Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں جنریشن زی اور محبت کے تجربات: ’سیکس کو پیار سے الگ کیا...

جنریشن زی اور محبت کے تجربات: ’سیکس کو پیار سے الگ کیا لیکن کئی لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھنا تھکا دینے والا عمل ہے‘

7
0

SOURCE :- BBC NEWS

جنریشن زی، محبت، رشتے

،تصویر کا ذریعہVernon Yuen/NurPhoto via Getty Images

7 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 9 منٹ

چین سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ ژو یو (فرضی نام) نے اپنے بوائے فرینڈ سے علیحدگی کے بعد کئی افراد کے ساتھ جنسی تعلقات پر مبنی رشتے قائم کرنا شروع کیے۔

’میں نے سیکس کو جذبات یا محبت سے الگ کرنا شروع کیا۔‘ وہ ڈیٹنگ ایپس پر ان لوگوں سے ملیں اور جب یہ تعلقات شروع ہوئے تو فریقین نے اپنی حدود طے کر لیں۔ اگر کوئی ان حدود سے تجاوز کرتا تو ژو یو انھیں یاد دہانی کراتیں۔

ژو یو پہلے بھی پانچ، چھ بار ایسے رومانوی تعلقات میں رہ چکی ہیں۔ وہ صنف کی قید سے آزاد کسی سے بھی رومانوی تعلقات قائم کر لیتی ہیں۔ انھوں نے مرد، عورت اور ٹرانس جینڈر افراد کے ساتھ بھی تعلقات استوار رکھے۔

جنریشن زی جنس اور جنسی رجحان کے حوالے سے گذشتہ نسلوں کے مقابلے میں زیادہ متنوع ہے۔ گیلپ کے سروے کے مطابق امریکہ میں 23.1 فیصد جنریشن زی خود کو ہم جنس پرست کے طور پر شناخت کراتے ہیں۔

گذشتہ چند سال میں ژو یو کچھ ایسے مبہم اور غیر واضح تعلقات میں بھی رہی ہیں جنھیں واضح طور پر بیان کرنا مشکل تھا لیکن ان تعلقات کی غیر یقینی کیفیت نے انھیں تھکا دیا اور کمزور کر دیا۔

انھوں نے بی بی سی چائنیز کو بتایا کہ ’ڈیڑھ سال تک مبہم تعلق میں رہنا، نہ یہ نہ وہ، میرے لیے تو یہ بالکل ناقابلِ قبول تھا۔‘

جب وہ ان مبہم تعلقات کو برداشت نہیں کر سکیں تو انھوں نے ایک مستحکم ساتھی کی تلاش کی تاہم حال ہی میں انھیں یہ احساس ہوا کہ اس طرز کے تحت ’جب آپ تعلق کی خواہش لیے جنسی طور پر بھی قریبی تعلقات قائم کر لیتے ہیں تو وہ رشتہ بہت غیر مستحکم ہوتا ہے۔‘

حالیہ برسوں میں ایک نئی قسم کا تعلق ’سچویشن شپ‘ بھی سامنے آیا ہے۔ یہ لفظ ’سچویشن‘ (صورتِ حال) اور ’ریلیشن شپ‘ یا تعلقات سے مل کر بنا ہے۔ اس قسم کے تعلق میں دونوں فریق رومانوی تعلق قائم رکھتے ہیں مگر پھر بھی تعلق کو واضح طور پر تسلیم نہیں کرتے، جو دوست اور محبوب کے درمیان مبہم کیفیت ہے۔

اس تعلق کی قسم جنریشن زی میں مقبول ہو چکی تھی۔

تاہم ڈیٹنگ ایپ ’ٹنڈر‘ کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق 18 سے 25 سال کے ڈیٹنگ کرنے والے نوجوانوں میں ’واضح تعلق کی تعریف‘ (کلیئر کوڈنگ) 2026 کا نیا رجحان ہو گا۔

