Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں تفتیش کار ایک اینٹ کی مدد سے کئی سال تک جنسی استحصال...

تفتیش کار ایک اینٹ کی مدد سے کئی سال تک جنسی استحصال کا نشانہ بننے والی لڑکی کو تلاش کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے؟

14
0

SOURCE :- BBC NEWS

تفتیش کار گریگ سکائر

انتباہ: یہ مضمون جنسی استحصال کی تفصیلات پر مشتمل ہے۔

ماہر آن لائن تفتیش کار گریگ سکائر جنسی استحصال کا نشانہ بننے والی ایک لڑکی کو بچانے کی کوششوں میں ناکام ہو چکے تھے۔ اس لڑکی کا نام اُن کی ٹیم نے ’لوسی‘ رکھا ہوا تھا۔

اُس لڑکی کی پریشان کُن تصاویر ڈارک ویب پر شیئر کی جا رہی تھیں۔۔۔ ڈارک ویب یعنی انٹرنیٹ کا وہ حصہ جو صرف ایسے خصوصی سافٹ ویئرز کے ذریعے ہی قابل رسائی ہوتا ہے جن کا مقصد اسے استعمال کرنے والوں کی شناخت چھپانا ہے۔

تفتیش کار سکائر کہتے ہیں کہ لڑکی کو استحصال کا نشانہ بنانے والا شخص ’اپنے نقوش چھپانے‘ کی پوری کوشش کر رہا تھا۔ وہ تصاویر کو اس طرح کاٹ یا بدل دیتا تھا کہ کوئی نشانی باقی نہ رہے۔ یہ معلوم کرنا ناممکن تھا کہ ’لوسی‘ کون ہے اور کہاں ہے۔

مگر جلد ہی انھیں پتا چلنے والا تھا کہ 12 سالہ لڑکی کی موجودگی کا ثبوت صاف نظر آنے والی جگہ پر ہی چھپا ہوا تھا۔

تفتیش کار سکائر امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے تحقیقاتی یونٹ میں کام کرتے ہیں۔ یہ ایک خصوصی یونٹ ہے جس کا مقصد جنسی استحصال پر مبنی مواد میں نظر آنے والے بچوں کی شناخت کرنا ہے۔

بی بی سی ورلڈ سروس کی ایک ٹیم نے سکائر اور پرتگال، برازیل، اور روس میں موجود دیگر تحقیقاتی یونٹس کے ساتھ فلم بندی کی، جہاں ہم نے یہ دیکھا کہ تفتیش کار کس طرح اس نوعیت کے کیسز حل کرتے ہیں۔ ان میں روس میں ایک سات سالہ اغوا شدہ اور فرضی طور پر مردہ بچے کا معاملہ اور ایک برازیلی شخص کی گرفتاری بھی شامل تھی جو ڈارک ویب پر بچوں کے استحصال کے پانچ سب سے بڑےفورمز چلانے کا ذمہ دار تھا۔

اس غیرمعمولی رسائی سے ہمیں معلوم ہوا کہ یہ کیسز اکثر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نہیں بلکہ تصاویر یا چیٹ فورمز میں موجود چھوٹی چھوٹی مگر واضح نشانیوں کو پہچان کر حل کیے جاتے ہیں۔

سکائر اور ان کی ٹیم دن رات ڈارک ویب چیٹ رومز کی نگرانی کرتی ہے تاکہ کسی بھی ایسے سراغ کو تلاش کیا جا سکے جو جنسی استحصال کا شکار بچوں کی شناخت میں مدد دے سکے
مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

تفتیش کار سکائر نے اپنے ابتدائی کریئر میں ’لوسی‘ کے کیس پر کام کیا۔

اُن کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ لوسی کی عمر اُن کی اپنی بیٹی کے برابر تھی اور اس کے استحصال پر مبنی نئی تصاویر ڈراک ویب پر مسلسل سامنے آ رہی تھیں جن میں اسے مبینہ طور پر اس ہی کے بیڈروم میں مسلسل جنسی حملوں کا شکار بنایا جا رہا تھا۔

