفصیلات اسلام کے علاوہ مسیحی مذہب سے بھی ملتی ہیں۔
بائبل میں عہد نامہ قدیم کی کتاب ’گنتی‘ میں درج ہے کہ ’قورح بن اضہار بن قہات بن لاوی نے بنی روبن میں سے الیاب کے بیٹوں داتن اور ابیرام اور پلت کے بیٹے اون کے ساتھ مل کر اور آدمیوں کو ساتھ لیا اور وہ اور بنی اسرائیل میں سے 250 اور اشخاص، جو جماعت کے سردار اور چیدہ اور مشہور آدمی تھے، موسیٰ کے مقابل میں اٹھے۔‘
قارون کا خزانہ
قرآن میں ہے کہ ’ہم نے اُس (قورح یا قارون) کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ اُن کی کنجیاں کئی طاقتور مردوں کی جماعت بھی مشکل ہی سے اٹھاتی تھی۔‘
قورح کی دولت کا بیان پہلی صدی عیسوی کے یہودی مؤرخ فلا فیوس یوسفوس نے اپنی کتاب ’اینٹیکویٹیز آف دی جیوز‘ میں کیا ہے اور اسے عبدالماجد دریابادی نے اپنی انگریزی اور بعد میں اُردو زبان میں چھپنے والی ’تفسیر ماجدی‘ میں یوں نقل کیا: ’قورح ایک ممتاز حیثیت کا یہودی تھا، خاندانی حیثیت سے بھی اور اپنی دولت کے سبب بھی۔ اس نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ کو انتہائی بلند عظمت حاصل تھی۔ وہ اس بات سے ناخوش تھا اور اس وجہ سے اس نے حسد کرنا شروع کر دیا (وہ موسیٰ کے قبیلے ہی سے تھا اور اُن کا ایک قرابت دار تھا)۔‘
’اس کو خاص طور پر شکایت یہ تھی کہ وہ اپنی بے انتہا دولت کے سبب اور اس وجہ سے بھی کہ وہ خاندانی وجاہت میں حضرت موسیٰ سے کم نہ تھا، اس معزز منصب کا زیادہ مستحق تھا جو موسیٰ کو حاصل تھا۔‘
یہودی دائرۃ المعارف (جیوِش انسائیکلوپیڈیا) میں لکھا ہے کہ ’قورح کے خزانوں کی کنجیاں 300 خچروں پر لادی جاتی تھیں۔‘
اور یہی دولت قورح یا قارون کی سرکشی اور غرور کا باعث تھی۔
قارون کو تنبیہ
،تصویر کا ذریعہUniversal History Archive/Universal Images Group via Getty Images

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
قرآن میں ہے کہ ’جب اُس کی قوم کے لوگوں نے اُسے نصیحت کی کہ اِتراؤ مت، اِس لیے کہ اللہ اِترانے والوں کو پسند نہیں کرتا اور جو کچھ خدا نے تمھیں دے رکھا ہے، اُس میں آخرت کے گھر کے طلبگار بنو اور اِس دنیا سے اپنا حصہ وہاں لے جانا نہ بھولو اور جس طرح خدا نے تمھارے ساتھ احسان کیا ہے، اُسی طرح تم بھی دوسروں کے ساتھ احسان کرو اور زمین میں فساد کے خواہاں نہ ہو، اِس لیے کہ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘
جاوید احمد غامدی اپنی تفسیر ’البیان‘ میں لکھتے ہیں کہ ’قوم کے دانشمند لوگوں نے نہایت شائستہ الفاظ میں قارون کو تنبیہ کی کہ خدا کی نعمتیں پا کر جو لوگ اُن کے غرور میں خدا ہی کے خلاف اکڑنے کی جسارت کریں، وہ بالآخر خدا کی پکڑ میں آ جاتے ہیں۔‘