ٹنڈر نے کہا کہ نوجوان سنگلز اب ’ڈی کوڈنگ‘ سے تنگ آ چکے ہیں اور اب وہ ملاقات کے وقت اپنی نیت واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں، صاف صاف بتاتے ہیں کہ وہ کس قسم کا تعلق چاہتے ہیں اور اندازوں پر مبنی کیفیت کو ختم کر رہے ہیں۔

’کبھی کبھی مجھے بہت تھکن محسوس ہوتی ہے‘

جنریشن زی، محبت، رشتے

،تصویر کا ذریعہSTR/NurPhoto via Getty Images

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

20 برس کی سی مس (فرضی نام) کا تعلق مکاؤ سے ہے اور وہ اس وقت تائیوان میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی چائنیز کو بتایا کہ وہ تین، چار قریبی تعلقات میں رہ چکی ہیں۔

مکاؤ میں رہتے ہوئے وہ سمجھتی تھیں کہ تعلقات کے بارے میں ان کا تصور کافی محدود ہے لیکن تائیوان آنے کے بعد، جب انھوں نے دیکھا کہ ان کے دوست مختلف انداز کے تعلقات کو آزما رہے ہیں، تو وہ آہستہ آہستہ یہ جاننے لگیں کہ تعلقات کی کئی شکلیں اور امکانات موجود ہیں۔

گذشتہ دو برسوں میں وہ ایک ایسے تعلق میں رہیں جنھیں انھوں نے واضح طور پر تسلیم نہیں کیا۔ وہ شخص ان کا سینیئر تھا، دونوں نے خاموشی سے عاشقوں جیسا رویہ اختیار کیے رکھا۔ ’ہم نے کبھی صاف صاف نہیں کہا کہ ہمارا تعلق کیا ہے۔‘

یہ تعلق تقریباً تین ماہ تک جاری رہا، پھر وہ شخص اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے دوسرے شہر چلا گیا اور یہ تعلق ختم ہو گیا۔ ’وہ ماسٹرز کرنے کے لیے تائی پے گیا اور پھر یہ سب ختم ہو گیا۔ وجہ یہ تھی کہ جب تعلق واضح نہ ہو تو لوگ کسی بھی وقت ترک تعلق کر لیتے ہیں۔‘

فی الحال، ان کے ساتھ ایک ایسا ساتھی ہے جس کے ساتھ وہ زندگی بانٹ رہی ہیں لیکن سی مس کہتی ہیں کہ وہ انھیں بوائے فرینڈ نہیں کہتیں۔

’ہم روزمرہ زندگی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور عام عاشقوں سے کوئی مختلف نہیں۔‘

سی مس کہتی ہیں کہ دونوں مختلف جگہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ’ہم نے سوچا کہ آئندہ چند برسوں میں ہماری زندگیوں کے راستے مختلف ہوں گے۔ اگر تعلق شروع ہی نہ کیا جائے تو اس کا خاتمہ بھی نہیں ہو گا اور اگر واقعی علیحدگی ہو جائے تو شاید اتنا دکھ بھی نہ ہو۔‘

وہ سمجھتی ہیں کہ موجودہ ساتھی کے ساتھ طویل مدتی تعلق ممکن نہیں لیکن پھر بھی وہ ایسی کیفیت میں ہیں جہاں علیحدگی بھی یقینی نہیں۔

’کبھی کبھی مجھے خود بھی بہت تھکن محسوس ہوتی ہے۔‘

انھوں نے مشاہدہ کیا کہ ان کے ہم عمر دوستوں میں بھی پچھلے چند برسوں میں کئی لوگ ’سچویشن شپ‘ یعنی غیرواضح تعلقات میں رہے ہیں۔

’میری ایک دوست ایسی صورتحال میں کئی برسوں سے رہ رہی ہیں۔ ان کا اتفاق یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں صرف ایک شخص سے محبت نہیں کر سکتیں، اسی لیے وہ بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ کا رشتہ قائم نہیں کرتیں اور یہ تعلق طویل نہیں چل سکتا۔‘

