Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’جہادی سفارتکاری‘: عسکریت پسندی کا پسِ منظر رکھنے والی شخصیات پاکستان اور...

’جہادی سفارتکاری‘: عسکریت پسندی کا پسِ منظر رکھنے والی شخصیات پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کم کروا کر سکتی ہیں؟

10
0

SOURCE :- BBC NEWS

Jihadhists

،تصویر کا ذریعہBBC/AP

پاکستان اور افغانستان کے بیچ 26 اور 27 فروری کی درمیانی شب سے شروع ہونے والی سرحدی جھڑپوں کا سلسلہ 13 روز گزرنے کے باوجود بدستور وقفے وقفے سے جاری ہے اور دونوں جانب سے سامنے آنے حالیہ بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تاحال اس لڑائی میں کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اسی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کے سوشل میڈیا پر گذشتہ روز سے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی تین شخصیات، جن کا تعلق ماضی میں عسکریت پسند گروہوں سے رہا ہے، پر مشتمل ایک وفد کابل میں موجود ہے۔

ان شخصیات میں مولانا فضل الرحمان خلیل، عبداللہ شاہ مظہر (پیر مظہر شاہ) اور قاری ساجد عثمان شامل ہیں۔

بی بی سی اُردو کو افغانستان میں طالبان ذرائع اور پاکستان میں مولانا فضل الرحمان خلیل کے ایک قریبی ساتھی نے اِن افراد کی کابل میں موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ اسی طرح بی بی سی پشتو کے حفیظ اللہ معروف کو بھی افغان طالبان حکام نے ان تینوں افراد کی افغانستان میں موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

افغان طالبان کی عبوری حکومت کے ایک اہم رُکن نے بی بی سی اُردو کو فضل الرحمان خلیل سمیت تین افراد کی کابل میں موجودگی کی تصدیق کی تاہم انھوں نے اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم کرنے سے معذرت کی۔

ان شخصیات کی جانب سے افغانستان جانے کی وجوہات کے بارے میں کچھ بتایا نہیں گیا ہے اور نہ ہی پاکستان میں سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری ہوا ہے۔

بی بی سی نے ان شخصیات کی کابل میں موجودگی سے متعلق وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے بین الاقوامی میڈیا مشرف زیدی سے استفسار کیا کہ ’کیا پاکستانی حکومت افغان طالبان سے کسی بھی سطح پر مذاکرات کر رہی ہے؟ ہمیں (بی بی سی) بتایا گیا ہے کہ پاکستانی مذہبی شخصیات کا ایک وفد کابل کے دورے پر ہے؟‘

اس پر مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ ’آزاد مذہبی سکالرز کو ہر کسی سے روابط رکھنے کی آزادی ہے۔‘

’پاکستان کا پیغام اور پالیسی بہت ہی واضح ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔‘

بی بی سی اُردو نے اس حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ کو بھی تحریری طور پر لکھا تاہم اس خبر کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

خیال رہے پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی پشت پناہی کرتی ہے اور انھیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں اسی تنظیم (ٹی ٹی پی) کے مبینہ ٹھکانوں پر متعدد مرتبہ حملے کرنے کے بھی دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔

تاہم اس کے باوجود بھی پاکستان اور افغانستان پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین ماضی میں عسکریت پسندی کا پس منظر رکھنے والی شخصیات کی کابل میں موجودگی کو معنی خیز سمجھتے ہیں۔

Afghanistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ماہرین کے مطابق اس سے قبل بھی ماضی میں مفتی تقی عثمانی سمیت متعدد پاکستانی مذہبی شخصیات افغان طالبان حکام سے ملاقاتیں کرنے جاتی رہی ہیں لیکن مولانا فضل الرحمان خلیل، عبد اللہ شاہ مظہر اور قاری ساجد عثمان کی کابل کے موجودہ حکمرانوں سے تعلقات کی نوعیت الگ قسم کی ہے۔