جاوید احمد غامدی کے مطابق ’مدعا یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز سراسر خدا کی بخشش ہے، اِسے اپنی میراث اور اپنی قابلیت و استحقاق کا کرشمہ خیال نہ کرو۔ تمھاری ابدی زندگی میں جو کچھ اِس میں سے تمھارے کام آئے گا، وہ اِس کا وہی حصہ ہے جو خدا کی راہ میں خرچ کر کے تم یہاں سے وہاں لے جاؤ گے۔‘
وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’یہ خدا کا احسان ہے کہ اُس نے تمھیں اِس قدر مال و دولت سے نوازا ہے۔ وہ اپنی صفات کا عکس اپنے بندوں میں بھی دیکھنا چاہتا ہے اور اُنھی لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اُس کے بندوں کے معاملے میں اِسی طرح محسن ہو کر زندگی بسر کریں۔‘
اس نصیحت کے بعد قارون نے کیا جواب دیا، اس کا ذکر بھی قرآن میں موجود ہے۔
سورہ القصص میں بیان ہے :’اُس نے جواب دیا: یہ سب تو مجھے میرے ذاتی علم کی بِنا پر ملا ہے۔‘
قرآن کے مطابق ’کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ اللہ اُس سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکا ہے جو قوت میں اُس سے بڑھ کر اور جمعیت میں اُس سے کہیں زیادہ تھیں۔ اِس طرح کے مجرموں سے تو اُن کے گناہوں کے بارے میں سوال بھی نہیں کیا جاتا۔‘
قارون کا انجام
،تصویر کا ذریعہGetty Images
قورح یا قارون کی شان و شوکت سے کچھ لوگ متاثر تھے اور دیگر اس کے انجام سے خائف۔
قرآن میں ہے کہ ’(ایک دن) وہ اپنی شان و شوکت کے ساتھ اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے نکلا تو دنیا کی زندگی کے طلبگار (اُسے دیکھ کر) کہنے لگے کہ جو کچھ قارون کو ملا ہے، اے کاش، ہمیں بھی ملا ہوتا! اِس میں شبہ نہیں کہ وہ بڑی قسمت والا ہے۔‘
’اور جن کو علم کی دولت عطا ہوئی تھی، وہ بول اٹھے کہ شامت کے مارو، جو ایمان لائیں اور اچھے عمل کریں، اُن کے لیے خدا کا اجر اِس سے کہیں بہتر ہے ـــــ (یہی وہ حکمت ہے جس کی ہر شخص کو تمنا کرنی چاہیے) اور یہ اُنھی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔‘
قرآن کے مطابق قارون کا یہ انجام ہوا: ’ہم نے قارون اور اُس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، تو نہ کوئی جماعت اُس کے لیے اُٹھی کہ خدا کے مقابل میں اُس کی مدد کرتی اور نہ وہ آپ ہی اپنے آپ کو بچا سکا۔‘
’اب وہی جو کل اُس کی جگہ ہونے کی تمنا کر رہے تھے، پکار اٹھے: ارے، یہ تو وہی بات ہو گئی (جو ہمیں بتائی جا رہی تھی) کہ اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، روزی کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے، تنگ کر دیتا ہے۔‘
قارون یا قورح کے بارے میں بائبل میں کیا کہا گیا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تلمودی دور کے ربّیوں نے نام ’قورح‘ کی تشریح ’گنجا پن‘ کے معنی میں کی ہے۔ یہ نام قورح کو اس خلا یا نقصان کی وجہ سے دیا گیا جو اس نے اپنی بغاوت کے ذریعے بنی اسرائیل میں پیدا کیا۔
