Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمت، پاکستان حکومت کی مشکل اور...

عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمت، پاکستان حکومت کی مشکل اور اربوں کی سبسڈی: کیا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ ناگزیر ہے؟

6
0

SOURCE :- BBC NEWS

پیٹرول

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیزی کا رجحان ہے اور خام تیل کی قیمت سوموار کے دن 115 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہے۔ تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد یہ مسلسل دوسرا ہفتہ ہے جب پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا۔

ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے بعد پاکستان میں سات مارچ کو پیٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا اور دو ہفتے گزرنے کے باوجود بھی اس وقت پیٹرول 322.17 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

جمعہ کو وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انھوں نے پیٹرول کی قیمت میں 95 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ اس سے قبل گذشتہ ہفتے بھی وزیراعظم نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والا اضافہ عوام کو منتقل کیا جاتا تو پاکستان میں پیٹرول 544 روپے لیٹر اور ڈیزل 790 روپے میں فروخت ہو رہا ہوتا لیکن حکومت کو عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کے لیے حکومت نے عوام کو 125 ارب روپے کا ریلیف دیا ہے۔

سری لنکا، ویتنام اور یہاں تک کے امریکہ میں بھی پیٹرول کی قیمت بڑھی ہے وہیں پاکستان میں حکومت عوام کو ریلیف دے رہی ہے جبکہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہتے ہوئے فنڈ سے اگلی قسط کے حصول کے لیے اُسے مالیاتی ڈسپلن برقرار رکھنا ہے تو پھر حکومت پیٹرولیم منصوعات پر عوام کو کیسے اور کب تک ریلیف کیسے دے سکے گی؟

پاکستان کے وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ حکومت نے جنگ کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا جو ایک ساتھ کافی بڑا اضافہ تھا لیکن ’اس سے فائدہ یہ ہوا کہ سپلائی یا رسد میں خلل نہیں آیا اور حکومت کو بہتر طریقے سے اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کا موقع مل گیا۔‘

آئی ایم ایف

،تصویر کا ذریعہPhotothek via Getty Images

آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود پیٹرول کی قیمت میں ریلیف کیسے ممکن ہوا؟

پاکستان میں حکومت نے گذشتہ دو ہفتوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں پہلے ہفتے 69 ارب اور دوسرے ہفتے 56 ارب روپے کا ریلیف دیا۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہتے ہوئے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا اخراجات کو کم رکھے، سبسڈی نہ دے تاکہ مالیاتی خسارے میں اضافہ نہ ہو ۔

ایسے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مستحکم رکھنے کے لیے عوام کو ریلیف کیسے دیا جا رہا ہے؟

مشیر خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی نہیں دے رہی ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’حکومت نے مختلف اقدامات بشمول کفایت شعاری، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں کمی کے لیے ریموٹ یا گھروں سے کام کرنے جیسے فیصلوں کا اعلان کا اور اس بچت سے عوام کو ریلیف دیا۔‘

حکومت اس وقت تک 125 ارب روپے کا ریلیف دے چکی ہے جس کے لیے 100 ارب روپے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی سے حاصل کیے گئے ہیں جبکہ بقیہ 25 ارب روپے کا انتظام کفایت شعاری کے اقدامات اور بچت کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے۔

رواں مالی سال کے دوران وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ 1000 ارب یا دس کھرب روپے مختص کیا تھا اور جولائی 2025 سے فروری 2026 تک محض 361 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

لیکن اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسی معیشت کے لیے ان غیر معمولی حالات میں زیادہ عرصے تک عوام کو ریلیف دینا ممکن نہیں۔

پیٹرول

،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

طویل جنگ اور غیر معمولی حالات میں ریلیف کب تک ممکن ہے؟

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے جبکہ پاکستان نے رواں مالی سال کے بجٹ اہداف میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل کے مطابق رکھی تھی۔

پاکستان سالانہ 16 سے 18 ارب ڈالر مالیت کا خام تیل درآمد کرتا ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں دس ڈالر فی بیرل کے اضافے سے پاکستان کو تیل کی درآمد پر سالانہ اضافی ڈیڑھ سے دو ارب ڈالر خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

