Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’سیکس کرنسی‘: بچوں کی پیدائش کے بعد میاں، بیوی ایک دوسرے سے...

’سیکس کرنسی‘: بچوں کی پیدائش کے بعد میاں، بیوی ایک دوسرے سے محبت کیسے قائم رکھ سکتے ہیں؟

15
0

SOURCE :- BBC NEWS

Getty Images

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ریبیکا گذشتہ دس برسوں سے اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی ہیں لیکن پچھلے تین سالوں میں تین بچوں کی پیدائش کے بعد وہ ان سے ’دور‘ ہوگئی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم صرف ساتھ رہ رہے ہیں، ہم ایک جوڑا نہیں ہیں بلکہ صرف والدین ہیں۔‘

متعدد دیگر والدین کی طرح ان دونوں کو بھی ساتھ وقت گزارنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

ریبیکا کہتی ہیں کہ ’ہمارے بچے بہت چھوٹے ہیں اور بہت توجہ کے طالب رہتے ہیں اور ایسے میں پانچ منٹ نکالنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ دن ختم ہونے تک ہم دونوں ہی بہت تھک چکے ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان کا اپنے شوہر کے ساتھ رشتہ اس وقت تبدیل ہوا جب ان کے گھر پہلے بچے کی پیدائش ہوئی۔

’جب ہم نے پہلے بچے کی منصوبہ بندی کی تو ہمیں معلوم تھا کہ ہماری زندگی میں تبدیلی آئے گی لیکن ہم نے اس معاملے کی سنگینی کو نہیں سمجھا اور ہمیں امید نہ تھی کہ اتنا سب کچھ تبدیل ہو جائے گا۔‘

ریبیکا کے لیے صورتحال اس لیے بھی مشکل تھی کہ وہ پہلے مستقل ملازمت کیا کرتی تھیں اور اب صرف ایک ماں بن کر رہ گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اکثر اپنے شوہر کے ساتھ اپنے جذبات شیئر کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

’ان (شوہر) کی زندگی اب بھی ان ہی کی زندگی ہے۔ انھیں نظر آتا ہے کہ گھر پر میرے لیے صورتحال کتنی مشکل ہے، انھیں معلوم ہے کہ اس سے ہمارا رشتہ متاثر ہو رہا ہے لیکن وہ اس پر کبھی بات نہیں کرتے۔ ‘

A man with a yellow shirt and a brown hair, a woman with blonde hair and a red shirt and a young child with blonde hair and navy jumper sat at a dinner table. The man and woman look aloof and the child is staring down at his plate.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سائیکوسیکچوئل اور ریلیشن شپ تھراپسٹ کیٹ موئل کہتی ہیں کہ والدین بننے کے بعد رشتوں میں تبدیلی آنا بالکل معمول کی بات ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کوئی بھی چیز آپ کو والدین بننے کے لیے تیار نہیں کر سکتی۔ آپ سوچتے ہیں کہ آپ ایک جوڑے کے طور پر ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور پھر اچانک وہ سب کچھ جو آپ سمجھتے تھے کہ آپ کسی کے بارے میں جانتے ہیں، ختم ہو جاتا ہے۔‘

ابتدائی برس عام طور پر نئے والدین کے لیے سب سے زیادہ مشکل ہوتے ہیں اور مطالعات ظاہر کرتے ہیں کہ بچے کی پیدائش کے بعد پہلے تین سالوں میں رشتوں میں عدم اطمینان اکثر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

کیٹ کہتی ہیں کہ اپنے رشتے کو بہتر بنانے کے لیے تبدیلیاں کرنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ بچوں کی پیدائش سے پہلے کی زندگی کو واپس لایا جائے، بلکہ اس کا مقصد خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنا ہونا چاہیے۔

’زندگی دوبارہ پھر کبھی ویسی نہیں ہوگی جیسی کہ پہلی تھی لیکن اب ہمیں اس کے بارے میں ایک نئے انداز سے سوچنا چاہیے۔‘

گلے لگنے اور بوسوں کے لیے وقت نکالیں

کیٹی مشورہ دیتی ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کے بارے میں سوچیں جیسے آنکھوں کا ملنا یا لمس، جو آپ دن کے دوران ایک ساتھ وقت گزارتے ہوئے کر سکتے ہیں تاکہ آپ کو دوبارہ محسوس ہو کہ آپ ایک جوڑا ہیں۔