تصاویر میں دکھائی دینے والے لائٹ ساکٹس اور بجلی کے ساکٹس سے تفتیش کار سکائر اور اُن کی ٹیم نے اندازہ لگایا کہ لوسی شمالی امریکہ کے کسی حصے میں ہیں، لیکن اس سے آگے زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔

انھوں نے فیس بُک سے مدد طلب کی تاکہ وہاں ماضی میں اپ لوڈ ہونے والی فیملی فوٹوز میں کہیں لوسی کو دیکھا جا سکے۔ لیکن فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے باوجود فیس بک نے کہا کہ اُن کے پاس مدد کرنے کے لیے ضروری چیزیں نہیں ہیں۔

اس کے بعد سکائر اور ان کی ٹیم نے لوسی کے کمرے میں (جو تصاویر میں نظر آ رہا تھا) موجود ہر چیز کا بغور جائزہ لیا: بستر، اُن کے کپڑے، اور اُن کے کھلونے۔ وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی تفصیل کو نوٹ کر رہے تھے جو کہیں مددگار ثابت ہو سکتی تھی۔

پھر ایک چھوٹی سی پیش رفت ہوئی۔ ٹیم نے دریافت کیا کہ کچھ تصاویر میں دکھائی دینے والا صوفہ صرف ایک مخصوص علاقے میں فروخت ہوتا تھا اور اس لیے اس کے خریدار محدود تھے۔

لیکن یہ علاقہ تقریباً 40,000 لوگوں کی آبادی پر مشتمل تھا۔

سکائر کہتے ہیں ’اس وقت تحقیقات کے دوران ہم امریکہ کی 29 ریاستوں کو دیکھ رہے تھے۔ یعنی آپ ہزاروں گھروں کی بات کر رہے ہیں اور یہ واقعی ایک بہت مشکل کام تھا۔‘

ٹیم مزید ثبوتوں کی تلاش میں تھی۔ تب ہی انھیں احساس ہوا کہ لوسی کے بیڈروم میں عام سی اینٹوں کی دیوار بھی ان کے لیے سراغ فراہم کر سکتی ہے۔

سکائر کہتے ہیں ’میں نے بس گوگل پر اینٹوں کی تلاش شروع کی اور زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ مجھے ’برک انڈسٹری ایسوسی ایشن‘ تک رسائی حاصل ہو گئی۔‘

وہ کہتے ہیں ’فون پر بات کرنے والی خاتون شاندار تھیں۔ انھوں نے کہا ’اینٹوں کی صنعت آپ کی تفتیش میں کس طرح مدد کر سکتی ہے؟‘

سکائر کے مطابق اس خاتون نے اُس مخصوص اینٹ کی تصویر ملک بھر کے اینٹوں کے ماہرین کے ساتھ شیئر کرنے کی پیشکش کی اور جواب فوراً ملا۔

ایک شخص جس نے ان سے رابطہ کیا، وہ جان ہارپ تھے جو سنہ 1981 سے اینٹوں کی فروخت کا کام کر رہے تھے۔

ہارپ کہتے ہیں ’میں نے دیکھا کہ یہ اینٹ گلابی رنگ کی تھی اور اس پر ہلکا سا چارکول کا اثر تھا۔ یہ ایک ماڈیولر آٹھ انچ کی اینٹ تھی اور اس کے کنارے مربع شکل میں تھے۔ جب میں نے یہ دیکھا تو فوراً پتہ چل گیا کہ یہ کون سی اینٹ ہے۔‘

انھوں نے سکائر کو بتایا کہ یہ فلیمِنگ الامو اینٹ تھی۔ ’ہماری کمپنی نے یہ اینٹ 1960 کی دہائی کے آخر سے لے کر 1980 کے وسط تک بنائی اور میں نے اس پلانٹ سے لاکھوں اینٹیں فروخت کی ہیں۔‘

ہارپ وہ شخص تھے جنھوں نے اینٹ کی شناحت کی اور تفتیش کاروں کی لوسی کو ڈھونڈنے میں مدد کی

ابتدا میں سکائر بے حد خوش تھے۔ انھیں لگا کہ اب شاید اینٹ خریدنے والوں کی کوئی ڈیجیٹل فہرست مل جائے گی جس سے کام آسان ہو جائے گا۔ لیکن ہارپ نے بتایا کہ فروخت کا ریکارڈ تو بس پرانے کاغذات کا ایک ڈھیر ہے، جو کئی دہائیوں پرانا ہے۔

