Home LATEST NEWS urdu تازہ ترین خبریں ایران سے جنگ میں ایف 35 کو نقصان: 77 ملین ڈالر کے...

ایران سے جنگ میں ایف 35 کو نقصان: 77 ملین ڈالر کے جہاز میں خاص کیا ہے اور اب تک امریکہ کے کتنے طیاروں کو نقصان پہنچا ہے؟

15
0

SOURCE :- BBC NEWS

F-35

،تصویر کا ذریعہGetty Images

5 گھنٹے قبل

مطالعے کا وقت: 6 منٹ

گذشتہ روز ایک امریکی ایف 35 لڑاکا طیارے کو ایران کی فضائی حدود میں جنگی مشن کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی ایک ایئربیس پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’جہاز بحفاظت طریقے سے اُتر گیا تھا اور پائلٹ کی حالت بھی مستحکم ہے۔‘

’واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘

سینٹرل کمانڈ کی طرف سے واقعے کی مزید تفصیلات تو نہیں دی گئیں لیکن امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس جہاز کو مبینہ طور پر ایران نے ہدف بنایا تھا۔

ایف 35 وہ پانچواں امریکی طیارہ ہے جسے اس تنازع کے دوران نقصان پہنچا ہے۔ اس سے قبل دو مارچ کو سینٹکام نے تصدیق کی تھی کہ اس کے تین ایف 15 ای طیارے کویت میں ‘فریڈلی فائر’ کے واقعے میں تباہ ہو گئے تھے۔

سینٹکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’لڑائی کے دوران، جس میں ایرانی جہازوں، بیلسٹک مزائلوں اور ڈرونز سے لڑائی بھی شامل تھی، کویت کے فضائی دفاعی نظام نے غلطی سے امریکی فضائیہ کے طیارے مار گرائے۔‘

اس کے بعد 12 مارچ کو مغربی عراق میں امریکی فوج کا کے سی 135 ایندھن بھرنے والا طیارہ گر کر تباہ ہوا تھا۔

اس بارے میں امریکی فوج نے بتایا تھا کہ طیارہ ’دوستانہ ملک کی فضائی حدود‘ میں گر کر تباہ ہوا۔ اس واقعے میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

US Air Force

،تصویر کا ذریعہUS Air Force

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا تھا کہ ایندھن بردار جہاز ’دو طیاروں کے درمیان پیش آنے والے ایک واقعے‘ کے بعد گِر کر تباہ ہوا تھا۔

سینٹ کام کی جانب سے طیارے کے حادثے کی تصدیق کے چند منٹ بعد ہی ایران کے اندر موجود خبر رساں اداروں نے بھی دعویٰ کیا کہ طیارے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

گذشتہ روز کے واقعے میں امریکی ایف 35 طیارے کو کتنا نقصان ہوا ہے یہ بات اب تک واضح نہیں ہے، لیکن یہ ایک سٹیلتھ اور مہنگا طیارہ ہے۔

ایف 35 لڑاکا طیارے میں خاص کیا ہے؟

امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کا بنایا ہوا یہ لڑاکا طیارہ ایف-35 جوائنٹ سٹرائیک فائٹر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے اندازے کے مطابق ایک ایف 35 طیارے کی قیمت کم از کم 77 ملین ڈالر ہے۔

ایف 35 لڑاکا جیٹ ففتھ جنریشن کا سٹیلتھ لڑاکا جیٹ ہے اور اسے اپنی سپرسونک رفتار کے لیے جانا جاتا ہے ۔اس کی دور فاصلے سے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت اسے میدان جنگ میں جدید طیاروں میں سرفہرست بناتی ہے۔

مواد پر جائیں

بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

اس طیارے کو بنانے والی کمپنی کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ لاک ہیڈ مارٹن ایف 35 لائٹننگ ٹو سٹیلتھ ٹیکنالوجی، جدید سینسرز، ہتھیاروں کی صلاحیت اور رینج کے لحاظ سے یہ اب تک کا سب سے خطرناک لڑاکا طیارہ ہے۔

کمپنی کے مطابق اس لڑاکا طیارے کے تین ماڈلز ہیں: جن میں ایف 35 اے، ایف 35 بی اور ایف 35 سی طیارے شامل ہیں۔

ایف 35 اے: یہ طیارے عام رن ویز سے آسانی سے ٹیک آف کر سکتے ہیں۔ امریکی فضائیہ ان طیاروں کو سب سے زیادہ استعمال کرتی ہے۔

ایف 35 بی: یہ طیارے ہیلی کاپٹر کی طرح براہ راست لینڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ چھوٹی جگہ پر بھی اتر سکتا ہے۔ اس صلاحیت کی وجہ سے یہ جنگی بحری جہازوں پر بھی اتر سکتا ہے۔ امریکی میرین کور، اطالوی فضائیہ اور برطانیہ ان طیاروں کو استعمال کرتے ہیں۔

ایف 35 سی: طیاروں کی یہ سیریز امریکی بحریہ کا پہلا سٹیلتھ لڑاکا جیٹ اور دنیا کا واحد ففتھ جنریشن کا لڑاکا طیارہ ہے۔ انھیں خاص طور پر طیارہ بردار بحری جہاز کے آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یہ طیارہ 25 ایم ایم کی توپ، ہوا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور 907 کلو گرام گائیڈڈ بم لے جا سکتا ہے۔

ایف 35 طیارہ 1.6 ماک یا 1975.68 کلومیٹر کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے، کیونکہ اس کا انجن بہت طاقتور ہے۔ یہ طیارے اپنے مکمل ہتھیاروں سے لیس ہو کر اور ایندھن کی پوری صلاحیت کے ساتھ بھی اس رفتار کو حاصل کر سکتے ہیں۔

F-35B

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس لڑاکا جیٹ میں ایکٹو الیکٹرانک سکینڈ ایرے ریڈار، الیکٹرو آپٹیکل ٹارگٹنگ سسٹم اور ہیلمٹ ماؤنٹڈ ڈسپلے سسٹم جیسی خصوصیات ہیں۔

اس کا الیکٹرانک جنگی نظام نہ صرف دشمن کے ٹھکانوں کا پتا لگا سکتا ہے یا ٹریک کر سکتا ہے بلکہ دشمن کے ریڈاروں کو بھی جام کر سکتا ہے اور حملوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔

اس کی سٹیلتھ ٹیکنالوجی یعنی خصوصی ریڈار کوٹنگ کی وجہ سے دشمن کے ریڈار اس کا پتہ نہیں چلا سکتے۔ یہ امریکی بحریہ کا پہلا ‘کم قابل مشاہدہ’ کیریئر پر مبنی لڑاکا طیارہ ہےٹ جو اسے دشمن کی فضائی حدود میں بغیر پتا چلے کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔

اس طیارے میں نیٹ ورک سے چلنے والا مشن سسٹم ہے، جو دوران پرواز جمع کی جانے والی معلومات کو ریئل ٹائم میں شیئر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اس طیارے کے بڑے پر اور طاقتور لینڈنگ گیئر اسے بحری بیڑے سے تیز اور فوری پرواز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

اس طیارے میں دنیا کا سب سے طاقتور لڑاکا انجن ہے اور یہ 1,200 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے نشانہ بنا سکتا ہے۔

یہ جہاز اپنے پروں پر دو جبکہ اپنے اندر چار میزائل لیجانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

SOURCE : BBC