تاہم سی مس یہ واضح طور پر کہتی ہیں کہ یہ کیفیت مثالی نہیں اور دل کو تھکا دینے والی ہے کہ ’کسی تعلق میں جذبات شامل نہ کرنا اتنا آسان نہیں۔ جب آپ کسی کے ساتھ طویل عرصے تک رہتے ہیں تو بالکل بھی احساسات نہ ہونا تقریباً ناممکن ہے‘ لیکن جب تعلق میں کوئی نام، کوئی تصدیق اور کوئی مستقبل نہ ہو، تو ایسے رشتے کو قائم رکھنا اور چلانا ان کے لیے سب سے زیادہ تھکا دینے والی بات ہے۔

سی مس مانتی ہیں کہ اگر ملاقات کے آغاز میں ہی دونوں اپنی نیت اور مطلوبہ تعلق کی وضاحت کر دیں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا اور غلط فہمیوں کے امکانات کم ہوں گے۔

ان کے دل کے کسی کونے میں یہ خواہش موجود ہے کہ وہ آخرکار ایک طویل اور مستحکم تعلق چاہتی ہیں: ’میں شادی بھی کرنا چاہتی ہوں۔‘

اس کے باوجود جنریشن زی کی رکن ہونے کے ناطے وہ سمجھتی ہیں کہ آج کل رومانی تعلقات ملنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ’جب سب لوگ زیادہ تر اپنی ذاتی ترقی پر توجہ دیتے ہیں تو وہ کسی دوسرے شخص پر اضافی توانائی خرچ نہیں کرنا چاہتے اور یوں رومانوی احساسات حاصل کرنے کی خواہش بھی کم ہو جاتی ہے۔‘

جنریشن زی، محبت، رشتے

،تصویر کا ذریعہ陳維平

ٹیکنالوجی کس طرح جنریشن زی کے قریبی تعلقات میں رکاوٹ بن رہی ہے؟

تائیوان کی نیشنل یانگ مِنگ چیاو تُنگ یونیورسٹی کے کمیونیکیشن اور ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر، چن وی پِنگ، جو ٹیکنالوجی اور قریبی تعلقات پر تحقیق کرتی رہی ہیں، نے بی بی سی چائنیز کو بتایا کہ جنریشن زی کی نشوونما سوشل میڈیا اور ڈیٹنگ پلیٹ فارمز کے ساتھ ہوئی۔

’ان کے لیے قریبی تعلقات کو سمجھنے کا عمل شروع ہی سے مضبوط ڈیجیٹل خصوصیت کے ساتھ رہا۔‘

چن وی پِنگ وضاحت کرتی ہیں کہ نوجوان نسل کے لیے ٹیکنالوجی صرف ایک ذریعہ یا اوزار نہیں بلکہ تعلقات کو سمجھنے کا ایک فریم ورک ہے۔

’یہ نسل الگورتھم کے زیرِ اثر ماحول میں قریبی تعلقات سیکھتی ہے اور ان الگورتھمز کی منطق کو اندرونی طور پر اپنا لیتی ہے۔‘

نیشنل یانگ مِنگ چیاو تُنگ یونیورسٹی کے کمیونیکیشن اور ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر چن وی پِنگ نے مشاہدہ کیا کہ پچھلی نسل کے برعکس، جو محبت کو قدرتی طور پر پروان چڑھنے پر زور دیتی تھی، نئی نسل زیادہ واضح طور پر جانتی ہے کہ مختلف مراحل میں وہ کس قسم کا تعلق یا شدت چاہتی ہے۔

کچھ لوگ ڈیٹنگ ایپس پر اپنے تعارف میں لکھتے ہیں کہ میں صرف ایسا دوست چاہتی/ چاہتا ہوں جو میرے ساتھ نمائش دیکھنے جا سکے، یا میں ایک مستحکم تعلق کی تلاش میں ہوں۔۔۔ یعنی تعلق کے بارے میں اپنی توقعات واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔

چن وی پِنگ کے مطابق ’کلئیر کوڈنگ‘ کی طرف رجحان صرف اسی سال نہیں آیا بلکہ یہ ارتقا سے ہوا اور یہ ایک اہم تبدیلی ہے۔

’پچھلے چند برسوں میں کووِڈ-19 کی غیر یقینی صورتحال نے ’سچویشن شپ‘ یعنی غیر واضح تعلقات کو فروغ دیا۔ لوگ نہیں جانتے تھے کہ مستقبل کیسا ہو گا، اس لیے تعلق کو واضح طور پر بیان کرنے سے گریز کرتے تھے اور یہ ابہام مزید غیر یقینی کیفیت لے آیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’کلئیر کوڈنگ‘ کا رجحان جنریشن زی کی جذباتی خصوصیات سے بھی جُڑا ہے۔

’چند ماہ تک یہ جانچنے کی بجائے کہ دوسرا شخص کیا چاہتا ہے، بہتر ہے کہ ابتدا ہی میں توقعات واضح کر دی جائیں۔ اس میں تعلق کی قسم، مستقبل کے اہداف، حتیٰ کہ آپ کا سیاسی مؤقف بھی شامل ہو سکتا ہے اور یہ سب باتیں شروع ہی میں سامنے رکھ دی جائیں۔‘

یہ طریقہ کار آغاز ہی میں ایسے افراد کو الگ کر دیتا ہے جن کی اقدار ہم آہنگ نہیں ہوتیں اور یہ نئی نسل کی مؤثر ڈیٹنگ کلچر کی عکاسی کرتا ہے۔

تاہم چن وی پِنگ خبردار کرتی ہیں کہ اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ ’ایسے ذاتی اوصاف یا جذباتی تعلقات جو وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ پروان چڑھتے ہیں اور جنھیں فوری طور پر واضح نہیں کیا جا سکتا، شاید کبھی وجود میں نہ آ سکیں۔‘

جنریشن زی، محبت، رشتے

،تصویر کا ذریعہPaul Yeung/Bloomberg via Getty Images

27 سالہ ہوانگ اب تک دو بار رومانوی تعلق میں رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان کی موجودہ گرل فرینڈ غیر ملکی ہیں۔ یہ تعلق چار سال سے قائم ہے۔

وہ یہ صاف صاف بتاتے ہیں کہ اگرچہ یہ رشتہ نسبتاً مستحکم ہے لیکن مستقبل کے بارے میں اب بھی غیر یقینی کیفیت موجود ہے۔

ہوانگ کہتے ہیں کہ وہ اور ان کی گرل فرینڈ اکثر مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہیں اور ’یقیناً ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ساتھ رہیں لیکن اسے زبردستی نہیں کیا جا سکتا۔‘

جنریشن زی کے ایک فرد کے طور پر وہ مانتے ہیں کہ پچھلی نسل کے برعکس، جو استحکام کو ترجیح دیتی تھی، آج کے ماحول میں غیر یقینی صورتحال بہت زیادہ ہے۔ ’اس میں بہت زیادہ بے چینی ہے اور یہ بھی معلوم نہیں کہ استحکام کوئی حاصل کی جانے والی چیز ہے یا نہیں۔ اس لیے توجہ زیادہ تر حال پر مرکوز ہو جاتی ہے۔‘

دوسری طرف، ژو یو کے دل میں اب بھی یہ خواہش موجود ہے کہ وہ ایک ایسا ساتھی پائیں جو مستقل ہو اور جس کے ساتھ گہرا تعلق قائم کیا جا سکے۔

’ایک ہی وقت میں کئی لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنا بہت تھکا دینے والا ہے۔ جب آپ اپنی توانائی کئی لوگوں پر خرچ کرتے ہیں تو گہرے تعلقات قائم کرنا ممکن نہیں رہتا۔‘

SOURCE : BBC