Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں سمے رائنا کی سٹیج پر واپسی، وہ انڈین کامیڈین جن کا کریئر...

سمے رائنا کی سٹیج پر واپسی، وہ انڈین کامیڈین جن کا کریئر کسی دوسرے شخص کے لطیفے کے سبب داؤ پر لگا

21
0

SOURCE :- BBC NEWS

Dressed in a black-red check shirt, Samay Raina looks into the camera while holding a mic in his left hand

،تصویر کا ذریعہSamay Raina via YouTube

یہ کہانی ایک ایسے کامیڈین سے متعلق ہے جن کا کیریئر ایک تنازع کے بعد تقریباً ختم ہو گیا تھا مگر اب وہ دوبارہ سٹیج پر جلوہ گر ہو گئے ہیں۔

جی ہاں بات ہو رہی ہے انڈین کامیڈین سمے رائنا کی جو کئی ماہ کے وقفے کے بعد اب ایک بار پھر سادہ سے حلیے میں بکھرے بالوں کے ساتھ سٹیج پر نمودار ہوئے ہیں۔

چیک دار قمیض پہنے سمے رائنا سٹیج پر لبوں پر ایسی مسکراہٹ دبائے کھڑے ہیں جیسے کوئی لطیفہ اُن کی زبان پر آنے کو تیار ہو اور ان کے سامنے موجود ناظرین اُن کے بولنے سے پہلے ہی ہنسنے لگتے ہیں۔

ایک سال پہلے تک سمے رائنا کا شمار انڈیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کامیڈی دنیا کے نمایاں فنکاروں میں ہوتا تھا۔ اُن کے پاس آن لائن لاکھوں ناظرین تھے اور انڈیا کے ساتھ دنیا بھر میں اُن کے شوز ہاؤس بھر جاتے تھے۔

اُن کا یوٹیوب شو India’s Got Latent ٹیلنٹ مقابلوں کا ایک بے ترتیب مگر پرجوش پیروڈی شو تھا، جس میں کھلے اور فی البدیہہ مزاح کو ملا کر سٹریمنگ کلچر پر انحصار کرنے والی نسل کی سوچ کو ٹارگٹ کیا گیا تھا۔

پھر اس وقت اچانک سب کچھ الٹ پلٹ گیا جب شو میں کسی اور کے کہے لطیفے نے ان کے شو کو تنازع کا شکار کر دیا۔

اس مشکل کی شروعات اُس وقت ہوئی جب مہمان پوڈکاسٹر رنویر اللہ بادیا، جو اپنے لاکھوں فالوورز کے لیے بیئر بائیسیپس کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے ایک امیدوار سے ایک نازیبا اور سخت تنقید پر مبنی سوال کیا۔

پولیس میں درج شکایات میں فحاشی پھیلانے کا الزام لگایا گیا اور سمے رائنا سمیت شرکا کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

معاملہ اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب رائنا کے ایڈیٹر کو گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد اُنھیں پوری سیریز ہٹانی پڑی۔

یہ تنازع اُن کے کریئر کو تقریباً ختم کر گیا۔ کئی ماہ تک وہ کیمرے سے دور رہے اور عوام میں جانے سے گریز کیا۔

اب 29 سالہ کامیڈین کی دوبارہ واپسی ہو گئی ہے اور دوبارہ شہرت پانے کے لیے وہ اسی مزاح کا سہارا لے رہے ہیں جس نے انھیں پس منظر میں جانے پر مجبور کیا تھا۔

رواں ہفتے اُنھوں نے سٹل الائیو کے نام سے ایک یوٹیوب پر شو ریلیز کیا جسے ناقدین اُن کا اب تک کا سب سے بہترین کام قرار دے رہے ہیں۔

یہ شو مزاح اور غور و فکر کا امتزاج ہے جس میں وہ کام میں وقفے اور آن لائن شہرت کی غیر یقینی کیفیت کو سامنے لائے ہیں۔

اس میں انھوں نے بتایا کہ آج کے انٹرنیٹ کلچر میں عوامی شناخت بنانے کا مطلب کیا ہے، سب کچھ کھو دینے کا عذاب کیسا ہے اور اس سب کے دوران وہ کس قدر کمزور محسوس کرتے رہے۔

ایک وقت میں بے باک اور نڈر سمجھے جانے والے سمے رائنا کا مزاح اب ایک خاموش اداسی پر مبنی ہے مگر اُس کی ٹائمنگ بالکل درست ہے، جیسے کسی نے زندہ رہنے کے گُر سیکھ لیے ہوں۔

وہ طنزیہ انداز میں کہتے ہیں ’مجھے ہمیشہ معلوم تھا کہ ایک دن میرے خلاف ایف آئی آر درج ہوگی۔ بس یہ نہیں سوچا تھا کہ یہ میرے کچھ نہ کہنے پر ہوگی۔‘

Ranveer Allahbadia during his podcast. He is wearing a light pink polo shirt and is sitting in front of a mic in a warmly lit studio with yellow interiors.

