Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کے دوران لوگوں نے کیا دیکھا: ’خود...

خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کے دوران لوگوں نے کیا دیکھا: ’خود کو خطرے سے دور سمجھتے تھے، سوچا نہیں تھا یہ دن دیکھنا پڑے گا‘

14
0

SOURCE :- BBC NEWS

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

عالیہ گذشتہ آٹھ برسوں سے اپنے شوہر اور دو بیٹیوں کے ساتھ دبئی ہلز کے علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔

انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ دبئی جیسے محفوظ ترین شہر پر بھی حملہ ہو سکتا ہے۔ آج کل وہ مسلسل دھماکوں کی آوازیں سن رہی ہیں، جن سے ان کے گھر کی کھڑکیاں لرز اٹھتی ہیں اور ان کی چھوٹی بیٹیاں سہم جاتی ہیں۔

بی بی سی اردو بات کرتے ہوئے عالیہ بتاتی ہیں کہ ’ہم نے زندگی میں کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا، دھماکوں کی آوازیں ’بہت خوفناک‘ ہیں۔‘

وہ اپنی بیٹیوں کو لے کر خوفزدہ ہیں اور انھیں کھڑکیوں سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

گذشتہ دو دنوں سے دبئی کے رہائشی زیادہ تر گھروں کے اندر ہی رہ رہے ہیں، مالز اور سڑکیں تقریباً خالی ہیں اور ریستورانوں میں بھی معمول جیسا رش نظر نہیں آتا۔

یہاں کے آسمانوں میں بھی کوئی ڈریم لائنر یا ائیر بسز نظر نہیں آ رہی جو جوق در جوق سیاحوں اور مزدوروں کے کارگو لا رہی ہوں۔۔۔ البتہ تھورے تھوڑے وقفے سے بیلسٹک میزائل اور ڈرون دکھائی دیتے ہیں جو خلیج کے اس پار متحدہ عرب امارات کا ہمسایہ ایران ان ریاستوں پر داغ رہا ہے۔

وہ شہر جسے یہاں کے رہائشی اور سیاح دنیا کا محفوظ ترین شہر سمجھتے تھے اب ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں ہے۔ یہ حملے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے ردِعمل میں کیے گئے بتائے جا رہے ہیں۔

فئیر ماؤنٹ پام جیسے لگژری ہوٹل سے لے کر شاپنگ مالز، بلند و بالا اپارٹمنٹ بلاکس اور دبئی ایئرپورٹ جو دنیا کا مصروف ترین مسافر ہوائی اڈہ ہے، کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ان شہروں کی تعمیر کرتے وقت کسی نے نہیں سوچا تھا کہ ایک دن وہ ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے حملوں کی زد میں ہوں گے۔۔۔ دبئی میں مقیم میری ایک دوست نے شکوہ کیا کہ یہاں تو اسرائیل کی طرح بنکر بھی نہیں ہیں جن میں جا کر چھپ سکیں۔

اور اگر آپ دنیا کے امیر ترین شخص بھی ہیں تو بھی اس وقت آپ دبئی، ابو ظہبی، دوحہ، بحرین، کویت سے فلائٹ لے کر باہر نہیں نکل سکتے۔ ان عرب ممالک میں رہنے والوں اور وہاں سیاحت پر آئے لاکھوں افراد کی دنیا راتوں رات بدل چکی ہے۔

بی بی سی نے دبئی، دوحہ، ابو ظہبی، کویت، بحرین میں رہنے والے پاکستانیوں اور انڈین شہریوں سے بات کرکے وہاں کے حالات جاننے کی کوشش کی ہے۔

getty

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کچھ لوگ پریشان ہو کر حتہ، فجیرہ کی جانب نکل گئے ہیں

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عالیہ کے مطابق ان کی کچھ دوستیں جو فوجی اڈوں یا حساس علاقوں کے قریب رہائش پذیر تھیں، وہ پریشان ہو کر حتہ، فجیرہ کی جانب نکل گئی ہیں اور ان میں زیادہ تعداد مغربی ممالک کے افراد کی ہے۔