’ہم اپنی دنیا میں اسے ’سیکس کرنسی‘ کہتے ہیں، جس کا مطلب ہے ایک دوسرے کا ہاتھ دبانا، گلے لگانا، بوسہ دینا یا کوئی بھی چیز جو آپ کو ایک دوسرے سے جُڑا ہوا محسوس کروائے۔‘

’اور جب ہمیں ایسے مواقع ملیں تو باقی سب کام کچھ چھوڑ دیں اور صرف اسی کو ترجیح دیں۔‘

کیٹ کہتی ہیں کہ ایسے چھوٹے چھوٹے اقدامات آپ کے رومانوی رشتے کو بہتر بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ایک بوسہ یا ایک لمس کبھی کبھار رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے کسی پُل کا کام کر سکتا ہے۔

جذبات کا کھل کر اظہار کریں

کیٹ یہ بھی تجویز کرتی ہیں کہ کسی پُرسکون لمحے میں ایمانداری سے یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہمارا رشتہ کس طرح چل رہا ہے۔

’یہ توجہ ہی وہ چیز ہے جس کی ہمیں اکثر کمی محسوس ہوتی ہے۔ ہم خود کو الگ سا محسوس کرتے ہیں اور پھر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا ساتھی بھی الگ محسوس کرتا ہے اور یوں ہمارے درمیان ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے۔‘

کیٹ کہتی ہیں کہ دوستیوں اور خاندانوں کی طرح آپ کو اپنے رشتے کی بھی مسلسل پرورش کرنی چاہیے، ایسا نہ ہو کہ آغاز میں آپ اس پر بہت توجہ دیتے ہوں اور بعد میں یہ توجہ بالکل غائب ہو جائے۔

بچوں کی عدم موجودگی میں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں

ریلیشن شپ کوچ اور مصنف سیم اوون کہتی ہیں کہ بچوں کی پیدائش کے بعد ’اکثر دوبارہ ایک دوسرے کو جاننے کی ضرورت‘ ہوتی ہے اور اس کے بعد اکیلے باہر جانا اور بچوں کے علاوہ دیگر موضوعات پر بات کرنا مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ آپ مساج ڈیٹس پر جا سکتے ہیں، کسی ہوٹل میں قیام کر سکتے ہیں جہاں بچوں کی دیکھ بھال کی سہولت ہو، کوئی کھیل کھیل سکتے ہیں یا پھر ساتھ مل کر مزیدار سا کھانا بھی بنا سکتے ہیں۔

’یہ کوششیں عادات میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور پھر یہ آپ کے رشتے کا مستقل حصہ بن جاتی ہیں۔‘

سیم کے مطابق جسمانی قربت بھی اہم چیز ہے۔

’یہ ایک ایسی گوند ہے جو آپ کے رشتے کو جوڑے رکھتی ہیں، اس سے آپ کے درمیان بات چیت بہتر ہوتی ہیں اور تنازعات میں کمی آتی ہے۔‘

Couple

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سی بیبیز پیرنٹنگ ہیلپ لائن سے اپنے رشتے کے بارے میں بات کرنے کے بعد ربیکا کہتی ہیں کہ وہ اور ان کے شوہر نے اپنے رشتے کو بہتر بنانے کے لیے کئی مختلف چیزیں کی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اب وہ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ مل کر کھانا کھائیں اور وہ بھی فون استعمال کیے بغیر اور ان کے مطابق اس سے بات چیت زیادہ آسانی سے اور بغیر کسی خلل کے جاری رہتی ہے۔

وہ اس بات کو بھی یقینی بناتے ہیں بچوں کے سونے ک بعد انھیں تنہائی میں کچھ وقت میسر آئے اور اکثر وہ کوئی فلم یا ٹی وی دیکھتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ اب انھیں ساتھ آرام کرنے کے لیے وقت مل جاتا ہے۔

ریبیکا کہتی ہیں کہ ’رشتوں پر محنت کرنی پڑتی ہے۔ اگر آپ دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیشہ ایک دوسرے تک واپس پہنچنے کا راستہ ڈھونڈ لیں گے۔ مشکل بات چیت سے نہ گھبرائیں اور مضبوطی سے اپنے رشتے میں قائم رہیں۔‘

SOURCE : BBC