Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں سابق اسرائیلی وزیراعظم نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے ملک کے...

سابق اسرائیلی وزیراعظم نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے ملک کے لیے ’خطرہ‘ کیوں قرار دیا؟

6
0

SOURCE :- BBC NEWS

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ایک گھنٹہ قبل

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

پاکستان کے دفتر خارجہ نے سابق اسرائیلی وزیراعظم کے پاکستان سے متعلق بیان کو قیاس آرائی قرار دے دیا ہے۔

جمعرات کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سے جب اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے پاکستان سے متعلق بیان پر سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ خالصتاً قیاس آرائی پر مبنی ہے۔ ہم کسی ایسے ملک کے عہدیدار کے بیان پر تبصرہ نہیں کریں گے جسے ہم تسلیم نہیں کرتے۔‘

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ سابق اسرائیلی وزیراعظم کے ’بیان کی نوعیت ویسے بھی فطری طور پر قیاس آرائی پر مبنی ہے۔‘

دراصل کچھ روز قبل اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا تھا کہ خطے میں ایک نیا محور ابھر رہا ہے جس میں ترکی، قطر، اخوان المسلمین اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان شامل ہیں۔

یروشلم میں امریکی یہودی تنظیموں کے صدور کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نفتالی بینیٹ نے کہا کہ یہ اتحاد اسرائیل کے خلاف دشمنی کو ہوا دے رہا ہے اور سعودی عرب پر اثر انداز ہونے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔

سابق اسرائیلی وزیراعظم نے اور کیا کہا؟

نفتالی بینیٹ نے اس کانفرنس میں خبردار کیا کہ ترکی اسرائیل کے لیے ایک نیا خطرہ بن رہا ہے اور حکومت اس سے لاعلم ہے۔

سابق اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ’ترک صدر رجب طیب اردوغان ایک خطرناک حریف ہیں جو اسرائیل کو گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں دوبارہ آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیے۔‘

بینیٹ نے اسرائیلی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ’موجودہ حکومت ایک بار پھر سو رہی ہے۔ ہماری سرحدوں پر بنیاد پرستی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ اخوان المسلمین کا ایک محور، جسے پاکستانی جوہری ہتھیاروں کی حمایت حاصل ہے، ترکی اس کی قیادت کر رہا ہے۔‘

بینیٹ نے مزید کہا کہ ’ہمیں ایران کے خطرے اور ترکی کی دشمنی کے خلاف مختلف طریقوں سے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ترکی نیا ایران ہے۔‘

پاکستان، ترکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ پاکستان کی قربت

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گذشتہ برس ستمبر میں دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع کا سٹریٹجک معاہدہ‘ ہوا تھا۔

معاہدے کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘

دوسری جانب رواں سال جنوری میں پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین ایک سال کے مذاکرات کے بعد دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار ہو گیا ہے تاہم یہ معاہدہ گذشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے سکیورٹی معاہدے سے الگ ہو گا۔

اور شاید سابق اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کا اشارہ بھی اس ہی معاہدے کی جانب تھا کیونکہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان قربت کو ایک مضبوط اتحاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان واحد مسلم ملک ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے اور اس سے اسلامی دنیا میں پاکستان کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ سال ایران کی یورینیئم افزودگی کی تنصیبات پر بھی حملہ کیا تھا تاہم اسرائیل کے اندر یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار اس کے لیے خطرہ ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو بطور ملک تسلیم نہیں کیا۔

’پاکستان کے جوہری ہتھیار اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے ایران کے ممکنہ ہتھیار‘

انقرہ میں قائم تھنک ٹینک تیپو (TEPAV) سے وابستہ نہت علی اوزکان نے امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ بلومبرگ کو بتایا کہ ’سعودی عرب کے پاس مالیاتی طاقت ہے۔ پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت اور بیلسٹک میزائل ہیں جبکہ ترکی کے پاس فوجی تجربہ اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت ہے۔‘

اوزکان کے مطابق ’جیسا کہ امریکہ خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے تو بدلتے ہوئے حالات اور علاقائی تنازعات کی وجہ سے کئی ممالک اپنے دوست اور دشمن کی شناخت کے لیے نئے میکانزم تیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔‘

جون 2016 میں صحافی احمر مستیخان نے اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ میں لکھا تھا کہ ’اسرائیل اور عالمی یہودی برادری کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار اتنے ہی خطرناک ہیں جتنے ایران کے ممکنہ ہتھیار ہیں۔‘

پاکستان، سعودی عرب

،تصویر کا ذریعہGOP

پاکستان سعودی اتحاد کس کے خلاف ہے؟

تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کے سینیئر محقق یوئل گوزانسکی نے ’یروشلم پوسٹ‘ کے ایک مضمون میں کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بڑھتی قربت کا رخ اسرائیل کے خلاف نہیں۔

یوئل گوزانسکی نے گزشتہ برس 22 ستمبر کو لکھا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ غیر واضح ہے۔

’یہ ممکنہ طور پر جان بوجھ کر کیا گیا۔ سعودی عرب کے لیے پاکستان کی جانب سے جوہری تحفظ کی افواہیں برسوں سے گردش کر رہی ہیں۔ یہ افواہیں ریاض کی طرف سے اسلام آباد کی مالی معاونت بالخصوص اس کے افزودگی پروگرام کی وجہ سے ہیں۔‘

یوئل گوزانسکی مزید کہتے ہیں کہ ’اس کے باوجود معاہدے میں جوہری ہتھیاروں کا کوئی ذکر نہیں۔ پاکستان اپنا سرکاری مؤقف برقرار رکھتا ہے کہ اس کے جوہری ہتھیار صرف اور صرف انڈیا کے لیے ہیں۔‘

سعودی عرب پاکستان کو ممکنہ جوہری آپشن کے طور پر دیکھ سکتا ہے لیکن کیا پاکستان بھی اسے اس روشنی میں دیکھتا ہے؟ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس اتحاد کو عوامی سطح پر لا کر ریاض اور اسلام آباد نے ان افواہوں کو ہوا دی ہے۔ پہلے جو باتیں بند دروازوں کے پیچھے کی جا رہی تھیں، اب کھلے عام ہو رہی ہیں۔‘

یوئل گوزانسکی کے مطابق اسرائیل کو اس معاہدے کو اپنے خلاف براہ راست دشمنی سے تعبیر نہیں کرنا چاہیے۔ ’اس کے بجائے، سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ تعلقات کا فیصلہ امریکی ساکھ، ایرانی جارحیت اور علاقائی عدم استحکام کے بارے میں سعودی عرب کے بڑھتے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔‘

لیکن اسرائیلی میڈیا پاکستان کی طرف سے خطرات پر بات کرتا رہتا ہے۔

جیو پولیٹیکل ماہر سرجیو ریسٹیلی نے گزشتہ سال 29 نومبر کو ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ میں لکھا تھا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان قربتیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ اسرائیل اور انڈیا فوجی، تکنیکی اور سفارتی دونوں طرح سے اپنی شراکت داری کو مضبوط کر رہے ہیں۔

SOURCE : BBC