یہ تعلقات کس نوعیت کے ہیں یہ جاننے کے لیے ان شخصیات کا ماضی جاننا بہت ضروری ہے۔

مولانا فضل الرحمان خلیل

مولانہ فضل الرحمان خلیل پاکستان کے جہادی حلقوں میں 1980 کی دہائی سے ہی ایک بڑا نام رہے ہیں۔ وہ ماضی میں کشمیری عسکریت پسند گروہ حرکت المجاہدین کے سربراہ بھی رہے ہیں، تاہم اب اس تنظیم کا نام بدل چکا ہے۔

جہادی گروہوں پر گہری رکھنے والے محقق و تجزیہ کار فیض اللہ خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمان خلیل کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔

Fazlur Rehman Khalil

،تصویر کا ذریعہAP

وہ کہتے ہیں کہ حرکت المجاہدین کا بعد میں حرکت الجہاد الاسلامی کے ساتھ الحاق ہوا تھا، جس کے نتیجے میں حرکت الانصار نامی تنظیم وجود میں آئی اور ’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اس نے ماضی میں اس نام سے بڑی کارروائیاں کی تھیں۔‘

’یہ دیوبندی مکتبہ فکر کی ایک بااثر تنظیم تھی، ان کے اسامہ بن لادن سے قریبی تعلقات تھے۔ ایک زمانے میں ان کے افغانستان، پاکستان کے زیرِ اتنظام کشمیر اور مانسہرہ میں عسکری مراکز تھے۔‘

جہادی گروہوں پر تحقیق کرنے والے ماجد نظامی کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان خلیل کی موجودہ تنظیم کا نام انصار الامّہ ہے اور یہ تحفظِ حرمین شریفین کے جنرل سیکریٹری ہیں۔

ماجد کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان خلیل کا جہادی پسِ منظر تین دہائیوں پر مشتمل ہے، جس کے دوران انھوں نے ’ریاست مخالف نہیں بلکہ ریاست کے حامی عسکری جہادی کمانڈر ہونے کا ثبوت دیا ہے۔‘

’اسامہ بن لادن سے ان کی تعلقات کی خبریں میڈیا میں بھی آتی رہی ہیں۔‘

ماجد نظامی کے مطابق اب مولانا فضل الرحمان خلیل ’دعوت و تبلیغ‘ کا کام زیادہ کرتے ہیں، تاہم ان کے پُرانے روابط آج بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔

فیض اللہ خان بھی کہتے ہیں حرکت المجاہدین کے لوگ افغان طالبان کے بہت قریب تھے۔

’سویت یونین کے انخلا کے بعد جب وہاں افغان طالبان کی حکومت آئی تو یہ لوگ فکری ہم آہنگی رکھنے کی وجہ سے ان کے ساتھ ہی ہو گئے تھے اور مختلف محاذوں پر ساتھ مل کر لڑتے رہے۔‘

عبداللہ شاہ مظہر

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

عبد اللہ شاہ مظہر بھی پاکستان کے جہادی حلقوں میں ایک بڑا نام ہیں اور وہ ماضی میں کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر سمیت متعدد جہادی شخصیات کے قریب رہے ہیں۔

تاہم انھوں نے بعد میں عسکری سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کی اور سیاست میں بھی حصہ لیا۔

ماجد نظامی کہتے ہیں کہ اب عبداللہ شاہ مظہر نے اپنا نام تبدیل کر لیا ہے اور اب ان کا نام مظہر سعید شاہ ہے۔

’ان کا تعلق بھی جیش محمد سے رہا ہے، بعد میں ان کے اختلافات ہوئے تو انھوں نے تحریکِ غلبہ اسلام نامی جماعت بنا لی۔‘

ماجد نظامی کے مطابق عبداللہ شاہ مظہر کا آبائی تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے ہے لیکن ان کی جوانی کا زیادہ تر وقت کراچی اور افغانستان میں گزرا ہے۔