تاہم ان مسلسل حملوں کے باوجود عالیہ حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں کیونکہ ان کے مطابق دبئی حکومت بہت اچھے طریقے سے اس صورتحال سے نمٹ رہی ہے اور شہریوں کو لمحہ با لمحہ الرٹ بھیج کر با خبر رکھا جا رہا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ غیر یقینی ضرور ہے مگر ان کے اردگرد لوگ خوف یا گھبراہٹ کا شکار نہیں ہیں۔ ہوٹل، ریستوران، مالز سب کچھ کھلا ہے، باہر معمول سے کم لوگ نظر آرہے ہیں مگر حالات نارمل ہیں۔

عالیہ کے مطابق دبئی میں زیادہ تر لوگ ہر قسم کا سامان آن لائن سامان آرڈر کرتے ہیں مگر اس کے علاوہ سپرمارکیٹیں بھی کھلی ہیں اور اکثر سٹورز نے اس طرح کے اشتہار بھی لگائے ہیں کہ ان کے یہاں سامان کا مستحکم ذخیرہ موجود ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے کوئی چیز ذخیرہ نہیں کی ہے، بس پانی تھوڑا زیادہ منگوا لیا تھا۔

ان کی بیٹی کا سکول بدھ تک آن لائن لرننگ پر منتقل ہو چکا ہے۔ عالیہ کی ایک دوست مانچسٹر سے پاکستان جا رہی تھیں لیکن انھیں حالات کی خرابی کی سبب دبئی میں رُکنا پڑا اور اب وہ آگے نہیں جا سکتیں۔

تاہم عالیہ بتاتی ہیں کہ حکومت نے اسے ہر قسم کی مدد فراہم کی ہے اور اسے ای میل آئی کہ حکومت ویزہ، ہوٹل وغیرہ فراہم کر رہی ہے مگر فی الحال وہ میرے ساتھ ہی مقیم ہے۔

یکم مارچ 2026 کو متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ اماراتی فضائی دفاعی نظام نے ایرانی بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرون حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔ بیان کے مطابق مجموعی طور پر 541 ڈرون طیارے داغے گئے جن میں سے 506 کو تباہ کر دیا گیا جبکہ 35 ملک کے اندر گرے۔

اسی طرح 165 بیلسٹک میزائلوں کی نشاندہی کی گئی جن میں سے 152 کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا اور 13 سمندر میں جا گرے۔ وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام نے حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرتے ہوئے ملک کی فضائی حدود کا تحفظ یقینی بنایا۔

ان حملوں کے نتیجے میں اب تک یو اے ای میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

’یہ وہ دبئی نہیں جس کے ہم عادی ہیں‘

35 سالہ ستیہ جگناتھن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بہن کے خاندان اور پالتو جانوروں کو ان کے اپارٹمنٹ میں پناہ لینی پڑی کیونکہ وہ جبل علی کی بندرگاہ کے قریب رہتے تھے، جہاں ’بہت سا ملبہ گر رہا تھا۔‘

خیال رہے سنیچر کے روز حکام نے اطلاع دی کہ ’ایئر انٹرسیپشن‘ کے ملبے کی وجہ سے بندرگاہ کی ایک حصے میں آگ لگ گئی ہے۔ خیال رہے یہ دنیا کی نویں مصروف ترین بندرگاہ ہے۔

جگناتھن کا کہنا تھا کہ ’ہر چند گھنٹوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، یہ بہت خوفناک ہے کیونکہ یہ وہ دبئی نہیں ہے جس کے ہم عادی ہیں۔‘

محمد نافع گذشتہ نو سالوں سے دبئی میں مقیم ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ صورتحال معمول کے مطابق ہے اور اگرچہ پرائیوٹ کاروباروں اور کمپنیوں کو دو دن گھروں سے کام کی ہدایت کی گئی ہے مگر حکومت کے تمام دفاتر، عدالتیں، امیگریشن وغیرہ کے دفاتر معمول کے مطابق کھلے ہیں اور کام جاری ہے۔

نافع کے مطابق اگرچہ ائیر کارگو بند ہے مگر کسی قسم کی خوراک کی قلت نہیں ہے اور انھوں نے سپرسٹورز سامان سے بھرے دیکھے ہیں۔

