Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ’بچے رات کو سو نہیں سکتے، ہر طرف خوف ہے‘: پاکستان اور...

’بچے رات کو سو نہیں سکتے، ہر طرف خوف ہے‘: پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جھڑپوں کے دوران سرحدی علاقوں میں کیا صورتحال ہے؟

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’بچے رات کو سو نہیں سکتے تھے۔ دھماکوں کی آوازیں اتنی زیادہ تھیں کہ ہر طرف خوف پایا جاتا تھا۔‘

پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر میں لنڈی کوٹل کے رہائشی ملک تاج الدین بی بی سی اردو کو پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کے درمیان جھڑپوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے آگاہ کر رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’جب جھڑپیں شروع ہوئیں تو سب سے پہلے سرحد کے قریب ایک کلومیٹر کے اندر آباد گاؤں خالی کرا لیے گئے تھے، جن میں باچا مینا دیہات بھی شامل ہے۔‘

لنڈی کوتل طورخم بارڈر سے تقریباً پانچ سے چھ کلومیٹر دوری پر واقع ہے اور ملک تاج الدین کہتے ہیں کہ وہ خود پشاور منتقل ہو چکے ہیں، تاہم بہت سے لوگ ابھی تک لنڈی کوتل میں رہائش پذیر ہیں۔

واضح رہے کہ 26 فروری 2026 کو افغانستان کی طالبان حکومت نے فضائی حملوں کے جواب میں پاکستان کے سرحدی علاقوں پر حملے شروع کرنے کے بعد متعدد چوکیوں پر قبصہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد سے دونوں اطراف میں شدید جھڑپیں جاری ہیں اور طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے ملک پر مزید حملے بھی کیے ہیں۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ اعداد و شمار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب تک پانچ دن کے دوران 435 افغان اہلکار ہلاک اور 630 زخمی ہیں جبکہ افغانستان کی 188چوکیاں، 188 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ 31 چوکیوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق افغانستان میں 51 مقامات کو فضا سے نشانہ بنایا گیا تاہم ان مقامات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

Pakistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

دوسری جانب افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں سے دور راولپنڈی، کوئٹہ تک میں ڈرونز کے ذریعے فضائی حملوں کا بھی دعوی کیا گیا، تاہم پاکستان کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید کی گئی ہے۔

افغان طالبان کی وزارت دفاع نے یکم مارچ کو یہ دعوی بھی کیا کہ یہ حملے پاکستانی فضائیہ کی جانب سے کابل سمیت دیگر علاقوں میں جاری بمباری کے جواب میں کیے گئے جن کے دوران باگرام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایسے میں سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں تاہم بی بی سی ان ویڈیوز اور دونوں طرف سے جاری اعدادوشمار اور نقصانات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتا۔

دوسری جانب افغان طالبان کی جانب سے سرحدی علاقوں سے دور راولپنڈی، کوئٹہ تک میں ڈرونز کے ذریعے فضائی حملوں کا بھی دعوی کیا گیا، تاہم پاکستان کی جانب سے ان دعوؤں کی تردید کی گئی ہے۔

افغان طالبان کی وزارت دفاع نے یکم مارچ کو یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ حملے پاکستانی فضائیہ کی جانب سے کابل سمیت دیگر علاقوں میں جاری بمباری کے جواب میں کیے گئے جن کے دوران باگرام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایسے میں سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں تاہم بی بی سی ان ویڈیوز اور دونوں طرف سے جاری اعدادوشمار اور نقصانات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتا۔

خوف اور سکولوں کی بندش

یاد رہے کہ زیادہ تر جھڑپیں پاکستان کے ان سرحدی علاقوں میں ہو رہی ہیں جو خیبرپختونخوا میں واقع ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جھڑپوں کے بعد مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ سرحدی علاقوں میں شدید خوف پایا جاتا ہے۔

متعدد سرحدی اضلاع میں مقامی انتظامیہ نے سکول بند کرنے کے اعلانات کیے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں ضلع باجوڑ، ضلع مہمند اور ضلع خیبر میں مقامی انتظامیہ کے احکامات پر ان علاقوں میں وہ سکول جو سرحد کے قریب واقع انھیں بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سکیورٹی صورت حال بتائی گئی ہے۔

لنڈی کوتل سے مقامی صحافی امان علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لنڈی کوتل اور بازار زخہ حیل کے تمام تعلیمی ادارے ڈپٹی کمشنر کے حکم پر بند کر دیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس حکم کے تحت سرحدی علاقوں کے 29 بوائز اور 8 گرلز اسکول تاحکمِ ثانی بند رہیں گے جبکہ اسی طرح ضلع مہمند کے 53 اور ضلع باجوڑ کے 39 سکول بند کر دیے گئے ہیں۔

بلوچستان کے سرحدی علاقوں کی صورت حال

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران بلوچستان کے دو اضلاع سے متصل سرحدی علاقوں قلعہ سیف اللہ اور نوشکی میں جھڑپیں ہوئیں۔ ابتدائی جھڑپوں کے بعد بلوچستان بھر میں نجی ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی۔

قلعہ سیف اللہ میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان قلعہ سیف اللہ میں بادینی اور اس کے دوسری جانب افغانستان کے سرحدی علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شہری ملک بشیر احمد ملازئی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بادینی میں لویہ جرگہ اور دیگر علاقوں میں جھڑپوں کا سلسلہ رات کئی گھنٹوں تک جاری رہا ہے۔ ادھر نوشکی کے علاقے گزنلی اور اس کے دوسری جانب افغان سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

دونوں علاقوں میں اگرچہ سرکاری حکام نے جھڑپوں کی تصدیق کی لیکن کسی نقصان کی تفصیل فراہم نہیں کی۔ یاد رہے کہ بلوچستان کے 7اضلاع ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، نوشکی اور چاغی کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ لگتی ہیں۔ اگرچہ ماضی میں چمن کے سرحدی علاقوں میں زیادہ تر جھڑپیں ہوتی رہیں لیکن اس مرتبہ اس سرحدی علاقے سے کسی جھڑپ کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

Afghanistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

افغان پناہ گزینوں کے خلاف کریک ڈاؤن

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کے دوران خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی تیزی دیکھنے کو ملی ہے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا آغاز جمعہ کی شب کیا گیا جبکہ چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، چاغی اور دیگر علاقوں میں بھی غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی گئی۔

بلوچستان کے ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں سے مجموعی طور پر 600 سے زائد افغان باشندوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جبکہ ضلع چاغی سے گرفتار ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

پشاور کے پولیس افسر فرحان خان نے کہا ہے کہ پشاور سے 1040 افغان پناہ گزینوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنھیں عدالت میں پیش کرنے کے بعد واپس بھیج دیا جائے گا۔

کیپٹل سٹی پولیس پشاور کے افسر ڈاکٹر میاں سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں اور پشاور اور خیبر میں اس سلسلے میں کارروائی شروع کی گئی ہے۔

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کو گزشتہ سال اکتوبر سے بار بار کہا جا رہا ہے کہ جن کے کارڈز کی مدت ختم ہو چکی ہے اور توسیع نہیں کی گئی، وہ افراد واپس چلے جائیں۔

Afghanistan

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ادھر پشاور میں افغان پناہ گزینوں کی شوری کے سربراہ حاجی عصمت اللہ کہتے ہیں کہ طورخم سرحد بند ہے، اس کے باوجود پولیس افغان شہریوں کو گرفتار کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں کو فارن ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جا رہا ہے حالانکہ ان لوگوں نے پاکستان میں اپنی زندگی کے 45 سال گزارے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس طرح کا رویہ مناسب نہیں ہے۔

SOURCE : BBC