Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں عمران خان کا دوسری بار پمز میں علاج: سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن...

عمران خان کا دوسری بار پمز میں علاج: سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟

17
0

SOURCE :- BBC NEWS

عمران خان، آنکھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

27 جنوری 2026

اپ ڈیٹ کی گئی 49 منٹ قبل

مطالعے کا وقت: 11 منٹ

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیراعظم عمران خان کو آنکھ کے علاج کے لیے 23 اور 24 فروری کی درمیانی شب اسلام آباد کے پمز ہسپتال لے جایا گیا۔

پمز ہپستال کی انتظامیہ کے مطابق ’عمران احمد خان نیازی ولد اکرام اللہ خان نیازی (عمر 74 سال) کو 24 فروری 2026 کو آنکھوں کے فالو اپ علاج یعنی دوسری خوراک کے لیے پمز لایا گیا۔‘

ہسپتال کی جانب سے جاری مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انھیں (عمران خان کو) انٹرا وٹریل انجیکشن کی دوسری خوراک لگائی گئی۔ یہ طریقہ کار بطور ڈے کیئر سرجری انجام دیا گیا۔‘

یاد رہے اس سے قبل 12 فروری کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں 16 فروری سے پہلے سابق وزیر اعظم عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔

ہسپتال کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے بعد سابق وزیراعظم کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو ہسپتال لایا گیا اور ان کی آنکھوں کے علاج کے لیے دوسری خوراک دی گئی اور ڈے کیئر سرجری کا یہ عمل رضامندی کے ساتھ انجام دیا گیا۔‘

پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج اور خاندان کو رسائی دینے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ’محض دو لائنوں پر مشتمل سرسری طریقہ کار کی تحریر کسی صورت بھی جامع اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ طبی رپورٹ کا متبادل نہیں ہو سکتی۔‘

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ’ان کے طبی علاج کے حوالے سے مسلسل ابہام اور رازداری عوامی بے چینی میں اضافے اور اس عمل کی شفافیت پر اعتماد کو مزید ٹھیس پہنچانے کا باعث بن رہی ہے۔‘

پمز ہسپتال

،تصویر کا ذریعہPIMS

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

سلمان صفدر نے رپورٹ کے نکات عدالت میں پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان کی صحت اور بالخصوص ان کی آنکھ کی بیماری سے متعلق فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ بہتر ہو گا کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کے خاندان کے کسی رکن کی موجودگی میں کروایا جائے تاہم عدالت نے یہ درخواست منظور نہیں کی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ امراضِ چشم کے ماہرین کی ٹیم جلد ہی اڈیالہ جیل کا دورہ کرے گی اور سابق وزیر اعظم کی آنکھ کا معائنہ کیا جائے گا، جس پر عدالت نے حکم دیا کہ یہ عمل 16 فروری سے پہلے مکمل کیا جائے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ تحریکِ انصاف نے ایک بیان میں ’باوثوق صحافتی ذرائع‘ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کی تشخیص ہوئی ہے اور یہ خبر بھی سامنے آئی تھی کہ عمران خان کو علاج کے لیے اسلام آباد لایا گیا تھا۔

اس پر اسلام آباد کے پمز ہسپتال نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ’دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے کی شکایت‘ پر سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ایک آپریشن تھیٹر میں طبی علاج فراہم کرنے کی تصدیق کی تھی۔

پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر کا ویڈیو بیان، جس کی پریس ریلیز ہسپتال کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے، میں بتایا گیا کہ عمران خان نے دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے کی شکایت کی تھی جس کے بعد ان کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کی تشخیص کی گئی تھی۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی کہا تھا کہ عمران خان کو ’آنکھوں کے ایک معمولی مسئلے کے لیے ہسپتال لے جایا گیا تھا‘ تاہم ان کے بقول ان کی طبی حالت مستحکم ہے۔

