SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فضائی حملے میں علی لاریجانی کی ہلاکت نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سب سے تجربہ کار اور بااثر پالیسی سازوں میں سے ایک اہم شخصیت کو ایک انتہائی نازک وقت پر منظرنامے سے ہٹا دیا ہے۔
لاریجانی فوجی کمانڈر نہیں تھے، لیکن ایران کی سٹریٹجک پالیسی سازی میں ان کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں بطور سیکریٹری وہ جنگ، سفارتکاری اور قومی سلامتی کے اہم فیصلوں کے کلیدی حیثیت کے حامل تھے۔
ان کی آواز پورے نظام میں وزن رکھتی تھی، خاص طور پر جب بات امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی کشیدگی سے متعلق ہو۔ 28 فروری کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد لاریجانی نے سخت لب و لہجہ اختیار کیا اور واضح کیا کہ ایران طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
ایران کے ریاستی میڈیا نے لاریجانی کی موت کی تصدیق کر دی ہے، یہ تصدیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند دنوں کے اندر اندر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کئی اعلیٰ ایرانی حکام اور کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
لاریجانی کی موت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ کے دوران ایران کی قیادت کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش جاری ہے۔
اگرچہ مغرب کے حوالے سے علی لاریجانی کا موقف سخت گیر تھا، لیکن ایران کے اندر انھیں اکثر افراد ایک حقیقت پسند رہنما کے طور پر بیان کرتے تھے۔
وہ نظریاتی وفاداری کو ٹیکنوکریٹک انداز کے ساتھ جوڑتے تھے اور محض نعرے بازی کے بجائے طے شدہ حکمتِ عملی کو ترجیح دیتے تھے۔
وہ مغربی طاقتوں کے ساتھ ایران کے تعلقات پر گہرے شکوک رکھتے تھے، تاہم ماضی میں وہ اہم سفارتی کوششوں میں بھی شامل رہے، جن میں چین کے ساتھ ایران کے طویل المدتی تعاون کے معاہدے میں بطور ایلچی کردار ادا کرنا شامل ہے۔
،تصویر کا ذریعہKhamenei.ir

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اپنی موت کے وقت علی لاریجانی تین بڑے بحرانوں کو سنبھالنے کے ذمہ دار تھے۔
پہلا بحران خود جنگ تھی۔ لاریجانی کا مؤقف تھا کہ ایران کو طویل جدوجہد کے لیے تیار رہنا چاہیے اور اس تنازع کو خطے اور اس سے آگے تک پھیلانا چاہیے، جس میں آبنائے ہرمز کی بندش بھی شامل ہے۔
دوسرا بحران ملک کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی تھی، جو ابتدا میں معاشی مسائل سے شروع ہوئی لیکن جلد ہی اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کے مطالبات پر مبنی وسیع احتجاج میں بدل گئی۔ ان مظاہروں کو سخت کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث ملک بھر میں ہزاروں مظاہرین ہلاک ہوئے۔
تیسرا بحران ایران کا جوہری پروگرام اور اس ضمن میں واشنگٹن کے ساتھ تعطل کا شکار بالواسطہ مذاکرات تھے۔
لاریجانی کی موت نے ان تینوں مسائل کو حل طلب چھوڑ دیا ہے اور اب یہ ذمہ داری ایک ایسے نامعلوم جانشین کو منتقل ہو چکی ہو گی، جسے آگے چل کر نہایت نازک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ ایران نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں خلل ڈال کر کچھ حد تک مزاحمت دکھائی ہے، لیکن اس کی فضائی حدود مسلسل امریکی اور اسرائئلی حملوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
لاریجانی کی جگہ لینے والے کسی بھی نئے اعلیٰ عہدیدار کو فوری طور پر نشانہ بننے کا خطرہ لاحق ہو گا۔
اس صورتحال میں ایران کی قیادت میں طاقت کا توازن مزید فوج کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر اعلیٰ قیادت معذور یا ہلاک ہو بھی جائے تو مسلح افواج کو وسیع اختیارات دیے جا چکے ہیں۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ فیصلے زیادہ تیزی سے کیے جائیں گے لیکن مرکزی ہم آہنگی کمزور پڑ جائے گی۔
قیادت کے اندر جانشینی کے انتظام میں درپیش مشکلات کے آثار بھی نمایاں ہیں۔ اس حوالے سے ایران نے عوامی إعلانات کرنے کا سلسلہ مؤخر کر دیا ہے اور بعض شخصیات، بشمول نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای، کو زیادہ تر منظرِ عام سے دور رکھا جا رہا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ ایسا سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے یا اندرونی غیر یقینی صورتحال کے باعث۔
قلیل مدت میں اس کے نتائج زیادہ غیر مستحکم حالات کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں: جنگ میں سخت فوجی رویہ اور ملک کے اندر مزید سخت کریک ڈاؤن۔
ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے بھی لاریجانی کی موت کے جواب میں ‘فیصلہ کن’ جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اگر ایرانی نظام مسلسل اپنے سیینئر رہنماؤں کو کھوتا رہا تو اس کے لیے مؤثر انداز میں کام کرنا مشکل ہو جائے گا، خاص طور پر ایسے ملک میں جس کی آبادی نو کروڑ سے زیادہ ہے۔
یوں علی لاریجانی کی موت صرف ایک اعلیٰ عہدیدار کے جانی نقصان کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ موت ایران میں قیادت کے بحران کو مزید گہرا کرتی ہے، جو نہ صرف جنگ کے رُخ بلکہ ایرانی ریاست کے استحکام پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
SOURCE : BBC



