SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
-
- مصنف, کیٹی فالکنگھم
- عہدہ, بی بی سی سپورٹ
-
53 منٹ قبل
رواں برس جنوری میں جرمن اخبار بِلڈ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سکی جمپرز مقابلوں میں چھلانگ لگانے کے لیے استعمال ہونے والے سوٹ کی پیمائش سے قبل اپنے عضو تناسل میں ہائیلورونک ایسڈ کے انجیکشن لگا رہے ہیں۔
اب عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کا کہنا ہے کہ اگر انھیں بات کے شواہد مل جاتے ہیں کہ مرد سکی جمپرز مقابلوں کے دوران اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اپنے عضو تناسل میں انجیکشن لگا رہے ہیں تو اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز ہو سکتا ہے۔
لیکن یہ معاملہ ہے کیا؟
ویسے تو کھیلوں میں ہائیلورونک ایسڈ کے استعمال پر پابندی نہیں۔ جرمن اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ہائیلورونک ایسڈ کے انجیکشن کی مدد سے عضو تناسل کی موٹائی کو ایک سے دو سینٹی میٹر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
اس سے کھلاڑیوں کی جانب سکی مقابلے کے دوران استعمال کیے جانے والے ان کے سوٹ کی کُل سطح کا رقبہ بڑھ جائے گا۔ بین الاقوامی سکی اور سنو بورڈ فیڈریشن ایس آئی ایس کے مطابق، سوٹ کا سائز بڑھنے سے سکی جمپر کو ہوا میں اپنی پرواز کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایف آئی ایس کے سکی جمپنگ کے مردوں کے مقابلے کے ڈائیریکٹر سینڈرو پرٹائل کہتے ہیں سوٹ کے ہر ایک اضافی سینٹی میٹر سے بہت فرق پڑتا ہے۔ ’اگر آپ کے سوٹ کی سطح کا رقبہ محض پانچ فیصد بڑھ جائے تو آپ زیادہ دوری تک پرواز کر پائیں گے۔‘
جب میلان کورٹینا سرمائی اولمپکس میں ایک پریس کانفرنس میں عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اولیور نگلی سے بِلڈ کی رپورٹ میں کیے گئے دعووں کے متعلق سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں سکی جمپنگ کی تفصیلات سے واقف نہیں، اور مجھے نہیں معلوم کہ اس سے کارکردگی کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔‘
’اگر کچھ بھی سامنے آتا ہے، تو ہم اسے دیکھیں گے اور دیکھیں گے کہ آیا اس کا تعلق ڈوپنگ سے ہے۔ ہم کارکردگی کو بڑھانے کے دوسرے (غیر ڈوپنگ) ذرائع پر توجہ نہیں دیتے۔‘
واڈا کے پولش صدر ویٹولڈ بینکا اس سوال سے کافی محظوظ دکھائی دیے۔ انھوں نے ازراہِ مذاق کہا کہ ’پولینڈ میں سکی جمپنگ بہت مشہور ہے اس لیے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس معاملے کو ضرور دیکھوں گا۔‘
ایف آئی ایس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر برونو سیسی نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا کہ ’ثبوت چھوڑیں، ایسے کوئی اشارے بھی نہیں ملے کہ کسی بھی کھلاڑی نے مسابقتی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہائیلورونک ایسڈ کے انجیکشن کا استعمال کیا ہو۔‘
،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ہر سیزن کے آغاز سے قبل تھری ڈی سکینر کے ذریعے سکی جمپرز کے جسم کی پیمائش کی جاتی ہے۔ اس پیمائش کے دوران انھیں صرف ’لچکدار، باڈی ٹائٹ انڈرویئر‘ پہننے کی اجازت ہوتی ہے۔
قواعد و ضوابط کے مطابق، کسی بھی کھلاڑی کے سوٹ میں محض دو سے چار سینٹی میٹر کی گنجائش ہو سکتی ہے۔ پیمائش کے عمل کے دوران کھلاڑیوں کی ٹانگوں کے درمیانی حصے کے بھی پیمائش کی جاتی ہے۔
مرد کھلاڑیوں کے لیے ان کے ٹانگوں کے درمیان کی جگہ اور ان کے سوٹ میں ٹانگوں کے درمیان کی جگہ میں تین سینٹی میٹر سے زیادہ کا فرق نہیں ہونا چاہیے۔
ہائڈرولونک ایسڈ کے استعمال سے عضو تناسل میں آنے والا بدلاؤ کا اثر تقریباً 18 ماہ تک رہ سکتا ہے۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ سکی سوٹ میں ہیرا پھیری کر کے کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوششیں کی گئی ہوں۔
گذشتہ برس اگست میں، ناروے سے تعلق رکھنے والے اولمپک فاتح ماریئس لِنڈوِک اور جوہان آندرے فورفانگ نے مارچ میں ناروے کے ٹرنڈہیم میں ورلڈ سکی چیمپئن شپ میں مردوں کے مقابلے کے دوران سوٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام میں تین ماہ کی معطلی قبول کی تھی۔
بعد ازاں معلوم ہوا دونوں کھلاڑی خود سوٹ کے ساتھ کی جانے والی اس چھیڑ چھاڑ سے واقف نہیں تھے۔ تاہم ایف آئی ایس کا کہنا تھا ان کی ٹیم نے کھلاڑیوں کے جمپ سوٹ میں مضبوط دھاگہ استعمال کر کے ’سسٹم کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے۔‘
SOURCE : BBC



