SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
5 گھنٹے قبل
مطالعے کا وقت: 7 منٹ
انڈیا کے آرمی چیف جنرل اُپندر دویدی کا کہنا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران انڈین فوج نے نماز کے دوران حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
بدھ کے روز شائع ہونے والے ایک انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں جنرل دویدی کا کہنا تھا کہ ’آپریشن کے دوران ایک موقع پر ہم اپنے اہداف کو تباہ کرنے کے وقت کا تعین کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے حملے کا وقت دو بجے، چار بجے یا کوئی بھی بھی وقت ہو سکتا تھا۔
’لیکن ہم نے یہ یقینی بنایا کہ ہم اس وقت عسکریت پسندوں کے کیمپوں پر حملہ نہ کریں جب وہاں لوگ نماز پڑھ رہے ہوں کیونکہ سب کا خدا ایک ہی ہے۔‘
جنرل دویدی نے مزید کہا، ’اسی لیے ہم نے وہ وقت چنا جب ہمیں معلوم تھا کہ نماز ادا نہیں کی جا رہی ہو گی۔‘
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب گذشتہ برس مئی میں انڈیا اور پاکستان کے مابین ہونے والی لڑائی کے دوران انڈین فوجی قیادت کی جانب سے آپریشن سندور پر بات کی گئی ہو۔
اس سے قبل انڈین ایئر فورس چیف اور دیگر اعلی حکام بھی ’آپریشن سندور‘ میں پاکستان میں دہشت گردی کے کیمپ کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ تاہم انڈین آرمی چیف کی جانب سے اس لڑائی کے دوران وقت کے تعین اور نمازیوں کا خیال رکھنے کا بیان پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’میں مذہبی کتابوں سے رہنمائی لیتا ہوں‘
انٹرویو کے دوران انڈین آرمی چیف کا کہنا تھا کہ وہ کوئی بھی بڑا فیصلہ لینے سے پہلے ’گیتا‘ سے رہنمائی لیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی لڑائی کے دوران لوگوں کا اجتماعی نقصان نہ ہو۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری یونٹ میں بہت سے ایسے اُساتذہ ہیں جو قرآن اور گرو گرنتھ کو بھی سمجھتے ہیں اور میرا معمول ہے کہ میں ان کے ساتھ بھی بیٹھتا ہوں، اور اُن سے پوچھتا ہوں کہ یہ صورتحال ہے، آپ کی مذہبی کتاب کیا کہتی ہے؟
انڈین آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ’ہر مذہبی کتاب آپ کو ہر مسئلے کا جواب دیتی ہے، ایسے میں آپ کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط۔‘
انڈین آرمی چیف کے بیان پر سوشل میڈیا پر بھی بات ہو رہی ہے اور صارفین اس پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
’ذرا سوچیں کہ اگر انڈیا نماز کے وقت حملہ کرتا تو کتنی شرمندگی ہوتی‘
وجرا نامی صارف نے لکھا کہ احترام کے ساتھ، تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ ’اخلاقی برتری‘ اکثر تہذیبی شکست کا باعث بنتی ہے۔ ترائین کی دوسری جنگ سے لے کر پلاسی تک، ہم اس لیے ہارے کیونکہ ہم نے قوانین کی پیروی کی جبکہ دشمن نے ہمیں دھوکہ دیا۔
عامر کاظمی نامی پاکستانی صارف نے لکھا کہ ’ایک سال بعد یہ لوگ چیزوں کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف نے فجر کے وقت آپریشن شروع کیا، جس کے بعد انڈین جنگ بندی کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔ یہ اپنی ناکامی چھپانے کی ایک کوشش ہے۔‘
ملک احمد جلال نے لکھا کہ انڈیا اور پاکستان نے تین جنگیں لڑی ہیں اور ان میں عام شہریوں یا سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے اسرائیل-امریکہ-ایران سے زیادہ قانونی اور باعزت طریقے سے کام کیا ہے۔
جیش نامی صارف نے انڈین آرمی چیف کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے لکھا کہ بہت سے لوگ تعریف کرنے کے بجائے اس پر تنقید کر رہے ہیں۔ ’ذرا تصور کریں کہ اگر یہ خبر بنتی کہ انڈیا نے نماز کے دوران پاکستان میں حملہ کیا، اگر ایسا ہوتا تو عالمی سطح پر انڈیا کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا۔‘
،تصویر کا ذریعہX/@CL_JAY_28
آپریشن سندور سے متعلق پاکستان اور انڈین سول اور فوجی قیادت کے بیانات
چند روز قبل انڈین نیوی چیف نے ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ ’یہ اب کوئی چھپی ہوئی بات نہیں رہی کہ جب انھوں نے کارروائیاں روکنے کی درخواست کی تھی اس وقت ہم سمندر سے پاکستان پر حملہ کرنے سے محض چند منٹ دور تھے۔‘
چند روز قبل انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ ’آپریشن (سندور) ابھی بند نہیں ہوا۔۔۔ پاکستان کی طرف سے کسی قسم کی ناپاک حرکت ہوئی تو ہماری فوج اس کا منھ توڑ جواب دے گی جو وہ کبھی بھول نہیں پائیں گے۔‘
اس پر پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انڈین وزیر دفاع پہلگام واقعے کے ایک سال بعد اپنے سیاسی مفادات کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان امن اور علاقائی استحکام چاہتا ہے لیکن اپنی خودمختاری کا دفاع کرے گا۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آپریشن سندور کے دوران ہوا کیا تھا؟
واضح رہے کہ 22 اپریل کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر شدت پسند حملے کے بعد انڈیا نے کہا تھا کہ 6-7 مئی کی درمیانی شب کو اس نے پاکستان میں شدت پسندوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا۔ اس آپریشن کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا، جس کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع شروع ہوا تھا۔
پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ لڑائی کے دوران اس نے انڈین فضائیہ کے پانچ گرائے جن میں سے ’تین رفال طیارے تھے جبکہ ایک مگ 29 لڑاکا طیارہ اور ایک ایس یو طیارہ شامل تھا۔‘
یاد رہے کہ بی بی سی ویریفائی نے تین ایسی ویڈیوز کی تصدیق کی تھی جن کے بارے میں دعوی کیا گیا تھا کہ ان میں نظر آنے والا ملبہ ایک فرانسیسی ساختہ رفال طیارے کا ہے جو انڈیا کی فضائیہ کے زیراستعمال ہیں۔
پاکستان اور انڈیا کے مابین کھلی جنگ کے خدشات بڑھ رہے تھے کہ 10 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بند کروانے کا اعلان کیا تھا۔
SOURCE : BBC