’بعد میں یہ دوبارہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر چلے گئے اور وہاں پاکستان تحریک انصاف کے ٹیکنوکریٹ ٹکٹ پر منتخب ہو کر اسمبلی پہنچے اور وزیر بھی بنے۔‘

’پاکستان کے فوجی حکام کی جن علما سے ملاقات ہوتی ہے ان میں بھی عبداللہ شاپ مظہر شامل ہوتے ہیں، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے اب ریاست پاکستان سے بہتر تعلقات ہیں۔‘

تجزیہ کار و محقق فیض اللہ خان بھی عبداللہ شاہ مظہر کو بہت قریب سے جانتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کراچی میں عبداللہ شاہ مظہر کا مدرسہ ’جامعۃ الانوار‘ کے نام سے کام کر رہا ہے۔

Abdullah Shah Mazhar

صرف یہی نہیں بلکہ فیض اللہ کے مطابق عبداللہ شاہ مظہر کے بھائی مفتی طاہر سعید شاہ المعروف مفتی ابو لبابہ شاہ منصور بھی طالبان قیادت سے ذاتی تعلقات رکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مفتی طاہر سعید شاہ جہادی رسالے ضربِ مومن میں کالم بھی لکھا کرتے تھے۔

قاری ساجد عثمان

قاری ساجد عثمان عام لوگوں میں شاید اتنے معروف نہ ہوں لیکن جہادی حلقوں پر نظر رکھنے والی شخصیات کے لیے ان کا نام نیا نہیں ہے۔

فیض اللہ کہتے ہیں کہ قاری ساجد عثمان کے بھائی زاہد اقبال سویت یونین کے خلاف مسلح جہاد میں بہت متحرک تھے، اس لیے قاری ساجد بھی ان سے ہی منسلک ہو گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ قاری ساجد عثمان کا بھی کراچی میں خدام القرآن نامی مدرسہ یا ادارہ ہے اور وہ ہمیشہ مولانا فضل الرحمان خلیل کے قریب رہے ہیں۔

یہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ قاری عثمان نائن الیون حملوں کے بھی پاکستان چھوڑ گئے تھے اور اس کے بعد سعودی عرب اور جنوبی افریقہ میں مقیم رہے۔

فیض اللہ کہتے ہیں کہ قاری عثمان نے تین شادیاں کی ہیں اور انھوں نے ایک شادی جنوبی افریقہ میں کی تھی۔

’کہا جاتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد ان کا پاکستان سے زیادہ وقت وہاں گزرتا ہے۔‘

Fazlur Rehman Khalil

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

دیگر مبصرین و محققین بھی بتاتے ہیں کہ قاری ساجد عثمان کا مولانا فضل الرحمان خلیل سے قریبی تعلق رہا ہے۔

ماجد نظامی کہتے ہیں کہ قاری ساجد عثمان کا آبائی تعلق رحیم یار خان سے ہے اور وہ 1990 کی دہائی میں افغانستان میں عسکریت پسندی میں متحرک رہے ہیں۔

’1990 کی دہائی میں ان کے افریقہ اور بنگلہ دیش میں بڑا نیٹ ورک تھا، جس کا نام خدام القرآن تھا اور پھر یہ مشرف دور میں واپس آ گئے تھے۔‘

کیا ’جہادی سفارتکاری‘ کے ذریعے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی میں کمی ممکن ہے؟

پاکستان اور افغان طالبان دونوں نے اس وفد کے کابُل دورے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم افغان طالبان ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ان شخصیات کی افغانستان میں طالبان حکام سے ملاقاتیں چل رہی ہیں۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان ملاقاتوں کا مقصد کیا ہے۔

افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ایک عہدیدار کے مطابق ’اس دورے کی زیادہ تشہیر نہیں کی جا رہی ہے۔‘