بی بی سی نے دبئی، دوحہ، ابو ظہبی، کویت، بحرین میں موجود جتنے پاکستانی اور انڈین شہریوں سے بات کی، ہم نے ان میں سے کسی کو بھی خوف نہیں پایا۔۔۔ ان سب کو اپنی حکومتوں پر اعتماد ہے اور وہ اب تک کے انتظامات سے مطمئن دکھائی دیے۔

نافع بھی اسی اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ اگر کسی ایک علاقے میں کوئی ملبہ آ کر گرتا ہے تو یہاں کی انتظامیہ پورے دبئی کو خوفزدہ کرنے کے بجائے صرف اس علاقے کے مکینوں کو ہی الرٹ کرتی ہے اور اتنا وقت ہوتا ہے کہ آپ باآسانی وہاں سے نکل کر کسی محفوظ جگہ چلے جائیں۔


Planet Labs PBC

،تصویر کا ذریعہPlanet Labs PBC

’میں نے میزائلوں کی آوازیں سنیں، مگر دل کو یقین ہے کہ ہم دبئی میں ہیں، حکومت ہمیں محفوظ رکھے گی‘

انڈیا کے شہری دانش گذشتہ چھ ماہ سے دبئی میں مقیم ہیں اور مارکیٹنگ سے وابستہ ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ میں برجمن میں رہتا ہوں جو پرانے دبئی کے علاقے میں آتا ہے اور یہاں حالات نسبتاﹰ معمول کے مطابق ہیں۔

دانش کے مطابق ’میں نے اپنی چھت کے اوپر سے میزائل گزرنے کی آوازیں سنیں اور یہ میری زندگی میں پہلی بار تھا کہ میں نے ایسا تجربہ کیا۔ میں تھوڑا سا ہل گیا تھا مگر میں جانتا تھا کہ ہم دبئی میں ہیں اور ہمیں محفوظ رکھا جائے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ فی الحال صورتحال غیر یقینی کی ہو سکتی ہے، مگر حکومت اور ان کے اقدامات پر ہمارا مکمل اعتماد ہے۔

PressTV

،تصویر کا ذریعہPressTV

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ریاست میں پھنس جانے والے تمام سیاحوں کے اخراجات ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے

بی بی سی کو ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ دبئی اور ابوظہبی میں پھنسے سیاح بذریعہ سڑک سعودی عرب کا سفر کر رہے ہیں تاکہ وہاں سے فلائٹ لے کر نکل سکیں۔

نافع کے ایک دوست بھی ابوظہبی میں پھنس گئے تھے مگر وہاں کی انتظامیہ نے انھیں باہر نکلنے کی اجازت دی اور وہ بذریعہ سڑک جدہ پہنچ چکے ہیں۔ ان کے دوست کے مطابق بارڈر پر رش زیادہ تھا اور اکثریت مغربی ممالک کے افراد کی تھی جو یو اے ای اور قطر سے نکل رہے تھے۔

تاہم نافع کے مطابق دبئی حکومت نے ریاست میں پھنس جانے والے تمام سیاحوں کی رہائش کے اخراجات ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نافع کے ایک دوست دبئی میں بی این بی چلاتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انھیں حکومت نے بذریعہ ایم میل مطلع کیا ہے کہ ہر خالی ہوٹل اور بی این بیز میں پھنس جانے والے سیاحوں کو فری رہائش دی جائے گی اورتمام خرچ حکومت ادا کرے گی۔

متحدہ عرب امارات حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ائیر پورٹس بند ہونے کے باعث پھنس جانے والے سیاحوں اور مسافروں کے رہائشی اخراجات ریاست برداشت کرے گی۔

ہوٹلز کو جاری کیے گئے ایک سرکلر میں ابوظہبی کے محکمہ ثقافت و سیاحت نے کہا کہ ’موجودہ حالات کے پیشِ نظر اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کچھ مہمان اپنی چیک آؤٹ تاریخ تک پہنچ چکے ہیں لیکن وہ سفر کرنے سے قاصر ہیں، ہم درخواست کرتے ہیں کہ ان کے قیام میں اس وقت تک توسیع کی جائے۔ قیام میں توسیع کے اخراجات ڈی سی ٹی ابوظہبی برداشت کرے گا۔‘

