Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں طیاروں کی تباہی کے بڑھتے واقعات، انڈیا کا بڑی فوجی طاقت بننے...

طیاروں کی تباہی کے بڑھتے واقعات، انڈیا کا بڑی فوجی طاقت بننے کا خواب کیسے متاثر کر رہے ہیں؟

13
0

SOURCE :- BBC NEWS

تیجس

،تصویر کا ذریعہIndian Air Force

گذشتہ مہینے سات فرروی کو انڈیا کے ایک مغربی فضائی اڈے پر ایک تیجس ایم کے ون جنگی جہاز رن وے پر حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔

جہاز کا پائلٹ ایجکٹ کر کے بچ گیا لیکن جہاز اس لا‏ئق نہیں بچا کہ وہ دوبارہ استعمال ہو سکے۔

اس جہاز کو بنانے والی انڈین کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمٹیڈ نے اس حادثے کو ایک ’گراؤنڈ پر ایک چھوٹا سا تکنیکی معاملہ‘ بتایا لیکن اس حادثے کے بعد انڈین فضائیہ نے خاموشی سے 30 تیجس جہازوں کی فلیٹ کو پرواز کرنے سے روک دیا ہے۔

اب ان جہازوں کی باریکی سے تکنیکی جانچ چل رہی ہے۔

یہ تیجس کا تیسرا حادثہ تھا۔ اس سے پہلے اس میں پائلٹ کی بھی جان چلی گئی تھی۔ 2024 میں راجستھان کے جیسل میر کی فضا میں ایک حادثہ ہوا تھا۔ اس میں پائلٹ ایجکٹ کر گیا تھا۔

تیجس

،تصویر کا ذریعہReuters

تیجس جنگی جہاز ایک ایسا فائٹر جیٹ ہے جسے انڈیا نے تیار کیا ہے۔

اس کے کئی ایڈوانس ویریئنٹ مستقبل کے لیے تیاری کے محتلف مرحلوں میں ہیں۔ اسے بنانے کا کام 1981 میں شروع کیا گیا تھا اور پہلی ٹسٹ فلائٹ 2001 میں کی گئی تھی۔

تمام تجربوں سے گزرنے کے بعد اسے 2015 -16 میں فضائیہ میں باضابطہ طور پر شامل کیا گیا۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ کسی بنیادی جہاز کی تیاری کے لیے بہت طویل عرصہ ہے۔ اگرچہ اسے ایک انڈین جہاز کہا جاتا ہے لیکن انڈیا کا دفا‏عی تحقیق کا ادارہ ڈی آر ڈی او اور ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) اس کا انجن نہیں بنا سکے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے انجن، ایویونکس، ریڈار سسٹم اور ہتھیار امریکہ اور اسرائیل سے در آمد کیے جاتے ہیں۔ اس میں امریکی کمپنیوں کے انجن لگے ہوئے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی نے بتایا کہ موجودہ تیجس جنگی جہاز ’ما رک 1‘ ساخت کا ہے۔ اس کے بعد ’مارک 1 اے‘ آنے والا ہے۔ اس کے بعد تیجس مارک 2 بنے گا۔

ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کا سب سے بڑا پروگرام ایڈوانسڈ میڈیم کمبیٹ ایر کرافٹ کی تیاری کا ہے۔ یہ ففتھ جنریشن سٹیلتھ جہاز ہو گا اور اس کے بننے میں ابھی 15 سال لگیں گے۔

حالیہ سالوں میں رونما ہونے والے کئی حادثوں کے بعد تیجس کو پرواز سے روک دینا فضائیہ کے لیے پریشانی کی بات ہے۔

دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کا کہنا ہے کہ ’جب کوئی سنگین مسئلہ ہوتا ہے تبھی کسی جہاز کی پوری فلیٹ کو گراؤنڈ کیا جاتا ہے۔

فضائیہ کے لیے پہلے 87 تیجس کا آرڈر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 190 تیجس کے کئی ویریئنٹ آنے والے تھے۔

اگر اس میں کوئی سنگین نوعیت کے تکنیکی مسائل سامنے آتے ہیں تو یہ فضائیہ کے لیے بہت مشکل پیدا کر دیں گے۔

انڈیا اس کے جدید ساخت کے طیارے پر کام کر رہا ہے۔ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹیڈ نے انڈین فضائیہ کے لیے 2040 تک ففتھ جنریشن طیارے بنانے کا پلان بنا رکھا ہے۔

امریکی کمپنی جی ای کی جانب سے تیجس کے لیے انجن کی سپلائی میں تاخیر کے بعد انڈیا نے فرانس کی کمپنی ’سیفران‘ سے انجن کی خریداری اور ملک کے اندر سو سے زیادہ انجنوں کی تیاری کے لیے ٹیکنالوجی کے ٹرانسفر پر بات چیت شروع کر دی ہے۔

امریکہ اور چین کے پاس پہلے سے ہی ففتھ جنریشن جنگی جہاز موجود ہیں اور وہ سکستھ جنریشن اور اس سے آگے کے جہاز بنانے میں مصروف ہیں۔

