SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپ ڈیٹ کی گئی 9 گھنٹے قبل
مطالعے کا وقت: 7 منٹ
دہلی ہائیکورٹ نے نو کروڑ روپے مالیت کا چیک باؤنس ہونے سے متعلق ایک کیس میں بالی وڈ اداکار راجپال یادو کو عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
دلی کی تہاڑ جیل میں قید راجپال یادو کی عبوری ضمانت اِس کیس کی اگلی سماعت (جو 18 مارچ کو ہو گی) تک منظور کی گئی ہے۔
دہلی ہائیکورٹ نے یہ ضمانت ایک لاکھ روپے کے بانڈز (زر ضمانت) کے عوض منظور کی ہے۔
یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد راجپال یادو کے مینیجر گوڈی جین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ فیصلہ راجپال یادو کے تمام مداحوں کے لیے خوشی کا باعث ہو گا۔ تمام قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد راجپال یادو جلد جیل سے رہا ہو جائیں گے، ہمیں صرف تھوڑا انتظار کرنا ہو گا۔‘
یاد رہے کہ راجپال یادو نے پانچ فروری کو چیک باؤنس ہونے سے متعلق کیس میں خود کو حکام کے حوالے کیا تھا۔
اس دوران میڈیا پر اُن کو درپیش مالی مشکلات سے متعلق خبریں نشر ہوئیں جس کے بعد متعدد افراد بالی وڈ اداکار کی مدد کے لیے سامنے آئے۔
راجپال یادیو کی حمایت میں سامنے آنے والوں میں سلمان خان اور اجے دیوگن بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ انڈین سیاستدان لالو پرساد یادو کے بیٹے تیج پرتاپ نے بھی جیل میں قید اداکار کی مالی مدد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
خیال رہے اس مقدمے میں دہلی ہائی کورٹ نے راجپال یادو کو خود کو جیل انتظامیہ کے حوالے کرنے کے لیے چار فروری تک کا وقت دیا تھا لیکن وہ پانچ فروری کو تہاڑ جیل پہنچے اور اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا۔
میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں کے مطابق راجپال یادو تہاڑ جیل میں داخل ہونے سے قبل ’جذباتی‘ ہو گئے تھے۔
اس کے بعد فلم انڈسٹری سے منسلک متعدد شخصیات نے راجپال یادو کی مدد کے لیے اپیلیں بھی کی تھیں۔
سلمان خان سمیت متعدد اداکاروں کا مدد کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سلمان خان کی پی آر ایجنسی نے بی بی سی کو اس خبر کی تصدیق کہ وہ راجپال یادو کی مدد کریں گے جبکہ نوازالدین صدیقی کے پی آر نے بھی فون پر پیغام بھیج کر بتایا کہ وہ اداکار کی مدد کریں گے۔
بالی وُڈ اداکار سونو سود نے راجپال یادو کو ’با صلاحیت اداکار‘ قرار دیا، جو برسوں سے فلم انڈسٹری کے لیے اچھا کام کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سونو سود نے لکھا کہ ’کبھی کبھی حالات غلط سمت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ صلاحیتوں کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ وقت کی سختی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وہ (راجپال یادو) میری فلم کا حصہ ہوں گے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہم سب پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور ساتھی اداکاروں کو اُن کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے جیل میں قید اداکار کے لیے مستقبل کے ایک پراجیکٹ کی فیس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک چھوٹی سی سائننگ رقم ہے جو مستقبل کے کام میں ایڈجسٹ کی جا سکتی ہے، یہ عطیہ نہیں بلکہ اعزاز ہے۔ جب ہم میں سے کوئی مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو انڈسٹری کو یہ یاد دلانا چاہیے کہ ہم اکیلے نہیں۔‘
دوسری جانب سیاستدان تیج پرتاپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم نے معزز راجپال یادو کے خاندان کی تکلیف کے بارے میں سُنا۔ یہ مشکل وقت ہے، میں اور پوری جن شکتی جنتا دل پارٹی اس خاندان کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ اپنی سیاسی جماعت کی طرف سے راجپال یادو کو 11 لاکھ روپے فراہم کریں گے۔