طول پکڑتی مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش خام تیل کی عالمی منڈی میں طلاطم خیز ثابت ہو رہی ہے اور پاکستان جیسی نازک معیشت پر اس کے اثرات ناگزیر ہیں۔

حکومت کب تک عوام کو ریلیف دی سکتی ہے اس بارے میں مشیر وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو حکومت کو قیمتیں بڑھانی پڑیں گی لیکن کم آمدن والے افراد کے لیے حکومت ٹارگٹڈ سبسڈی، پیٹرولم کی راشننگ (کوٹہ) مختص کرنے جیسے آپشنز پر غور کر رہی ہے۔

بی بی سی بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس اگلے چار سے پانچ ہفتوں کی ضرورت کے لیے درکار خام تیل کی سپلائی یا انوینٹری موجود ہے جو کہ ایک اچھی چیز ہے۔

خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو حکومت کو کچھ اقدامات کرنے پڑیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت کے پاس مختلف آپشنز ہیں جن کے ذریعے کم آمدنی والے افراد کو ریلیف دیا جا سکتا ہے جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور موٹر سائیکل رکھنے والے صارفین کے لیے سستے پیٹرول کی فراہمی کے علاوہ مارکیٹیں جلد بند کرنا، دفاتر میں حاضری میں کمی سمیت متعدد آپشنز ہیں جن پر غور کیا جا رہا ہے۔

27 مارچ کو وزیراعظم کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کے اعلان سے چند گھنٹے قبل وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں عوام کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے اور اصلاحات سے متعلق چاروں صوبوں کے وزیر خزانہ اور سینئیر وزرا سے مشاورت کی گئی۔

وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں توانائی کے بحران سے نمٹنے اور عوام کو سبسڈی فراہم کرنے پر غور کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ صوبوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے منصوبے اور تجاویز سے وفاقی حکومت کو آگاہ کریں۔

ایوانِ صدر

،تصویر کا ذریعہPID

اس سے قبل جمعرات 26 مارچ کو ایوانِ صدر میں صدر آصف علی زرادری نے جنگ کے تناظر میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور معیشت پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کی سربراہی کی تھی جس میں وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سمیت کابینہ کے دیگر اہم اراکین نے شرکت کی تھی۔

ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ جنگ کے بعد اقتصادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتفاق رائے سے مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔

دی نیوز سے وابستہ سینیئر صحافی مہتاب حیدر کا کہنا ہے کہ حکومت زیادہ عرصے تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ریلیف دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت کے پاس دو آپشنز موجود ہیں یا تو وہ ’بین الاقوامی قیمتیوں میں ہونا والا اضافہ عوام کو منتقل کر دیں اور دوسرا آپشن یہ ہے کہ کم آمدن والے افراد کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی دے۔‘

بحران سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومتوں پر دباؤ اور ٹارگٹڈ سبسڈی زیر غور

18ویں ترمیم کے بعد سے وفاق کے مقابلے میں صوبوں کے پاس زیادہ وسائل موجود ہیں۔ رواں مالی سال کے دوران وفاق کی جانب سے صوبوں کو 8200 ارب روپے وصول ہوں گے۔ تاہم اب اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاق کو بھی زیادہ رقم کی ضرورت ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی مہتاب حیدر نے بتایا کہ ’حکومت سبسڈی تو دینا چاہتی لیکن اس کی خواہش ہے کہ صوبے بھی اس ریلیف پروگرام میں اپنا حصہ ڈالیں۔‘ ان کے مطابق وفاق نے صوبوں سے کہا ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے لیے 154 ارب روپے دیں جبکہ کم و بیش اتنی ہی رقم وفاقی حکومت دے رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ صوبائی حکومتوں سے کہا گیا ہے وہ موٹرسائیکل اور رکشوں کی تعداد سے متعلق ڈیٹا جمع کریں تاکہ دی جانے والے مجوزہ سبسڈی کی مالیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔

حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق امکان ہے کہ حکومت موٹر سائیکل اور تین پہیوں والی سواری جیسے رکشہ وغیرہ کے لیے مخصوص مدت کے لیے سبسڈی دے۔ اطلاعات کے مطابق وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کیو آر کوڈ پر مبنی ایک سسٹم بنا رہی ہے تاکہ راشننگ اور ٹارگٹڈ سبسڈی ممکن بنائی جا سکے۔

