Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں عمان میں ’انڈین شہریوں‘ کی جان بچانے والے شہزاد خان: ’میری آنکھوں...

عمان میں ’انڈین شہریوں‘ کی جان بچانے والے شہزاد خان: ’میری آنکھوں کے سامنے سانحہ سوات زندہ ہو گیا‘

6
0

SOURCE :- BBC NEWS

شہزاد خان

،تصویر کا ذریعہSHAHZAD KHAN

21 مارچ کو عید کا دوسرا دن تھا لیکن عمان کا دارالحکومت مسقط موسلادھار بارش کی لپیٹ میں تھا۔ مسقط سے تقریباً 45 کلومیٹر دور ولایہ برکاء کے قریب بھی بارش کی وجہ سے ایک پل کے پاس پانی کے تیز بہاؤ نے ٹریفک کو مکمل طور پر روک دیا تھا۔

اسی دوران اچانک ایک گاڑی تیز ریلے میں بہتی ہوئی پل کے نیچے نظر آئی۔ مجمعے میں کھڑے لوگ ابھی یہ منظر دیکھ ہی رہے تھے کہ اسی ہجوم میں شامل ایک نوجوان نے کسی خطرے کی پرواہ کیے بغیر گاڑی میں پھنسے لوگوں کی جان بچانے کی ٹھانی۔

یہ پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے علاقے چارسدہ سے تعلق رکھنے والے شہزاد خان تھے۔ پانی کے تیز بہاؤ کے باوجود جب یہ گاڑی پل کے ایک ستون سے ٹکرا کر رکی تو شہزاد خان نیچے اترے اور گاڑی کے دروازے کا لاک توڑ کر اس کے اندر پھنسے دو افراد کو بحفاظت باہر نکالنے میں کامیاب ہوئے۔

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکی ہے جس میں شہزاد خان کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس واقعے کے عینی شاہدین میں بسم اللہ جان بھی شامل ہیں جو شہزاد خان کے ساتھ ہی موجود تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’وہ میرے ساتھ ہی کھڑا تھا۔ پانی کا تیز ریلا گزر رہا تھا۔ اچانک ہم نے دیکھا کہ ایک گاڑی پانی میں بہہ رہی ہے، اور اگلے ہی لمحے شہزاد اس کی طرف دوڑ پڑا۔‘

’ہم سب نے اسے روکنے کی کوشش کی، مگر وہ نہیں رکا۔ جب گاڑی رکی تو میں نے ہی اسے لاک توڑنے کے لیے پتھر دیے تھے۔‘

شہزاد خان خود کہتے ہیں کہ ’وہاں تین سے چار سو لوگ موجود تھے، مگر پانی کا بہاؤ اتنا شدید تھا کہ کوئی قریب جانے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔‘

’میں خود کو روک نہیں سکا۔ جب گاڑی میرے قریب سے گزری تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص بے بسی سے مدد کے لیے ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔‘

وائرل وڈیو میں کیا ہے؟

اس واقعے کی وائرل ویڈیو میں عمان کی ایک شاہراہ پر واقع پل کے نیچے تیزی سے بہتا ہوا پانی اور اس میں الٹی ہوئی ایک سفید گاڑی نظر آتی ہے۔

پل کے اوپر درجنوں لوگ جمع ہیں، کچھ پریشانی سے نیچے جھانک رہے ہیں اور کچھ مدد کے لیے ہاتھ بڑھائے کھڑے ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ کر پل کے ایک ستون سے ٹکرا کر رک چکی ہے جب بھورے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ایک نوجوان پل کے کنارے سے نیچے اترتا ہے اور گاڑی تک پہنچ کر اندر پھنسے ہوئے شخص تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس دوران پل کے اوپر کھڑے لوگ بھی اس کی مدد کے لیے جھک جاتے ہیں، کچھ لوگ ہاتھ بڑھاتے ہیں تاکہ متاثرہ شخص کو اوپر کھینچا جا سکے۔

شہزاد خان

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

چند لمحوں کی جدوجہد کے بعد، شہزاد گاڑی میں پھنسے شخص کو باہر نکالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ پھر پل پر موجود افراد مل کر اس شخص کو اوپر کھینچ لیتے ہیں۔

’میری آنکھوں کے سامنے سانحہ سوات زندہ ہو گیا‘

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

شہزاد خان نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ عمان میں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق اس دن عید کی وجہ سے وہ دوستوں کے ہمراہ سیر کرنے نکلے اور انھوں نے مچھلی بھی پکڑی تھی۔

’جب میں مچھلی واپس کمرے میں رکھ کر باہر نکلا تو بارش نے تباہی مچائی ہوئی تھی۔ لوگ ولایہ برکاء میں اس پل کے آس پاس کھڑے تھے۔‘

