Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اسرائیل کو کیسے...

ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اسرائیل کو کیسے حیران کیا؟

5
0

SOURCE :- BBC NEWS

اس تنازع کے بعد کئی ممالک میں ایران کے لیے ہمدردی بڑھ رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters

28 فروری کو جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملوں کا آغاز کیا تھا، تو اس وقت بنیادی سوال یہی تھا کہ یہ جنگ کب تک جاری رہے گی؟

پھر معاملہ دنوں سے ہفتوں اور اب مہینوں پر محیط ہوتا نظر آ رہا ہے اور بظاہر یہ جنگ ختم ہونے کی کوئی واضح ڈیڈ لائن موجود نہیں ہے۔

امریکی قوم کے نام اپنے تازہ ترین خطاب میں صدر ٹرمپ، اندازوں کے برعکس، کوئی واضح منصوبہ نہیں پیش کر سکے ہیں تاہم اُن کا یہ ضرور کہنا تھا کہ ’امریکہ ایران میں اپنے سٹریٹجک اہداف حاصل کرنے کے قریب ہے‘ اور یہ کہ ’آئندہ دو سے تین ہفتوں کے دوران ایران پر شدید حملے کیے جائیں گے۔‘

انھوں نے ایران کو ’پتھر کے دور میں دھکیل دینے‘ کی دھمکی بھی دی۔

تیل کی عالمی مارکیٹیں اور بازار حصص، جو اُن کے قوم کے نام خطاب سے اُمید لگائے بیٹھے تھے، نے فوری اور منفی ردعمل دیا اور عالمی سطح پر ناصرف تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہوا بلکہ امریکہ سمیت ایشیائی مارکیٹیں بھی مندی کا شکار ہوئیں۔

اس خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے نیٹو میں امریکہ کے سابق سفیر آئیوو ڈالڈر نے کہا کہ ٹرمپ کے خطاب نے ’جنگ کے مقاصد پر شکوک‘ پیدا کر دیے ہیں اور کئی اہم سوالات کے جواب نہیں دیے گئے، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر، ٹرمپ کے مطابق، ایران کی جوہری صلاحیت، بحریہ اور میزائل تباہ کر دیے گئے ہیں تو امریکہ اب بھی ایران میں فوجی کارروائی کیوں جاری رکھے ہوئے ہے؟

صدر ٹرمپ کے خطاب سے ایک بات واضح ہے کہ جنگ ابھی مزید جاری رہے گی۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہWhite House

اس جنگ کے آغاز کے بعد سے وہ تمام چیزیں ہوئیں جن کی ڈونلڈ ٹرمپ نے شاید امید نہیں کی تھی۔ جیسا کہ:

  • ابتدائی بھاری نقصانات کے باوجود ایران اب بھی بھرپور انداز میں جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور ردعمل دینے کی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے
  • امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے درمیان جنگ کے حوالے سے اختلافات اب واضح طور پر کُھل کر نظر آ رہے ہیں اور ٹرمپ نیٹو اتحاد کو ناصرف ’کاغذی شیر‘ قرار دے چکے ہیں بلکہ اس سے الگ ہونے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں
  • جنگ ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری رہنے کے باوجود ایران میں وہ عوامی ردعمل نظر نہیں آ رہا جس کی ٹرمپ اور نتن یاہو کو توقع تھی، اس کے باوجود اس حوالے سے دونوں رہنماؤں کی جانب سے ایرانی عوام سے اپیل بھی کی گئی کہ وہ باہر نکلیں اور حکومت کا خاتمہ کریں
  • خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کر کے ایران نے نہ صرف انھیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے بلکہ ان ممالک کے محفوظ ہونے کے تشخص کو بھی بُری طرح متاثر کیا ہے
  • ماہرین کے مطابق اس جنگ کی طوالت کے نتیجے میں سکیورٹی گارنٹی کے حوالے سے خلیجی اور یورپی ممالک کا امریکہ پر اعتماد کم ہوا ہے
  • ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش نے پوری دنیا میں تیل کا سنگین بحران پیدا کر دیا ہے۔ چنانچہ اب بہت سے ممالک امریکہ اور اسرائیل پر جنگ کو جلد ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے نظر آ رہے ہیں اور چند ممالک نے فوجی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈے دینے سے انکار کیا ہے
  • اور اس سب کے دوران امریکہ نے اپنے اتحادیوں جیسا کہ برطانیہ، فرانس، اٹلی، سپین اور کینیڈا پر ایران جنگ میں مدد نہ کرنے کا الزام لگایا ہے