،تصویر کا ذریعہBeerbiceps via YouTube

سمے رائنا کے کامیڈین بننے کا سفر اتنا آسان نہ تھا۔ ممبئی اور بنگلور جیسے شہروں کے چھوٹے کلبوں میں تربیت پانے والے سٹینڈ اپ کامیڈینز کے برعکس رائنا نے اپنا سفر انٹرنیٹ کے ذریعے شروع کیا۔

وہ شطرنج کے ایسے کھلاڑی تھے جس نے کووڈ کی عالمی وبا کے دوران آن لائن گیمز کی سٹریمنگ کرنا شروع کی۔

شروع میں یہ صرف شطرنج پر مرکوز سیشنز تھے لیکن وقت کے ساتھ یہ زیادہ آزاد انداز میں بدلتے گئے۔ رائنا کھیل کے دوران لطیفے سناتے، خود پر طنز کرتے اور براہِ راست لائیو چیٹ میں بات کرتے۔

ہندی اور انگریزی میں سنائے گئے ان کے لطیفے طنز سے بھرے اور روزمرہ مشاہدات پر مبنی ہوتے، جس نے انھیں مختصر وقت میں بہت بڑی تعداد میں فالوورز دیے۔

اُن کی اگلی منزل ’انڈیاز گاٹ لیٹنٹ‘ نامی ایسا شو تھا، جس میں انھوں نے اپنے ہی تصور کا مذاق اُڑانے کا حوصلہ دکھایا۔

شرکا ہنسی کے لیے پرفارم کرتے اور ججز ان کے ساتھ بے رحمی سے پیش آتے۔ اس کی پروڈکشن بے ترتیب تھی۔ کامیڈی کا انداز کھردرا، بے قابو اور گالیوں سے بھرا ہوا تھا، جس نے کچھ لوگوں کو ناراض کیا لیکن لاکھوں مداحوں کو بہت پسند آیا۔

مہمانوں کی فہرست بھی شو کی طرح قدرے مختلف تھی جس میں کامیڈینز، یوٹیوبرز، شطرنج کے کھلاڑی اور انٹرنیٹ پر موجود مختلف شخصیات، سب رائنا کے گرد کھنچے چلے آتے۔

برسوں سے ٹی وی کی یکساں انداز کی کامیڈی کے عادی ناظرین کے لیے اس میں بجلی کی لپک تھی۔ یعنی ایک ایسا مزاح جو سینسرشپ سے آزاد، بے ترتیب، جری اور ریئل ٹائم میں زندہ تھا۔ یہی اس کی کشش تھی اور آخرکار یہی اس کی کمزوری بھی بنی۔

جب اللہ بادیا والا معاملہ تنازع کا باعث بنا تو اس کا ردعمل فوری آیا۔ سمے رائنا کا یوٹیوب چینل خاموش ہو گیا۔ ساتھی فنکار دور ہو گئے اور کچھ مداح بھی مایوس ہوئے۔

اگلے چند ماہ وہ زیادہ تر عوامی نظروں سے دور رہے۔ دوست اور مداح اُن کی غیر موجودگی پر قیاس آرائیاں کرتے رہے اور انڈیا کی کامیڈی دنیا میں اُن کا نام آن لائن شہرت کے خطرات کی علامت بن گیا۔

Samay Raina poses gleefully with his mum and dad inside a car. He and his father are wearing matching red-black check shirts, while his mum is wearing a purple tunic and scarf with golden threadwork.

