Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں بنگلہ دیش اور امریکہ کے تجارتی معاہدے کو انڈیا کے لیے ’خطرناک‘...

بنگلہ دیش اور امریکہ کے تجارتی معاہدے کو انڈیا کے لیے ’خطرناک‘ کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟

12
0

SOURCE :- BBC NEWS

امریکہ اور بنگلہ دیش نے محصولات سے متعلق ایک تجارتی معاہدے پر دستخط کیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سوموار 9 فروری کو امریکہ اور بنگلہ دیش نے تقریبا نو ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد محصولات سے متعلق ایک تجارتی معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت امریکہ نے بنگلہ دیش پر محصولات 19 فیصد تک کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ محصولات پہلے 37 فیصد تھے اور گذشتہ سال اگست میں کم کر کے 20 فیصد کیے گئے۔

اس کے علاوہ امریکہ نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں جو کپڑے اور ملبوسات امریکی کپاس اور مصنوعی ریشوں سے تیار کیے جائیں گے، ان پر امریکی منڈیوں میں داخلے پر کوئی محصول لاگو نہیں ہو گا۔

مشیر تجارت شیخ بشیرالدین اور قومی سلامتی کے مشیر خلیل الرحمٰن نے بنگلہ دیش کی نمائندگی کی جبکہ امریکہ کی جانب سے دستخط کرنے والے تجارتی نمائندے سفیر جیمیسن گریئر تھے۔

امریکی سفیر گریئر نے مذاکراتی عمل میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے مرکزی مشیر محمد یونس کی قیادت کی تعریف کی اور بنگہ دیشی ٹیم کی ’زبردست محنت‘ کو سراہا۔

معاہدے کے بعد بنگلہ دیش کے مشیر تجارت شیخ بشیر الدین نے کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کا اقتصادی اور تجارتی تعلق تاریخ کی نئی سطح تک جائے گا۔

انھوں نے کہا: ’اس سے بنگلہ دیش اور امریکہ کو ایک دوسرے کی منڈیوں تک زیادہ رسائی ملے گی۔‘

مرکزی مذاکرات کار قومی سلامتی کے مشیر خلیل الرحمان تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’محصولات کی کمی سے ہمارے برآمد کنندگان کو فائدہ ہو گا اور امریکی خام مال سے تیار ہونے والے خصوصی ملبوسات پر صفر محصول ہمارے لباس کے شعبے کو مزید مضبوط کرے گا۔‘

انڈیا کو کس بات پر تشویش ہے؟

دھاگا تیار کرنے کرنے والی فیکٹری کا منظر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کو تشویش یہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ نئے معاہدے کی وجہ سے بنگلہ دیش آہستہ آہستہ انڈین خام مال چھوڑ کر امریکی کپاس کا استعمال شروع کر سکتا ہے۔ ایسا ہوا تو انڈیا کے کپاس کے کسان اور دھاگے کی صنعت براہ راست متاثر ہو گی۔ یہ فکر بھی پائی جاتی ہے کہ صفر محصول کی وجہ سے بنگلہ دیشی مصنوعات عالمی منڈی میں سستی ہو جائیں گی اور انڈین کپڑا برآمد کرنے والوں کے لیے مزید مشکل کھڑی ہو جائے گی۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس رہنما پون کھیڑا نے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں پون نے لکھا: ’چال چلنے والے بادشاہ نے انڈیا کی کپڑے کی صنعت اور کپاس کے کسان، دونوں کو ہی تباہ کر دیا ہے۔ بظاہر تو امریکہ اور بنگلہ دیش میں ’جوابی محصولات کے معاہدے‘ کی ساخت ویسی ہی ہے جیسی انڈیا اور امریکہ معاہدے کی ہے (19 فیصد بنیادی محصول)۔ لیکن باریکیاں پورا کھیل ہی بدل دیتی ہیں۔‘

پون کھیڑا نے لکھا کہ معاہدے میں امریکہ نے بنگلہ دیش کے لیے ’صفر محصول‘ کی شق شامل کی ہے لیکن یہ شرط بھی رکھی ہے کہ بنگلہ دیش کو امریکی کپاس اور خام مال استعمال کرنا ہو گا۔

انھوں نے مزید لکھا: ’یہ انڈیا کے لیے خطرناک کیوں ہے؟ انڈین کپڑا اب مقابلہ نہیں کر پائے گا: انڈیا 18 فیصد محصول پر اٹکا رہے گا۔ دوسری جانب بنگلہ دیش صرف امریکی خام مال لے کر کوئی بھی محصول ادا کیے بغیر امریکی منڈی میں داخل ہو سکتا ہے۔ یوں کم منافعے والی اس صنعت میں قیمت کا بہت بڑا فرق پیدا ہو جائے گا۔‘