کیا امریکہ اور اسرائیل دباؤ میں آ گئے ہیں؟

ٹرمپ، یاہو

،تصویر کا ذریعہReuters

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

یہ جاننے کے لیے ہمیں اس جنگ کے ابتدائی دنوں میں جانا ہو گا۔

ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک پرائمری سکول پر ہوئے فضائی حملے کے نتیجے میں درجنوں بچیوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے۔

یہ پہلا موقع تھا جب یورپی ممالک بشمول فرانس، جرمنی، برطانیہ، اٹلی اور چین سمیت کئی ممالک نے اس حملے کی مذمت کی اور وہاں سے اس جنگ کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔

کئی دوسرے ممالک نے بھی اس حملے کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ یاد رہے کہ نہ تو امریکہ اور نہ ہی اسرائیل نے ابھی تک اس حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

مجموعی طور پر لڑائی کو چار ہفتے سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور یہ ختم نہیں ہوئی، آبنائے ہرمز بند ہے، دنیا کو تیل کے بحران کا سامنا ہے، اپنی اعلیٰ قیادت کے مارے جانے کے بعد بھی ایران جنگ لڑ رہا ہے اور لڑائی کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط پیش کر رہا ہے۔

جیسے جیسے یہ جنگ طوالت اختیار کر رہی ہے امریکہ اور اسرائیل بین الاقوامی تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس تنازع کے خلاف خود امریکہ میں بھی بڑے مظاہرے ہوئے ہیں۔

تو کیا اس پس منظر میں ایران اپنی جنگی حکمت عملی اور سفارتکاری کے ذریعے کسی حد تک امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ماحول بنانے میں کامیاب رہا ہے؟

بین الاقوامی سٹریٹجک اُمور کے ماہر ہیپیمون جیکب کے مطابق جنگ کے آغاز میں امریکہ اور اسرائیل نے جن خاص اُمور سے متعلق حکمت عملی ترتیب دی تھی، اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اُن میں سے بہت سی چیزوں کا صحیح اندازہ نہیں لگایا گیا تھا۔

ہیپیمون جیکب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ٹرمپ کا انداز اور شخصیت بنیادی مسئلہ رہا ہے۔ سفارت کاری کو دھوکہ دہی کے آلے کے طور پر استعمال کرنا، سربراہان مملکت کی سرعام تذلیل کرنا، اتحادیوں سے اس جنگ میں شامل ہونے کی توقع رکھنا اور جنیوا مذاکرات کو ایران پر حملہ کرنے کے بہانے کے طور پر استعمال کرنا، یہ بہت سے لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔‘

ہیپیمون جیکب کے مطابق دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا خیال ہے کہ جنگ سے انھیں ملکی سیاست میں فائدہ پہنچے گا اور جب کوئی لیڈر ایسا محسوس کرتا ہے تو وہ جنگ میں کسی دوسرے روایتی لیڈر کی طرح فیصلے نہیں کر پاتا۔

ہیپیمون جیکب کہتے ہیں کہ ’ابتدائی طور پر یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی اپنی دھمکی پر عمل نہیں کرے گا کیونکہ اس سے اس کے تجارتی مفادات بھی بُری طرح متاثر ہوں گے۔ لیکن ایران نے آبنائے ہرمز کو ناصرف بند کیا بلکہ اب تک کامیابی سے اس کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران جیسے ملک کے معاملے میں اس طرح کا اقدام حیران کن نہیں ہونا چاہیے تھا، جو اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور جو ایک خاص مذہبی نظریے پر مضبوطی سے عمل پیرا ہے۔‘