وزیرِ اطلاعات نے سوشل میڈیا پر عمران خان کی صحت سے متعلق تشویشناک خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں تاہم سنیچر کے روز انھیں ہسپتال ضرور لے جایا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ ’جیل میں معائنے کے دوران ڈاکٹرز نے بتایا کہ عمران خان کو آنکھوں کے ایک معمولی 20 منٹ کے عمل کے لیے پمز ہسپتال لے جانا ہو گا، جس کے بعد انھیں ہسپتال لایا گیا اور علاج کے بعد واپس جیل بھجوا دیا گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ عمران خان کی حالت ’بالکل ٹھیک ہے اور وہ صحت مند ہیں۔‘

پمز انتظامیہ نے کیا بتایا؟

پمز انتظامیہ کے مطابق ہسپتال کے ایک سینیئر اور تربیت یافتہ آپٹامولوجسٹ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کی آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا تھا۔

’اس معائنے کی بنیاد پر عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کی تشخیص کی گئی اور ہسپتال میں علاج کی تجویز کی گئی۔‘

اس میں کہا گیا کہ عمران خان کو علاج کے لیے ‘سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پمز ہسپتال لایا گیا جس میں مریض کو بتایا گیا کہ انھیں اینٹی وی ای جی ایف انٹرا ویٹریئل انجیکشن لگایا جائے گا۔‘

بیان میں سابق وزیر اعظم کے ’انفارمڈ کنسنٹ‘ کا بھی ذکر ہے۔ پمز انتظامیہ کے مطابق علاج سے قبل عمران خان کو ’معلومات کی فراہمی کے بعد ان کی رضامندی حاصل کی گئی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہ علاج ’طریقہ کار کے مطابق آپریشن تھیٹر میں کیا گیا جس میں تقریبا 20 منٹ لگے۔‘

’علاج کے دوران مریض کی حالت ٹھیک رہی اور انھیں بعد از علاج حفاظتی تدابیر کے ساتھ ڈسچارج کیا گیا۔‘

’عمران خان تک رسائی بنیادی انسانی حق ہے، سیاسی مطالبہ نہیں‘

اس بیان کے بعد تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے ایکس پر اپنے پیغام میں سوال اٹھایا کہ حکومت عمران خان کو فراہم کی گئی طبی مدد کی تفصیلات ان کے اہل خانہ کو کیوں نہیں بتائی رہی؟

ان کا کہنا تھا کہ کیا یہ ضروری نہیں کہ عمران خان کے اہلخانہ اور وکلا کو اس بارے میں مطلع کیا جاتا اور ان کے علاج کی رپورٹس اور ان کے اہلخانہ کو دی جاتیں؟

انھوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ اہلخانہ کو فوری طور پر ان تک رسائی دی جائے اور کہا کہ ’یہ بنیادی انسانی حق ہے، سیاسی مطالبہ نہیں۔‘

اس سے قبل شوکت خانم کی ہسپتال انتظامیہ نے بھی عمران خان تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کا طبی عملہ عمران خان کے علاج کے عمل میں شریک ہونا چاہتا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا بھی کہنا تھا کہ انھیں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی صحت سے متعلق تشویش ہے اور ان سے جیل میں ملاقات نہ ہونے کے باعث ان کی جماعت کے کارکنوں میں ’بے چینی پھیل رہی ہے۔‘

علیمہ خان

،تصویر کا ذریعہPTI/YOUTUBE

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکلا میں شامل فیصل ملک نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان اور بشری بی بی سے ان کے ذاتی معالج سے معائنہ کروایا جائے۔

انھوں نے موقف اختیار کیا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی صحت ٹھیک نہیں جس کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو شدید تشویش ہے۔

فیصل ملک نے اس ضمن میں تحریری درخواست بھی عدالت میں جع کروائی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اڈیالہ جیل میں سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی صحت سے متعلق خدشات لاحق ہیں۔

