SOURCE :- BBC NEWS
،تصویر کا ذریعہGetty Images
متعدد ذرائع نے بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا ہے کہ ایران جنگ کے خلاف احتجاجاً مستعفیٰ ہونے والے امریکہ کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ کے خلاف ایف بی آئی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
سی بی ایس کے مطابق یہ تحقیقات خفیہ معلومات افشاں کرنے سے متعلق ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اُن کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ دو روز قبل ایران جنگ کے معاملے پر اُن کے استعفے سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔
یاد رہے کہ دو روز قبل اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے جو کینٹ نے کہا تھا کہ وہ ’اپنے ضمیر کے خلاف جا کر ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔‘
جمعرات کو جو کینٹ نے سیاسی مبصر ٹکر کارلسن کو ایک انٹرویو بھی دیا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کو ہلاک کرنے کے لیے کیا گیا امریکہ و اسرائیل کا مشترکہ آپریشن ’وہ آخری چیز تھی جو ہمیں (امریکہ) کبھی نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘
اس انٹرویو میں جو کینٹ نے کہا خامنہ ای درحقیقت ’ایران کے جوہری پروگرام کو مارڈریٹ کر رہے تھے (یعنی متعدل سطح پر رکھ رہے تھے)، وہ (خامنہ ای) انھیں (ایران) جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک رہے تھے۔‘
جو کینٹ کا مزید کہنا تھا ’اگر آپ انھیں (خامنہ ای) راستے سے ہٹا دیتے ہیں، اور اگر آپ انھیں جارحانہ طریقے سے قتل کرتے ہیں، تو لوگ )ایرانی( رجیم اور اگلے آیت اللہ (مجتبیٰ خامنہ ای) کی حمایت میں اکٹھے ہو جائیں گے۔۔۔‘
انھوں نے کہا کہ اُن کے خیال میں تمام دستیاب معلومات کے مطابق اب یہی ہو رہا ہے۔

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
انھوں نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا کہ ایران پر حملے کا فیصلہ بنیادی طور پر اسرائیل کا تھا، نہ کہ امریکہ کا۔
’یہ فیصلہ اسرائیلیوں نے کروایا تھا، اور ہمیں معلوم تھا کہ اس اقدام سے واقعات کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا، یعنی ایرانی جوابی کارروائی کریں گے۔‘
کارلسن نے جو کینٹ سے سوال کیا کہ کیا ایرانی حکومت جوہری بم بنانے کے قریب تھی؟
اس پر کینٹ نے جواب دیا ’نہیں۔ تین ہفتے پہلے جب یہ سب (جنگ) شروع ہوا (تب ایرانی حکومت جوہری بم بنانے کے قریب نہیں تھی)۔ اور جون (2025) میں بھی نہیں۔‘ (یعنی 22 جون 2025 کو جب امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر بڑا حملہ کیا تھا)۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکومت کے پاس سنہ 2004 میں جاری ہونے والا ایک فتویٰ موجود ہے جو انھیں (ایرانی حکومت کو) جوہری ہتھیار بنانے سے روکتا ہے۔ انھوں نے کارلسن کو بتایا کہ ’ہمارے پاس کوئی ایسی انٹیلیجنس نہیں تھی جس سے ظاہر ہو کہ اس فتوے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔‘
امریکی سینیٹ نے گذشتہ جولائی میں صدر ٹرمپ کی جانب سے اس عہدے کے لیے جو کینٹ کو نامزد کیے جانے کے بعد اُن کی تقرری کی منظوری دی تھی۔
ٹرمپ کے نام تحریر کیے گئے اپنے استعفے میں جو کینٹ نے لکھا تھا کہ ’ایران نے ہمارے ملک کے لیے کوئی فوری خطرہ پیدا نہیں کیا تھا، اور یہ واضح ہے کہ ہم نے یہ جنگ اسرائیل اور اس کے طاقتور امریکی لابی کے دباؤ کے تحت شروع کی۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ وہ اُن اقدار اور خارجہ پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جن پر ٹرمپ نے سنہ 2016، سنہ 2020 اور سنہ 2024 کی انتخابی مہم چلائی اور اپنی پہلی مدتِ صدارت میں نافذ کیں۔
کینٹ نے لکھا تھا کہ ’جون 2025 تک آپ (ٹرمپ) سمجھتے تھے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ایک جال ہیں جو امریکہ کے محبِ وطن جوانوں کی قیمتی جانیں چھینتی ہیں اور ہمارے ملک کی دولت و خوشحالی کو ختم کرتی ہیں۔‘
انھوں نے لکھا تھا کہ ’میں ایک تجربہ کار سپاہی کے طور پر گیارہ بار محاذ جنگ پر گیا اور ایک ’گولڈ سٹار شوہر‘ جس نے اپنی شریک حیات شینن کو اسرائیل کی جھونکی جنگ میں کھو دیا۔‘
واضح رہے کہ 45 برس کے کینٹ امریکی سپیشل فورسز اور سی آئی اے کے سابق اہلکار ہیں۔ ان کی اہلیہ، نیوی کی کرپٹولوجک ٹیکنیشن شینن کینٹ سنہ 2019 میں شام میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔
انھوں نے اپنے خط میں مزید لکھا تھا کہ ’میں اس بات کی حمایت نہیں کر سکتا کہ اگلی نسل کو ایسی جنگ میں دھکیلا جائے جس کا امریکی عوام کو کوئی فائدہ نہیں اور جس کی قیمت امریکی جانوں سے ادا کی جائے۔‘
وائٹ ہاؤس نے اس خط کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ کے پاس ’قابلِ اعتماد شواہد‘ تھے کہ ایران پہلے امریکہ پر حملہ کرنے والا تھا۔
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

SOURCE : BBC