انڈیا کے پاس فی الوقت ففتھ جنریشن جنگی جہاز نہیں ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکہ کے دورے کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایف-35 جہازوں کی فروخت کی پیشکش کی تھی۔

لیکن اس جہاز کی قیمت اور اسے چلانے کا خرچہ بہت زیادہ ہے۔ انڈیا کو روس کے ایس یو 57 ففتھ جنریشن فائٹر جیٹ میں دلچپسی ہے۔

اس پر کافی بات چیت بھی ہو چکی ہے۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کی ناراضگی اور پابندی کے اندیشے سے یہ بات چیت مزید آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔

انڈیا اپنے اعلیٰ معیار کے جنگی ساز وسامان کے لیے امریکہ روس، فرانس اور اسرائیل پر انحصار کرتا ہے۔

اس کا فضائی دفا‏عی نظام ایس-400، سخوئی اور مگ ساخت کے جنگی طیارے اور بیشتر ٹینک روس سے آتے ہیں جبکہ سب سے نیا جہاز رفال فرانس سے خریدا گیا ہے۔

جنگی الکیٹرانکس، ریڈار سسٹم، میزائل اور اٹیک ڈرونز اسرائیل سے لیے جاتے ہیں، جنگی جہازوں کے انجن، اپاچے اورچینوک ہیلی کاپٹر اور ان کے ہتھیار اور ڈرونز امریکہ سے آتے ہیں۔

انڈیا فوری طور پر جنگی ضرورتوں کو غیر ممالک سے سامان حاصل کرنے اور آنے والے دنوں میں ملک کے اندر ایڈوانسڈ جںگی جہاز وغیرہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کے منصوبوں کے ذریعے رفتہ رفتہ غیر ممالک پر اپنا انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ابھی چھ مارچ کو روسی ساخت کے ایڈواسنڈ سخوئی ایس یو 30 ایم کے آئی کا بھی ایک فائٹر جیٹ جورہٹ کے فضائی اڈے کے نزدیک حادثے کا شکار ہوا تھا۔

فضائیہ سخوئی ایس یو ساخت کے جہازوں کے حادثوں کی بھی گہرائی سے جانچ کر رہی ہے۔

دفا‏عی ماہرین کا کہنا ہے کہ عسکری ضرورت کے مطابق اس وقت انڈین فضائیہ کے پاس کم سے کم 42 سکوارڈن جہاز ہونے چاہیئں۔

ایک سکوارڈن میں 18 سے 20 جہاز ہوتے ہیں۔ اس وقت انڈیا کے پاس صرف 29 سکواڈرن بچے ہیں۔ ان میں چھ سکواڈرن جیگور جہاز بھی شامل ہیں جو بہت پرانے ہو چکے ہیں اور ایک دو برس میں ریٹائر ہو جائیں گے۔

اس مرحلے پر اگر تیجس میں بھی کوئی دقت پیش آگئی تو فضائیہ کی مشکلیں بہت بڑھ جائیں گی۔

تیجس

،تصویر کا ذریعہReuters

انڈین فضائیہ نے فرانس سے 114 رفال جنگی جہاز خریدنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ان کی ابتدائی ڈیلیوری ہونے میں بھی کئی سال لگ جائیں گے۔

مقتدر خان امریکہ کی ڈیلیویریونورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے پروفیسر ہیں۔

انھوں نے انڈیا کے اخبار ’دی ہندو‘ میں ایک مضمون میں لکھا ہے کہ تیجس جہاز کو گراؤنڈ کرنا، سکواڈرن کی مسلسل گھٹتی تعداد اور آپریشن سندور کے آپریشنل سبق اجتماعی طور پر انڈیا کی فضائی طاقت کی بنیاد کی کمزوریوں کو اجاگر کرتے ہیں۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ ’یہ صرف گراؤنڈ کیے گئے جہازوں کی تعداد کا معاملہ نہیں ہے، یہ سٹریٹیجک طور پر معتبر ہونے کا سوال ہے۔ فضائی طاقت جنگ نہ ہونے دینے، جنگ میں شدت سے لڑنے اور علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔‘

’انڈیا بڑی طاقت کے درجے کی بات کرتا ہے۔ اگر اسے یہ درجہ حاصل کرنے کی تمنا ہے تو اس کے لیے ایک قابل اعتبار، دیرپا اورٹیکنالوجی کے اعتبار سے بہت ایڈوانسڈ فضائی صلاحیت حاصل کرنا ناگزیر ہے۔‘

’جب تک کہ تعداد، جدید کاری کے عمل، تکنیکی گہرائی اور اعلیٰ معیار کے ملکی پروڈکشن کے درمیان جو فرق ہے اسے ایک منظم اور منصوبہ بند طریقے سے دور نہیں کیا جاتا تب تک انڈیا کی عسکری خواہشات اس کی فضائی طاقت کی سمٹتی حدود سے متاثر ہوتی رہیں گی۔‘

SOURCE : BBC