’اچانک میں نے پانی میں بہتی ہوئی گاڑی دیکھی۔ مجھے لگا کہ اس میں ایک ہی شخص ہے مگر بعد میں پتہ چلا کہ دو لوگ تھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جب گاڑی پانی میں بہہ رہی تھی تو میں نے دیکھا کہ اندر موجود ایک شخص بے چارگی سے لوگوں کو دیکھ رہا ہے کہ کوئی تو مدد کرو۔ میری آنکھوں کے سامنے سانحہ سوات زندہ ہو گیا۔‘

شہزاد خان کا کہنا تھا کہ ’سوات سانحہ میں سیاح خاندان کے پانی میں ڈوب جانے کے واقعے اور اس کی ویڈیو نے میرا دل چھلنی کر دیا تھا۔ اگر کوئی چاہتا تو ان کی مدد ہو سکتی تھی۔‘

سوات

،تصویر کا ذریعہFazal Subhan

شہزاد خان کہتے ہیں کہ ’میں نے اسی لمحے سوچا کہ کچھ بھی ہو جائے میں ان کی مدد کروں گا، اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پانی کے بہاؤ میں گاڑی کو روکنا مشکل تھا۔ میں نے ایک دو مرتبہ کوشش کی مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ گاڑی بھی الٹی ہو گئی تو میں چلتا جا رہا تھا اور روکنے کی کوشش کرتا جا رہا تھا کہ گاڑی پل کے ستون سے ٹکرا کر رک گئی تھی۔‘

’پھر میں گاڑی پر اترا۔ مجھے میرے ساتھی بسم اللہ جان نے پتھر دیا کہ لاک توڑو۔ اس پتھر سے لاک نہیں ٹوٹا تو دوسرا پتھر دیا گیا۔ اس کے بعد میں نے خود لاک کھینچا تو ٹوٹ گیا۔ شاہد وہ پتھر کی ضرب سے کمزور ہو چکا تھا۔‘

’پہلے تو میرا خیال تھا کہ گاڑی میں ایک بندہ ہے مگر جب دروازہ کھولا تو دیکھا کہ فرنٹ سیٹ پر دو بندے ہیں۔ ایک بندہ نیچے اور دوسرا اس کے اوپر گرا ہوا تھا۔ دونوں بہت ڈرے ہوئے تھے۔‘

’میں نے پہلے جو بندہ اوپر تھا اس کو گاڑی میں سے نکالا پھر نیچے دبے ہوئے شخص کو نکالا۔ پل کے اوپر بہت لوگ اکھٹے تھے جنھوں نے ان دونوں کو پکڑ کر اوپر پہنچایا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں پر کافی تعداد میں پاکستانی، انڈین اور بنگلہ دیش کے شہری تھے۔ کچھ انڈین میرے ساتھ بھی کام کرتے ہیں جو وہاں موجود تھے۔‘

شہزاد خان

،تصویر کا ذریعہSHAHZAD KHAN

’ان لوگوں نے بتایا کہ یہ دونوں انڈین شہری تھے۔‘ شہزاد خان کا کہنا تھا کہ ’وہ جو کوئی ہوں، اس وقت وہ مشکل کا شکار تھے، اس گاڑی میں کوئی بھی ہوتا میں اس کی مدد کے لیے لازمی جاتا۔‘

عمان میں پاکستان سوشل کلب کے ڈائریکٹر شاندار بخاری کے مطابق بھی شہزاد خان نے جن افراد کی مدد کی وہ انڈین شہری تھے۔ 24 مارچ کی مسقط ڈیلی کی خبر کے مطابق بھی یہ افراد انڈین شہری تھے۔ تاہم بی بی سی ان دونوں افراد کی شہریت کی آزادانہ تصدیق نہیں کر پایا ہے۔

’کوشش کریں گے شہزاد کو اچھی ملازمت مل سکے‘

عمان میں پاکستان سوشل کلب کے ڈائریکٹر شاندار بخاری کہتے ہیں کہ ’کوشش کریں گے کہ شہزاد خان کو کوئی اچھی ملازمت مل سکے۔‘

شہزاد خان کے والد چارسدہ کے علاقے شبقدر میں کریانہ کی دکان چلاتے ہیں۔ شہزاد خان چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں اور انھوں نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی۔

شہزاد خان کا کہنا تھا کہ وہ کچھ عرصہ قبل قرض لے کر عمان آئے تھے۔

’میں دیہاڑی دار مزدوری کرنے کے علاوہ ملازمت تلاش کرتا رہتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ ایک روز مجھے اچھی ملازمت مل جائے گی۔‘

SOURCE : BBC