اداکار گرمیت چودھری نے فلم انڈسٹری کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں۔ ’یہ دل توڑ دینے والی بات ہے کہ راجپال یادو جی جیسے ایک سینیئر اور نہایت باصلاحیت فنکار اتنے تکلیف دہ مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ انھوں نے ہمیں بے شمار مسکراہٹیں، قہقہے اور یادگار لمحات دیے ہیں۔ آج انھیں ہماری ضرورت ہے۔‘
راجپال یادو کے خلاف کیا کیس ہے؟
اس کیس کی عدالتی کارروائی کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ راجپال یادو کے خلاف مقدمہ فلم ’اتا پتا لپتا‘ سے متعلق ہے۔
سنہ 2010 میں مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ نامی کمپنی نے اس فلم کے لیے تقریباً پانچ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔
عدالتی کارروائی کے مطابق یہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی اور مبینہ طور پر اداکار کو مالی نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے وہ کمپنی کو رقم واپس کرنے میں ناکام رہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ راجپال یادو نے بار بار پیسوں کی واپسی کی یقین دہانی کروائی مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ اس دوران عدالتیں بھی اُن کے خلاف احکامات جاری کرتی رہیں مگر انھوں نے بروقت ان پر عمل نہ کیا۔
راجپال یادو کی طرف سے کمپنی کو دیے گئے متعدد چیکس باؤنس ہوئے جس کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سنہ 2018 میں دہلی کی ایک عدالت نے انھیں اس کیس میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے چھ مہینے قید کی سزا سنائی تھی۔
اس کے اگلے برس یہ مقدمہ دہلی ہائی کورٹ گیا، جہاں عدالت نے ان کی سزا پر حکم امتناع جاری کر دیا۔ عدالت نے کہا تھا کہ راجپال یادو کمپنی کو رقم کی ادائیگی کریں گے۔
اس کے بعد متعدد مرتبہ ان کی سزا پر حکم امتناع جاری کیا گیا لیکن راجپال یادو اس رقم کی ادائیگی نہ کر سکے اور عدالت نے انھیں جیل حکام کے سامنے سرینڈر کرنے کا حکم دے دیا۔
راجپال یادو کا مؤقف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2018 میں دہلی کی مقامی عدالت کی جانب سے چھ مہینے قید کی سزا سنائے جانے کے بعد راجپال یادو نے شاہجہاں پور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ انھیں ایک سازش کے تحت پھنسایا گیا۔
دو برس قبل ایک انٹرویو میں انھوں نے انڈیا ٹوڈے کو بتایا تھا کہ انھوں نے ’کوئی فراڈ نہیں کیا۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’کمپنی نے پانچ کروڑ روہے فلم اتا پتا لاپتا بنانے کے لیے دیے تھے اور وہ سرمایہ کاری تھی۔ میں فلم کا ڈائریکٹر نہیں تھا۔‘
فلم انڈسٹری میں راجپال یادو کے چاہنے والوں کی بھی بڑی تعداد ہے، ان میں نوازالدین صدیقی بھی شامل ہیں۔
ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ’جب راجپال یادو کام کر رہے تھے اس وقت بہت سارے لوگ ان کے گھر پر کھانا کھایا کرتے تھے اور انھوں نے کبھی اُف تک نہیں کیا۔‘
’جب ہم سب، متعدد اداکار مشکل وقت میں تھے تب راجپال کا گھر کسی لنگر خانے کی طرح تھا، وہاں کوئی بھی کھانا سکتا تھا۔‘
اسی انٹرویو میں نواز الدین صدیقی نے کہا تھا کہ راجپال یادیو انڈسٹری کے ’سب سے پڑھے لکھے ادارکاروں میں سے ایک‘ ہیں۔
راجپال یادو لکھنؤ کی ’بھارت اندو نتیا اکیڈمی‘ کے طالب علم بھی رہ چکے ہین اور بعد میں انھوں نے دہلی کے نیشنل سکول آف ڈرامہ سے بھی تعلیم حاصل کی۔
وہ اپنے کیریئر میں متعدد یادگار کردار ادا کر چکے ہیں اور فلم بھول بھلیا، پھر ہیرا پھیری، چھپ چھپ کے اور ہنگامہ میں ان کی مزاحیہ اداکاری کروڑوں لوگوں نے پسند کی۔
SOURCE : BBC