ان کے مطابق ’انڈین کپاس کے کسان کے لیے بحران: بنگلہ دیش کو دھاگا فراہم کرنے والا بنیادی ملک انڈیا تھا۔ یہ معاہدہ بنگلہ دیش کو ترغیب دیتا ہے کہ انڈین دھاگے کو چھوڑ کر امریکی کپاس استعمال کرے۔‘

انڈیا بنگلہ دیش تعلقات پر کیا اثر پڑے گا؟

بنگلہ دیش عبوری حکومت کے مرکزی مشیر محمد یونس اور انڈین وزیر اعظم نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہANI

رپورٹس کے مطابق سنہ 2025-2024 میں انڈیا نے بنگلہ دیش کو 1.47 ارب ڈالر (57 کروڑ کلو گرام) مالیت کا سوتی دھاگا برآمد کیا۔ بنگلہ دیش انڈین دھاگے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ گذشتہ سال انڈیا نے بنگلہ دیش کو کپاس کی 12 سے 14 لاکھ گانٹھیں بھیجی تھیں۔ بنگلہ دیش میں کپڑے کی کُل برآمدات کا 20 فیصد اور انڈیا کے سوتی ملبوسات کی برآمد کا 26 فیصد امریکہ جاتا ہے۔

کنفیڈریشن آف انڈین ٹیکسٹائل انڈسٹری کی سیکریٹری جنرل چندریما چیٹرجی نے اخبار دی ہندو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بنگہ دیش معاہدے کا ’فوری اثر انڈین سوتی دھاگے پر پڑے گا کیوں کہ بنگلہ دیش اب امریکی کپاس خرید کر کپڑے کی اپنی ملوں میں اس سے دھاگا تیار کر سکتا ہے۔‘

تو کیا اس پیش رفت سے انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات پر اثر پڑے گا؟

پروفیسر ہرش وی پنت نئی دہلی میں قائم آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن میں شعبہ تعلیم اور خارجہ پالیسی کے نائب صدر ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’میرے خیال میں اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ امریکہ اپنے خام مال کی برآمدات کو فروغ دے رہا ہے۔ معاہدہ کر کے اس سے فائدے اٹھانے کے بعد بنگلہ دیش کے لیے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا مشکل ہو جائے گا۔ کیوں کہ امریکہ کی پالیسی کچھ لو کچھ دو پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اس سودے کی کامیابی کا اہم پیمانہ بھی بنے گا۔ اور اس کا اثر انڈیا پر بھی پڑے گا۔‘

پروفیسر پنت کہتے ہیں کہ محمد یونس کی حکومت کے دوران انڈیا بنگلہ دیش کے تعلقات کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق: ’اگر انتخابات کے بعد تعلقات مستحکم ہوتے ہیں تو انڈیا اور بنگلہ دیش کے پاس تجارت میں کمی کو سنبھالنے کے کئی طریقے ہیں، خاص طور پر اگر یہ کمی کسی ایک شعبے تک محدود ہو۔ اگر سیاسی ماحول بدلتا ہے تو یہ راستے کھلے رہیں گے۔ لیکن موجودہ حالات میں اسے یقینی طور پر ایک مسئلے کے طور پر دیکھا جائے گا۔‘

کپاس چنتی خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا پر کیا اثر پڑے گا؟

معروف ماہر معیشت پروفیسر بسواجیت دھر کہتے ہیں کہ امریکہ بنگلہ دیش معاہدے کا اثر انڈیا پر ضرور پڑے گا۔

حال ہی میں انڈیا اور امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا: ’ہمارے ہاں یہ باتیں ہو رہی ہیں کہ ہمیں زیادہ نقصان نہیں ہو گا کیوں کہ بنگلہ دیش پر محصولات زیادہ ہیں اور خاص طور پر کپڑوں کے معاملے میں تو ہمیں کوئی نقصان ہو گا ہی نہیں، اور انڈیا امریکہ تجارتی معاہدے سے فائدہ ہو گا۔ لیکن اب وہ بات نہیں رہی کیوں کہ بنگلہ دیش پر محصول چاہے ایک فیصد ہی کم ہوا ہو لیکن ان کے کپڑوں کو کسی بھی محصول کے بغیر امریکہ میں داخلے سے انڈیا پر اثر پڑے گا۔‘

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے پروفیسر دھر نے کہا: ’بنگلہ دیش انڈین دھاگے کا بڑا خریدار تھا۔ کچھ وقت سے انڈین دھاگے کے حوالے سے دونوں ملکوں میں سیاسی مسائل بھی چل رہے تھے۔ لیکن اس کے باوجود دھاگے کی منڈی میں انڈیا کی اجارہ داری تھی۔ اب بنگلہ دیش امریکہ سے دھاگا خریدے گا اور ہماری اجارہ داری کم ہو گی۔‘