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

’بیٹی نے کہا ابو ہمیں پاکستان واپس چلیں‘

تاہم عالیہ اور نافع کے برعکس دبئی کے رہائشی مرتضیٰ بتاتے ہیں کہ یہاں سڑکیں بالکل خالی ہیں اور ہفتے کے اختتام پر مالز خالی نظر آئے جو معمول کے برعکس ہے۔

انھوں نے خالی سڑکوں اور مالز کی تصاویر بھی بی بی سی کے ساتھ شئیر کی ہیں۔

مرتضیٰ کہتے ہیں کہ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ دبئی جیسی جگہ، جو عالمی سطح پر تیزی سے ترقی کر رہی ہے، بھی حملوں کی زد میں آ سکتی ہے۔ لیکن حکومت نے جس طرح حالات کو سنبھالاہے، یہ قابلِ تعریف ہے۔ اور جس طرح پھنس جانے والے سیاحوں کو مفت ہوٹل اور کھانا فراہم کیا جا رہا ہے وہ بھی قابلِ ستائش ہے۔

مرینا کے علاقے میں رہنے والے ایک پاکستانی والد نے بی بی سی اردو کے لیے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ رات گئے اچانک زور دار آواز سن کر پورا گھر جاگ اٹھا۔ ’میرے دونوں بچے رونے لگے۔ بیٹی نے کہا ابو ہمیں پاکستان واپس چلیں۔‘

ایک اور خاتون نے بتایا کہ انھوں نے احتیاطاً ایک بیگ تیار کر لیا ہے جس میں پاسپورٹ، کچھ نقد رقم اور بچوں کے کپڑے رکھ دیے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ دبئی میں ایسا بھی دن دیکھنا پڑے گا۔ یہاں تو ہم خود کو ہر خطرے سے دور سمجھتے تھے۔‘

بی بی سی بات کرنے والے اکثر افراد کے مطابق سپر مارکیٹوں میں سامان کی کوئی قلت نہیں ہے تاہم کچھ افراد کے مطابق اشیائے خوردونوش کی خریداری بڑھ گئی ہے، جس سے بعض اوقات شیلف خالی دکھائی دیتے ہیں۔ ایک پاکستانی نوجوان نے بتایا کہ لوگ ضرورت سے زیادہ سامان خرید رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’خوف انسان سے سب کچھ کروا دیتا ہے۔‘

دوسری جانب دبئی انٹرنینشل ایئر پورٹ پر بھی بے چینی کا ماحول ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والا ایک خاندان، جو چھٹیاں گزارنے آیا تھا، تین دن سے واپسی کی پرواز کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کے دو چھوٹے بچے ایئرپورٹ کی کرسیوں پر سو جاتے ہیں اور ہر اعلان پر چونک کر جاگ اٹھتے ہیں۔

والد کا کہنا ہے ’فلائٹ بار بار منسوخ ہو رہی ہے۔ بچے پوچھتے ہیں ہم گھر کب جائیں گے، ہم یہاں سیر کے لیے آئے تھے، مگر اب بس یہی دعا ہے کہ خیریت سے واپس پہنچ جائیں۔‘

getty

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کویت کے شہریوں کی صبح کا آغاز لاتعداد دھماکوں کی آوازوں سے ہوا

ڈاکٹر عائشہ سلیمان گذشتہ 17 سال سے کویت میں مقیم ہیں۔

ان کی آج صبح کا آغاز لاتعداد دھماکوں کی آوازوں سے ہوا۔۔۔ اس سے قبل 17 سالوں میں انھوں نے کبھی کویت کو اس طرح حملوں کی زد میں نہیں دیکھا اور آج جیسی خوفناک آوازیں تو پہلے کبھی نہیں سنیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے عائشہ بتاتی ہیں کہ پہلے تو امریکی اڈوں پر حملے ہو رہے تھے لیکن کل رات عام شہری علاقوں میں بھی حملے ہوئے ہیں اور انھوں نے خود دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔

ِخیال رہے کویت کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ ’متعدد‘ امریکی لڑاکا طیارے کویت میں گر کر تباہ ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر عائشہ کے مطابق پہلے دن سنیچر کو جب حملے شروع ہوئے تو کچھ افراد نے گھبرا کر اشیائے ضروریہ ذخیرہ کرنے کی کوشش میں پینک بائینگ بھی کی ہے۔ مگر بعد میں انھوں نے دیکھا کہ سٹورز میں معمول کا سامان پڑا تھا۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا لوگ عام دنوں کی طرح مالز میں جا کر شاپنگ کر رہے ہیں اور سڑکوں میں معمول کی زندگی رواں ہے؟

وہ بتاتی ہیں کہ مسلسل سائرن کی آوازیں آ رہی ہیں، جب جب حملہ ہوتا ہے سائرن بجنے لگتے ہیں، آج صبح بھی بہت زیادہ زوردار آوازیں سنائی دیں ہیں مگر اس بس کے باوجود ’ہماری تقریباً معمول کی زندگی‘ چل رہی ہے۔

وہ چونکہ ڈاکٹر ہیں لہذا وہ معمول کی طرح ہسپتال جا رہی ہیں البتہ سکولوں کو تعلیمی اداروں کو تاحکمِ ثانی آن لائن کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عائشہ بتاتی ہیں کہ مالز، دکانیں وغیرہ کھلی ہیں تاہم حکومت نے لوگوں سے کہا ہے ضرورت کے بنا باہر نہ نکلیں اس لیے کم کم لوگ ہی باہر نظر آ رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ کل میں سوچ رہی تھی شاید اب حالات بہتر ہو جائیں گے لیکن اب لگ نہیں رہا کہ کچھ دنوں میں سب ٹھیک ہو گا۔

فلائٹوں کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ عائشہ کے بیٹے پاکستان میں طالبِ علم ہیں تاہم چھٹی ختم ہونے کے بعد اب وہ واپس نہیں آ پا رہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ہم نے اس کی پیکنگ وغیرہ کر رکھی تھی مگر اب کچھ پتا نہیں وہ کب واپس جا پائے گا۔

gettyimages

،تصویر کا ذریعہgettyimages

بحرین میں کیا صورتحال ہے؟

بی بی سی کے عبدالوہاب آج کل بحرین کے سیاحتی دورے پر ہیں اور ان کے مطابق وہاں حالات معمول کے مطابق ہیں۔

وہ گھر کے سامنے موجود مسجد کا حال بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے اسے کسی بھی دن خالی نہیں دیکھا۔۔۔وہاں ہر نماز کے وقت اتنے ہی افراد کی گاڑیاں آ کر رک رہی ہیں جتنی وہ معمول کے دنوں میں دیکھتے ہیں۔ اس میں جتنی صفیں ہیں وہ روز کی طرح بھر جاتی ہیں۔

عبدالوہاب کے مطابق اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ لوگوں کو اپنی حکومت اور دفاعی نظام پر بہت اعتماد ہے اور انھیں یہ لگ رہا ہے اگر حملہ ہوا تو امریکی اڈوں پر ہی ہو گا۔۔۔ باقی ادھر ادھر ڈرونز یا میزائل کا ملبہ ہی گرا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ کوڈ کی وجہ سے سب کو ورک فرام ہوم آتا ہے اور حکومت نے بھی گھروں سے کام کی تاکید کی ہے شاید اسی لیے باہر لوگ کم ہیں مگر پینک بائینگ کی کوئی صورتحال نظر نہیں آئی۔

عبدالوہاب کے مطابق وقتاً فوقتاً حملوں اور میزآئلوں کو روکنے کی آوازیں آتی ہیں اور جب جب حملہ ہوتا ہے تو منامہ کو محرک سے جوڑنے والا برج بند کر دیا جاتا ہے۔

خیال رہے بحرین امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹرز کا مرکز ہے، جس کا دائرہ کار خلیج، بحیرہ احمر، بحیرہ عرب اور بحرِ ہند کے بعض حصے شامل ہیں۔

SOURCE : BBC