بائبل میں اِس کی تفصیل ہے کہ ’جب قارون کی بغاوت ایک فتنہ بننے لگی تو حضرت موسیٰ نے اُسے اور اُس کے ساتھیوں کو مباہلے (دو لوگوں یا گروہوں کی خود کو حق پر ثابت کرنے کے لیے ایک دوسرے کے خلاف بددعا) کی دعوت دی تاکہ خدا کی جماعت کے لیے خدا ہی کا فیصلہ صادر ہو جائے۔‘
کتاب گنتی میں لکھا ہےکہ ’اور داتن اور ابیرام اپنی بیویوں اور بیٹوں اور بال بچوں سمیت نکل کر اپنے خیموں کے دروازوں پر کھڑے ہوئے۔ تب موسیٰ نے کہا: اِس سے تم جان لو گے کہ خداوند نے مجھے بھیجا ہے کہ یہ سب کام کروں، کیونکہ میں نے اپنی مرضی سے کچھ نہیں کیا۔ اگر یہ آدمی (اشارہ قارون اور اُس کے جتھے کی طرف ہے) ویسی ہی موت مریں جو سب لوگوں کو آتی ہے یا اِن پر ویسے ہی حادثے گزریں جو سب پر گزرتے ہیں تو میں خداوند کا بھیجا ہوا نہیں ہوں۔‘
’پر اگر خداوند کوئی نیا کرشمہ دکھائے اور زمین اپنا منہ کھول دے اور اِن کو اِن کے گھربار سمیت نگل جائے اور یہ جیتے جی پاتال میں سما جائیں تو تم جاننا کہ اِن لوگوں نے خداوند کی تحقیر کی ہے۔‘
’اُس نے یہ باتیں ختم ہی کی تھیں کہ زمین اُن کے پاؤں تلے پھٹ گئی اور زمین نے اپنا منہ کھول دیا اور اُن کو اور اُن کے گھربار کو اور قورح کے ہاں کے سب آدمیوں کو اور اُن کے سارے مال و اسباب کو نگل گئی۔ سو وہ اور اُن کا سارا گھربار جیتے جی پاتال میں سما گئے اور زمین اُن کے اوپر برابر ہو گئی اور وہ جماعت میں سے نابود ہو گئے۔ اور سب اسرائیلی جو اُن کے آس پاس تھے، اُن کا چلانا سن کر یہ کہتے ہوئے بھاگے کہ کہیں زمین ہم کو بھی نگل نہ لے۔‘
کتاب گنتی ہی میں ہے کہ ’بنی اسرائیل میں سے جو لوگ قورح، داتن اور ابیرام (اور ان کے خاندانوں) کے انجام پر ناخوش تھے، انھوں نے حضرت موسیٰ پر اعتراض کیا۔ اس پر خدا نے موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ اس مجمع سے الگ ہو جائیں۔ پھر خدا نے طاعون کے ذریعے 14,700 آدمیوں کو ہلاک کر دیا، جو قورح کی ہلاکت پر اعتراض کرنے کی سزا تھی۔‘
قورح کے بیٹوں کی توبہ
قورح کا ذکر عہدنامہ جدید میں بھی آتا ہے، خاص طور پر یہوداہ کا خط 1:11 میں جس میں لکھا ہے کہ ’افسوس ہے ان پر! وہ قابیل کی راہ پر چلے، لالچ کے باعث بلعام کی گمراہی میں جا پڑے، اور قورح کی بغاوت میں ہلاک ہو گئے۔‘
یہودی شرح مِدراش کے مطابق ’چونکہ قورح کی بغاوت کا اصل ہتھیار اس کا منھ تھا، اس لیے اس کی سزا یہ بنی کہ وہ زمین کے منھ میں نگلا گیا۔‘
کتاب گنتی میں لکھا ہے کہ ’تاہم قورح کے بیٹے نہ مرے۔‘
مِدراش کا بیان ہے کہ ’زمین کے قورح کو نگلنے سے پہلے اس کے بیٹوں نے توبہ کر لی تھی، اسی لیے وہ بچا لیے گئے، اور ان کی اولاد بعد میں ہیکل (معبد) میں گانے والوں میں شامل ہوئی‘ (اوّل تواریخ 6:18)۔
یوں قورح کے بیٹوں کی کہانی توبہ کے ذریعے نجات کی علامت بن گئی، جبکہ قورح کی کہانی ہمیشہ کی ہلاکت اور ابدی سرکشی کی علامت قرار پائی۔
SOURCE : BBC



