SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اپ ڈیٹ کی گئی 5 گھنٹے قبل
مطالعے کا وقت: 6 منٹ
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لاہور قلندرز کے بلے باز فخر زمان کو ضابطہ اخلاق کی دفعہ 2.14 کی خلاف ورزی کرنے پر لیول تھری جرم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے پی ایس ایل کے دو میچز کے لیے معطل کر دیا ہے۔
29 مارچ کے میچ میں کراچی کنگز کی بیٹنگ کے دوران لاہور قلندرز کے کھلاڑی پر بال ٹیمپرنگ کا الزام لگا تھا۔ آن فیلڈ امپائروں نے لاہور قلندرز پر پانچ رنز کی پینلٹی عائد کی تھی اور کراچی کنگز کی اننگز کے آخری اوور سے قبل گیند تبدیل کر دی تھی۔
پی سی بی کے بیان کے مطابق یہ الزام آن فیلڈ امپائرز شاہد سائقَت اور فیصل خان آفریدی، ٹی وی امپائر آصف یعقوب اور فورتھ امپائر طارق رشید کی طرف سے لگایا گیا تھا جس کی فخر زمان نے تردید کی تھی۔
مگر اب ’میچ ریفری روشن ماہناما نے شواہد کا جائزہ لینے اور فخر زمان کو ذاتی موقف پیش کرنے کا موقع دینے کے بعد فیصلہ سنایا۔ سماعت کے دوران لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی، ٹیم ڈائریکٹر سمین رانا اور ٹیم مینیجر فاروق انور بھی موجود تھے۔‘
فخر زمان پر پی ایس ایل کے ضابطہ اخلاق کی دفعہ 2.14 کی خلاف ورزی کا الزام ہے جس میں انگلی یا انگوٹھے کے ناخن سے گیند کو رگڑنا شامل ہے۔ اس پر کم سے کم ایک اور زیادہ سے زیادہ دو میچوں کی پابندی کی سزا مل سکتی تھی۔
پی سی بی کے مطابق کوئی بھی اپیل میچ ریفری کے تحریری فیصلے کی وصولی کے 48 گھنٹوں کے اندر اندر پی ایس ایل کی ٹیکنیکل کمیٹی کے پاس جمع کرائی جا سکتی ہے۔
لاہور قلندرز اپنا اگلا میچ 3 اپریل کو ملتان سلطانز کے خلاف کھیلے گی۔
،تصویر کا ذریعہPSL
اس سے قبل پی سی بی نے اتوار کو جاری اعلامیے میں کہا تھا کہ ’لاہور قلندرز کے فخر زمان پر پی ایس ایل کی پلیئنگ کنڈیشنز کے آرٹیکل 41.3 کی خلاف ورزی کرنے پر پلیئرز اور پلیئر سپورٹ پرسنل کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.14 کے تحت لیول 3 جرم کا الزام عائد کیا گیا ہے جس میں گیند کی حالت کو تبدیل کرنے والا کوئی بھی اقدام جرم ہے۔‘
جبکہ کراچی کنگز کے فاسٹ بولر حسن علی پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ضابطہ اخلاق کی لیول 1 کی خلاف ورزی پر ان کی میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا۔ حسن نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو قبول کرتے ہوئے جرمانہ قبول کیا ہے۔
پی سی بی کے مطابق حسن علی نے آرٹیکل 2.5 کی خلاف ورزی کی جس کا تعلق ’زبان، حرکات یا اشاروں کے استعمال سے کسی بیٹر کو آؤٹ کرنے کے بعد اسے اشتعال دلانے‘ کی کوشش کرنا ہے۔
،تصویر کا ذریعہPTV
اتوار کی شب ہوا کیا تھا؟
لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل میں روایتی حریف سمجھی جانے والی ٹیمیں لاہور قلندرز اور کراچی کنگز آمنے سامنے تھیں۔ کراچی کنگز لاہور قلندرز کی جانب سے دیے گئے 129 رنز کے ہدف کے تعاقب میں تھی اور اسے آخری اوور میں 14 رنز درکار تھے۔