لاہور میں سڑک کنارے بوتلوں میں کھلا پیٹرول فروخت کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ ملک کے تمام رجسٹرڈ پیٹرول پمپس ایک نیٹ ورک کے ساتھ لنک ہیں اور ان کی سیلز اور سٹاک کا ڈیٹا موجود ہے۔

خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کی موجودگی میں حکومت شفاف طریقے سے ٹارگٹڈ سبسڈی دے سکتی ہے۔

آئندہ جمعے تک پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں کو برقرار رکھا گیا ہے لیکن مہتاب حیدر کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے اس سلسلے میں اہم اعلانات سامنے آ سکتے ہیں۔

اُن کے مطابق آئندہ ہفتے صدر، وزیراعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، سبسڈی اور پیٹرول کی راشن بندی سمیت تمام اقدامات کو حتمیٰ شکل دینے کے بعد ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے کوئی حتمیٰ فیصلہ سامنے آئے گا۔

مہنگائی میں اضافہ اور پیداوار میں کمی: جنگ کے پاکستانی معیشت پر اثرات

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اور اقتصادی امور کے ماہر ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ اگر روس اور یوکرین کی جنگ کی طرح یہ جنگ بھی طول پکڑ گئی اور آبنائے ہرمز بند رہی ہے تو ’پاکستان تو کیا دنیا کی معیشت بحران کا شکار ہو جائے گی۔‘

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بتایا کہ ’اگر دس فیصد ایندھن کی قلت ہوتی ہے تو اس سے جی ڈی پی میں ترقی کی شرح دو فیصد تک کم ہو سکتی ہے اور افراط زر یعنی مہنگائی کی شرح 12 سے 15 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔‘

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمت میں اتار چڑھاؤ سے پاکستان کی عوام متاثر ہو رہی ہے۔

اس سے قبل روس اور یوکرین جنگ کے دوران بھی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اچانک غیر معمولی اضافہ ہوا تھا لیکن اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے عالمی منڈیوں میں ہونے والا اضافہ عوام تک منتقل کرنے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دے دی تھی۔ اس دوران پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم ہو گئے تھے۔

مشیر خزانہ خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ ’اب پاکستان قرضے لے کر نہیں بلکہ حکومتی اخراجات میں کمی سمیت دیگر اقدامات کے ذریعے عوام کو ریلیف دیا جا رہا ہے۔‘

ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ ’اگر حکومت پیٹرولیم منصوعات کی قیمت میں دیے گئے ریلیف کو لمبے عرصے تک برقرار رکھتی ہے تو یہ سبسڈی اربوں تک پہنچ جائے گی۔ انھوں نے کہا اگر حالات نہیں بدلتے تو حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’سوال یہ ہے کہ کیا آئی ایم ایف سبسڈی دینے کے معاملے پر حکومت کے ساتھ ہے؟ سبسڈی کے لیے 100 ارب ترقیاتی بجٹ سے کاٹے گئے ہیں تو کب تک حکومت ایسے کر سکتی ہے؟‘

پاکستان معیشت

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق پاکستان میں پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت انڈیا، بنگلہ دیش اور ویتنام کے مقابلے میں زیادہ اس لیے ہے کیونکہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی وصول کر رہی ہے۔

ان کے مطابق ’اگر حکومت کو مزید ریلیف دینا ہے تو وہ لیوی کم کرے اور اپنے خرچے کم کر کے آمدن بڑھائے۔‘ انھوں نے ہائی اوکٹین کی قیمت میں اضافے کو مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیول بڑی اور مہنگی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں ہے لیکن ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی بہتر سطح پر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ کوئی ایسا سسٹم لائے جس کے تحت غریب اور متوسط طبقے یعنی موٹر سائیکل والوں کو ماہانہ 10 سے 15 لیٹر پیٹرول رعائتی قیمت پر دیا جائے۔

ڈکٹر حفیظ پاشا نے خبردار کیا کہ ’اگر جنگ جاری رہتی ہے اور توانائی کی قلت پیدا ہو جاتی ہے تو اس سے معاشی شرح نمو متاثر ہوگی، تجارتی خسارے بڑھے گا اور مہنگائی میں بھی اضافہ ہو گا۔‘

SOURCE : BBC