،تصویر کا ذریعہSamay Raina via Instagram

اپنے نئے شو ’سٹل الائیو‘ میں رائنا اس وقفے پر خود پر طنز اور مزاح کے ساتھ بات کرتے ہیں۔

وہ ہتکِ عزت کے مقدمے، لاتعلق ہو جانے والے دوستوں اور سوشل میڈیا کے دور میں، جہاں آپ کی حیثیت ریئل ٹائم نمبروں سے ناپی جاتی ہے، منقطع ہونے کی تنہائی پر لطیفے سناتے ہیں۔

شو کے ایک زیادہ جذباتی لمحے میں رائنا نے پرفارمنس سے پہلے گھبراہٹ سے لڑنے کی بات کی اور اس بات کا اظہار کیا کہ سٹیج پر واپس آنے کا دباؤ انھیں جسمانی طور پر ہلا دیتا تھا۔

اُن کے خود کو ’ٹوٹا ہوا‘ محسوس کرنے اور اپنی ماں کے فون کا جواب دینے میں مشکل کا ذکر کرنے والے کلپس اب وائرل ہو چکے ہیں۔

سمے رائنا کے ساتھ پیش آنے والا تلخ تجربہ انڈیا کی کامیڈی دنیا میں ایک بڑے بدلاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ چھوٹے شہروں کے انگریزی بولنے والے کلبوں تک محدود کانٹینٹ کریٹرز اب یوٹیوب اور انسٹاگرام کے ذریعے ایک وسیع اور متنوع منظرنامے پر ہیں، جہاں کامیڈین براہِ راست لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

لائیو شوز کی تعداد بھی تیزی سے بڑھی ہے جبکہ بڑے شہروں کے ساتھ چھوٹے قصبوں میں بھی بڑی تعداد میں ناظرین آتے ہیں اور علاقائی زبانوں کی کامیڈی اس توسیع میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

لیکن اس توسیع کے ساتھ نئے دباؤ بھی سامنے آئے ہیں۔

آج کامیڈین زیادہ نمایاں اور زیادہ جانچ پڑتال کے تحت کام کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں کئی فنکاروں کو اپنے مواد پر پولیس شکایات، قانونی کارروائی اور بعض صورتوں میں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اپنے شو سٹل الائیو میں سمے رائنا اسی نازک توازن کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایک بار آن لائن دنیا میں آنے کے بعد لطائف اپنے اصل سیاق سے بہت دور جا سکتے ہیں، ان کو نئے معنی دیے جا سکتے ہیں اور بعض اوقات سنگین نتائج بھی لا سکتے ہیں۔

ایک موقع پر انھوں نے جارج اورویل کے مشہور جملے ’ہر لطیفہ ایک چھوٹی سی بغاوت ہے‘ پر طنز کیا۔

اپنے مخصوص طنزیہ اور مایوس لہجے میں وہ اسے اپنی کہانی پر فٹ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’ اگر اورویل انڈیا میں رہتے، تو شاید کہتے کہ ہر بغاوت ایک چھوٹا سا لطیفہ ہے۔‘

ان کی یہی لائن اُس رات کی سب سے پرمزاح بات اور بے تحاشہ ہنسی کا باعث بنی۔

رائنا نے خود کو دوبارہ بنانے کے بجائے اپنا انداز تھوڑا بدلنے کی کوشش کی تاکہ جانچ سکیں کہ اُن کا آزاد اور فی البدیہہ انداز بغیر ٹوٹے کہاں تک جا سکتا ہے۔ یہ سفر بہت سے نوجوان انڈین کامیڈینز کے لیے آسان نہیں۔

انھیں ایک طرف اپنا اصل انداز برقرار رکھنا ہوتا ہے اور دوسری طرف ایک ایسے ناظرین کے سامنے پرفارم کرنا پڑتا ہے جو متنوع سوچ کے حامل ہیں اور جلدی میں فیصلہ کرتے ہیں۔

رائنا کے کریئر کا یہ لمحہ ابھی کسی بہتر نتیجے تک نہیں پہنچا۔ ان سے متعلق تنازع مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور بے قابو کامیڈی کے خطرات اب بھی موجود ہیں۔

لیکن سٹل الائیو سے محسوس ہوتا ہے کہ رائنا حل ڈھونڈنے کے بجائے آگے بڑھنے پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔ مداحوں کے لیے یہ شو معافی نہیں بلکہ اُن کی آواز کا اور اُن کے دباؤ میں نہ آنے کا برملا اعلان ہے۔

شو کے آخر میں لاپرواہی کے انداز میں کندھے اچکا کر انھوں نے کہا کہ ’میں اب بھی یہاں ہوں اور جو چاہوں گا وہی کروں گا۔‘

SOURCE : BBC