تاہم ہارپ نے اینٹوں کے بارے میں ایک اہم بات بتائی۔

سکائر کے مطابق وہ کہنے لگے ’اینٹیں بھاری ہوتی ہیں۔۔۔ اور بھاری اینٹیں زیادہ دور تک نہیں لے جائی جاتیں۔‘

اس بات سے تحقیق کا رخ بدل گیا۔ ٹیم دوبارہ صوفہ خریدنے والوں کی فہرست کی طرف گئی اور اسے محدود کر کے صرف ان لوگوں تک لے آئی جو امریکہ کے جنوب مغرب میں واقع ہارپ کی اینٹوں کی فیکٹری سے تقریباً 100 میل کے دائرے میں رہتے تھے۔

اب 40 یا 50 افراد کی اس مختصر فہرست سے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس دیکھنا آسان تھا۔ اسی دوران انھیں فیس بک پر لوسی کی ایک تصویر ملی جس میں وہ ایک بالغ خاتون کے ساتھ تھی جس سے تاثر ملتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو جانتی ہیں۔۔۔۔ وہ خاتون ممکنہ طور پر لوسی کی کوئی رشتہ دار تھیں۔

تحقیق کاروں نے اس خاتون کا پتہ معلوم کیا، پھر ان سے منسلک دیگر تمام پتوں اور ان لوگوں کا سراغ لگایا جن کے ساتھ وہ کبھی رہ چکی تھیں۔

یوں لوسی کے ممکنہ پتے کا دائرہ مزید محدود ہو گیا۔ تاہم وہ گھر گھر جا کر پوچھ گچھ نہیں کرنا چاہتے تھے، کیونکہ اگر پتہ غلط نکلتا تو خدشہ تھا کہ ملزم کو اندازہ ہو جاتا کہ حکام اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

چنانچہ سکائر اور ان کے ساتھیوں نے ان گھروں کی تصاویر اینٹوں کے ماہر جان ہارپ کو بھیجنا شروع کر دیں۔

گریگ سکائر کے مطابق لوسی کی عمر اُن کی اپنی بیٹی کی عمر کے لگ بھگ تھی

گھروں کے باہر کہیں بھی ’فلیمِنگ الامو‘ نظر نہیں آ رہے تھے۔ لیکن ٹیم نے ہارپ سے کہا کہ وہ ان گھروں کے انداز اور بیرونی ڈیزائن کو دیکھ کر اندازہ لگائیں کہ آیا یہ مکانات اُس دور میں تعمیر ہوئے تھے جب ’فلیمِنگ الامو‘ نامی اینٹیں فروخت کی جاتی تھیں۔

گریگ سکائرنے کہا کہ ’ہم بنیادی طور پر اس گھر یا رہائش گاہ کا سکرین شاٹ لیتے اور جان کو بھیجتے کہ ’کیا اس گھر کے اندر یہ اینٹیں موجود ہو سکتی ہیں؟‘

آخرکار انھیں ایک کامیابی ملی۔ انھوں نے ایک پتہ تلاش کیا جس کے بارے میں ہارپ کا خیال تھا کہ وہاں ’فلیمِنگ الامو‘ اینٹوں کی دیوار موجود ہو سکتی ہیں، اور یہ پتہ صوفہ کسٹمر لسٹ میں بھی شامل تھا۔

گریگ سکائرنے کہا کہ ’تو ہم نے تفتیش کو صرف ایک پتے تک محدود کر دیا۔۔۔ اور ریاستی ریکارڈز، ڈرائیور کے لائسنس، سکولوں کی معلومات کے ذریعے وہاں رہنے والوں کی تصدیق کا عمل شروع کیا۔‘

ٹیم کو معلوم ہوا کہ لوسی کے گھر میں ان کی والدہ کا بوائے فرینڈ رہتا ہے۔۔۔ جو ایک سزا یافتہ جنسی مجرم تھا۔