جیکب کے مطابق، اپنے اعلیٰ رہنماؤں اور سینیئر فوجی و سیاسی حکام کو کھونے کے باوجود، ایران جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کی حکمت عملی نے بظاہر عالمی رہنماؤں کے لیے غیرمتوقع اور حیران کُن ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 23 مارچ کو ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے حوالے سے بہت اچھی بات چیت ہو رہی ہے تاہم ساتھ ساتھ وہ سخت ردعمل اور حملوں کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں۔

سٹریٹجک اُمور کے ماہر برہما چیلانی کے مطابق ’ٹرمپ نے یہ جنگ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کے مقصد سے شروع کی تھی، لیکن بظاہر اِس بنیادی مقصد کے حصول میں ناکامی کے بعد، وہی ٹرمپ اب اِسی ایرانی رجیم کے ساتھ مذاکرات بھی کر رہے ہیں جس کو وہ ہٹانے کے لیے نکلے تھے۔۔۔ ایران کے ساتھ بات چیت دراصل زمینی حقائق جان لینے کے بعد مجبوراً لیا گیا یوٹرن ہے۔‘

حامد رضا عزیزی برلن میں جرمن انسٹیٹیوٹ برائے بین الاقوامی اور سلامتی امور کے وزٹنگ فیلو ہیں۔

انھوں نے حالیہ ایران تنازع پر ایک تجزیہ لکھا ہے جس کا عنوان ہے ’ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی کو کیسے دوبارہ تحریر کیا۔‘

اس بارے میں کارنیگی انڈومنٹ سے بات کرتے ہوئے حامد رضا نے ایران کی اس جنگ کے حوالے سے اپنائی گئی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

تصویر

،تصویر کا ذریعہReuters

انھوں نے کہا کہ ’ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر امریکہ اور اسرائیل کے لیے جنگ کی لاگت میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ ’ایران نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اِس جنگ کو ایک علاقائی تنازع کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایران اس تنازع کو دو طرفہ تنازع کے طور پر نہیں دیکھ رہا ہے۔‘

’اس سے یہ فائدہ ہوا کہ امریکہ اور اسرائیل پر لبنان، عراق، خلیج فارس جیسے مختلف محاذوں سے بھی اب حملے ہو رہے ہیں اور انھیں اپنے فوجی وسائل کو کئی سمتوں میں خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ایران نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے لیے غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے اور وہ نہیں جانتے کہ اگلا حملہ ان پر کس سمت سے آئے گا۔‘

ان کے مطابق ایران کی حکمت عملی شروع سے ہی جنگ جیتنے پر نہیں بلکہ مخالفین کو تھکا دینے پر مبنی ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’بظاہر ایران بھی جنگ کا فوری خاتمہ نہیں چاہتا بلکہ وقت کے ساتھ فوجی، سیاسی اور اقتصادی دباؤ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاکہ ناصرف فریق مخالف بلکہ اُن کے اتحادیوں کے لیے بھی اس جنگ کو مزید مہنگا بنایا جائے۔‘

سکیورٹی اور حکمت عملی کے ماہر سی ادے بھاسکر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’خود امریکہ اور اسرائیل نے بھی شائد سوچا نہیں ہو گا کہ ایران اس جنگ کو اتنے لمبے عرصے تک لڑے گا۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ جو کچھ انھوں نے وینزویلا میں کیا، وہ ایران میں بھی وہی کریں گے لیکن جنگ کی ابتدا ہی میں علی خامنہ ای کے قتل نے پورے ایران کو متحد کر دیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ٹرمپ کو لگا ہو گا کہ ایرانی عوام وہاں کی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے، لیکن خامنہ ای کی ہلاکت کا اثر الٹا ہوا۔

اودے بھاسکر کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب اسرائیل نے پچھلے سال ایران پر حملہ کیا تو ایران نے اس سے سبق سیکھا تھا۔

ان کے بقول ’ایران نے اپنے ہتھیار اور قیادت بظاہر اس وقت پورے ملک میں تقسیم کی ہوئی۔ اس نے کمانڈرز اور اہلکاروں کو فیصلے لینے میں خود مختاری دی ہے۔ اور بظاہر یہ منصوبہ کامیاب رہا کہ اعلیٰ قیادت نہ ہونے کے باوجود بھی وہ اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔‘

SOURCE : BBC