Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں عورتوں میں سروائیکل کینسر پیدا کرنے والا وائرس جو مردوں میں سر...

عورتوں میں سروائیکل کینسر پیدا کرنے والا وائرس جو مردوں میں سر اور گردن کے کینسر کی وجہ بن سکتا ہے

6
0

SOURCE :- BBC NEWS

انتھونی

،تصویر کا ذریعہAnthony Perriam

دو بچوں کے والد انتھونی پیریئم نے اپنی زبان تقریباً کھو دی تھی جب ان کے جبڑے کے نیچے ایک چھوٹی کینسر والی گانٹھ دریافت ہوئی۔

انھوں نے گانٹھ محسوس کرنے کے بعد پہلی بار اپنے ڈاکٹر کو دکھایا اور چند ہفتوں بعد ان میں ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) کے باعث سر اور گردن کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔

ایچ پی وی وائرس کا ایک عام گروپ ہے جو جلد کو متاثر کرتا ہے۔

زیادہ تر لوگوں کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا ہے، لیکن ایچ پی وی کی بعض اقسام کینسر یا مسوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

برطانیہ کے علاقے کارڈف میں رہنے والے انتھونی کہتے ہیں،’میں نے صرف سروائیکل کینسر کے تناظر میں ایچ پی وی کے بارے میں سنا تھا۔‘

’میں نہیں جانتا تھا کہ یہ اس طرح کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر مردوں میں۔‘

اس مضمون میں شامل کچھ تصاویر قارئین/ ناظرین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

’میں اپنی زبان کھو سکتا تھا یا مر بھی سکتا تھا‘

ਐਂਥਨੀ

،تصویر کا ذریعہAnthony Perriam

انتھونی نے مزید کہا، ’میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں اب بھی کھا سکتا ہوں اور بول سکتا ہوں، لیکن اگر میں مزید دیر کر دیتا تو میں اپنی زبان کھو سکتا تھا یا مر بھی سکتا تھا۔‘

برطانوی محکمہ صحت این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ جو ایچ پی وی سے متاثر ہوتے ہیں وہ خود ہی اپنے جسم سے وائرس کو صاف کرتے ہیں۔

لیکن یہ وائرس جنسی اعضا پر مسوں یا یہاں تک کہ کینسر کا سبب بن سکتا ہے جو اکثر مردوں میں سر اور گردن کا کینسر اور خواتین میں سروائیکل کینسر ہو سکتا ہے۔

این ایچ ایس 12 اور 13 سال کی عمر کے بچوں اور ایچ پی وی کا زیادہ خطرہ رکھنے والے بچوں کے لیے ویکسین تجویز کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ کو کہیں بھی گانٹھ یا گلٹی محسوس ہوتی ہے، چاہے یہ تکلیف دہ نہ بھی ہو، تو اسے ضرور چیک کروائیں۔‘

’اس قسم کے کینسر کی اطلاع کم ہے، خاص طور پر مردوں میں۔ جلد کارروائی کرنے سے واقعی جان بچائی جا سکتی ہے۔‘

’سب سے پہلی چیز جو ذہن میں آئی وہ میرے دو بچے تھے‘

ਐਂਥਨੀ

،تصویر کا ذریعہAnthony Perriam

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

علامات نہ ہونے کے باوجود مارچ 2023 میں سی ٹی سکین، بائیوپسی اور ایم آر آئی کے ذریعے اس کی بیماری کی تصدیق ہوئی۔

41 سالہ انتھونی کے مطابق، ’اس وقت میرا ایک بچہ تین سالہ اور ایک چھ سال کا تھا۔ میں نے پہلے اپنے بارے میں نہیں سوچا، میں نے ان کے بارے میں سوچا۔ میں پوری طرح سے خوفزدہ تھا۔‘

انتھونی کی گردن سے 44 لمف نوڈس نکالے گئے اور بالآخر روبوٹک سرجری کی مدد سے ان کی زبان کے نیچے کی طرف بنیادی ٹیومر پایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ مجھے بتایا کہ یہ صحیح وقت پر پکڑا گیا ہے۔

’ایک لمف نوڈ پھٹنے ہی والا تھا۔ اگر یہ ہوجاتا تو یہ پھیل سکتا تھا۔ ‘

ریڈیو تھراپی اور کیموتھراپی بہت مشکل تھی اور اس دوران انتھونی کا وزن 22 کلو گرام تک کم ہو گیا۔

انھوں نے کہا کہ ’میرا سارا لعاب خشک ہو گیا تھا۔‘

’یہاں تک کہ پانی پینا بھی مشکل ہو گیا کیونکہ میرے منہ میں ہر چیز پاؤڈر کی طرح بن گئی تھی۔ میں اتنا کمزور ہوگیا کہ مجھے وہیل چیئر کی ضرورت پڑگئی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ریڈیو تھراپی کے لیے وہیل چیئر پر کوریڈور سے گزرنا میری ذہنی صحت کو متاثر کر رہا تھا۔‘

’لیکن میرے خاندان نے مجھے اس سے صحت یاب ہونے کی ہمت دی اور میں اپنی 40ویں سالگرہ منانے کے لیے زندہ رہنا چاہتا تھا۔‘

ایچ پی وی کیا ہے؟

انتھونی

،تصویر کا ذریعہAnthony Perriam

ایچ پی وی وائرس جِلد کو متاثر کرتا ہے اور اس کی 100 سے زیادہ اقسام ہیں۔

یہ جنسی اعضا کے قریب، اندام نہانی، مقعد یا اورل سیکس، اور جنسی کھلونے شیئر کرنے سے جلد سے جلد کے رابطے کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔

اس کی ویکسین ویلز میں قومی حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے تحت دی جاتی ہے اور 12 اور 13 سال کی عمر کے بچوں کو دی جانے پر بہترین کام کرتی ہے۔

یونیورسٹی ہسپتال ویلز کا کہنا ہے کہ جب سے یہ ویکسین 2008 میں متعارف کرائی گئی تھی، اس سے 20 سال کی عمر کی خواتین میں سروائیکل کینسر کی شرح میں تقریباً 90 فیصد تک کمی آئی ہے۔

سندیپ بیری، کنسلٹنٹ اوٹولرینگولوجسٹ اور کارڈف اینڈ ویل ہیلتھ بورڈ کے سر اور گردن کے سرجن نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ٹیکے لگوائیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ایچ پی وی ویکسین دنیا بھر میں برسوں سے استعمال ہو رہی ہے، محفوظ اور موثر ہے اور ویلز میں قومی حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کا حصہ ہے۔‘

’یہ ویکسین لڑکیوں اور لڑکوں دونوں کو صحت مند رکھنے میں مدد کرتی ہے، ایچ پی وی سے متعلق کینسر سے بچاتی ہے اور مجموعی طور پر صحت عامہ کو مضبوط کرتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ ویکسین 8 سال کی عمر میں یا جنسی سرگرمی شروع ہونے سے پہلے دی جاتی ہے کیونکہ یہ تب ہوتا ہے جب مدافعتی نظام بہترین ردعمل ظاہر کرتا ہے۔‘

SOURCE : BBC