چند گھنٹوں کے اندر، مقامی ہوم لینڈ سکیورٹی ایجنٹس نے اس مجرم کو گرفتار کر لیا، جو چھ سال سے لوسی کو زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا۔ بعد میں اسے 70 سال سے زیادہ قید کی سزا سنائی گئی۔

اینٹوں کے ماہر ہارپ یہ سن کر خوش ہوئے کہ لوسی محفوظ ہیں۔

چند برس قبل گریگ سکائر پر نوکری کی نوعیت کی وجہ سے پڑنے والے دباؤ نے ان کی ذہنی صحت پر حقیقی اثر ڈالنا شروع کر دیا، اور وہ اعتراف کرتے ہیں کہ جب وہ کام نہیں کر رہے ہوتے تھے تو ’شراب میری زندگی کا اس سے زیادہ بڑا حصہ بن گئی تھی جتنا ہونا چاہیے تھا۔‘

کچھ ہی عرصے بعد ان کی شادی ختم ہو گئی، اور ان کے مطابق انھیں خودکشی کے خیالات آنے لگے۔

یہ ان کے ساتھی پیٹ میننگ تھے جنھوں نے محسوس کیا کہ اُن کے دوست مشکل صورتحال سے دوچار ہیں، اور پھر انھوں نے انھیں مدد لینے کی ترغیب دی۔

گریگ سکائر اپنے دوست اور ساتھی پیٹ میننگ کے ساتھ تصویر میں دکھائی دے رہے ہیں

پیٹ میننگ نے کہا کہ ’یہ مشکل ہوتا ہے کہ وہی چیز جو آپ کو توانائی اور جذبہ دیتی ہے، آہستہ آہستہ آپ کو تباہ بھی کر رہی ہوتی ہے۔‘

گریگ سکائر کا کہنا ہے کہ ’اپنی کمزوریوں کو سامنے لانا ہی بہتر ہونے اور اس کام کو جاری رکھنے کی پہلی سیڑھی تھی، جس پر انھیں فخر ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں اس ٹیم کا حصہ بننے پر اعزاز محسوس کرتا ہوں جو فرق پیدا کر سکتی ہے، بجائے اس کے کہ ٹی وی پر دیکھوں یا اس کے بارے میں سنوں۔۔ میں چاہوں گا کہ میں خود اس جدوجہد کے بیچ میں رہوں اور اسے روکنے کی کوشش کروں۔‘

گذشتہ گرمیوں میں گریگ پہلی بار لوسی سے ملے، جو اب اپنی 20 کی دہائی میں ہیں۔

لوسی (بائیں جانب)، جو اب بالغ ہیں، نے گریگ سکائر کو بتایا کہ وہ دعا کر رہی تھیں کہ مدد اُن تک آن پہنچے

لوسی نے بتایا کہ اب وہ اپنے تجربات پر بات کرنے کے قابل ہیں، اور یہ ان کے اردگرد موجود تعاون کا ثبوت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اب میں زیادہ مضبوط اور محفوظ محسوس کرتی ہوں۔ میرے پاس اتنی توانائی ہے کہ لوگوں سے بات کر سکوں، جو میں چند سال پہلے میں نہیں کر سکتی تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ جب ہوم لینڈ سکیورٹی نے انھیں اس استحصال سے نجات دلوائی تو وہ ہر وقت گڑگڑا کر یہ دعا مانگتی تھیں کہ یہ مشکل ختم ہو جائے۔‘

اب یہ بات تھوڑی عجیب لگ سکتی ہے مگر یہ ایک دعا تھی جو قبول ہوئی۔

گریگ سکائر نے انھیں بتایا کہ وہ چاہتے تھے کہ وہ یہ بات پہنچا سکیں کہ مدد آ رہی ہے۔

’آپ چاہتے ہیں کہ کوئی ٹیلی پیتھی ہو اور آپ رابطہ کر سکیں، جیسا کہ ’سنیں، ہم آ رہے ہیں‘۔

بی بی سی نے فیس بُک سے پوچھا کہ وہ لوسی کو تلاش کرنے میں اپنی فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کیوں استعمال نہیں کر سکتے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ’صارفین کی رازداری کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ہم مناسب قانونی عمل کی پیروی کریں، لیکن ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔‘

SOURCE : BBC