واقعے کی سامنے آنے والی ویڈیو کے مطابق اوورز کے درمیان وقفے کے دوران لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور فخر زمان کھڑے ہیں۔ ایسے میں فخر زمان حارث رؤف سے گیند لے لیتے ہیں اور اس کے ساتھ کچھ ’چھیڑ چھاڑ‘ کے بعد گیند واپس حارث رؤف کو تھما دیتے ہیں۔ لیکن اسی وقت امپائر حارث روف سے یہ گیند لے کر اسے تبدیل کر دیتے ہیں اور لاہور قلندرز پر پانچ رنز کی پنلٹی لگا دیتے ہیں۔
یوں آخری اوور میں کراچی کنگز کا ہدف 14 سے کم ہو کر نو رہ جاتا ہے اور وہ تین گیندوں میں یہ ہدف حاصل کر لیتی ہے۔
میچ ختم ہونے کے بعد کمنٹیٹر رمیز راجہ شاہین شاہ آفریدی سے اس بابت پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے، لیکن ہم اس کی دوبارہ ویڈیو دیکھیں گے اور پھر بات کریں گے کہ کس نے ایسا کیا۔‘
پی ایس ایل میں اس بارے میں کیا قانون ہے؟
پاکستان سپر لیگ کی پلیئنگ کنڈیشنز کے آرٹیکل 41.3 کے مطابق امپائر گیند کا بار بار اور معائنہ کریں گے اور اگر انھیں اس کی حالت بدلنے کا شک ہو تو وہ اسے تبدیل کرنے کا مجاز ہو گا۔
کسی بھی کھلاڑی کے لیے کوئی بھی ایسا اقدام کرنا جرم ہے جس سے گیند کی حالت بدل جائے۔ اس آرٹیکل کی ایک ذیلی شق کے مطابق فیلڈرز اپنے کپڑوں کے ذریعے گیند کو پالش کر سکتے ہیں بشرطیکہ کوئی مصنوعی مادہ استعمال نہ ہو اور نہ ہی اسے کھرچنے کی کوشش کی جائے۔
اس آرٹیکل کے مطابق کھلاڑی امپائرز کی نگرانی میں گیند پر سے مٹی صاف کر سکتے ہیں، تاہم اںھیں گیند کو تھوک لگانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔
اسی آرٹیکل کی ذیلی شق کے مطابق اگر امپائر مل کر اس بات پر متفق ہیں کہ گیند کی حالت غیر منصفانہ طور پر تبدیل کی گئی ہے تو فیلڈنگ سائیڈ پر پانچ رنز کا جرمانہ کرنے کے مجاز ہوں گے اور اس معاملے کو میچ ریفری کے سپرد کر دیں گے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوشل میڈیا پر ردِعمل

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بات ہو رہی ہے اور صارفین فخر زمان اور لاہور قلندرز کے کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ گیند بس کچھ سیکنڈز کے لیے فخر زمان کے ہاتھ میں تھے، ایسے میں گیند کے ساتھ کتنی چھیڑ چھاڑ کر سکتے تھے۔
نبراز نامی صارف نے لکھا کہ بال ٹیمپرنگ ’کرکٹ کی بدنامی ہے، اس طرح آپ منصفانہ کرکٹ نہیں کھیلتے۔ دھوکہ دہی پورے کھیل، شائقین اور مقابلے کے جذبے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ایسا کرنے والے کو سخت سزا ملنی چاہیے، وہ جو کوئی بھی ہو۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ اگر بال ٹیمپرنگ ثابت ہو جائے تو ’شاہین شاہ آفریدی اور سمیت دیگر کھلاڑیوں پر کم از کم ایک سال کی پابندی لگنی چاہیے۔ کیونکہ اس کی مثال موجود ہے، کرکٹ آسٹریلیا نے بال ٹیمپرنگ کی وجہ سے وارنر، سٹیو سمتھ اور بینکرافٹ پر ایک سال کی پابندی عائد کی تھی۔‘
عبداللہ نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’فخر کے لیول تھری کی خلاف ورزی کا یہ مطلب ہے کہ اگر اُن پر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو اُن پر ایک یا دو سال کی ممکنہ پابندی لگ سکتی ہے۔ اُن کے پاس صرف دو سیکنڈز کے لیے گیند تھی، اس میں وہ کیا چھیڑ چھاڑ کر سکتے تھے، یہ مضحکہ خیز ہے۔ ‘
حمزہ ارشد لکھتے ہیں کہ یہ تیسرے درجے کی نہیں بلکہ ’فرسٹ لیول بریچ ہے، فخر نے کوئی بال ٹیمپرنگ نہیں کی، اُنھوں نے گیند اپنے پاس رکھی اور گیند کو کچھ نہیں ہوا۔ یہ بس کنفیوژن ہے۔‘
SOURCE : BBC