اس درخواست میں استدعا کی گئی کہ ان دونوں قیدیوں کا طبی معائنہ ان کے ذاتی معالجین سے کروایا جائے۔ اس درخواست میں عمران خان کے تین ذاتی معالجین کا نام لکھ کر عدالت سے ان کے ذریعے معائنہ کروانے کی استدعا کی گئی۔

عدالت نے اس درخواست پر اس مقدمے کے استغاثہ سے جمعے تک جواب مانگ لیا ہے۔

اس مقدمے کے پراسیکیوٹر ظہیر شاہ کا کہنا ہے کہ عمران خان اور بشری بی بی کے وکلا نے تیسری مرتبہ ان دونوں کا ان کے ذاتی معالجین سے طبی معائنہ کروانے کی درخواست دی۔ انھوں نے کہا کہ ابھی تک عدالت نے اڈیالہ جیل کے حکام کو عمران خان اور بشری بی بی کی صحت سے متعلق ریکارڈ یا کوئی دستاویز جمع کروانے کا حکم نہیں دیا۔

’خان صاحب کی آنکھ میں جو بیماری بتائی جا رہی ہے اس کا علاج جیل میں ممکن نہیں‘

بعد ازاں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمید لطیف ہسپتال کے آئی سرجن اور ویٹرو ریٹینا (Vitreo Retina) کے ماہر ڈاکٹر خرم مرزا کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کے معائنے کے لیے اپنا پورا سامان ساتھ لائے تھے ’لیکن جو بیماری خان صاحب کی آنکھ کے حوالے سے بتائی جارہی ہے اس کا علاج جیل کے اندر ممکن نہیں اس کے لیے باقاعدہ آپریشن تھیٹر لے جانا ضروری ہوتا ہے۔‘

ڈاکٹر خرم مرزا کا کہنا تھا کہ چونکہ انھوں نے ابھی عمران خان کا معائنہ نہیں کیا تو اس لیے وہ اس کی کنڈیشن یا پمز ہسپتال میں ان کا جو علاج ہوا ہے اس حوالے سے کچھ نہیں بتا سکے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جیل میں معائنہ کرکے صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا کیونکہ باقاعدہ معائنے کے لے جو مشینری درکار ہے وہ ہسپتال میں ہی ہوتی ہے اس کو یہاں لانا ممکن نہیں۔

تحریک انصاف اور جیل انتظامیہ کے متضاد دعوے

عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کا دعویٰ کرتے ہوئے تحریک انصاف نے کہا تھا کہ ان کی آنکھ کی رگوں میں ’خطرناک رکاوٹ‘ پیدا ہو چکی ہے۔

’ڈاکٹروں کے مطابق یہ نہایت حساس اور سنگین طبی مسئلہ ہے، جس کا بروقت اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل بینائی متاثر ہونے کا شدید خدشہ موجود ہے۔‘

ایک بیان میں پی ٹی آئی کے مرکزی شعبہ اطلاعات کا کہنا ہے کہ ’جیل انتظامیہ ضد پر اڑی ہوئی ہے کہ علاج جیل کے اندر ہی کیا جائے جبکہ معالج ڈاکٹر واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ یہ علاج جیل میں ممکن نہیں اور اس کے لیے آپریشن تھیٹر اور خصوصی سہولیات درکار ہیں۔‘

اس میں مزید کہا گیا کہ آخری مرتبہ سابق وزیر اعظم کو اپنے ذاتی معالج تک رسائی اکتوبر 2024 میں دی گئی تھی۔

’عمران خان کے باقاعدہ میڈیکل چیک اپ سے متعلق ایک پٹیشن اگست 2025 سے عدالت میں زیر التوا ہے۔‘

تحریک انصاف نے حکومت سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ عمران خان کو ’فوری طور پر شوکت خانم ہسپتال یا ان کی مرضی کے کسی بھی معتبر ہسپتال میں علاج کرانے کی اجازت دے، جہاں مکمل سہولیات کے ساتھ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج ممکن ہو۔‘

