SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہA Glover and T Dahlgren
وہیلز کو سمندر کا سب بڑا جاندار سمجھا جاتا ہے۔ وہ سمندر کے ایک کونے سے دوسرے کونے اور سطح سے گہرائیوں تک 150 ٹن خوراک (گوشت، چربی اور ہڈی) لے جا سکتے ہیں۔ ان کا غیر معمولی جسم طویل فاصلے تک پھیلا ہوتا ہے۔
کیلیفورنیا میں سان ڈیاگو کے سکرپس انسٹیٹیوشن آف اوشنوگرافی کے گریگ راؤز کہتے ہیں کہ وہیلز کی موت مائیگریشن کے دوران اکثر سمندر کے بیچ و بیچ ہوتی ہے۔
مرنے کے بعد وہیلز کا جسم سمندر کی سطح پر تیرتا ہے کیونکہ اس کے اندر گیس کسی غبارے کی طرح اسے پھُلا دیتی ہے۔
پھر وہیل کا جسم آہستہ آہستہ ڈوبتا ہے اور اپنی آخری آرام گاہ یعنی سمندر کی گہرائی اور تاریکی تک پہنچ جاتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہAlex Dawson
مرنے کے بعد وہیلز دوسرے جانداروں کے زندہ رہنے کا باعث بنتی ہے کیونکہ ان کی حالت اب کسی خوراک کے جزیرے جیسی ہوتی ہے۔
سمندر کی گہرائی میں نیوٹریئنٹس یعنی غذائی اجزا آرگینک میٹر کے چھوٹے ذرات کی شکل میں پائے جاتے ہیں جنھیں میرین سنو کہا جاتا ہے۔
جب وہیل کا جسم ڈوب کر فرش بحر تک پہنچتا ہے تو اسے ایک وقت میں ’سب سے بڑا آرگینک ان پُٹ‘ تصور کیا جاتا ہے۔ یعنی ایک وہیل ہزاروں برسوں کی میرین سنو کے برابر ہوتی ہے۔ یہ کئی دہائیوں تک پورے سمندری ماحول کی خوراک کا باعث بنتی ہے۔
پہلے مردار گوشت کھانے والی مچھلیوں کی آمد
لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم میں محقق ایڈریان گلوور کا کہنا ہے کہ سمندری گہرائی میں مردار گوشت کھانے والے جانداروں کی کمیونٹی سب سے پہلے مردہ وہیل کے جسم کو نوچنے کے لیے پہنچتی ہے۔
’ان میں ریڑھ کی ہڈی والے جاندار شامل ہوتے ہیں جیسے ہیگ فِش، سلِیپر شارک اور بے شمار سکیوینجنگ ایمفی پوڈز مثلاً جھینگے۔ یہ گوشت کھا جاتے ہیں اور ہڈیاں ننگی ہو جاتی ہیں۔ یہ مرحلہ کئی سال جاری رہ سکتا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہAlamy
ہیگ فِش وہ واحد معلوم زندہ جاندار ہیں جن کے پاس کھوپڑی تو ہوتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی نہیں ہوتی۔ یہ مچھلیاں اپنے شکار میں منھ کے بل گھس جاتی ہیں اور اسے اندر سے باہر تک کھاتی ہیں۔
ہیگ فِش کے پاس دفاع کا ایک انتہائی غیر معمولی طریقہ ہے۔ جب ان پر حملہ ہوتا ہے تو وہ ایک طرح کا بلغم خارج کرتی ہیں جس سے شکاری یا تو پیچھے ہٹ جاتا ہے یا پھر اس کا دم گھٹنے لگتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہAlamy
ریٹیل مچھلی لمبائی میں ایک میٹر تک بڑھ سکتی ہے اور تقریباً 4000 میٹر کی گہرائی تک رہتی ہے۔ وہاں جہاں سورج کی کوئی روشنی نہیں پہنچتی اور واحد روشنی وہ ہے جو خود جاندار پیدا کرتے ہیں۔
ریٹیل کی بڑی نیلی آنکھیں حیاتیاتی روشنی کی نہایت معمولی چمک بھی محسوس کر لیتی ہیں جو اس کے شکار کا سراغ دیتی ہے۔
اس کی ٹھوڑی پر موجود مونچھوں جیسے باربلز بھی سمندر کی کیچڑ بھری تہہ کے ذرا نیچے چھپے لذیذ لقموں (کرسٹیشینز یا بل کھاتے کیڑے) کی معمولی سی حرکت تک محسوس کر لیتے ہیں۔
تیز سونگھنے کی حس اسے سڑتے ہوئے جانوروں مثلاً وہیل کی لاش تک بھی پہنچا دیتی ہے۔
موقع پرست کیڑوں کی باری
جب مردار گوشت کھانے والی بڑی مچھلیاں اپنا پیٹ بھر لیتی ہیں اور ہڈیاں صاف ہو جاتی ہیں تو چھوٹے جاندار پہنچتے ہیں۔
راؤز کے مطابق پھر ہڈیاں کھانے والے کیڑوں ’اوسیڈَیکس‘ کی بڑی تعداد میں آمد ہوتی ہے۔
اوسیڈَیکس دراصل پولی کِیٹ کیڑوں کی ایک قسم ہیں۔ انھیں عام طور پر برسٹل ورمز کہا جاتا ہے۔ یہ کھنڈیوں کی شکل میں پائے جانے والے متنوع اور بڑی تعداد میں موجود کیڑے ہیں جو وہیل کی لاش پر ہزاروں کی تعداد میں آباد ہو جاتے ہیں۔
ایسے موقع پرست کیڑوں کی بعض انواع صرف وہیل کی باقیات کی جگہ پر دیکھی گئی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہAdrian Glover