پروفیسر ہرش پنت کے مطابق چونکہ بنگلہ دیش کا کچھ حوالوں سے انڈیا کے ساتھ براہ راست مقابلہ ہے، خاص طور پر کپڑوں اور ملبوسات کے شعبے میں، اس لیے امریکہ اور بنگلہ دیش کا معاہدہ بہت زیادہ تشویش کا باعث ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’نئے معاہدے میں تقریباً 19 فیصد محصول تو ہے لیکن بنگلہ دیشی کپڑوں کے لیے صفر محصول کا راستہ بھی موجود ہے۔ میرے خیال میں اس سے مستقبل میں انڈیا کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ڈھاکہ کو کچھ شعبوں میں برتری مل سکتی ہے۔‘

پروفیسر پنت نے مزید کہا کہ ’قلیل مدت میں تو یہ واقعی تشویش کی بات ہے۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اس تشویش کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہو کیوں کہ انڈیا کو دوسرے شعبوں میں سبقت حاصل ہے۔ چاہے اس سبقت کا تعلق کپڑے کے شعبے سے نہ بھی ہو۔ تاہم اگر فوری تشویش کی بات کی جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انڈیا اپنی سبقت کھو دے گا۔‘

امریکہ کیا چاہتا ہے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چارٹ اٹھا رکھا ہے جس پر مختلف ممالک پر عائد کیے گئے محصولات درج ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

امریکہ نے پہلے انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا اور پھر بنگلہ دیش کے ساتھ۔ بنگلہ دیش امریکہ معاہدے کے بعد انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان تلخی بڑھنے کا امکان ہے۔ اور یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ ایسے معاہدوں کے پیچھے امریکہ کا مقصد کیا ہے؟

پروفیسر بسواجیت دھر کہتے ہیں: ’دیکھیے، امریکہ ایک طرح سے ہمارے جیسے ملکوں کو مقابلے پر لا رہا ہے۔ امریکہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون سا ملک جھکے گا اور کتنا جھکے گا۔ امریکہ چاہتا ہے کہ اسے اتنا فائدہ ملے جتنا ممکن ہے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دوسرے ممالک کو آپس کے مقابلے میں ڈال دیا جائے۔‘

پروفیسر دھر کے مطابق دو طرفہ معاہدوں کا یہی سب سے بڑا نقصان ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’عالمی تنظیم برائے تجارت میں رہنے کا فائدہ یہ ہے کہ سب ملک مل کر فیصلے کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی کوشش کرنے والے ترقی یافتہ ملک کامیاب نہیں ہو پاتے، کیوں کہ سبھی ایک کمرے میں بیٹھ کر اپنے مفادات کا خیال رکھ سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’بنگلہ دیش کی انڈیا کے ساتھ قریبی سٹریٹیجک شراکت داری ہے۔ اب اس میں تو تبدیلی ضرور ہی آئے گی۔ تعلقات پہلے ہی نازک ہیں۔ اب امریکہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان مشکل صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ امریکہ چاہے گا کہ انڈیا اور بنگلہ دیش آپس میں الجھتے رہیں اور وہ فائدہ اٹھا لے۔ اگر دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت نے یہ بات سمجھ لی تو وہ حالات کو بہتر انداز سے سنبھال سکتے ہیں۔’

پروفیسر پنت کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہے امریکہ کئی ممالک کے محصولات میں تبدیلیاں کر رہا ہے۔ اصل اثر کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ یہ فیصلے عملی طور پر کیسے نافذ کیے جاتے ہیں۔‘

پنت کے مطابق محصولات کے معاملے میں امریکہ کی حکمت عملی یہ ہے کہ پہلے وہ بہت زیادہ محصول سے شروع کرتا ہے پھر نیچے آتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ مذاکرات کر رہا ہے۔

’چاہے کچھ بھی ہو، محصولات مجموعی طور پر بڑھ ہی رہے ہیں۔ ہاں کچھ جگہوں پر نسبتاً کم بھی ہو سکتے ہیں لیکن مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امریکہ خود کو محفوظ رکھنے کے اقدامات بڑھاتا جا رہا ہے۔ امریکی صنعتوں کو سہارا دیتے ہوئے امریکی منڈی کو زیادہ محفوظ بنایا جا رہا ہے۔‘

پروفیسر پنت کے مطابق آخری نتائج کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ یہ فیصلے نافذ کیسے کیے جاتے ہیں اور محصولات کی تبدیلی عملی طور پر کیسی دکھائی دیتی ہے۔

انھوں نے کہا: ’لیکن میں سمجھتا ہوں محصولات کی باہمی تبدیلیوں سے بچنا اب مزید ممکن نہیں رہا۔‘

SOURCE : BBC