’ہم عدلیہ سے بھی پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ یہ معاملہ سیاست کا نہیں بلکہ صحت کا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابلِ قبول ہوگی۔‘

بیان میں متنبہ کیا گیا کہ اگر ’عمران خان کی بینائی کو کوئی مستقل نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست حکومت اور جیل انتظامیہ پر عائد ہوگی جو عدالتی احکامات کے باوجود علاج میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔‘

واضح رہے کہ چند ہفتے قبل سابق وزیر اعظم عمران خان کا طبی معائنہ کرنے کے لیے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز کے تین ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا تھا۔

ڈاکٹروں کی اس ٹیم میں میڈیکل سپیشلسٹ کے علاوہ آنکھوں، کان اور گلے کے امراض کے سپیشلسٹ بھی موجود تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہر ماہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم جیل کا دورہ کرتی ہے جہاں پر عمران خان کا طبی معائنہ کیا جاتا ہے۔

جیل اہلکار کے مطابق سابق وزیر اعظم نے کچھ روز قبل اپنی ایک انکھ میں انفیکشن کا ذکر کیا تھا اور دو ہفتے پہلے پمز کے ڈاکٹروں نے عمران خان کا طبی معائنہ کیا تھا جس میں انھوں نے اس انفیکشن کو دور کرنے کے لیے کچھ دوائیاں تجویز کی تھیں جو جیل اہلکار کے بقول ان کو فراہم کر دی گئی ہیں۔

اڈیالہ جیل کے اہلکار کے مطابق ڈاکٹروں کی ٹیم نے مجموعی طور پر عمران خان کو تندرست قرار دیا تھا۔

یاد رہے کہ ستمبر 2025 کے دوران اڈیالہ جیل کے حکام نے عمران خان کی صحت سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے مختلف اوقات میں، کندھے میں درد، کان اور دانت میں انفیکشن سمیت ’ورٹیگو‘ یعنی ’چکر آنے‘ کی شکایت کی جس کا بروقت علاج کیا گیا تھا۔

اڈیالہ جیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کیا ہے؟

برطانیہ میں صحت عامہ کے ادارے این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق معمر افراد میں بینائی کمزور ہونے کی عمومی وجہ ریٹینل وین آکلوژن یعنی پردۂ چشم کی نس میں رکاوٹ پیدا ہونا ہے جس سے وہاں خون کا لوتھڑا بن سکتا ہے۔

آنکھ کے کالے حصے کے پیچھے واقع پتلی تہہ ریٹینا کہلاتی ہے جو کہ پرانے وقتوں کے کیمروں کی فلم جیسی ہوتی ہے۔ نس میں رکاوٹ پیدا ہونے سے آنکھ سے خون یا دوسرے مائع ریٹینا میں لیک ہوتے ہیں جس سے زخم بنتے ہیں، سوجن ہوتی ہے یا آکسیجن کی قلت بھی ہوتی ہے۔ یوں روشنی جذب کرنے والی خلیات کے کام میں خلل پیدا ہوتی ہے اور بینائی کمزور ہوتی ہے۔

این ایچ ایس کے مطابق یہ حالت 60 سال سے کم عمر افراد میں عام نہیں ہے۔

ریٹینل وین آکلوژن کی دو اقسام ہیں جن میں سے ایک سینٹرل رینیٹل وین آکلوژن کہلاتی ہے جس میں رکاوٹ مرکزی نس میں پیدا ہوتی ہے۔ این ایچ ایس کے مطابق اس حالت میں بینائی زیادہ بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔

این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق اس حالت کی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کالیسٹرول، گلاکوما، ذیابیطس، سگریٹ نوشی اور خون کی نایاب بیماریاں شامل ہیں۔

ماہرین کی رائے ہے کہ اس حالت کی جلد تشخیص ضروری ہے تاکہ اس کا علاج ممکن ہو سکے۔

SOURCE : BBC