’بون ایٹنگ سناٹ فلاور‘ ایسا ہی ایک کیڑا ہے جو پہلی بار 2005 میں وہیل کی لاش پر دریافت ہوا تھا۔ ہڈیاں کھانے والے ایسے کیڑے پہلے ہڈی میں اپنا تیزاب داخل کرتے ہیں۔ گوور کے مطابق ’یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنی آنت ہڈی کے اندر ڈال کر اسے براہِ راست جذب کر رہے ہوں۔ یہ بہت عجیب عمل ہے۔‘
دس برس کے عرصے میں ایک پوری آبادی ایک ہی وہیل کی باقیات پر پیدا ہوتی ہے، جیتی ہے اور مر جاتی ہے۔ جب پورا ڈھانچا ختم ہو جاتا ہے تو مرنے سے ذرا پہلے اوسیڈَیکس ایسے لاروا چھوڑتے ہیں جو سمندری رو کے ساتھ سفر کرتے ہیں، اس امید پر کہ انھیں کوئی اور وہیل کی لاش مل جائے جہاں جا کر یہ دوبارہ یہی عمل شروع کر سکیں۔
راؤز کہتے ہیں کہ ’یہ ہڈی سے کیلشیئم نکال دیتے ہیں اور کولیجن تک پہنچ جاتے ہیں۔‘
’اس کے بعد ہڈی بہت نرم ہو جاتی ہے اور کیکڑے یا دوسرے جاندار اسے آسانی سے توڑ دیتے ہیں۔‘
،تصویر کا ذریعہAlamy
وہیل کی لاش سے خارج ہونے والا نامیاتی مادہ اردگرد کی سمندری تہہ کو غذائی اجزا فراہم کرتا ہے۔ اس مرحلے پر موقع پرست کیڑوں، گھونگھوں (مولسکس) اور کرسٹیشینز جیسے لاکھوں جاندار پہنچتے ہیں جو بچ جانے والی چربی یا گوشت کے ٹکڑوں کو چن لیتے ہیں اور سمندری فرش کی تہہ کو چھانتے ہیں۔
جاپانی سپائیڈر کریب کے بارے میں خیال ہے کہ وہ 100 سال تک زندہ رہ سکتا ہے اور یہ دنیا کا سب سے بڑا کیکڑا ہے۔
اس کا جسم 30 سینٹی میٹر (12 انچ) تک چوڑا ہو سکتا ہے لیکن اس کی ٹانگیں مسلسل بڑھتی رہتی ہیں اور پنجے سے پنجے تک پھیل کر 3.8 میٹر (12 فٹ) تک پہنچ سکتی ہیں، یعنی اس کی لمبائی تقریباً ایک چھوٹی کار کے برابر ہوتی ہے۔
وہیل کی لاش جو ایک گھر اور راہداری بھی ہے
جیسے ہی جاندار ہڈیوں کو ہضم کر رہے ہوتے ہیں ایک اور زیادہ مخصوص قسم کے جاندار بھی اس دعوت میں شامل ہو جاتے ہیں اور یہ سلسلہ 50 سال تک جاری رہ سکتا ہے۔ اسے ’سلفو فِلیک‘ یا سلفر کا مرحلہ کہا جاتا ہے۔
جب بیکٹیریا ہڈیوں کو مزید توڑتے رہتے ہیں تو ہائیڈروجن سلفائیڈ خارج ہوتا ہے۔ یہ گیسیں کیموسنتھیٹک جاندار استعمال کرتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہPhillipe Crassous/ Science Photo Library

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
کیمواٹو ٹروف ایسے جاندار ہوتے ہیں جو کیمیائی ردِعمل سے توانائی پیدا کر سکتے ہیں۔ اس عمل کو کیموسنتھیسس کہا جاتا ہے۔ یہ پودوں سے مختلف ہے جو روشنی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے فوٹوسنتھیسس کرتے ہیں۔
کیمیائی مادوں کو استعمال کرنے والے یہ مائیکروبز اکثر اپنے میزبانوں کے ساتھ نہایت قریبی باہمی تعلق قائم کرتے ہیں اور انھیں تقریباً تمام تر غذائی ضرورتیں فراہم کرتے ہیں۔
گلوور کہتے ہیں کہ ’جاندار جس طرح ارتقا کے ذریعے ایسے حیران کن، عجیب اور غیر معمولی ماحول کے مطابق خود کو ڈھالتے ہیں۔۔۔ ہم مسلسل حیران ہوتے رہتے ہیں۔‘
کیمواٹو ٹروف سمندر کی گہرائی میں صرف چار مخصوص ماحول میں پائے جاتے ہیں، یعنی ہائیڈرو تھرمل وینٹس، کولڈ سیپس، ووڈ فالز اور وہیل فالز۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وہیل کی باقیات ایسے جانداروں کے لیے بقا کا کردار ادا کرتے ہیں جن کی مدد سے یہ خصوصی انواع بلارکاوٹ سمندری فرش پر سفر کر سکتی ہیں۔
زندگی میں ایک وہیل سمندر کو زرخیز کرتی ہے اور کاربن کو گہرائی میں لے جاتی ہے جس سے سمندر میں حیاتیاتی سرگرمی برقرار رہتی ہے اور موسم نسبتاً ٹھنڈا رہتا ہے۔
موت کے بعد ایک ہی وہیل دسیوں ہزار سمندری جانداروں کو خوراک، رہائش اور انتہائی سخت ماحول میں پنپنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
گویا اس کا زمین کے نام آخری تحفہ ایک نیا ایکوسسٹم ہوتا ہے۔
SOURCE : BBC