محقق و تجزیہ کار فیض اللہ خان اس وفد کے دروہ افغانستان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ جہادی سفارتکاری ہو گئی، کیونکہ اس بار جو لوگ گئے ہیں نہ وہ سفارتکار ہیں اور نہ سیاستدان ہیں بلکہ ان کی مکمل شناخت مذہبی عسکریت کی بنیادوں پر ہے۔‘

’فضل الرحمان خلیل پاکستانی اداروں سے بھی قربت رکھتے ہیں، یہاں بھی یہ قابلِ اعتماد لوگ ہیں کیونکہ حرکت المجاہدین نے پاکستان میں کارروائیاں نہیں کی ہیں۔‘

فیض اللہ خان نے مزید بتایا کہ ’افغان طالبان کا مولانا فضل الرحمان خلیل سے کا ایک اچھا تعلق رہا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کروانے کے لیے ان کا کردار مناسب سمجھا گیا ہو۔ ‘

’کہا جا سکتا ہے کہ بات چیت کے لیے ایسے لوگ گئے ہیں جو 1980 کی دہائی سے افغانستان میں متحرک رہے ہیں۔ ان لوگوں کو بیچ میں ڈالنا ایک سنجیدہ اقدام ہے کیونکہ یہ لوگ عسکری محاذوں پر افغان طالبان کے ساتھ رہے ہیں۔‘

Afghanistan

،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

متعدد مرتبہ افغانستان کا دورہ کرنے والے اور عسکریت پسند گروہوں پر کڑی نگاہ رکھنے والے طارق حبیب بھی سمجھتے ہیں کہ اس وفد میں شامل ’مولانا فضل الرحمان خلیل افغانستان میں بہت زیادہ اثرو رسوخ رکھتے ہیں، نا صرف طالبان میں بلکہ دیگر گروہوں میں۔‘

طارق حبیب کے مطابق یہ وفد پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی میں کمی کروانے میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان خلیل کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’افغان طالبان ہمیشہ اُن کے رابطے میں رہے ہیں اور وہ بطور معلم بھی مولانا کے لیے احترام رکھتے ہیں۔‘

’پاکستان اور افغانستان کے جہادی حلقوں میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والی موجودہ شخصیت مولانا فضل الرحمان خلیل ہی ہیں۔‘

طارق حبیب کے خیال میں اس وفد کا کابل جانا پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسلح کشیدگی کم کروانے کے لیے ’آخری حربہ‘ معلوم ہوتا ہے۔

اعتماد کی کمی دوطرفہ روابط بحال کرنے سے دور ہو سکتی ہے: سابق سفیر

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر منصور خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘رابطے چاہے رسمی ذرائع سے ہوں یا غیر رسمی طریقوں سے، تبھی مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب وہ مطلوبہ نتائج دیں’۔

انھوں نے کہا کہ ‘سنہ 2022 میں جب میں وہاں سفیر تھا تو پاکستانی علما کا ایک وفد، جس کی قیادت مولانا تقی عثمانی کر رہے تھے، کابل گیا اور افغان طالبان حکام کے ساتھ ساتھ کچھ ٹی ٹی پی والوں سے بھی ملاقاتیں کیں، جنھیں افغان طالبان حکومت نے سہولت فراہم کی تھی۔ تاہم اُس وقت یہ کوشش پاکستان میں ٹی ٹی پی کی مہم میں کمی کے لحاظ سے کوئی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی۔

سابق سفیر کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بنیادی مسئلہ اعتماد کی کمی ہے اور دونوں ریاستوں کے دہشت گردی اور متعلقہ معاملات پر نقطۂ نظر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایسے حالات میں میرا خیال ہے کہ دونوں فریقین کو تمام ہچکچاہٹ دور کر کے ریاستی سطح پر دوطرفہ روابط کو دوبارہ فعال کرنا چاہیے۔’

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘میری نظر میں یہی سب سے مؤثر طریقہ ہے جس کے ذریعے سرحد پار دہشت گردی، سلامتی اور اقتصادی و عوامی روابط کے ایجنڈے سے نمٹا جا سکتا ہے۔’

SOURCE : BBC